Syed Bilal Jan Advocate High Court & Federal Shariat Court of Pakistan

Syed Bilal Jan Advocate High Court & Federal Shariat Court of Pakistan We provide Quality Legal Consultancy in the Field of Criminal , Civil, NAB, Family ,Service , Corporate, Special Laws, Constitutional, etc

Some of the major changes brought in through the proposed 27th Constitutional Amendment.‏⬅️27ویں آئینی ترمیمی بل 2025 کا...
08/11/2025

Some of the major changes brought in through the proposed 27th Constitutional Amendment.

‏⬅️27ویں آئینی ترمیمی بل 2025 کا مسودہ سامنے آگیا

⬅️آئینی ترمیم کے مسودے میں 48 آرٹیکلز میں مختلف ترامیم تجویز

⬅️ترمیم کے ذریعے "فیڈرل کونسٹی ٹیوشنل کورٹ" کے قیام کی تجویز

⬅️سپریم کورٹ سے علیحدہ نئی "وفاقی آئینی عدالت" قائم کرنے کی شق

⬅️وفاقی آئینی عدالت کا صدر مقام اسلام آباد ہوگا

⬅️چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کی مدتِ ملازمت تین سال مقرر

⬅️وفاقی آئینی عدالت کے جج 68 برس کی عمر میں ریٹائر ہوں گے

⬅️آئینی عدالت کو وفاق اور صوبوں کے درمیان تنازعات سننے کا اختیار

⬅️آئینی عدالت کو آئینی تشریح اور بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات کا دائرہ اختیار

⬅️آئین کے آرٹیکل 184 کو ختم کرنے کی تجویز

⬅️آرٹیکل 175 میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی ترمیم

⬅️سپریم کورٹ کی آئینی اختیارات محدود، نئی عدالت کو منتقل

⬅️آرٹیکل 175A میں ججز تقرری کے لیے نیا طریقہ کار تجویز

⬅️جوڈیشل کمیشن میں وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ دونوں کے چیف جسٹس شامل

⬅️وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے فیصلے ایک دوسرے پر لازم نہیں ہوں گے

⬅️آرٹیکل 189 میں ترامیم، آئینی عدالت کے فیصلے تمام عدالتوں پر لازم

⬅️سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیلِ نو، دونوں عدالتوں کے چیف جسٹس بطور ارکان

⬅️آرٹیکل 243 میں ترامیم — چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم

⬅️آرمی چیف کو "چیف آف ڈیفنس فورسز" کا اضافی عہدہ دیا گیا

⬅️"فیلڈ مارشل" کو قومی ہیرو کا درجہ دینے اور تاحیات مراعات دینے کی تجویز

⬅️آرٹیکل 93 میں ترمیم، وزیرِاعظم کو سات مشیروں کی تقرری کا اختیار

⬅️آرٹیکل 130 میں ترمیم، وزرائے اعلیٰ کے مشیروں کی تعداد میں اضافہ

⬅️آرٹیکل 206 میں ترمیم، سپریم کورٹ یا آئینی عدالت میں تقرری سے انکار پر جج ریٹائر تصور

⬅️آرٹیکل 209 میں ترمیم، سپریم جوڈیشل کونسل کے نئے قواعد 60 دن میں بنانے کی شرط

⬅️آرٹیکل 175B سے 175L تک نیا باب شامل — وفاقی آئینی عدالت کے اختیارات و طریقہ کار

⬅️آرٹیکل 176 تا 183 میں ترامیم، سپریم کورٹ کے حوالے سے اصطلاحات کی تبدیلی

⬅️آرٹیکل 186 اور 191A حذف کرنے کی تجویز

⬅️آئینی عدالت کا ایڈوائزری دائرہ کار بھی متعین کیا جائے گا۔

Today the Trainees/Students of LLB of Khyber Law College University of Peshawar, Islamia College University Peshawar & S...
21/12/2024

Today the Trainees/Students of LLB of Khyber Law College University of Peshawar, Islamia College University Peshawar & Shaheed Benazir Women University Peshawar had the Privilege of visiting various courts under My guidance and Supervison.

And provided them with valuable insights into court proceedings and arguments, enriching their understanding of practical legal processes.

During their visits, the trainees also had the opportunity to interact with Worthy Judicial Magistrates Peshawar, & I am thankfull to Mr Waqar Khan Judicial Magistrate & Muhammad Tayyab Judicial Magistrate Peshawar by Providing an opportunity to Joined the Court Proceeding.

Following the court sessions, the internees visited the Peshawar Bar Association, where they met esteemed professionals, including Amjad Ali Khan Marwat Worthy President of PBA, Adv Iftikhar Hussain and Adv Izhar Ullah Adv Worthy GS PBA.

These interactions further enhanced their learning experience, offering a deeper perspective on legal practice and professional networking.

I am also Thankful to The Jurists Incubator Headed by Advt Umar and its trainees Students of LLB of Different Universities being associated with me in today Courts Proceeding.

15/09/2024

Today is International Democracy Day
and What a Picture of Shame Democracy
We Are Showing to the World 🌎

صرف ایک ایسا شعبہ جس نے 32 سال میں پاکستان کو موت کے دھانے پر پہنچا دیا ۔ وہ ہے IPPs . یعنی بجلی پیدا کرنے والے 90 پرائی...
23/05/2024

صرف ایک ایسا شعبہ جس نے 32 سال میں پاکستان کو موت کے دھانے پر پہنچا دیا ۔ وہ ہے IPPs . یعنی بجلی پیدا کرنے والے 90 پرائیویٹ ادارے ۔
ان معاہدوں کی قاتلانہ شرائط سے آپ پہلے سے واقف ہیں لیکن آپ شاید یہ نہیں جانتے کہ انکے مالک کون ہیں؟ تو دل تھام لیجیے
28 فیصد شریف خاندان
16 فیصد ن لیگی رہنما
16 فیصد زرداری
8 فیصد پیپلز پارٹی رہنما
10 فیصد اسٹبلشمنٹ
8 فیصد چین کے سرمایہ کا
7 فیصد عرب کے سرمایہ کار ( قطری)
7 فیصد پاکستانی سرمایہ دار

یعنی 78 فیصد صرف تین گروپس ( شریف ، زرداری ، اسٹبلشمنٹ) کی ملکیت ہیں

اس سے آگے کا المیہ بھی سن لیجیے
یہی وہ 90 لوگ یا گروپ ہیں جس کے پاس پاکستان کی تمام شوگر ملز ، سٹیل ملز ، سیمنٹ ، کھاد ، کپڑے ، بنک ، LPG اور گاڑیاں بنانے کے لائسنس ہیں ۔

یہ بجلی گھر پاکستان کی کل ضرورت کا 125 فیصد پیدا کرنے کی صلاحیت بتا کر لگائے گئے ہیں ۔ لیکن دیتے صرف 48 فیصد ہیں ۔
لیکن قیمت 125 فیصدی کی وصول کرتے آ رہے ہیں
لہذا پچھلے 5 سال میں 6 ہزار ارب دینے کے باوجود یہ ملک ان کا 2900 ارب کا مقروض ہے

List of IPP (Independent Power Producers)

1 ACT Wind (Pvt) Limited
2 AJ Power (Private) Ltd.
3 Almoiz Industries Limited
4 Altern Energy Ltd.
5 Appolo Solar Development Pakistan Limited
6 Artistic Energy (Pvt.) Limited
7 Atlas Power Limited
8 Attock Gen Limited
9 Azad Jammu & Kashmir Power Development Organzation
10 Best Green Energy Pakistan Limited
11 Central Power Generation Company Limited-(Genco-2)
12 Chanar Energy Limited
13 China Power Hub Generation company (Pvt.) Ltd
14 Chiniot Power Limited
15 Crest Energy Pakistan Limited
16 Davis Energen (Pvt) Limited
17 Engro Powergen Qadirpur Limited
18 Engro Powergen Thar (Pvt) Limited
19 F.D QESCO (Collector of Customs Quetta)
20 Fatima Energy Limited
21 Fauji Kabirwala Power Company Ltd.
22 FFC Energy Limited
23 Foundation Power Company Daharki Ltd.
24 Foundation Wind Energy-I Limited
25 Foundation Wind Energy-II (Pvt.) Limited
26 Gul Ahmed Wind Power Ltd
27 Gulf Powergen (Pvt) Ltd
28 Habibullah Coastal Power Co. (Pvt.) Ltd.
29 Halmore Power Generation Company Limited
30 Hamza Sugar Mills Limited
31 Harapa Solar (Pvt) Limited
32 Hawa Energy (Private) Limited
33 Huaneng Shandong Ruyi Energy (Pvt) Ltd
34 Hydrochina Dawood Power (Private) Limited
35 Jamshoro Power Company Limited-(Genco-1)
36 Japan Power Generation Ltd.37JDW Sugar Mills Ltd.
38 Jhimpir Power (Private) Limited
39 Karachi Nucelar Power Plants
40 Kohinoor Energy Ltd.
41Kot Addu Power Company Ltd.
42 Lakhra Power Generation Company Limited-(Genco-4)
43 Lalpir Power (Private) Limited
44 Laraib Energy Limited
45Liberty Power Tech Limited
46Master Wind Energy Limited
47Metro Power Company Ltd
48Mira Power Limited
49Narowal Energy Limited
50National Power Parks Management Company Private Limited
51Neelum Jhelum Hydropower Company (Pvt.) Ltd.
52Nishat Chunian Power Limited53Nishat Power Limited
54Northern Power Generation Company Limited-(Genco-3)
55Orient Power Company (Private) Limited
56PAEC Chashma Nuclear Power Plant.
57Pak Gen Power Limited
58Pakhtunkhwa Energy Development Organization (Malakand-III)
59Pakhtunkhwa Energy Development Organzation (P**O)
60Pakistan State Oil
61Port Qasim Electric Power Company (Pvt.) Limited
62Quaid E Azam Solar Power Pvt Ltd
63Quaid-e-Azam Thermal Power (Pvt) Limited
64Reshma Power Generation (Pvt) Ltd
65Rousch Pak Power Ltd.
66RYK Mills Limited
67Saba Power Company (Pvt.) Ltd.68Sachal Energy Development (Private) Limited
69Saif Power Limited
70Sapphire Electric Company Limited
71Sapphire Wind Power Company Limited
72Sarhad Hydel Developement Organization
73Southern Electric Power Co Ltd.74Star Hydro Power Limited
75Tavanir Iran
76Tenaga Generasi Limited
77Thal Industries Corporation Ltd
78The Hub Power Company Limited
79Three Gorges First Wind Farm Pakistan (Private) Limited
80Three Gorges Second Wind Farm Pakistan Limited
81Three Gorges Third Wind Farm Pakistan (Private) Limited
82TNB Liberty Power Ltd.
83Tricon Boston Consulting Corporation (Private) Limited
84Uch Power Ltd.
85Uch-II Power (Pvt.) Limited
86UEP Wind Power (Pvt)Ltd
87WAPDA Hydel
88Yunus Energy Limited
89 Zephyr Power (Pvt.) Limited
90 Zorlu Enerji Pakistan Limited

Don't forget to share it.

19/05/2024
وراثت کی تقسیم کا مکمل اور جامع قانونی طریقہ کار:(١): جائیداد حقداروں میں متوفی پر واجب الادا قرض دینے اور وصیت کو پورا ...
03/05/2024

وراثت کی تقسیم کا مکمل اور جامع قانونی طریقہ کار:

(١): جائیداد حقداروں میں متوفی پر واجب الادا قرض دینے اور وصیت کو پورا کرنے کے بعد تقسیم ہوگی.

(٢): اگر صاحب جائیداد خود اپنی جائیداد تقسیم کرے تو اس پر واجب ہے کہ پہلے اگر کوئی قرض ہے تو اسے اتارے، جن لوگوں سے اس نے وعدے کیۓ ہیں ان وعدوں کو پورا کرے اور تقسیم کے وقت جو رشتےدار، یتیم اور مسکین حاضر ہوں ان کو بھی کچھ دے.

(٣): اگر صاحب جائیداد فوت ہوگیا اور اس نے کوئی وصیت نہیں کی اور نہ ہی جائیداد تقسیم کی تو متوفی پر واجب الادا قرض دینے کے بعد جائیداد صرف حقداروں میں ہی تقسیم ہوگی.

جائیداد کی تقسیم میں جائز حقدار:

(١): صاحب جائیداد مرد ہو یا عورت انکی جائیداد کی تقسیم میں جائیداد کے حق دار اولاد، والدین، بیوی، اور شوہر ہوتے ہیں.

(٢): اگر صاحب جائیداد کے والدین نہیں ہیں تو جائیداد اہل خانہ میں ہی تقسیم ہوگی.

(٣): اگر صاحب جائیداد کلالہ ہو اور اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں تو کچھ حصہ سوتیلے بہن بھائی کو جاۓ گا اور باقی نزدیکی رشتے داروں میں جو ضرورت مند ہوں نانا، نانی، دادا، دادی، خالہ، ماموں، پھوپھی، چچا، تایا یا انکی اولاد کو ملے

(1): شوہر کی جائیداد میں بیوی یا بیویوں کا حصہ:

(١): شوہر کی جائیداد میں بیوی کا حصہ آٹھواں (1/8) یا چوتھائی (1/4) ہے.

(٢): اگر ایک سے زیادہ بیویاں ہونگی تو ان میں وہی حصہ تقسیم ہوجاۓ گا.

(٣): اگر شوہر کے اولاد ہے تو جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ بیوی کا ہے، چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.

(٤): اگر شوہر کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، بیوی کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر شوہر کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیوی کیلئے جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ ہے اور شوہر کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر شوہر کے اولاد نہیں ہے تو بیوی کا حصہ چوتھائی (1/4) ہو گا اور باقی جائیداد شوہر کے والدین کی ہوگی.

(٧): اگر کوئی بیوی شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاتی ہے تو اسکا حصہ نہیں نکلے گا.

(٨): اگر بیوہ نے شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے دوسری شادی کرلی تو اسکو حصہ نہیں ملے گا.

(٩): اور اگر بیوہ نے حصہ لینے کے بعد شادی کی تو اس سے حصہ واپس نہیں لیا جاۓ گا.

(2): بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ:

(١): بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ نصف (1/2) یا چوتھائی (1/4) ہے.

(٢): اگر بیوی کے اولاد نہیں ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے اور نصف (1/2) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے.

(٣): اگر بیوی کے اولاد ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے، اور چھٹا (1/6) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.

(٤): اگر بیوی کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، شوہر کیلئے چوتھائی (1/4) حصہ اور باقی جائیداد بیوی کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر بیوی کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور بیوی کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر شوہر، بیوی کے والدین کی طرف سے جائیداد ملنے سے پہلے فوت ہو جاۓ تو اس میں شوہر کا حصہ نہیں نکلے گا.

(٧): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے بچے ہیں تو بیوی کا اپنے والدین کی طرف سے حصہ نکلے گا اور اس میں شوہر کا حصہ چوتھائی (1/4) ہوگا اور باقی بچوں کو ملے گا.

(٨): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے اولاد بھی نہیں ہے تو اسکے شوہر کو حصہ نہیں ملے

(3): باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ:

(١): باپ کی جائیداد میں ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے.

(٢): باپ کی جائیداد میں پہلے باپ کے والدین یعنی دادا، دادی کا چھٹا (1/6) حصہ، اور باپ کی بیوہ یعنی ماں کا آٹھواں (1/8) حصہ نکالنے کے بعد جائیداد اولاد میں تقسیم ہوگی.

(٣): اگر اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں، دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، آٹھ واں (1/8) حصہ بیوہ ماں کا ہوگا اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کوملے گا.

(٤): اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے، آٹھواں (1/8) حصہ بیوہ ماں کیلئے ہے اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر باپ کے والدین یعنی دادا یا دادی جائیداد کی تقسیم کے وقت زندہ نہیں ہیں تو انکا حصہ نہیں نکالا جاۓ گا.

(٦): اگر کوئی بھائی باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوگیا اور اسکی بیوہ اور بچے ہیں تو بھائی کا حصہ مکمل طریقہ سے نکالا جاۓ گا.

(٧): اگر کوئی بہن باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاۓ اور اسکا شوہر اور بچے ہوں تو شوہر اور بچوں کو حصہ ملے گا. لیکن اگر بچے نہیں ہیں تو اسکے شوہر کو حصہ نہیں ملے گا.

(4): ماں کی جائیداد میں اولاد کا حصہ:

(١): ماں کی جائیداد میں ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے.

(٢): جائیداد ماں کے والدین یعنی نانا نانی اور باپ کا حصہ نکالنے کے بعد اولاد میں تقسیم ہوگی.

(٣): اور اگر اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، باپ کیلئے چوتھائی (1/4) حصہ اور باقی جائیداد ماں کے والدین کیلئے ہے.

(٤): اور اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، باپ کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور ماں کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٥): اگر ماں کے والدین تقسیم کے وقت زندہ نہیں ہیں تو انکا حصہ نہیں نکالا جاۓ گا.

(٦): اور اگر باپ بھی زندہ نہیں ہے تو باپ کا حصہ بھی نہیں نکالا جاۓ گا ماں کی پوری جائیداد اسکے بچوں میں تقسیم ہوگی.

(٧): اگر ماں کے پہلے شوہر سے کوئی اولاد ہے تو وہ بچے بھی ماں کی جائیداد میں برابر کے حصہ دار ہونگے.

(5): بیٹے کی جائیداد میں والدین کا حصہ:

(١): اگر بیٹے کے اولاد ہو تو والدین کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر والدین میں صرف ماں ہو تو چھٹا (1/6) حصہ ماں کو ملے گا اور اگر صرف باپ ہو تو چھٹا (1/6) حصہ باپ کو ملے گا اور اگر دونوں ہوں تو چھٹا (1/6) حصہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا.

(٣): اگر بیٹے کے اولاد نہیں ہے لیکن بیوہ ہے اور بیوہ نے شوہر کی جائیداد کے تقسیم ہونے تک شادی نہیں کی تو اس کو جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ملے گا اور باقی جائیداد بیٹے کے والدین کی ہوگی.

(٤): اگر بیٹے کی اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، بیٹے کی بیوہ کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور بیٹے کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٥): اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیٹے کی بیوہ کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور بیٹے کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر بیٹا رنڈوا ہے اور اسکے کوئی اولاد بھی نہیں ہے تو اسکی جائیداد کے وارث اسکے والدین ہونگے جس میں ماں کیلئے جائیداد کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہے اور دو تہائی (2/3) حصہ باپ کا ہے اور اگر بیٹے کے بہن بھائی بھی ہوں تو اسکی ماں کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے اور باقی باپ کا ہے.

(6): بیٹی کی جائیداد میں والدین کا حصہ:

(١): اگر بیٹی کے اولاد ہے تو والدین کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر والدین میں صرف ماں ہو تو چھٹا (1/6) حصہ ماں کو ملے گا اور اگر صرف باپ ہو تو چھٹا (1/6) حصہ باپ کو ملے گا اور اگر دونوں ہوں تو چھٹا (1/6) حصہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا.

(٣): اگر بیٹی کے اولاد نہیں ہے لیکن شوہر ہے تو شوہر کو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ملے گا اور نصف (1/2) جائیداد بیٹی کے والدین کی ہوگی.

(٤): اور اگر بیٹی کی اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، بیٹی کے شوہر کیلئے ایک چوتہائی (1/4) حصہ اور باقی والدین کا ہے.

(٥): اور اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیٹی کے شوہر کیلئے چوتہائی (1/4) حصہ اور والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر بیٹی بیوہ ہو اور اسکے اولاد بھی نہیں ہے تو جائیداد کے وارث اسکے والدین ہونگے جس میں ماں کیلئے جائیداد کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہوگا اور اگر بیٹی کے بہن بھائی ہیں تو ماں کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہوگا اور باقی باپ کو ملے گ

(7): کلالہ:

کلالہ سے مراد ایسے مرد اور عورت جنکی جائیداد کا کوئی وارث نہ ہو یعنی جنکی نہ تو اولاد ہو اور نہ ہی والدین ہوں اور نہ ہی شوہر یا بیوی ہو.

(١): اگر صاحب میراث مرد یا عورت کلالہ ہوں، اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں، اور اگر اسکا صرف ایک سوتیلہ بھائی ہو تو اس کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے، یا اگر صرف ایک سوتیلی بہن ہو تو اس کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر بہن، بھائی تعداد میں زیادہ ہوں تو وہ سب جائیداد کے ایک تہائی (1/3) حصہ میں شریک ہونگے.

(٣): اور باقی جائیداد قریبی رشتے داروں میں اگر دادا، دادی یا نانا، نانی زندہ ہوں یا چچا، تایا، پھوپھی، خالہ، ماموں میں یا انکی اولادوں میں جو ضرورت مند ہوں ان میں ایسے تقسیم کی جاۓ جو کسی کیلئے ضرر رساں نہ ہو.

(8): اگر کلالہ کے سگے بہن بھائی ہوں:

(١): اگر کلالہ مرد یا عورت ہلاک ہوجاۓ، اور اسکی ایک بہن ہو تو اسکی بہن کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے اور باقی قریبی رشتے داروں میں ضرورت مندوں کیلئے ہے.

(٢): اگر اسکی دو بہنیں ہوں تو ان کیلئے جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ ہے اور باقی قریبی رشتے داروں میں ضرورت مندوں کیلیے ہے.

(٣): اگر اسکا ایک بھائی ہو تو ساری جائیداد کا بھائی ہی وارث ہوگا.

(٤): اگر بھائی، بہن مرد اورعورتیں ہوں تو ساری جائیداد انہی میں تقسیم ہوگی مرد کیلئے دوگنا حصہ اسکا جوکہ عورت کیلئے ہے.

الله تمہارے لئے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہوجاؤ اور الله ہر شے کا جاننے والا ہے.

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اور ہر ترکہ کیلئے جو ماں باپ اور عزیز و اقارب چھوڑیں ہم نے وارث قرار دئیے ہیں اور جن سے تم نے عہد کر لئے ہیں ان کا حصہ ان کو دیدو بیشک الله ہر شے پر گواہ ہے. (4:33)

مردوں کیلئے اس میں جو ان کے والدین اور اقرباء چھوڑیں ایک حصہ ہے اور عورتوں کیلئے بھی اس میں جو ان کے والدین اور اقرباء چھوڑیں تھوڑا یا زیادہ مقرر کیا ہوا ایک حصہ ہے. (4:7)

اور جب رشتہ دار و یتیم اور مسکین تقسیم کے موقع پر حاضر ہوں تو انکو بھی اس میں سے کچھ دے دو اور ان سے نرمی کے ساتھ کلام کرو. (4:8)

الله تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے کہ ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے اور اگر فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو ترکے کا دو تہائی (2/3) ان کا ہے اور اگر وہ ایک ہی لڑکی ہو تو اس کیلئے نصف (1/2) ہے اور والدین میں سے ہر ایک کیلئے اگر متوفی کی اولاد ہو تو ترکے کا چھٹا (1/6) حصہ ہے اور اگر متوفی کی کوئی اولاد نہ ہو تو اس کے والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کیلئے ترکہ کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہے اور اگر متوفی کے بہن بھائی بھی ہوں تو اس کی ماں کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے بعد تعمیل وصیت جو وہ کر گیا ہو یا بعد اداۓ قرض کے تم نہیں جانتے کہ تمہارے آباء یا تمہارے بیٹوں میں سے نفع رسانی میں کون تم سے قریب تر ہے یہ الله کی طرف سے فریضہ ہے بیشک الله جاننے والا صاحب حکمت ہے. (4:11)

اور جو ترکہ تمہاری بے اولاد بیویاں چھوڑیں تمہارے لئے اس کا نصف (1/2) حصہ ہے اور اگر ان کے اولاد ہو تو تمہارے لئے اس ترکہ کا جو وہ چھوڑیں چوتھائی (1/4) حصہ ہے اس وصیت کی تعمیل کے بعد جو وہ کر گئی ہوں یا قرض کی ادائیگی کے بعد اور اگر تمہارے اولاد نہ ہو تو جو ترکہ تم چھوڑو ان عورتوں کیلئے اس کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور اگر تمہارے اولاد ہو تو ان عورتوں کا اس ترکہ میں آٹھواں (1/8) حصہ ہے جو تم چھوڑو بعد از تعمیل وصیت جو تم نے کی ہو یا قرض کی ادائیگی کے اور اگر صاحب میراث مرد یا عورت کلالہ ہو اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے اور اگر وہ تعداد میں اس سے زیادہ ہوں تو بعد ایسی کی گئی وصیت کی تعمیل جو کسی کیلئے ضرر رساں نہ ہو یا ادائیگی قرض کے وہ سب ایک تہائی (1/3) میں شریک ہونگے یہ وصیت منجانب الله ہے اور الله جاننے والا بردبار ہے. (4

تجھ سے فتویٰ طلب کرتے ہیں کہہ دے کہ الله تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا آدمی ہلاک ہوجاۓ جس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو پس اس کی بہن کیلئے اس کے ترکہ کا نصف (1/2) حصہ ہے. (اگر عورت ہلاک ہوجاۓ) اگر اس عورت کی کوئی اولاد نہ ہو تو اس کا وارث اس کا بھائی ہوگا اور اگر اس کی دو بہنیں ہوں تو ان کیلئے اس کے ترکہ کا دو تہائی (2/3) ہے اور اگر بھائی بہن مرد اور عورتیں ہوں تو مرد کیلئے دوگنا حصہ اس کا جو کہ عورت کیلے ہے الله تمہارے لئے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہوجاؤ اور الله ہر شے کا جاننے والا ہے.

08/04/2024

الحمدللہ ثمہ الحمدللہ
قیام اللیل *ختم* القرآن مبارک

10/02/2024

سیکشن 90 (13) کے تحت پولنگ سٹیشن کے پریذائیڈنگ آفیسر (PO) کی طرف سے جاری کردہ فارم 45 کا نتیجہ اور اس کے نتیجے میں کسی حلقے کے تمام پولنگ سٹیشنوں میں جاری کردہ تمام فارم 45 کا اجتماعی نتیجہ ہی اصل اور حقیقی نتیجہ ہے۔
سیکشن 92 کے تحت کسی حلقے کے ریٹرننگ آفیسر (RO) کی طرف سے جاری کردہ فارم 47 کی کوئی اہمیت نہیں ہے جب تک کہ اسے پریذائیڈنگ آفیسرز کے فارم 45 کی حمایت نہ ہو۔
مختصراً، اصل نتیجہ تمام پولنگ سٹیشنوں کے تمام فارم 45 میں اجتماعی نتیجہ ہے۔

آسان الفاظ میں، ایک کلاس ٹیچر ایک طالب علم کا نتیجہ تیار کرتا ہے۔ ہر مضمون کے استاد کے ذریعہ دیئے گئے ہر پیپر پر نمبر فارم 45 کی طرح ہوتے ہیں جبکہ کلاس ٹیچر کے ذریعہ تیار کردہ رپورٹ کارڈ فارم 47 کی طرح ہوتا ہے۔
لہذا، صداقت مضمون کے پرچے پر نمبروں (نتائج) کی ہے اور رپورٹ کارڈ تمام مضامین کے پرچوں کے نتائج کو دیکھنے کے بعد ہی تیار کیا جا سکتا ہے۔
لہذا، ہائی کورٹس تمام مقدمات کا فیصلہ فارم 45 کی بنیاد پر کریں گی نہ کہ فارم 47 کی بنیاد پر۔

انا لله وانا اليه راجعون.  ھائی کورٹ مینگورہ بنچ بار کے انتہائی قابلِ احترام ممبر سرتاج احمد ایڈوکیٹ. Sartaj Ahmad Adv v...
14/01/2024

انا لله وانا اليه راجعون.
ھائی کورٹ مینگورہ بنچ بار کے انتہائی قابلِ احترام ممبر سرتاج احمد ایڈوکیٹ. Sartaj Ahmad Adv v وفات پا چکے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین ۔ مرحوم انتہائی شفیق اور مخلص انسان تھے۔ مرحوم کا نماز جنازہ آج بروز اتوار مورخہ 14 جنوری 2024 کو بوقت 02:00 pm بعد از نماز ظہر ان کے اباٸی گاوں مدین میں ادا کی جاٸیگی.

I have reached 700 followers! Thank you for your continued support. I could not have done it without each of you. 🙏🤗🎉
10/12/2023

I have reached 700 followers! Thank you for your continued support. I could not have done it without each of you. 🙏🤗🎉

Address

Office No 631 , 6th Floor Pak Medical Centre Khyber Bazar Peshawar
Peshawar
250000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00

Telephone

+923455868101

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Syed Bilal Jan Advocate High Court & Federal Shariat Court of Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Syed Bilal Jan Advocate High Court & Federal Shariat Court of Pakistan:

Share