07/06/2020
سلجوقی سلطنت 11ویں تا 14ویں صدی عیسوی کے درمیان میں مشرق وسطی اور وسط ایشیا میں قائم ایک مسلم بادشاہت تھی جو نسلا اوغوز ترک تھے۔ مسلم تاریخ میں اسے بہت اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ دولت عباسیہ کے خاتمے کے بعد عالم اسلام کو ایک مرکز پر جمع کرنے والی آخری سلطنت تھی۔ اس کی سرحدیں ایک جانب چین سے لے کر بحیرۂ متوسط اور دوسری جانب عدن سےلیکر خوارزم و بخارا تک پھیلی ہوئی تھیں۔ ان کا عہد تاریخ اسلام کا آخری عہد زریں کہلا سکتا ہے اسی لیے سلاجقہ کو مسلم تاریخ میں خاص درجہ و مقام حاصل ہے۔ سلجوقیوں کے زوال کے ساتھ امت مسلمہ میں جس سیاسی انتشار کا آغاز ہوا اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اہلیان یورپ نے مسلمانوں پر صلیبی جنگیں مسلط کیں اور عالم اسلام کے قلب میں مقدس ترین مقام (بیت المقدس) پر قبضہ کر لیا۔
سلجوقی سلطنت
دار الحکومت
نیشاپور
(1037–1043)
رے (شہر)
(1043–1051)
اصفہان
(1051–1118)
مرو، مشرقی دارالحکومت (1118–1153)
ہمدان، مغربی دارالحکومت (1118–1194)
عام زبانیں
فارسی زبان (official and court; literature and lingua franca)[1][2][3]
اوغوز زبانیں (dynastic and military)[4][3][5]
عربی زبان (theology, law and science)[1][3]
مذہب
اہل سنت (حنفی)
حکومت
درحقیقت: آزاد سلطان
ازروئے قانون: تحت خلافت[6]
خلافت
• 1031–1075
القائم بامر اللہ
• 1180–1225
الناصر لدین اللہ
سلجوق خاندان
• 1037–1063
طغرل بیگ (پہلا)
• 1174–1194
طغرل سوم (آخری)[7]
تاریخ
• طغرل بیگ نے ریاستی نظام قائم کیا
1037
• Battle of Dandanaqan
1040
• جنگ ملازکرد
1071
• پہلی صلیبی جنگ
1095–1099
• Battle of Qatwan
1141
• Replaced by the Khwarezmian Empire[8]
1194
رقبہ
1080 est.[9][10]
3,900,000 کلومیٹر2 (1,500,000 مربع میل)
آیزو 3166 رمز
[[آیزو 3166-2:|]]
ماقبل مابعد
Oghuz Yabgu State
Ghaznavids
آل بویہ
Byzantine Empire
آل کاکویہ
دولت فاطمیہ
خانان قاراخانی
سلاجقہ روم
Anatolian beyliks
غوری خاندان
Khwarezmian Empire
Atabegs of Azerbaijan
اتابکان فارس
Bavandids
ایوبی سلطنت
Burid dynasty
Zengid dynasty
Danishmends
Artuqid dynasty
Shah-Armens
Shaddadids
طغرل بے اور چغری بیگ ترميم
طغرل بے سلجوق کا پوتا تھا جبکہ چغری بیگ اس کا بھائی تھا جن کی زیر قیادت سلجوقیوں نے غزنوی سلطنت سے علیحدگی اختیار کرنے کی کوشش کی۔ ابتداء میں سلجوقیوں کو محمود غزنوی کے ہاتھوں شکست ہوئی اور وہ خوارزم تک محدود ہوگئے لیکن طغرل اورچغری کی زیرقیادت انہوں نے 1028ء اور 1029ء میں مرو اور نیشاپور پر قبضہ کر لیا۔ ان کے جانشینوں نے خراسان اور بلخ میں مزید علاقے فتح کئے اور 1037ء میں غزنی پر حملہ کیا۔ 1039ء میں جنگ دندانیقان میں انہوں نے غزنوی سلطنت کے بادشاہ مسعود اول کو شکست دے دی اور مسعود سلطنت کے تمام مغربی حصے سلجوقیوں کے ہاتھوں گنوا بیٹھا۔ 1055ء میں طغرل نے بنی بویہ کی شیعہ سلطنت سے بغداد چھین لیا۔
الپ ارسلان
ملک شاہ
سلطنت کی تقسیم
صلیبی جنگیں
سلجوقی سلاطین 1037ء تا 1157ء ترميم
خطاب نام دور حکومت
بیگ طغرل 1016–1063
سلطان الپ ارسلان 1063–1072
سلطان
جلال الدولہ ملک شاہ اول 1072–1092
سلطان
ناصر الدنیا والدین محمود بن ملک شاہ 1092–1094
سلطان
أبو المظفر رکن الدنیا والدین برکیاروق بن ملک شاہ 1094–1105
سلطان
معز الدین ملک شاہ دوئم 1105
سلطان
غیاث الدنیا والدین محمد تپار 1105–1118
سلطان
معز الدین *احمد سنجر 1118–1153
خوارزم شاہی سلطنت نے 1157ء سے سلجوقی سلطنت کے بیشتر اکثر حصے پر قبضہ کر لیا اور اغوز ترکیوں نے خراسان پر قبضہ کر لیا-
محمد تپار کے بیٹے محمود بن محمد تپار نے احمد سنجر کو سلطان تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور بغداد میں دار الحکومت قائم کرتے ہوئے خود کو سلطان بنایا تاہم 1131ء میں بالآخر احمد سنجر نے اسے ہٹادیا۔
سلجوقی سلاطین کرمان 1041ء تا 1187ء ترميم
کرمان جنوبی فارس کی ایک سلطنت تھی جو 1187ء میں طغرل سوم کے ہاتھوں ختم ہوگئی۔
قاورد 1041ء تا 1073ء
کرمان شاہ 1073ء تا 1074ء
سلطان شاہ 1074ء تا 1075ء
حسین عمر 1075ء تا 1084ء
توران شاہ اول 1084ء تا 1096ء
ایران شاہ 1096ء تا 1101ء
ارسلان شاہ اول 1101ء تا 1142ء
محمد اول 1142ء تا 1156ء
طغرل شاہ 1156ء تا 1169ء
بہرام شاہ 1169ء تا 1174ء
ارسلان شاہ ثانی 1174ء تا 1176ء
توران شاہ ثانی 1176ء تا 1183ء
محمد ثانی 1183ء تا 1187ء
سلجوق سلاطین شام 1076ء تا 1117ء ترميم
ابو سعید تاج الدولہ توتش اول 1085ء تا 1086ء
جلال الدولہ ملک شاہ اول 1086ء تا 1087ء
قاسم الدولہ ابو سعید 1087ء تا 1094ء
ابو سعید تاج الدولہ توتش اول (دوسری مرتبہ) 1094ء تا 1095ء
فخر الملک ردوان 1095ء تا 1113ء
تاج الدولہ الپ ارسلان الاخرس 1113ء تا 1114ء
سلطان شاہ 1114ء تا 1123ء
سلاطین و امیران دمشق ترميم
عزیز ابن اباق الخوارزمی 1076ء تا 1079ء
ابو سعید تاج الدولہ تاج الدولہ توتش اول 1079ء تا 1095ء
ابو نصر شمس الملک دوقق 1095ء تا 1104ء
توتش ثانی 1104ء
محی الدین بقتش 1104ء
اطابقین حلب ترميم
لولو 1114ء تا 1117ء
شمس الہوس یارقتش 1117ء
عماد الدین زنگی 1128ء تا 1146ء
نور الدین زنگی 1146ء تا 1174ء
سلاطین سلاجقہ روم (اناطولیہ) 1077ء تا 1307ء ترميم
قلتمش 1060ء تا 1077ء
سلیمان ابن قلتمش 1077ءتا 1086ء
داؤد قلج ارسلان اول 1092ء تا 1107ء
ملک شاہ 1107ء تا 1116ء
رکن الدین مسعود 1116ء تا 1156ء
عز الدین قلج ارسلان ثآنی 1156ء تا 1192ء
غیاث الدین کے خسرو اول 1192ء تا 1196ء
سلیمان ثانی 1196ء تا 1204ء
قلج ارسلان سوم 1204ء تا 1205ء
غیاث الیدن کے خسرو اول (دوسری مرتبہ) 1205ء تا 1211ء
عز الدین کیقاس اول 1211ء تا 1220ء
علاؤ الدین کیقباد اول 1220ء تا 1237ء
غیاث الدین کے خسرو دوم 1237ء تا 1246ء
عز الدین کیقاس ثانی 1246ء تا 1260ء
رکن الدین قلج ارسلان ثانی 1249ء تا 1257ء
غیاث الدین کے خسرو ثانی (دوسری مرتبہ ) 1257ء تا 1259ء
غیاث الدین کے خسرو سوم 1265ء تا 1282ء
غیاث الدین مسعود ثانی 1282ء تا 1284ء
علاؤ الدین کیقباد سوم 1284ء
غیاث الدین مسعود ثانی (دوسری مرتبہ) 1284ء تا 1293ء
علاؤ الدین کیقباد سوم (دوسری مرتبہ) 1293ء تا 1294ء
غیاث الدین مسعود ثانی (تیسری مرتبہ) 1294ء تا 1301ء
علاؤ الدین کیقباد سوم (تیسری مرتبہ) 1301ء تا 1303ء
غیاث الدین مسعود ثانی (چوتھی مرتبہ) 1303ء تا 1307ء
غیاث الدین مسعودسوم 1307ء۔۔