Geo chachar

Geo chachar To watch history of Islam and others religions .....more information about your experience positively

19/06/2020
15/06/2020



خلافت عثمانیہ

ارطغرل کی نسل کے ایک بادشاہ سلیمان دی گریٹ کی سلطنت 20 لاکھ مربع میل تک پھیلی ہوئی تھی۔
خلافت عثمانیہ کا اصل بانی ارطغرل کا پوتااور عثمان غازی کا بیٹا اورخان تھا‘ ترک اسے آرخان بھی کہتے ہیں‘ وہ 1281ء میں صغوط میں پیدا ہوا اور اس کا بچپن اپنے دادا کی گود میں گزرا ‘ وہ ارطغرل کا پسندیدہ پوتا تھا‘ وہ اسے اپنی جوانی کی مہمات کے قصے سناتا رہتا تھا‘ وہ زمین پر تلوار سے دنیا کا نقشہ بناتا تھا۔

ابن عربی کی پیش گوئی سناتا تھا اور پھر اورخان سے کہتا تھا ’’جان پدر تم نے یہ سارے شہر فتح اور میرے نام کے سکے جاری کرنے ہیں‘ تم اگر یہ نہ کر سکو تو تم اپنے بیٹوں کو میری قبر پر لا کر انھیں بتانا یہاں ایک ایسا شخص سو رہا ہے جس نے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست کا خواب دیکھا تھا‘‘ اورخان نے یہ بات پلے باندھ لی‘ ارطغرل 1288ء میں انتقال کر گیا‘ اورخان کی عمر اس وقت سات سال تھی‘ وہ جوان ہونے تک روز دادا کی قبر پر حاضری دیتا تھا اور قبر کے سرہانے کھڑے ہو کردادا کا خواب دہراتا تھا‘ وہ عثمان غازی کے ساتھ مل کر صغوط کے دائیں بائیں موجود قلعے بھی فتح کرتا رہا۔

سن 1300ء میں علاقے کی چاروں بڑی ریاستیں زوال پذیر ہو گئی تھیں‘ سلجوق ریاست ختم ہو گئی‘ ایوبی سلطنت کم زور ہورہی تھی‘بازنطینی ایمپائر کی اینٹیں بھی گر رہی تھیں اور منگولوں کا طوفان بھی سمٹ کر چین تک محدود ہو گیا تھا‘ ایشیا کوچک میں اس وقت گرے ہوئے قلعوں‘ خاک اڑاتے شہروں‘ بکھرتے محلات اور گزرے وقت کے نوحوں کے سوا کچھ نہیں تھا لیکن آپ قدرت کا معجزہ دیکھئے‘ اسی خون آشام دور میں دو نئی طاقتیں پیدا ہو گئیں۔

ازبکستان میں امیر تیمور نے جنم لے لیا اور ترکی میں ارطغرل کا خاندان سر اٹھانے لگا‘ امیر تیمور اور آرخان دونوں کے دور میں زیادہ فرق نہیں‘ امیر تیمور نے اورخان کے پوتے بایزید یلدرم کو 1402ء میں انگورہ (انقرا) میں شکست دی تھی‘ یہ دونوں طاقتیں بحران میں ابھریں اور یہ دیکھتے ہی دیکھتے تاریخ بن گئیں۔

اورخان نے 1326ء میں عثمان غازی کے انتقال کے بعد عنان اقتدار سنبھالی‘ عثمانی سلطنت اس وقت صغوط سے شروع ہوتی تھی اور سو کلو میٹر بعد بورسا پہنچ کر ختم ہو جاتی تھی لیکن اورخان نے اس کے باوجود نہ صرف اپنا سکہ جاری کیا بلکہ اپنی ریاست کا آئین‘ قانون اور بیوروکریٹک سسٹم بھی بنایا‘ یہ اورخان تھا جس نے اپنے دادا ارطغرل کی داستان لکھوائی اور اس کے نام کا سکہ جاری کیا‘ یہ وہی سکہ تھا جوآگے چل کر ڈرامہ سیریز ارطغرل کا محرک بنا‘ کیسے؟ یہ میں آپ کوآیندہ کالموں میں بتائوں گا۔

ارطغرل خاندان نے فیصلہ کیا تھا یہ اسلامی دنیا کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کریں گے‘ ان کا فوکس بازنطینی ریاست ہو گی لہٰذا یہ صرف ان کے قلعوں پر حملے کرتے تھے‘ اورخان نے بورسا کے بعد ازنیق‘ ازمیت اور کاراسی کے قلعے فتح کر لیے‘ آپ ارطغرل میں بار بار نکوسیااور نومیدیا کا ذکر سن رہے ہوں گے‘نکوسیا آج کل سائپرس کا دارالحکومت ہے جب کہ نکومیدیا یونان کا شہر تھا‘ دونوں شہر چودھویں صدی میں اہم اور بڑے ہوتے تھے‘ اورخان نے یہ بھی فتح کر لیے۔

یہ اس کے بعد سابق سلجوق ریاست کے شمال مشرقی علاقوں کی طرف بڑھا اور آدھا اناطولیہ بھی لے لیا اور پھر یہ آج کے ترکمانستان کی طرف مڑ گیا اور اس کا خاصا حصہ بھی قابو کر لیا‘ بازنطینی حکومت اس سے گھبراتی تھی چناں چہ بازنطینی بادشاہ جان ششم نے اس کے ساتھ امن معاہدہ کیا اور اپنی صاحبزادی تھیوڈورا اس کے عقد میں دے دی‘ یہ پہلا ترک سلطان تھا جس نے گیلی پولی اور انقرا فتح کر لیے ‘ اس نے گورننس کا اپنا ایک ماڈل بھی تخلیق کیا تھا‘ آغوز قبائل جھنڈے کو سنجاق کہتے تھے۔

اورخان نے ریاست کو مختلف صوبوں اور ضلعوں میں تقسیم کیا اور ہرضلع دار کو مختلف رنگ کا جھنڈا دے دیا‘ ان جھنڈوں کی وجہ سے اس کے ضلعے سنجاق کہلاتے تھے‘ اس نے ضلع داروں کو اپنی فوج بنانے‘ علاقے فتح کرنے اور ٹیکس جمع کرنے کا اختیار بھی دے دیا تھا‘ اس حکمت عملی کی وجہ سے اس کی فوج بھی مضبوط ہو گئی اور عوام بھی خوش حال ہو گئے‘ اس نے بے شمار مسجدیں‘ مدرسے اور کاروان سرائے بنوائے اور وہ ایشیا کوچک کا پہلا حکمران تھا جس نے بورسا میں یونیورسٹی بنائی تھی‘ اورخان کے بعد اس کا بیٹا مراد اول سلطان بنا اور اس نے سلطنت عثمانیہ کو حقیقتاً سلطنت عثمانیہ بنا دیا‘ مراد 30 سال حکمران رہا‘ وہ ان 30 برسوں میں 24 سال میدان جنگ میں رہا‘ اس کا ریکارڈ تھا اس نے کوئی جنگ نہیں ہاری تھی۔

اس نے بلغاریہ‘ سربیا اور مقدونیہ فتح کر لیے ‘ اس کی آخری جنگ کوسوو میں ہوئی تھی اور پورے یورپ کی فوجیں اکٹھی ہو کر اس کے مقابلے کے لیے میدان میں اتری تھیں لیکن اس نے اس مشترکہ فوج کو بھی خاک چٹوا دی ‘ وہ 1389ء میں کوسوو کی جنگ کے دوران زخمی ہو کر انتقال کر گیا‘ مراد اول کے مرنے کی خبر پھیلی تو پورے یورپ میں جشن منایا گیا اور تمام کلیسائوں کی گھنٹیاں بجائی گئیں‘ مراد اول نے عثمانی سلطنت کے رقبے میں پانچ گنا اضافہ کیا لیکن آپ یہ جان کر حیران ہوں گے چار نسلوں کی فتوحات کے باوجود مراد اول کے انتقال تک سلطنت عثمانیہ صرف 20 ہزار مربع کلو میٹر پر محیط تھی اور یہ رقبہ آج کی راولپنڈی ڈویژن سے بھی کم تھا‘ یہ تھی سلطنت عثمانیہ ‘ چار نسلوں کے بعد کی سلطنت عثمانیہ۔

یہ حقیقت ثابت کرتی ہے ریاستیں ایک دن میں نہیں بنا کرتیں‘ ان کی بنیادوں تک میں چار چار نسلیں کھپ جاتی ہیں‘ آپ ایران سے لے کر ویانا تک سفر کریں‘ آپ کو ہر دس پندرہ کلو میٹر بعد کوئی نہ کوئی مزار‘ کوئی نہ کوئی قبرستان ملے گا اور اس قبرستان میں آپ کو کوئی نہ کوئی ترگت‘ کوئی نہ کوئی عبدالرحمن‘ کوئی نہ کوئی سامسا اور کوئی نہ کوئی بامسی ملے گا‘ ویانا کے مضافات اور بداپسٹ کی پہاڑیوں تک پر ترک قبرستان ہیں اور ہر قبر کے سرہانے کلمہ شہادت لکھا ہے۔

ریاستوں کو ریاست بنانے میں نسلوں کا لہو اور ہڈیاں خرچ ہوتی ہیں اور پھر کہیں جا کر ریاستیں سر اٹھاتی ہیں‘ پھر کہیں جا کر ان کے جھنڈے اقوام عالم کے درمیان لہراتے ہیں‘ خلافت عثمانیہ کی رگوں میں بھی ارطغرل کی 18 نسلوں اور 36 سلطانوں کا لہو شامل ہوا اور پھر کہیں جا کر ارطغرل آج کی نسل تک پہنچا‘ پھر کہیں جا کر دنیا نے تسلیم کیا ’’ترک صرف ترک ہوتے ہیں‘‘ نپولین بونا پارٹ نے ارطغرل کی نسل کے بارے میں کیا خوب کہا تھا‘ اس نے کہا تھا‘ دنیا کی ہر فوج کسی نہ کسی کے اسٹائل میں لڑتی ہے لیکن ترک صرف اور صرف ترکوں کے اسٹائل میں لڑتے ہیں۔

ارطغرل کی نسل نے صرف تلواروں اور گھوڑوں میں کمال نہیں کیا بلکہ اس نے دنیا کو بیوروکریسی‘ آرکی ٹیکچر‘ لائف اسٹائل اور فوج سازی کا ماڈرن فن بھی دیا‘ عثمانی سلطان مشرقی یورپ کے عیسائی بچوں کو گود لے لیتے تھے‘ یہ ان بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلاتے تھے اور یہ جب بڑے ہو جاتے تھے تو یہ انھیں بیورو کریسی میں شامل کر دیتے تھے‘ یہ بچے رشتے داروں کی مجبوریوں سے پاک ہوتے تھے چناں چہ یہ پوری زندگی کرپشن فری رہتے تھے۔

ترک فوج کا ایک جاںنثار دستہ ’’ینی چری‘‘ کہلاتا تھا‘ یہ لوگ صرف مرنے کے لیے میدان میں اترتے تھے لہٰذا یہ کبھی ہار کر واپس نہیں آتے تھے‘ سلطان بھی ان کے خوف سے کوئی ناانصافی‘ کوئی گڑبڑ نہیں کرتے تھے‘ یہ باغی شہزادوں کے سر اتار دیتے تھے اور کم زور اور کرپٹ بادشاہ کو کان سے پکڑ کر تخت سے اتار دیا کرتے تھے اور آپ نے اگر ترکش آرکی ٹیکچر دیکھنا ہو تو آپ استنبول چلے جائیں‘ آپ کو ہر پرانی عمارت‘ ہر پرانی مسجد پکڑ کر بیٹھ جائے گی‘ آپ اس کے صحن سے باہر نہیں نکل سکیں گے اور رہ گیا لائف اسٹائل تو کافی ہو۔

سگریٹ ہو‘ کاغذ ہو‘ رائفل ہو‘ بوٹ ہوں‘ کموڈ ہو یا پھر ہیئر کلرز ہوں آپ کو ان کے پیچھے سلطنت عثمانیہ اور ترک ملیں گے‘ یہ تمام چیزیں ایجاد یورپ میں ہوئیں لیکن انھیں بنایا اور مارکیٹ ترکوں نے کیا‘ ارطغرل کی نسل کے ہر سلطان نے اپنے نام سے ایک محلہ آباد کیا تھا اور اس محلے میں شان دار مسجد‘ مدرسہ اور شفاخانہ بھی بنوایا اور اپنا مقبرہ بھی‘ میں درجنوں مرتبہ ترکی جا چکا ہوں لیکن آپ یقین کریں میں ہر بار پہلے سے زیادہ متاثر ہو کر واپس آتا ہوں‘ یہ ملک مجھے ہر بار حیران کر دیتا ہے۔

آپ قدرت کا انعام دیکھیے‘ ارطغرل کے پاس خیمہ لگانے اور گھوڑا باندھنے کی جگہ نہیں تھی لیکن پھر اس کی نسل میں ایک ایسا وقت آیا جب تین براعظموں پر ان کی حکومت تھی‘ ان کا جھنڈا چین اور روس کی سرحد سے لے کر ویانا اور ایران‘ عراق‘ سعودی عرب اور شام سے ہوتا ہوا مصر تک جاتا تھا‘ ارطغرل کی نسل کے ایک بادشاہ سلیمان دی گریٹ کی سلطنت 20 لاکھ مربع میل تک پھیلی ہوئی تھی‘یہ ہوتی ہے اﷲ کی دین‘ اسے کہتے ہیں اﷲ جب رحم کرنے پر آتا ہے تو پھر یہ چرواہوں کی نسلوں کو قوموں کا تاج بنا دیتا ہے‘ یہ پھر عروج کو بھی اتنا عروج دیتا ہے کہ عروج کو بھی پسینہ آ جاتا ہے ‘ واہ پروردگار! تیرے بھی کیا کہنے ہیں۔

15/06/2020

قاسم علی شاہ کی باتیں
اور موجودہ حالات

عربی کا ایک مقولہ ہے کہ ’’کچھ پوچھنا ہے تو تجربہ کا رانسان سے پوچھو ، دانا سے نہیں!‘‘یعنی آپ کو اگرکسی کا م کے بارے میں رائے درکار ہو توبنسبت عقل منداور دانا کے اس آدمی سے رائے لیں جس کے پاس اس کام کا تجربہ ہے۔ایسا ہوسکتا ہے کہ کوئی تجربہ کار شخص کوئی بات کہہ دے اور وہ اس وقت لوگوں کی سمجھ میں نہ آئے لیکن بعد کے حالات اس بات کو درست ثابت کردیں۔’’قاسم علی شاہ فائونڈیشن‘‘ کے پلیٹ فارم سے ہم نے ہر موقع اور حالات کی مناسبت سے معاشرے میں اچھائی ،امید اور بامقصد زندگی کے بارے میں شعور اجاگر کیا ۔لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ان باتوں کو عمل میں لایا اوربھرپور فائدہ حاصل کیا۔میری اور میری ٹیم کی تمام تر کاوشوں او ر جد وجہد کا مقصد ہی انسانیت کو خیرپہنچانااوران کو منفی سوچوں سے نکال کر کامیابی کی امید دلانا ہے کیونکہ یہی وہ نسل ہے جس نے مستقبل میں ملک وقوم کی باگ ڈور سنبھالنی ہے اور اگر اب سے ان کو ایک بہترین لائحہ عمل نہ دیا گیا تو شایدہم ایک تابناک مستقبل سے محرو م ہوسکتے ہیں۔
ہم نے ان تمام پیغامات کا ایک مختصر جائزہ لیاجوہم نے وقتاًفوقتاً معاشرے کی فلاح کے لیے کہے تھے تو یہ جان کر حیرانگی ہوئی کہ وہ تمام باتیں آ ج کل کے حالات پر صادق آرہی ہیں اور لوگ ان پر عمل بھی کررہے ہیں۔یہ فہرست آ ج ہم اپنے قارئین کے سامنے فقط اس مقصد کی خاطر پیش کررہے ہیں کہ ا ن پراپنے عمل کو مزید مضبوط بنائیں او ر ساتھ میں یہ عہد بھی کریں کہ جب بھی اللہ نے رحم کیا اور موجودہ حالات بہتر ہوگئے تو عمل پیرا ہونے کے اس سلسلے کوبرقراررکھنا ہے تاکہ آپ زندگی اوراس کی حقیقی خوشیوں سے ہر وقت ہمکنارر ہیں۔
(نوٹ:پہلی لائن میں قاسم علی شاہ صاحب کے الفاظ ہیں،دوسری لائن میں اسی مناسبت سے قرآنی آیت /حدیث شریف ہے اور تیسری لائن میں مختصر وضاحت ہے۔)

رزق جیسابھی ہو اپنا اثر ضرور دکھاتا ہے ۔
پس تم ان چیزوں میں سے کھاؤ جو تمہیں اللہ نے دی ہیں حلال اور پاکیزہ ۔(سورۃ النحل:114)
انسان کو کم کھانا چاہیے مگر حلال کھانا چاہیے ۔اگرحلال رزق غلط طریقے سے کمایا جا ئے تو وہ حرام بن جاتا ہے اور اس سے روحانی و جسمانی بیماریاں بنتی ہیں۔جیسے آج کل کی وبا بنی ہوئی ہے۔

مالک جس طرح خوراک کھائے ،وہی ملازم کو بھی کھلائے۔
حدیث شریف:تم میں سے کسی عربی کو عجمی اور گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں۔
(السلسلۃ الصحیحۃ :294)
آج کی وبا ء کی وجہ سے لوگ مرغی اور گوشت چھوڑکر سادہ خوراک کھارہے ہیں ۔صحت کا رازبھی یہی ہے کہ انسان غیر ضروری چکنی اور مرغن غذائوں سے پرہیز کریں ۔ بحیثیت انسان ہمارا فرض بنتا ہے کہ جس طرح کی خوراک ہم کھاتے ہیں ہمارا ملازم اور نوکر بھی وہی کھائے،کیونکہ اسلام مساوات کا درس دیتا ہے۔

اپنے ساتھ جڑے لوگو ں اوردوسرے انسانوں کا احساس کریں۔
حدیث شریف:وہ شخص مومن نہیں جو خود تو اپنا پیٹ بھرے مگر اس کا ہمسایہ یا پڑوسی بھوکاہو۔
(الترغیب والترہیب)
آج وباء کی وجہ سے کاروبار ٹھپ ہیں ، روزگار بند ہیں اور ہر انسان کو یہ احساس ہوگیا ہے جب کوئی بھوکا ہوتا ہے تو اس پر کیا گزرتی ہے۔اپنی بھوک محسوس کرکے ان لوگوں کے بارے میں ضرور سوچیں جو روز بھوکے سوتے ہیں۔

منافقت چھوڑکرآپس میں محبت کو فروغ دیں ا ور اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کریں۔
حدیث شریف:حسد اور ایمان ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتے ۔(سنن النسائی)
ہم نے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف حسد اور کینہ رکھا تو اللہ تعالیٰ نے ہاتھ ملوانے سے بھی محروم کردیا۔موجودہ حالات اس کے خوب عکاسی کرتے ہیں۔آج ہی سے عہد کریں کہ ایک دوسرے کو ہمیشہ پیار ،خلوص اور محبت دینی ہے اور حسد ،کینہ اور بغض سے اپنے دِلوں کو صاف رکھنا ہے۔

ہم وہ قوم ہیں جو دوسروں کے نقصان پر رنجیدہ ہونے کی بجائے خوش ہوتے ہیں۔
بے شک اللہ تعالیٰ اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتاجب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدلے۔(سورۃ الرعد:۱۱)
لوگوں میں بے حسی اس قدر زیادہ ہوئی ہے کہ اس کڑے وقت میں بھی ذخیرہ اندوزی کرکے پیسے کمانے کے چکر میں ہیں،حالانکہ یہ وقت دوسرے لوگوں سے ہمدردی کرنے کا ہے۔ہم اگر یہ رویہ نہ چھوڑیں تو شاید ہمارے حالات بھی نہ بدلیں ۔ہر شخص کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔

ہنر ،صلاحیت اور قابلیت کو پالش کرنے کی ضرورت ہے،کیونکہ اسی سے قومیں ترقی کرتی ہیں۔
آج سائنس و ٹیکنالوجی کے زمانے میں انسان بے بس ہے ،اتنا ترقی یافتہ ہونے کے باوجود بھی وہ ایک ویکسین تیار نہیں کرسکتے۔ہم نے میڈیکل اور سائنس کے میدان میں اپنی صلاحیتوں اور اسکلز کو نکھارنا ہے او ر ملک وقوم کو شاندار نتائج دینے ہیں۔

اپنے ہاتھ سے کھانا تیار کرکے دوسروں کو کھلائیں۔
حدیث شریف:سوال پوچھا :کون سا اسلام افضل ہے۔فرمایا:کھانا کھلانا اور سلام کرناہر اس شخص کو جسے تو جانتاہے یا نہیں۔(صحیح البخاری)
آج موقع ہے ۔مزدور ،غریب اور بے روزگار لوگ بھوک سے بے تاب ہیں ،اپنے ہاتھ سے کھانابناکر اان کو کھلائیں کہ یہی رب کی رضااور روحانی خوشی کا سبب ہے۔

زندگی کی قیمت کو سمجھیں بے مقصد زندگی مت گزاریں۔
موت کا خوف ہر طرف چھایا ہوا ہے۔ آ ج انسان اپنی بے مقصد زندگی پر پچھتارہا ہے۔کل اگر اللہ نے زندگی دی تو خدارا اس کو بے مقصد مت گزاریں۔ آج ہی سے اپنی زندگی کی سمت واضح کریں اور ایک بامقصد زندگی جی کر جائیں۔

امید کا دیا روشن کریں۔اللہ کے کرم پر یقین رکھیں۔
اپنے پروردگار کی رحمت سے گمراہوں کے علاوہ اور کون مایوس ہوسکتا ہے۔
(سورۃ الحجرـ:56)
آج کے حالات میں ہر ایک کو امید،دلاسے اور رحمت پریقین کی ضرورت ہے۔دوسروں کو حوصلہ دیںاور اللہ کے کرم پر ان کا یقین بڑھائیں۔

کسی سے زندگی کی امید مت چھینو!کیونکہ یہ سب سے بڑا ظلم ہے۔

اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:آسانی دو ،مشکل میں مت ڈالو،خوش خبری دو اور نفرت مت پھیلاؤ۔(صحیح البخاری)
آج سوشل میڈیا پر ہر طرف مایوسی کی خبریں ہیں ۔اس وقت قوم کو آسانی اور خوش خبری کی ضرورت ہے نہ کہ نفرت کی۔اپنے قول وفعل اور سوشل میڈیا کو ملکی ،مسلکی اور قومی تعصب کے لیے قطعاً استعمال نہ کریں ۔اپنے نبی ﷺ کی بات پر عمل کرتے ہوئے آسانیاں پھیلائیں۔

کتاب پڑھیں۔یہ آپ کو Paybackکرتی ہے۔
ہم نے کتاب چھوڑکر سوشل میڈیا اور ٹی وی کو سارا وقت دیا تھا جس نے ہمیں ٹینشن کے علاوہ کچھ بھی نہ دیا۔آج ہمارے پاس بھرپور موقع ہے ،کتاب پڑھنے کا،مطالعہ کرنے کا اور اپنے علم و عمل میں نکھارلانے کا،اس عادت کو پختہ کریں یہ آپ کوزندگی میں آگے بڑھنے کے لیے بھرپور فائدہ دے گی۔

بچوں کو وقت دیں تاکہ وہ بڑ ے ہوکر آپ کو وقت دیں۔
آج کے حالات نے ہمیں ایک ساتھ جوڑ دیا ہے۔اس کو بھی ایک اچھا موقع سمجھیں اور بچوں کی بہترین تربیت کریں ۔ان کو سنیں اور اپنے دل کی بات انہیں سنائیں۔آپ کا اپنے بچوں کے ساتھ تعلق جتنا مضبوط ہوگا اتنا وہ آپ کی سمجھیں گے ،اس پر عمل کریں گے ۔

صفائی ستھرائی اور ہائی جینزکا خیال رکھیں۔
موجودہ حالات میں اس کی بڑی اشد ضرورت ہے ۔صفائی نہ ہونے کی وجہ سے بیماریا ں پھیل رہی ہیں۔بحیثیت مسلمان ہمیں اپنا جسم ،اپنا لباس اور باطن پاک رکھنا بہت ضروری ہے۔اس میں جہاں ہمارے لیے ظاہری فوائد ہیں وہیں بے شمارروحانی فوائد بھی ہیں۔

اپنا روزگار بنائیں،خواہ وہ چھوٹی سطح پرہی کیوں نہ ہو۔
آج جہاں دنیا کاروباری مندی کاشکا ر ہے اور کمپنی ودفاتربند ہیں ،اس حالت میں بھی ایک رکشے والا اپنے کام سے دیہاڑی کماکر خوش ہے،کیونکہ ہنر مند انسان کبھی بھوکا نہیں سوتا او ر نہ ہی وہ دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلاتا ہے۔یہی ہنر کی برکت ہے۔

زندگی کو آسان بنائیں۔غیر ضروری رسم و رواج کو چھوڑدیں۔
آج کے حالات نے انسانوں کو محدود اور غیر ضروری رسموں و رواجوں کو ختم کردیاہے مگر یہ یقین بھی ہوگیا کہ یوں بھی زندگی گزاری جاسکتی ہے بلکہ اس زندگی میں انسان زیادہ مطمئن ہے۔اس کے بعد والی زندگی کو بھی غیر ضروری رسم ورواج اور خرافا ت سے پاک کردیں توآپ مزید اطمینان اورخوشیاں حاصل کریں گے۔

غیر یقینی حالت چھوڑیں ،اللہ سے تعلق مضبوط کریں۔
اور جو خدا پرتوکل کرے گا تو اللہ اس کے لیے کافی ہوجائے گا۔
(سورۃ الطلا ق:3)
آج کے غیر یقینی حالات میں صرف دعائوں کا ہی آسرا ہے۔غیریقینی حالت انسان سے ہزار سجدے کرواتی ہے ۔اس غیر یقینی حالت کو ’’یقینی حالت ‘‘ میں بدلنا بہت ضروری ہے اور یہ تب بدل سکتی ہے جب آپ کویہ یقین ہو کہ کل بھی اللہ نے کرم کیا تھا ،آج بھی کررہا ہے اور آئندہ بھی کرے گا۔

اپنی ذات سے دوسروں کو تکلیف نہ دیں۔خاص کر زبان سے.
مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ او ر زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔
(صحیح البخاری)
آ ج ہر شخص اپنی فکر میں اتنا ڈوبا ہوا ہے کہ دوسری طرف سو چ جاتی ہی نہیں،یوں ہر انسان دوسرے کی تکلیف سے بھی محفوظ ہے۔اگر ہم آنے والی زندگی میں بھی یہی روٹین بنائیں اوراپنے کام سے کام رکھیں تو بہت سارے افراد اذیت اور تکلیف سے بچ سکتے ہیں۔

لاء آف اٹریکشن یعنی قانونِ کشش انسان کی زندگی میں بڑی اہمیت رکھتاہے۔
اللہ فرماتا ہے :میں اپنے بندے کے گمان میں ہوتا ہوں ۔(حدیث قدسی)
کورونا وائرس کی ایک بڑی وجہ اس کا زیادہ سے زیادہ تذکرہ اور اپنے ذہن پر اس کا خو ف سوار کرنابھی ہے۔قانونِ کشش ہر وقت کام کرتا ہے او ر انسان جس چیز کے بارے میں ہر وقت سوچتا ہے وہی اس کے پاس آجاتی ہے۔اس لیے اس کا ذکر بالکل نہ کریں۔احتیاط ضرور کریں مگر خوف زدہ نہ ہوں۔

قدرت کے مطابق چلیں ،اس کے قوانین کے خلاف ورزی نہ کریں۔
شاید ہم نے قدرتی اور فطری قوانین کے خلاف ورزی کی ہے جس کی وجہ سے آج انسان مصیبت میں جبکہ چرند اورپرند سب بے فکر او ر خوش ہیں۔

اپنے محسنوں کے احسان کو یاد رکھیں۔
جو انسانوں کا شکر گزار نہیں وہ رب کا بھی شکرگزار نہیں۔(سنن ابی داؤد)
اس مشکل گھڑی میں فوج ،پولیس،ریسکیو کے اہلکار ہماری حفاظت میں جبکہ ڈاکٹرز،نرسزاور میڈیکل سٹاف ہماری خدمت میں لگاہوا ہے۔ان کے احسان کو یاد رکھیں اور ان کی شاندار الفاظ میں حوصلہ افزائی کریں۔

15/06/2020

شاہ ولی اللہ
ہندوستانی مسلم عالم

مسلمانان ہند و پاک کے دورِ زوال کی اہم ترین شخصیت (پیدائش: 1703ء، انتقال:1762ء) برصغیر پاک و ہند میں جب مسلمانوں کا زوال شروع ہوا تو بہت سے لوگوں نے سنجیدگی کے ساتھ زوال کے اسباب پر غور کرنا شروع کیا ان لوگوں میں عہد مغلیہ کے مشہور عالم اور مصنف شاہ ولی اللہ (1703ء تا 1763ء) کا نام سب سے نمایاں ہے۔ مجدد الف ثانی اور ان کے ساتھیوں نے اصلاح کا جو کام شروع کیا تھا شاہ ولی اللہ نے اس کام کی رفتار اور تیز کردی۔ ان دونوں میں بس یہ فرق تھا کہ مجدد الف ثانی چونکہ مسلمانوں کے عہد عروج میں ہوئے تھے اس لیے ان کی توجہ زیادہ تر ان خرابیوں کی طرف رہی جو مسلمانوں میں غیر مسلموں کے میل جول کی وجہ سے پھیل گئیں تھیں لیکن شاہ ولی اللہ چونکہ ایک ایسے زمانے سے تعلق رکھتے تھے جب مسلمانوں کا زوال شروع ہو گیا تھا اس لیے انہوں نے مسلمانوں کے زوال کے اسباب پر بھی غور کیا اور اس کے علاج کے بھی طریقے بتائے۔

شاہ ولی اللہ
محدّث دہلوی

Shah Waliullah Name.

معلومات شخصیت
پیدائشی نام
قطب الدین احمد
پیدائش
21 فروری 1703
دہلی
وفات
20 اگست 1762ء (59 سال)

دہلی
قومیت
ہندوستانی
نسل
ہندوستانی
اولاد
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی

علم حدیث، فقہ، اصول فقہ

مؤثر
امام مالک، امام محمد بن اسماعیل بخاری
متاثر
شاہ عبد العزیز محدث دہلوی، حاجی شریعت اللہ، الشیخ محمد ناصر الدین البانی، اسرار احمد

ابتدائی زندگی ترميم
شاہ ولی اللہ مجدد الف ثانی کے انتقال کے تقریباً 80 سال بعد دہلی میں پیدا ہوئے۔ 7 سال کی عمر میں قرآن حفظ کیا وہ ابھی چار سال کے تھے کہ شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کا انتقال ہو گیا۔ اس کے چند سال بعد مغلوں کی عظیم الشان سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہونا شروع ہو گئی۔ سارے ملک میں بے امنی پھیل گئی اور مرہٹے ملک کے بہت بڑے حصے پر قابض ہونے کے بعد دہلی پر قبضہ کرنے کا خواب دیکھنے لگے۔

مسلمانوں کی نہ صرف سیاسی حالت خراب تھی بلکہ وہ اخلاقی حیثیت سے بھی زوال کی طرف جا رہے تھے۔ آرام طلبی، عیش و عشرت، دولت سے محبت، خود غرضی، بے ایمانی اور اسی قسم کی دوسری خرابیاں ان میں عام ہو گئی تھیں۔ شاہ ولی اللہ نے اپنی تصنیف و تالیف اور اصلاح کا کام اسی نازک زمانے میں شروع کیا۔ ان کی کوشش تھی کہ ایک طرف مسلمانوں میں اتحاد پیدا ہو اور وہ پھر سے ایک مضبوط سلطنت قائم کریں اور دوسری طرف اپنی اخلاقی خرابیوں کو دور کرکے اور غیر اسلامی طریقوں و رسوم و رواج کو چھوڑ کو دورِ اول کے مسلمانوں جیسی زندگی اختیار کر لیں۔

اصلاح کا کام ترميم
انہوں نے مسلمانوں کو سیاسی حیثیت سے مضبوط بنانے کے لیے بادشاہوں اور امرا سے خط کتابت بھی کی۔ چنانچہ احمد شاہ ابدالی نے اپنا مشہور حملہ شاہ ولی اللہ کے خط پر ہی کیا جس میں اس نے پانی پت کی تیسری لڑائی میں مرہٹوں کو شکست دی تھی۔

شاہ ولی اللہ نے سماجی اصلاح کا بھی کام کیا۔ مسلمانوں میں ہندوؤں کے اثر کی وجہ سے بیوہ عورتوں کی شادی بری سمجھی جانے لگی تھی۔ شاہ ولی اللہ نے اس رسم کی مخالفت کی اسی طرح انہوں نے بڑے بڑے مہر باندھنے اور خوشی و غم کے موقع پر فضول خرچی سے روکا۔ حضرت شاہ ولی اللہ امت کے کلیدی مسائل کو مستقبل کی نظر سے بھی دیکھتے تھے۔

انہوں نے مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے اختلافات کو ختم کرنے کی کوشش کی اور اس پر زور دیا کہ اختلاف کی صورت میں انتہا پسندی کی جگہ اعتدال سے کام لیا جائے۔

انہوں نے تصوف کی بھی اصلاح کی اور پیری مریدی کے طریقوں کو غلط راستے سے ہٹایا۔

کارنامے ترميم
شاہ ولی اللہ کا ایک بڑا کارنامہ قرآن مجید کا فارسی ترجمہ ہے۔ پاکستان و ہندوستان میں مسلمانوں کی علمی زبان فارسی تھی۔ قرآن چونکہ عربی میں ہے اس لیے بہت کم لوگ اس کو سمجھ سکتے تھے۔ شاہ ولی اللہ نے قرآن مجید کا فارسی ترجمہ کرکے اس رکاوٹ کو دور کر دیا۔ اس طرح زیادہ سے زیادہ لوگ اسلام کی تعلیم سے واقف ہونے لگے۔

شاہ ولی اللہ ترجمۂ قرآن کے علاوہ اور بہت ساری کتابوں کے مصنف ہیں۔ یہ کتابیں علم تفسیر، حدیث،فقہ، تاریخ اور تصوف پر ہیں۔ ان عالمانہ کتابوں کی وجہ سے وہ امام غزالی، ابن حزم اور ابن تیمیہ کی طرح تاریخ اسلام کے سب سے بڑے عالموں اور مصنفوں میں شمار ہوتے ہیں۔

ان کی سب سے مشہور کتاب "حجۃ اللہ البالغہ" ہے۔ امام غزالی کی "احیاء العلوم" کی طرح یہ کتاب یھی دنیا کی ان چند کتابوں میں سے ہے جو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھی جائیں گی۔ اس کتاب میں شاہ ولی اللہ نے اسلامی عقائد اور اسلامی تعلیمات کی وضاحت کی ہے اور دلیلیں دے کر اسلامی احکام اور عقاغد کی صداقت ثابت کی ہے۔ اصل کتاب عربی میں ہے لیکن اس کا اردو میں بھی ترجمہ ہو گیا ہے۔

شاہ ولی اللہ دہلوی رحمت اللہ علیہ نے اسلامی ریاست اور اس کے نظام کے بارے میں ایک انتہائی قیمتی اور منفرد کتاب ازالۃالخفاء عن خلافۃ الخلفاء فارسی فارسی زبان میں تالیف کی تھی، یہ کتاب دوہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہے اور انتہائی پرمغز ابحاث پر مشتمل ہے۔اس کتاب کا اردو ترجمہ مولانا عبدالشکور فاروقی مجددی نے کیا ہے جو قدیمی کتب خانہ آرام باغ کراچی سے شائع ہوا ہے۔ مولانا محمد بشیر سیالکوٹی مدیر دارالعلم اسلام آباد نے 2013 میں اس کتاب کا عربی زبان میں ترجمہ مکمل کر دیا۔ جو مئی 2016ء میں دو ضخیم جلدوں دارالعلم آبپارہ مارکیٹ اسلام آباد سے شائع ہوا۔

شاہ ولی اللہ اپنی کوششوں کی وجہ سے غزالی، ابن تیمیہ اور مجدد الف ثانی کی طرح اپنی صدی کے مجدد سمجھے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے زوال کے بعد جو بیداری پیدا ہوئی اور اس وقت خطے میں اسلامی جو احیائی تحاریک موجودہ ہیں ان کے بانی شاہ ولی اللہ ہی ہیں۔ شاہ ولی اللہ جہاں خود ایک بہت بڑے عالم، مصلح اور رہنما تھے۔ وہاں وہ اس لحاظ سے بھی بڑے خوش قسمت ہیں کہ ان کی اولاد میں ایسے ایسے عالم پیدا ہوئے جنہوں نے ہند وپاک کے مسلمانوں کی زندگی میں انقلاب برپا کر دیا۔

جانشین ترميم
شاہ ولی اللہ کے سب سے بڑے صاحبزادے شاہ عبدالعزیز عربی اور فارسی کے انشا پرداز تھے اور 60 سال تک دینی علوم اور احادیث کی تعلیم دیتے رہے۔ وہ ان افراد میں شامل ہیں جن کی وجہ سے برصغیر میں علم حدیث پھیلا۔

دوسرے صاحبزادے شاہ رفیع الدین کا سب سے بڑا کارنامہ اردو میں قرآن مجید کا پہلا ترجمہ ہے۔

تیسرے صاحبزادے شاہ عبد القادر دہلوی کا سب سے بڑا کارنامہ قرآن مجید کی اردو تفسیر ہے جو "موضح القرآن" کے نام سے مشہور ہے۔ یہ تفسیر آج بھی انتہائی مقبول ہے۔

چوتھے صاحبزادے شاہ عبدالغنی تھے جن کا شمار بھی اپنے زمانے کے بڑے عالموں میں ہوتا تھا۔

شاہ ولی اللہ کی اولاد میں شاہ اسماعیل شہید کا مقام بھی بہت بلند ہے۔ آپ شاہ ولی اللہ کے چوتھے صاحبزادے, شاہ عبدالغنی کے بیٹے تھے جن کا شمار بھی اپنے زمانے کے بڑے عالموں میں ہوتا تھا۔ شاہ صاحب کے کام کو سب سے زیادہ ترقی شاہ اسماعیل نے ہی دی۔ وہ کئی اہم کتابوں کے مصنف بھی تھے جن میں "تقویۃ الایمان" سب سے زیادہ مقبول ہوئی۔

برصغیر میں غلبہ اسلام اور اسلامی حکومت کے قیام کی کوشش کرنے والی عظیم شخصیت سید احمد بریلوی شہید, شاہ عبد العزیز کے شاگرد اور شاہ اسماعیل شہید کے ساتھی تھے۔ شاہ صاحب نے فک کل نظام کا فتوی دیا جس کا مطلب تمام فرسودہ نظام کا خاتمہ کر دیا جائے اور اس کی جگہ عادلانہ نظام کا قیام کیا جائے۔

14/06/2020

موت سے کھیلنا۔۔۔۔۔

08/06/2020

سلطنت عثمانیہ کا زوال

عثمانی سلطنت کا دور زوال کو مورخین جدید دور بھی قرار دیتے ہیں۔ اس دور میں سلطنت نے ہر محاذ پر شکست کھائی اور اس کی سرحدیں سکڑتی چلی گئیں تنظيمات (اصلاحات) کے باوجود مرکزی حکومت کی ناکامی کے باعث انتظامی عدم استحکام پیدا ہوا۔

Osmanli-nisani.svg سلطنت عثمانیہ کی تاریخ
عروج (1299ء – 1453ء)
توسیع (1453ء – 1683ء)
جمود (1683ء – 1827ء)
زوال (1828ء – 1908ء)
خاتمہ (1908ء – 1922ء)

فتح قسطنطنیہ
دور لالہ
دور تنظیمات
پہلا آئینی دور
دوسرا آئینی دور
یورپ میں جنگیں
روس کے خلاف جنگیں
مشرق وسطی میں جنگیں
دیکھیںتبادلۂ خیالترمیم
قوم پرستی کا عروج ترميم
19 ویں صدی کے دوران سلطنت عثمانیہ سمیت کئی ممالک میں قوم پرستی کو عروج نصیب ہوا۔ نسلی قوم پرستی کی لعنت ان مغربی نظریات میں سب سے اہم تھی جو اس دوران سلطنت عثمانیہ میں وارد ہوئیں۔ اس دوران کئی انقلابی سیاسی جماعتیں بھی وجود میں آ گئیں۔ مملکت میں آئے دن بڑھتا ہوا بگاڑ کے جہاں دیگر کئی اسباب تھے وہیں زوال کی اہم ترین وجوہات میں قوم پرستی کا پھیلاؤ بھی شامل ہے۔ اس عرصے میں 1892ء میں یونان نے آزادی حاصل کی اور اصلاحات بھی ڈینیوب کی امارتوں میں قوم پرستی کو نہ روک سکیں اور 6 عشروں سے نیم خود مختار ان علاقوں سربیا، مونٹی نیگرو، بوسنیا، ولاچیا اور مالڈووا نے بھی 1875ء میں سلطنت سے آزادی کا اعلان کر دیا اور 1877ء کی روس ترک جنگ کے بعد سربیا، رومانیا اور مونٹی نیگرو کو باقاعدہ آزادی مل گئیں اور بلغاریہ کو خود مختاری عطا کر دی گئی البتہ بلقان کی دیگر ریاستیں بدستور عثمانی قبضے میں رہیں۔ زوال کے اسی دور میں سربیا کے ایک یہودی یہودا سولمن الکلائی نے صیہون کی طرف واپسی اور اسرائیل کی آزادی کا نظریہ پیش کیا۔

تنظیمات ترميم
Crystal Clear app kdict.png تفصیلی مضمون کے لیے دور تنظیمات ملاحظہ کریں۔

محمود ثانی نے 1839ء میں تنظیمات کے ذریعے ترکی میں جدید دور کی بنیاد رکھی
دور تنظیمات (1839ء تا 1876ء) میں آئینی اصلاحات کا ایک سلسلہ متعارف کرایا گیا جس کے نتیجے میں ایک نسبتاً جدید فوج، بنکاری نظام کی اصلاحات نافذ ہوئیں اور جدید کارخانے قائم ہوئے۔ 1856ء میں خط ہمایوں کے ذریعے نسل و مذہب سے بالاتر ہو کر تمام عثمانی شہریوں کو برابری کا درجہ دینے کا اعلان کیا گیا۔ مسیحی اقلیتوں کو بھی خصوصی حقوق عطا کیے گئے جیسے 1863ء میں آرمینیائی دانشوروں کی مرتب کردہ 150 شقوں کے ضابطہ قانون کے تحت منظورہ شدہ دیوان نظام نامۂ ملت آرمینیان (Armenian National Constitution)۔ اصلاحات کے اس دور کی سب سے اہم بات وہ دستور تھا جو قانون اساسی کہلاتا تھا جسے نوجوانان عثمان نے تحریر کیا اور 23 نومبر 1876ء کو نافذ کیا گیا۔ اس کے ذریعے تمام شہریوں کے لیے اظہار رائے کی آزادی اور قانون کی نظر میں برابری عطا کی گئیں۔

پہلا آئینی دور ترميم
Crystal Clear app kdict.png تفصیلی مضمون کے لیے عثمانی سلطنت کا پہلا آئینی دور ملاحظہ کریں۔
سلطنت کا پہلا آئینی دور (عثمانی ترک زبان: برنجی مشروطیت دوری) مختصر رہا لیکن اس کے نتیجے میں جو نظریہ فروغ پایا وہ مغربی جامعات میں تعلیم پانے والے نوجوانان عثمان نامی اصلاح پسند گروہ کے مطابق یہ تھا کہ ایک آئینی بادشاہت مملکت کے بڑھتے ہوئے مسائل کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ 1876ء میں فوجی تاخت کے ذریعے سلطان عبدالعزیز (1861ء تا 1876ء) مراد پنجم کے حق میں دستبردار ہو گئے۔ مراد پنجم ذہنی معذور تھا اور چند ماہ میں ہی عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ان کے ممکنہ جانشیں عبد الحامد ثانی (1876ء تا 1909ء) کو اس شرط پر بادشاہت سنبھالنے کی دعوت دی گئی کہ وہ آئینی بادشاہت کو تسلیم کریں گے جس پر انہوں نے 23 نومبر 1876ء کو عمل بھی کیا۔ لیکن پارلیمان صرف دو سال قائم رہی اور سلطان نے اسے معطل کر دیا اور بعد ازاں پارلیمان کو طلب کرنے کے لیے ان پر دباؤ ڈالا گیا۔ تاہم قانون اساسی کے اثرات کافی حد تک کم ہو گئے۔ اس عرصے میں سلطنت کو بیرونی جارحیت اور قبضہ گیری کے خلاف اپنے دفاع کے حوالے سے شدید خطرات کا سامنا رہا۔ 1798ء میں فرانس نے مصر پر قبضہ کر لیا۔ 1877ء کی روس ترک جنگ میں شکست کے بعد برلن کانگریس میں حمایت کے صلے میں 1878ء میں قبرص پٹے پر برطانیہ کے حوالے کرنا پڑا۔ سلطنت اپنے مسائل کو خود حل کرنے کے قابل نہ رہی اور مختلف یورپی ممالک کی مداخلت و اتحاد کے ذریعے اس کے مسائل حل ہونے پڑے مثال کے طور پر جنگ کریمیا جس میں عثمانیوں نے روس کے خلاف برطانیہ اور فرانس سے اتحاد کیا۔ حالانکہ اس عرصے میں اسے "یورپ کا مرد بیمار" کہا گیا لیکن معاشی طور پر سلطنت کی بد حالی کا سبب اس کی ترقی پزیر معیشت میں نہیں تھا بلکہ وہ ثقافتی خلا تھا جو اسے یورپی قوتوں سے الگ کیے دیتا تھا۔ اقتصادی مسائل دراصل بیرونی سامراجیت اور ابھرتی ہوئی داخلی قوم پرستی جیسے مسائل سے نہ نمٹ پانے کی وجہ سے تھے۔

08/06/2020

سلطنت عثمانیہ کا عروج

13 ویں صدی کے اواخر میں سلجوقی سلطنت ختم ہوئی اور اناطولیہ مختلف چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہو گیا۔ اس میں سے ایک سغوط کی ریاست تھی جہاں اسی نام کا ایک قبیلہ رہائش پزیر تھا۔ اس ریاست کا بانی اور قبیلے کا سردار ارطغرل تھا۔ 1281ء میں ارطغرل کے انتقال کے بعد اس کے صاحبزادے عثمان اول کو سردار بنایا گیا۔ یہی عثمان اول سلطنت عثمانیہ کا بانی تھا۔

Osmanli-nisani.svg سلطنت عثمانیہ کی تاریخ
عروج (1299ء – 1453ء)
توسیع (1453ء – 1683ء)
جمود (1683ء – 1827ء)
زوال (1828ء – 1908ء)
خاتمہ (1908ء – 1922ء)
مزید دیکھئے:
فتح قسطنطنیہ
دور لالہ
دور تنظیمات
پہلا آئینی دور
دوسرا آئینی دور
یورپ میں جنگیں
روس کے خلاف جنگیں
مشرق وسطی میں جنگیں
دیکھیںتبادلۂ خیالترمیم
دور کی خصوصیات ترميم
سلاجقہ روم کی سلطنت کے خاتمے کے بعد اناطولیہ میں طوائف الملوکی پھیل گئی اور مختلف سردار اپنی اپنی خود مختیار ریاستیں بنا کر بیٹھ گئے جنہیں غازی امارات کہا جاتا تھا۔ 1300ء تک زوال کی جانب گامزن بازنطینی سلطنت اناطولیہ میں واقع اپنے بیشتر صوبے ان غازی امارتوں کے ہاتھوں گنوا بیٹھی۔ انہی امارتوں میں سے ایک مغربی اناطولیہ میں اسکی شہر کے علاقے میں واقع تھی جس کے سردار عثمان اول تھے۔ کہا جاتا ہے کہ جب ارطغرل ہجرت کر کے اناطولیہ پہنچے تو انہوں نے دو لشکروں کو آپس میں بر سر پیکار دیکھا جن میں سے ایک تعداد میں زیادہ اور دوسرا کم تھا اور اپنی فطری ہمدردانہ طبیعت کے باعث ارطغرل نے چھوٹے لشکر کا ساتھ دیا اور 400 شہسواروں کے ساتھ میدان جنگ میں کود پڑے۔ اور شکست کے قریب پہنچنے والا لشکر اس اچانک امداد سے جنگ کا پانسا پلٹنے میں کامیاب ہو گیا۔ ارطغرل نے جس فوج کی مدد کی وہ دراصل سلاجقہ روم کا لشکر تھا جو مسیحیوں سے بر سر پیکار تھا اور اس فتح کے لیے ارطغرل کی خدمات کے پیش نظر انہیں اس کی شہر کے قریب ایک جاگیر عطا کی۔ 1281ء میں ارطغرل کی وفات کے بعد اس جاگیر کی سربراہی عثمان اول کے ہاتھ میں آئی جنہوں نے 1299ء میں سلجوقی سلطنت سے خود مختاری کا اعلان کر کے عثمانی سلطنت کی بنیاد ڈالی۔ عثمان اول نے اس چھوٹی سی سلطنت کی سرحدیں بازنطینی سلطنت کی سرحدوں تک پھیلا دیں اور فتح کے بعد دار الحکومت بروصہ منتقل کر دیا۔ عثمان اول ترکوں میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ درحقیقت وہ بہت ہی اعلٰی اوصاف کے حامل تھے۔ دن کے مجاہد اور رات کے عابد کے ساتھ ساتھ انتہائی شریف النفس، سادگی پسند، مہمان نواز، فیاض اور رحم دل انسان بھی تھے۔ ان کا دور حکومت سلطنت عثمانیہ کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کا سبب بنا۔ یہ عثمان اول کی ڈالی گئی مضبوط بنیادی ہی تھیں کہ ان کے انتقال کے بعد ایک صدی کے اندر عثمانی سلطنت مشرقی بحیرہ روم اور بلقان تک پھیل گئی۔

سلطنت عثمانیہ اپنے عروج پر
سلطنت کی فتوحات کا یہ عظیم سلسلہ عثمان کے جانشینوں نے جاری رکھا لیکن 1402ء میں تیمور لنگ نے اناطولیہ پر حملہ کر دیا اور عثمانی سلطان بایزید یلدرم شکست کھانے کے بعد گرفتار ہو گیا لیکن یہ عثمانیوں کی اولو العزمی تھی کہ انہوں نے اپنی ختم ہوتی ہوئی سلطنت کو نہ صرف بحال کیا بلکہ چند ہی عشروں میں فتح قسطنطنیہ جیسی تاریخ کی عظیم ترین فتح حاصل کی۔ اس سے عثمانیوں کا وقار دنیا بھر میں بلند ہوا۔ سلطنت عثمانیہ کی دوبارہ بحالی کا سہرا بایزید یلدرم کے بیٹے محمد اول کے سر جاتا ہے جو اپنے اعلٰی اخلاق و اوصاف کے باعث ترکوں میں "محمد چلبی" کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ فتح قسطنطنیہ ترکوں خصوصاً عثمانیوں کی تاریخ کا سنہرا ترین باب ہے۔ 29 مئی 1453ء میں 21 سالہ نوجوان سلطان محمد ثانی کی زیر قیادت اس لشکر نے محیر العقول کارنامے انجام دیتے ہوئے اس عظیم شہر کو فتح کیا اور اسے اپنا دار الحکومت بنایا۔ اس طرح محمد قیصر روم بن گیا اور یہ لقب اس کے ان ارادوں کو ظاہر کرتا تھا کہ عثمانی جلد روم پر بھی قبضہ کر لیں گے اور انہی مقاصد کے حصول کے لیے 1480ء میں عثمانی افواج جزیرہ نما اطالیہ پر اتریں اور اوٹرانٹو اور اپولیا کے شہروں پر قبضہ کر لیا لیکن 1481ء میں محمد فاتح کی وفات کے ساتھ ہی فتح اطالیہ کی مہم کا خاتمہ ہو گیا۔

07/06/2020

سلجوقی سلطنت 11ویں تا 14ویں صدی عیسوی کے درمیان میں مشرق وسطی اور وسط ایشیا میں قائم ایک مسلم بادشاہت تھی جو نسلا اوغوز ترک تھے۔ مسلم تاریخ میں اسے بہت اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ دولت عباسیہ کے خاتمے کے بعد عالم اسلام کو ایک مرکز پر جمع کرنے والی آخری سلطنت تھی۔ اس کی سرحدیں ایک جانب چین سے لے کر بحیرۂ متوسط اور دوسری جانب عدن سےلیکر خوارزم و بخارا تک پھیلی ہوئی تھیں۔ ان کا عہد تاریخ اسلام کا آخری عہد زریں کہلا سکتا ہے اسی لیے سلاجقہ کو مسلم تاریخ میں خاص درجہ و مقام حاصل ہے۔ سلجوقیوں کے زوال کے ساتھ امت مسلمہ میں جس سیاسی انتشار کا آغاز ہوا اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اہلیان یورپ نے مسلمانوں پر صلیبی جنگیں مسلط کیں اور عالم اسلام کے قلب میں مقدس ترین مقام (بیت المقدس) پر قبضہ کر لیا۔

سلجوقی سلطنت

دار الحکومت
نیشاپور
(1037–1043)
رے (شہر)
(1043–1051)
اصفہان
(1051–1118)
مرو، مشرقی دارالحکومت (1118–1153)
ہمدان، مغربی دارالحکومت (1118–1194)
عام زبانیں
فارسی زبان (official and court; literature and lingua franca)[1][2][3]
اوغوز زبانیں (dynastic and military)[4][3][5]
عربی زبان (theology, law and science)[1][3]
مذہب
اہل سنت (حنفی)
حکومت
درحقیقت: آزاد سلطان
ازروئے قانون: تحت خلافت[6]
خلافت

• 1031–1075
القائم بامر اللہ
• 1180–1225
الناصر لدین اللہ
سلجوق خاندان

• 1037–1063
طغرل بیگ (پہلا)
• 1174–1194
طغرل سوم (آخری)[7]
تاریخ

• طغرل بیگ نے ریاستی نظام قائم کیا
1037
• Battle of Dandanaqan
1040
• جنگ ملازکرد
1071
• پہلی صلیبی جنگ
1095–1099
• Battle of Qatwan
1141
• Replaced by the Khwarezmian Empire[8]
1194
رقبہ
1080 est.[9][10]
3,900,000 کلومیٹر2 (1,500,000 مربع میل)
آیزو 3166 رمز
[[آیزو 3166-2:|]]
ماقبل مابعد
Oghuz Yabgu State
Ghaznavids
آل بویہ
Byzantine Empire
آل کاکویہ
دولت فاطمیہ
خانان قاراخانی
سلاجقہ روم
Anatolian beyliks
غوری خاندان
Khwarezmian Empire
Atabegs of Azerbaijan
اتابکان فارس
Bavandids
ایوبی سلطنت
Burid dynasty
Zengid dynasty
Danishmends
Artuqid dynasty
Shah-Armens
Shaddadids
طغرل بے اور چغری بیگ ترميم
طغرل بے سلجوق کا پوتا تھا جبکہ چغری بیگ اس کا بھائی تھا جن کی زیر قیادت سلجوقیوں نے غزنوی سلطنت سے علیحدگی اختیار کرنے کی کوشش کی۔ ابتداء میں سلجوقیوں کو محمود غزنوی کے ہاتھوں شکست ہوئی اور وہ خوارزم تک محدود ہوگئے لیکن طغرل اورچغری کی زیرقیادت انہوں نے 1028ء اور 1029ء میں مرو اور نیشاپور پر قبضہ کر لیا۔ ان کے جانشینوں نے خراسان اور بلخ میں مزید علاقے فتح کئے اور 1037ء میں غزنی پر حملہ کیا۔ 1039ء میں جنگ دندانیقان میں انہوں نے غزنوی سلطنت کے بادشاہ مسعود اول کو شکست دے دی اور مسعود سلطنت کے تمام مغربی حصے سلجوقیوں کے ہاتھوں گنوا بیٹھا۔ 1055ء میں طغرل نے بنی بویہ کی شیعہ سلطنت سے بغداد چھین لیا۔

الپ ارسلان
ملک شاہ
سلطنت کی تقسیم
صلیبی جنگیں
سلجوقی سلاطین 1037ء تا 1157ء ترميم
خطاب نام دور حکومت
بیگ طغرل 1016–1063
سلطان الپ ارسلان 1063–1072
سلطان
جلال الدولہ ملک شاہ اول 1072–1092
سلطان
ناصر الدنیا والدین محمود بن ملک شاہ 1092–1094
سلطان
أبو المظفر رکن الدنیا والدین برکیاروق بن ملک شاہ 1094–1105
سلطان
معز الدین ملک شاہ دوئم 1105
سلطان
غیاث الدنیا والدین محمد تپار 1105–1118
سلطان
معز الدین *احمد سنجر 1118–1153
خوارزم شاہی سلطنت نے 1157ء سے سلجوقی سلطنت کے بیشتر اکثر حصے پر قبضہ کر لیا اور اغوز ترکیوں نے خراسان پر قبضہ کر لیا-
محمد تپار کے بیٹے محمود بن محمد تپار نے احمد سنجر کو سلطان تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور بغداد میں دار الحکومت قائم کرتے ہوئے خود کو سلطان بنایا تاہم 1131ء میں بالآخر احمد سنجر نے اسے ہٹادیا۔
سلجوقی سلاطین کرمان 1041ء تا 1187ء ترميم
کرمان جنوبی فارس کی ایک سلطنت تھی جو 1187ء میں طغرل سوم کے ہاتھوں ختم ہوگئی۔

قاورد 1041ء تا 1073ء
کرمان شاہ 1073ء تا 1074ء
سلطان شاہ 1074ء تا 1075ء
حسین عمر 1075ء تا 1084ء
توران شاہ اول 1084ء تا 1096ء
ایران شاہ 1096ء تا 1101ء
ارسلان شاہ اول 1101ء تا 1142ء
محمد اول 1142ء تا 1156ء
طغرل شاہ 1156ء تا 1169ء
بہرام شاہ 1169ء تا 1174ء
ارسلان شاہ ثانی 1174ء تا 1176ء
توران شاہ ثانی 1176ء تا 1183ء
محمد ثانی 1183ء تا 1187ء
سلجوق سلاطین شام 1076ء تا 1117ء ترميم
ابو سعید تاج الدولہ توتش اول 1085ء تا 1086ء
جلال الدولہ ملک شاہ اول 1086ء تا 1087ء
قاسم الدولہ ابو سعید 1087ء تا 1094ء
ابو سعید تاج الدولہ توتش اول (دوسری مرتبہ) 1094ء تا 1095ء
فخر الملک ردوان 1095ء تا 1113ء
تاج الدولہ الپ ارسلان الاخرس 1113ء تا 1114ء
سلطان شاہ 1114ء تا 1123ء
سلاطین و امیران دمشق ترميم
عزیز ابن اباق الخوارزمی 1076ء تا 1079ء
ابو سعید تاج الدولہ تاج الدولہ توتش اول 1079ء تا 1095ء
ابو نصر شمس الملک دوقق 1095ء تا 1104ء
توتش ثانی 1104ء
محی الدین بقتش 1104ء
اطابقین حلب ترميم
لولو 1114ء تا 1117ء
شمس الہوس یارقتش 1117ء
عماد الدین زنگی 1128ء تا 1146ء
نور الدین زنگی 1146ء تا 1174ء
سلاطین سلاجقہ روم (اناطولیہ) 1077ء تا 1307ء ترميم
قلتمش 1060ء تا 1077ء
سلیمان ابن قلتمش 1077ءتا 1086ء
داؤد قلج ارسلان اول 1092ء تا 1107ء
ملک شاہ 1107ء تا 1116ء
رکن الدین مسعود 1116ء تا 1156ء
عز الدین قلج ارسلان ثآنی 1156ء تا 1192ء
غیاث الدین کے خسرو اول 1192ء تا 1196ء
سلیمان ثانی 1196ء تا 1204ء
قلج ارسلان سوم 1204ء تا 1205ء
غیاث الیدن کے خسرو اول (دوسری مرتبہ) 1205ء تا 1211ء
عز الدین کیقاس اول 1211ء تا 1220ء
علاؤ الدین کیقباد اول 1220ء تا 1237ء
غیاث الدین کے خسرو دوم 1237ء تا 1246ء
عز الدین کیقاس ثانی 1246ء تا 1260ء
رکن الدین قلج ارسلان ثانی 1249ء تا 1257ء
غیاث الدین کے خسرو ثانی (دوسری مرتبہ ) 1257ء تا 1259ء
غیاث الدین کے خسرو سوم 1265ء تا 1282ء
غیاث الدین مسعود ثانی 1282ء تا 1284ء
علاؤ الدین کیقباد سوم 1284ء
غیاث الدین مسعود ثانی (دوسری مرتبہ) 1284ء تا 1293ء
علاؤ الدین کیقباد سوم (دوسری مرتبہ) 1293ء تا 1294ء
غیاث الدین مسعود ثانی (تیسری مرتبہ) 1294ء تا 1301ء
علاؤ الدین کیقباد سوم (تیسری مرتبہ) 1301ء تا 1303ء
غیاث الدین مسعود ثانی (چوتھی مرتبہ) 1303ء تا 1307ء
غیاث الدین مسعودسوم 1307ء۔۔

Address

Pano Aqil
65120

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Geo chachar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category