30/09/2026
گوجرانوالہ: بیٹی کی پیدائش روکنے کے لیے باپ کا انتہائی جاہلانہ رویہ
اسلام سے قبل زمانۂ جاہلیت کی یاد تازہ، جب بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا
گوجرانوالہ میں بیٹی کی پیدائش روکنے کے لیے باپ کی جانب سے مبینہ طور پر اختیار کیے گئے انتہائی افسوسناک رویے نے انسانیت، معاشرتی اقدار اور بیٹیوں کے حقوق کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بیٹی کو رحمت سمجھنے کے بجائے اس کی پیدائش کو روکنے کی کوشش کرنا ایک ایسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو اسلام سے قبل زمانۂ جاہلیت کی ان تلخ روایات کی یاد تازہ کرتی ہے، جب بعض لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے۔
اسلام نے بیٹی کو عزت، محبت اور تحفظ کا حق دیا، مگر آج بھی اگر کسی معصوم بچی کو صرف بیٹی ہونے کی وجہ سے ظلم و ناانصافی کا سامنا کرنا پڑے تو یہ ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا اس حوا کی بیٹی کو انصاف مل پائے گا؟
کیا معصوم بچی کے ساتھ مبینہ ظلم کرنے والا درندہ صفت انسان کیفرِ کردار تک پہنچ سکے گا؟
کیا قانون ایسے واقعات کا نوٹس لے کر مظلوم کو تحفظ اور انصاف فراہم کرے گا؟
آخر بیٹی کو رحمت سمجھنے کے بجائے بوجھ سمجھنے والی یہ سوچ کب ختم ہوگی؟
یہ واقعہ معاشرے کے ہر فرد سے تقاضا کرتا ہے کہ بیٹی اور بیٹے میں تفریق کے بجائے دونوں کو برابر محبت، عزت، تحفظ اور بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں۔
#بیٹی #انصاف #گوجرانوالہ