GM Awan Law Associates

GM Awan Law Associates غلام اللہ اعوان ایڈووکیٹ ہائی کورٹ آف آزاد کشمیر مظفر آباد

13/09/2025

Celebrating my 4th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

Post arrest bail. --302, 324, 34 PPC.It  is  an  admitted  fact  that  the  allegation  against  the petitioners  is  th...
13/09/2025

Post arrest bail. --302, 324, 34 PPC.

It is an admitted fact that the allegation against the petitioners is that they resorted to indiscriminate firing without causing any injury to anyone; however, the deceased sustained only a single shot whereas none of the prosecution witnesses sustained even a scratch. It is no body’s case that the prosecution witnesses escaped from the firing of the petitioners due to some hurdle or safety measure. The occurrence has taken place in open and if there would have been any intent at the part of the petitioners, there was nothing which could restrain them from committing the occurrence on broader spectrum. During the course of investigation though recovery of four empties of pistol .30 bore and three empties of Kalashnikov were recovered from the spot but as no weapon was affected from the petitioners during the course of investigation, therefore, mere recovery of empties would be a question to be resolved by the trial court after recording of prosecution evidence.

Bail granted to accused.

ہم میں سے اکثر لوگ انصاف کے حصول میں اس لئے ناکام ہو جاتے ہیں کہ ہمیں بروقت کوئی قانونی مشاورت میسر نہیں آتی لیکن اب ایس...
13/01/2025

ہم میں سے اکثر لوگ انصاف کے حصول میں اس لئے ناکام ہو جاتے ہیں کہ ہمیں بروقت کوئی قانونی مشاورت میسر نہیں آتی لیکن اب ایسا نہیں ہے کیونکہ
جی ایم اعوان لا ایسوسی ایٹس کے ماہرین نہ صرف مظفرآباد راولپنڈی لیپہ بلکہ پورے کشمیر اور پنجاب میں نہ صرف آپ کو قانونی مشاورت دیں گے بلکہ آپ کی قانونی مدد بھی کریں گے
جی ایم اعوان لا ایسوسی ایٹ کے پیج کو لایک کریں اور جی ایم اعوان لا سوسائٹی کا حصہ بنیں جہاں آپ کو قانونی مدد کے ساتھ ساتھ آئے روز قانون سے واقفیت بھی کرواتے رہیں گے
قانونی ماہرین کی معاونت کے لیے رابطہ نمبر 03469571190
بعد ازاں آپ کو متعلقہ ایریا کے قانونی ماہرین سے منسلک کر دیا جائے گا

05/11/2024

اگر فیملی کورٹ عورت کا دعوٰی تنسیخ نکاح بربنائے خلع بشرط واپسی حق مہر ڈگری کرتی ہے تو شوہر اسی ڈگری کی بنیاد پر حق مہر کی واپسی کیلئے اجرا دائر کرسکتا ہے
2023 C L C 1285

29/10/2024

جسٹس ہنس راج کھنہ بمقابلہ قاضی فائز عیسیٰ

سابق بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے 25 جون سن 1975 کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کر کے شہریوں کے بنیادی حقوق معطل کر دئیے۔ پورے ہندوستان میں ہزاروں افراد کو گرفتار کر کے جیلوں میں پھینک دیا گیا۔ ریاستی ہائی کورٹس نے حبس بے جا کی درخواستوں پر گرفتار افراد کو رہا کرنا شروع کر دیا۔ ان رہائیوں سے ناخوش اندرا گاندھی حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی جہاں بدنام زمانہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (اے ڈی ایم ) جبل پور بمقابلہ شِوکانت شکلا کیس شروع ہوا۔ اس کیس کو ’حبس بے جا کیس 1976‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ جلد ہی یہ کیس آئینی مقدمہ بن گیا جس میں ’کیا شہریوں کے بنیادی حقوق کو معطل کیا جا سکتا ہے؟‘ ’کیا حکومت ایسے من مانے فیصلے کر سکتی ہے؟‘ ’کیا حبس بے جا کے خلاف پٹیشن دائر کرنے کا اختیار بھی معطل کیا جا سکتا ہے؟‘ جیسے سوالات مرکزی اہمیت اختیارکر گئے اور پورے ملک کی توجہ اس مقدمے پر اٹک گئی۔
مقدمہ سننے والے بھارتی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ پر حکومت کے حق میں فیصلہ دینے کے لیے شدید دباؤ تھا۔ بدقسمتی سے چار ججوں نے حکومتی دباؤ میں آ کر فیصلہ اس کے حق میں سنا دیا۔ اختلافی فیصلہ دینے والے جج کا نام تھا ہنس راج کھنہ باوجود اس کے کہ وہ چیف جسٹس آف انڈیا بننے والے تھے۔ فیصلہ سنائے جانے سے پہلے انہوں نے اپنی بہن کے نام خط میں لکھا، ’’میں نے اپنا فیصلہ تحریر کر لیا ہے۔ اس فیصلے کی قیمت مجھے چیف جسٹس آف انڈیا نہ بنائے جانے کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی۔‘‘ پھر یہی ہوا اور اندرا گاندھی حکومت نے اپنے حق میں فیصلہ دینے والے مرزا حمید اللہ بیگ کو بھارت کا پندرہواں چیف جسٹس تعینات کر دیا۔ مرزا حمید اللہ بیگ نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ ریاست تو گرفتار ہونے والوں کی ماں کی طرح دیکھ بھال کر رہی ہے۔ مرزا کی تقرری کے بعد جسٹس ہنس راج کھنہ نے استعفیٰ دے دیا۔
سن 1977 میں اندرا گاندھی حکومت کے خاتمے پر جنتا پارٹی حکومت نے ایمرجنسی کے دوران ہونے والی نا انصافیوں پر تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا۔ حکومت نے جسٹس ہنس راج کھنہ کو اس کمیشن کی سربراہی کرنے کی پیش کش کی۔ اندرا گاندھی اور ان کی حکومت سے انتقام لینے کا یہ سنہری موقع تھا لیکن انہوں نے یہ پیش کش یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی کہ وہ اندرا گاندھی کی انتقامی سیاست کا نشانہ بنے تھے اس لیے وہ لاشعوری طور پر تحقیقات میں تعصب برت سکتے ہیں۔
سن 2017 کے پٹاسوامی کیس میں بھارتی سپریم کورٹ نے حبس بے جا کیس 1976 کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ریاست من مانے فیصلے کرتے ہوئے شخصی آزادیاں سلب نہیں کر سکتی۔ جسٹس ہنس راج کھنہ اپنے کردار کے باعث عظمت پا گئے۔ وہ بھارتی سپریم کورٹ کے پہلے جج بنے جس کی زندگی میں ہی اس کی تصویر سپریم کورٹ میں آویزاں کی گئی۔ جسٹس ہنس راج کھنہ سن 2008 میں انتقال کر گئے۔ 48 سال پہلے چیف جسٹس آف انڈیا کے جس عہدے سے ہنس راج کھنہ کو محروم کر دیا گیا تھا وہی عہدہ 11 نومبر 2024 کو ان کے بھتیجے سنجیو کھنہ سنبھال لیں گے۔
ایسے عظیم کردار کے بارے میں لکھنے کے بعد قاضی فائز عیسیٰ جیسے رعونت اور کینے سے بھرپور ریاستی سہولتکار بارے کیا لکھا جائے؟

وراثتی انتقال کروانے کا طریقہ1- متوفی کے وارثان میں سے کوئی بندہ متوفی کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ یونین کونسل سے بنوائے گا۔2- نادر...
28/10/2024

وراثتی انتقال کروانے کا طریقہ
1- متوفی کے وارثان میں سے کوئی بندہ متوفی کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ یونین کونسل سے بنوائے گا۔
2- نادرا سے ایف آر سی سرٹیفکیٹ جاری کروانا ہو گا.
3۔ دو عدد بیان حلفی ایک وارثان میں کسی کا اور ایک متعلقہ گاؤں کے نمبردار / کھیوٹ دار کا بیان حلفی میں تمام زندہ وارثان کو ظاہر کرنا ہو گا.
4۔ اخبار اشتہار دینا ہو گا.
5۔ ڈیتھ سرٹیفکیٹ ،ایف آر سی سرٹیفکیٹ ،بیان حلفی، اخبار اشتہار لے کر متعلقہ پٹواری کے پاس جانا ہو گا پٹواری آپ کے ایف آر سی سرٹیفکیٹ اور دیگر کاغذات کے مطابق شجرہ تیار کر دیے گا۔
6۔ شجرہ تیار ہونے کے بعد تحصیلدار کی عدالت میں پیش ہونا ہو گا ۔ جس میں تحصیلدار کے سامنے کم از کم وارثان میں سے ایک بندے کا حاضر ہونا ضروری ہے ساتھ نمبردار اور ایک پتی دار یعنی گواہ اس بات کی تصدیق کرے گا کہ یہ شجرہ بلکل ٹھیک ہے۔شجرہ کی تصدیق کے بعد تحصیلدار فیصلہ لیکھے گا جس میں شرعی حصص کے مطابق تمام وارثان کو شرعی حصہ دے گا اور اپنے دستخط کر دے گا.
7۔ پٹواری شجرہ کے مطابق انتقال درج کر دے گا اور تحصیلدار کے دے ہوے حصص کے مطابق رقبہ تقسیم ک
ر دے گا اور تحصیلدار اس انتقال کو منظور کر دے گا.

اگر آپ کو وراثتی انتقال سے مرحوم رکھا گیا ہے آپ کو حصہ نہیں ملا تو اپنے والد یا والدہ یا جس بھی بندے کی طرف سے آپ کو حصہ ملنا تھا اسکے انتقال و شجرہ نسب کی کاپی لےکے آپنے علاقے کے وکیل صاحب سے ملاقات کرے شکریہ

"قانون کا علم ہونا" اور "قانونی مشورہ دینا" دو الگ باتیں ہوتی ہیں۔ قانون کا علم ہونا ہر پاکستانی شہری کا فرض ہے، لیکن قا...
02/10/2024

"قانون کا علم ہونا" اور "قانونی مشورہ دینا" دو الگ باتیں ہوتی ہیں۔ قانون کا علم ہونا ہر پاکستانی شہری کا فرض ہے، لیکن قانونی مشورہ دینے کی اجازت بار کونسل صرف ایک وکیل کو دیتی ہے۔ اس کے لیے آپ کو ایل ایل بی کر کے بار کونسل سے اس بات کا لائسنس لینا پڑتا ہے کہ آپ قانونی مشورہ دے سکتے ہیں۔جیسے بیماری کا علم ہونا کوئی غلط بات نہیں، لیکن بغیر "پی ایم ڈی سی" سے لائسنس لیے اس کا علاج کرنا ایک جرم ہے۔ اسی طرح، قانونی علم ہونا الگ بات ہے لیکن قانونی مشورہ دینا ایک ذمہ داری ہے جو صرف لائسنس یافتہ وکیل ہی انجام دے سکتا ہے۔

وکیل اور کلائنٹ مقدمہ کی کامیابی کے لیے وکیل اور کلائنٹ کی درمیان بہترین ورکنگ ریلیشن شپ/ قانونی رشتہ رکھنا بہت ضروری ہے...
29/09/2024

وکیل اور کلائنٹ
مقدمہ کی کامیابی کے لیے وکیل اور کلائنٹ کی درمیان بہترین ورکنگ ریلیشن شپ/ قانونی رشتہ رکھنا بہت ضروری ہے اور وکیل کو کبھی بھی غیر ضروری طریقوں سے تنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اور وکیل سے اچھی کارکردگی کیلئے چند ضروری ہدایات برائے کلائنٹ جو آپ کو ہمیشہ اپنے کیس میں کامیاب کرائیں گی۔

● کسی بھی وکیل سے مشورہ لینے کے لیے اس کے چیمبر تشریف جائیں۔ موبائل پر بات کرنے یا کاغذات دکھانے کی غلطی نہ کریں۔ نہ توجہ ملتی ہے اور نہ ہی اچھا مشورہ۔

● مشورہ فیس وکیل کو ضرور دیا کریں۔ اپنی قیمتی و مہنگی جائیداد یا پھر اپنی ذات و اولاد کے بارے میں مشورہ کرتے وقت پیسے نہ بچاتے رہا کریں۔

● بہتر یہی ہے کہ اپنے کیس کی ہر تاریخ سماعت پر پیش ہوا کریں اور پیروی کریں۔ یہ وکیل سے زیادہ کہیں آپ کی خود کی ذمہ داری ہے۔

● کیس سے متعلق جو بات سمجھ نہ آئے کسی باہر کے بندے یا کسی دیگر وکیل سے پوچھنے کی بجائے اپنے وکیل سے پوچھا کریں۔ ٹھیک مشورہ ملے گا اور غلط فہمی پیدا نہیں ہوگی۔

● ہمیشہ یہ بات یاد رکھیں وکیل بھی دیگر انسانوں کی طرح ہوتا ہے, فون کال پر مشورہ کرنے سے پہلے ان سے پوچھ لیا کریں کہ وہ میسر بھی ہیں یا نہیں اور کال کرتے وقت یہ بات بھی یاد رکھیں کہ مناسب اوقات کار میں کال کیا کریں نہ کہ آدھی رات یا صبح سویرے۔ اور مختصر اور ضروری بات کے لئے فون کال کیا کریں۔

● ہمیشہ یہ بات یاد رکھیں اس دنیا میں کچھ بھی مفت نہیں ہے۔ اس لیے کیس کی فیس مکمل اور بر وقت ادا کر دیا کریں۔ کبھی بھی مفت یا سستے وکیل کے چکر میں نہ پڑا کریں۔ آپ یہ بات نوٹ کریں گے کہ مناسب فیس کی ادائیگی والے وکیل کی طرف سے اچھے رسپانس کے ساتھ ساتھ آپ کے کیس میں بھی اچھی پیش رفت ہوگی۔

● چوکس اور دیانت دار رہیں اور کبھی کوئی بھی بات جو آپ کے کیس سے متعلق ہو اپنے وکیل سے نہ چھپائیں ورنہ آخر میں اس کا صرف اپ کو ہی نقصان ہو گا۔

● وکیل اور سائل کا رشتہ ہمیشہ یقین و اعتماد کا ہوتا ہے.۔ یقین و اعتماد قائم رہے گا تو مقدمہ کے نتائج بھی مثبت آئیں گے۔ اچھے وکیل کی کیس کے اچھے نتائج سے متعلق ہمیشہ اپنی طرف سے اچھی کوشش ہوتی ہے ناکہ گارنٹی۔
ایک وکیل کی طاقت اسکا علم ہوتا ہے جتناایک وکیل کے پاس علم ہوگا اتنا زیادہ اسکے اندر خود_اعتمادی ہوگی

01/04/2024
23/03/2024

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ دیوانی مقدمات میں یکطرفہ ڈگری کے خلاف سات(07) مختلف قسم کی قانونی دادرسی حاصل کی جا سکتی ہے
The remedies available against ex parte decree are:- (2000 SCMR 296)

👉1- An application under Order 9, Rule 13

👉2- A review application u/s 114

👉3- An appeal u/s 96

👉4- A proceeding to set aside the decree on the ground that it has been obtained by fraud etc. u/s 12

👉5- An application for re-hearing of the matter on the ground of violation of the principles of natural justice(PLD 1972 Lah. 603 FB)

👉6- A revision may also lie (1995 CLC 516)

👉7- In appropriate cases the inherent powers of a court may also be attracted (PLD 2003 SC 625) or a writ maylie (1986 CLC 2515)

16/03/2024

ایک وکیل کو درپیش مسائل، بنیادی سہولتوں کی کمی اور وکلاء کے غیر محفوظ مستقبل کی نشاندہی پر ایک ویڈیو بیان جس کی فکر نہ تو خود وکلاء کی قیادت کو ہوتی ہے نہ ہی کسی حکومتِ وقت کو۔

"معاملہ لیگل ہے" ایک بہترین مزاحیہ ٹی وی سیریز جس میں وکلاء سے جڑے حقیقت پر مبنی بہت سے پہلوؤں کو خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔

کارل مارکس کون تھا؟کارل مارکس 5 مئی 1818ء کو پروشیا (موجودہ جرمنی) کے صوبہ رھائن کے شہر ٹریئر (Trier) میں پیدا ہوا۔ مارک...
14/03/2024

کارل مارکس کون تھا؟

کارل مارکس 5 مئی 1818ء کو پروشیا (موجودہ جرمنی) کے صوبہ رھائن کے شہر ٹریئر (Trier) میں پیدا ہوا۔ مارکس کے والد ایک یہودی وکیل تھے جنہوں نے 1824ء میں مسیحی فرقے پروٹسٹنٹ کا مذہب قبول کر لیا تھا۔ پورا گھرانہ خوش حال اور مہذب تھا، لیکن انقلابی نہیں تھا۔ ٹریئر میں جمنازیم کی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد مارکس نے یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ پہلے بون اور پھر برلن یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کی اور خاص طور سے تاریخ اور فلسفے کا مطالعہ کیا۔ 1841ء میں اُس نے یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کی اور ایپیکیوریس (Epicurus) کے فلسفے پر اپنا تحقیقی مقالہ ڈاکٹری کی سند حاصل کرنے کے لئے پیش کر دیا۔ خیالات کے لحاظ سے کارل مارکس اس وقت تک ہیگل کے عینی (خیال پرستانہ) نظرئیے سے متاثر تھا۔ برلن میں بھی اس کا تعلق ’’ بائیں بازو کے ہیگلیوں‘‘ (مثلاً برونو باور وغیرہ) کے حلقے سے تھا۔ ان لوگوں کی کوشش یہ رہتی تھی کہ ہیگل کے فلسفے سے لامذہبیت کے خیالات اور انقلابی نتائج اخذ کریں۔

یونیورسٹی سے گریجویٹ ہونے کے بعد مارکس شہر بون آگیا جہاں اس کا ارادہ پروفیسری کا تھا۔ لیکن حکومت کی پالیسی سخت رجعتی تھی۔ حکومت نے فلسفی لڈوگ فیور باخ کو 1832ء میں یونیورسٹی کی مسند سے نکال دیا تھا، 1836ء میں اسے یونیورسٹی واپس آنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا اور 1841ء میں نوجوان پروفیسر برونو باور کے بون یو نیورسٹی میں لیکچر دینے پر پابندی لگا دی تھی۔ یہ سب دیکھ کر مارکس نے ایک استاد کی زندگی بسرکرنے کے ارادے ترک کر دئیے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب بائیں بازو کے ہیگلیوں کے خیالات جرمنی میں بڑی تیزی سے پھیل رہے تھے۔ لڈوگ فیورباخ نے بالخصوص 1836ء کے بعد دینیات پر کھلی نکتہ چینی شروع کر دی تھی اور مادیت کی جانب راغب ہونے لگا تھا جو آگے چل کر 1841ء میں اُس کے فلسفے پر حا وی ہوگئی۔ 1843ء میں اس کی کتاب ’مستقبل کے فلسفے کے اصول‘ سامنے آئی۔ ان کتابوں کے بارے میں اینگلز نے آگے چل کرلکھا کہ ان کی ’’آزادی بخش دینے والی تاثیر ناقابل بیان تھی۔ ہم ( یعنی بائیں بازو کے ہیگلی، جن میں مارکس بھی شامل تھا) سب کے سب فوراً فیور باخی بن گئے۔‘‘ ان ہی دنوں رھائن علاقے کے کچھ ریڈیکل بورژوا لوگوں، جو بائیں بازو کے ہیگلیوں سے رابطے میں تھے، نے کولون شہر سے ایک مخالفانہ پرچہ ’رھائن کا اخبار‘ (Rheinische Zeitung) نکالا۔ یکم جنوری 1842ء کو اس کا پہلا شمارہ آیا۔ مارکس اور برونو باور کو خاص طور سے اس پر چے کے لئے لکھنے کی دعوت دی گئی۔ اکتوبر 1842ء میں کارل مارکس اس پرچے کے چیف ایڈیٹر ہو گئے اور شہر بون سے کولون منتقل ہو گئے۔ مارکس کی ادارت میں اس پرچے کا انقلابی جمہور ی رنگ زیادہ سے زیادہ نکھرتا گیا۔ پہلے تو حکومت نے اس پر دوہری تہری سنسر شپ لگائی، پھر یکم جنوری 1843ء کو پرچے کو کچلنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سے قبل ہی مارکس کو مجبوراً ادارت سے استعفیٰ دیناپڑا، لیکن اُس کا استعفیٰ پرچے کو بچا نہیں سکا اور بالآخر مارچ 1843ء میں اشاعت منقطع کر دی گئی۔ اخباری سرگرمیوں نے مارکس پر واضح کر دیا کہ سیاسی معاشیات سے اس کی واقفیت کافی نہیں تھی، چنانچہ اس نے پورے جوش و خروش سے اس کے مطالعہ کا آغاز کر دیا۔

مارکس نے 1843ء میں کروزناخ شہر میں اپنی بچپن کی دوست، جس سے زمانہ طالب علمی میں ہی اُس کی شادی طے ہو چکی تھی، سے شادی کر لی۔ مارکس کی بیوی کا تعلق پروشیا کی اشرافیہ کے ایک رجعتی گھرانے سے تھا۔ اس کا بڑابھائی 1850-58ء کے نہایت رجعتی دور میں پروشیا کا وزیر داخلہ بھی رہا۔ 1843ء کے موسم خزاں میں مارکس پیرس چلا گیا تاکہ وہاں سے آرنلڈ روگے (1802-1880ء) کیساتھ ایک ریڈیکل رسالہ نکال سکے۔ روگے بھی اُس وقت بائیں بازو کا ہیگلی تھا۔ اس رسالے کا صرف ایک ہی شمارہ نکل پایا اور جرمنی میں چوری چھپے اسے تقسیم کرنے کی مشکلات اور روگے سے اختلافات کی وجہ سے اشاعت منقطع ہو گئی۔ تاہم اِس رسالے میں مارکس کے مضامین واضح کرتے ہیں کہ وہ ایک انقلابی بن چکا تھا جو ’’ہر موجود چیز پر بے رحم تنقید‘‘ بالخصوص ’’ہتھیاروں کے ذریعے تنقید‘‘ کی وکالت کرتا تھا اور عوام اور پرولتاریہ سے استدعا کرتا تھا۔

ستمبر 1844ء میں فریڈرک اینگلز کچھ دنوں کے لئے پیرس آیا اور اس کے بعد سے مارکس کا قریب ترین دوست بن گیا۔ دونوں اُس وقت پیرس میں انقلابی گروہوں کی جوش کھاتی زندگی کا سرگرم حصہ بن گئے۔ اُس وقت پرودھون (Proudhon) کا نظریہ خاص اہمیت کا حامل تھا، جسے مارکس نے 1847ء میں اپنی تصنیف ’فلسفے کی غربت‘ میں شدید تنقید کا نشانہ بنا کر پارہ پارہ کر دیا۔ مارکس اور اینگلز نے پیٹی بورژوا سوشلزم کے مختلف نظریات کے خلاف سخت جدوجہد کا آغاز کیا اور پرولتاری سوشلزم یا کمیونزم (مارکسزم) کی حکمت عملی اور نظریات وضع کئے۔ 1845ء میں پروشیائی حکومت کے لگاتار اصرار پر مارکس کو خطرناک انقلابی قرار دے کر پیرس سے نکال دیا گیا۔ وہ برسلز چلا گیا۔ 1847 ء کے موسم بہار میں مارکس اوراینگلز نے ایک خفیہ پروپیگنڈا سوسائٹی ’کمیونسٹ لیگ‘ میں شمولیت اختیار کر لی۔ وہ لیگ کی دوسری کانگریس (لندن، نومبر 1847ء) میں بہت نمایاں تھے اور اسی کانگریس کے کہنے پر انہوں نے مشہورِ زمانہ ’کمیونسٹ مینی فیسٹو‘ مرتب کیا، جو فروری 1848ء میں چھپ کر سامنے آیا۔ نہایت وضاحت اور کمال ذہانت سے اِس تصنیف نے دنیا کا ایک نیا تصور پیش کیاجو مادیت، جدلیات، طبقاتی جدوجہد کے نظرئیے اور ایک نئے کمیونسٹ سماج کے خالق کے طور پر پرولتاریہ کے تاریخی انقلابی کردار سے مطابقت رکھتا تھا۔

جب فروری 1848ء کا انقلاب شروع ہوا تو مارکس کو بیلجیم سے بھی نکال دیا گیا۔ وہ پیرس واپس آگیا، جہاں سے مارچ کے انقلاب کے بعد وہ کولون (جرمنی)چلا گیا۔ کولون میں یکم جون 1848ء سے 19 مئی 1849ء تک ’رھائن کا نیا اخبار‘(Neue Rheinische Zeitung) شائع ہوا، جس کا چیف ایڈیٹر مارکس تھا۔ 1848ء تا 49ء کے انقلابی واقعات نے بڑے شاندار طریقے سے نئے نظرئیے کی تصدیق کی، بالکل جیسے بعد ازاں دنیا بھر کی پرولتاری اور جمہوری تحریکوں نے کی ہے۔ فتح یاب ہونے والے ردِ انقلاب نے پہلے تو مارکس کے خلاف عدالتی کاروائی شروع کر دی (9 فروری 1849ء کو مارکس اس مقدمے سے بر ی ہو گیا) اور پھر 16 مئی 1848ء کو اسے جرمنی سے نکال دیا گیا۔ مارکس پیرس گیا لیکن 13 جون 1849ء کے مظاہرے کے بعد دوبارہ پھر نکال دیا گیا۔ یہاں سے وہ لندن چلا گیا، جہاں وفات تک رہا۔

ایک سیاسی جلاوطن کی حیثیت سے مارکس کی زندگی بہت کٹھن تھی، جیسا کہ مارکس اوراینگلز کے درمیان خط و کتابت (جو 1913ء میں شائع ہو ئی) سے بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ غربت مارکس ا ور اس کے خاندان پر بہت بھاری تھی۔ اگر اینگلز کی مستقل اور بے لوث مالی امداد نہ ہوتی تو مارکس نہ صرف ’سرمایہ‘ کی تحریر مکمل نہیں کر پاتا بلکہ ناگزیر طور پر غربت کے ہاتھوں کچلا جاتا۔ مزید برآں پیٹی بورژوا سوشلزم اور بالعموم غیر پرولتاری سوشلزم کے مروجہ نظریات اور رجحانات نے مارکس کو مسلسل اور بے رحم جدوجہد کرنے اور بعض اوقات انتہائی وحشیانہ اور ننگ انسانیت ذاتی حملوں کا مقابلہ کرنے پر مجبور کیا۔ سیاسی جلاوطنوں کے حلقوں سے الگ تھلگ رہ کر مارکس نے کئی تاریخی تحریروں میں اپنے مادیت کے نظرئیے کو پروان چڑھایا اور سیاسی معاشیات کے مطالعے کے لئے خود کو وقف کر دیا۔ مارکس نے ’سیاسی معاشیات کے تنقیدی جائزے پر مضمون‘ (1859ء) اور ’سرمایہ‘ (جلد اول، 1867ء) کے ذریعے سائنس میں انقلاب برپا کر دیا۔

انیسویں صدی کی چھٹی دہا ئی کے اواخر اور ساتویں دہا ئی میں جمہوری تحریکوں کے احیا نے مارکس کو دوبارہ عملی سرگرمی کی طرف کھینچا۔ 28 ستمبر 1864ء میں لندن میں’انٹرنیشنل ورکنگ مین ایسوسی ایشن‘قائم کی گئی جو پہلی انٹرنیشنل کے نام سے مشہور ہے۔ مارکس اس تنظیم کے رو حِ رواں تھے۔ وہ اس کے پہلے خطبے اور بے شمار قراردادوں، اعلامیوں اور منشوروں کے لکھاری تھے۔ قبل از مارکسی، غیر پرولتاری سوشلزم کی مختلف شکلوں کی مزدور تحریکوں کو متحد کر کے مارکس نے مختلف ممالک کی پرولتاری جدوجہد کے لئے ایک یکجا حکمت عملی مرتب کی۔ 1871ء میں پیرس کمیون کے انہدام (’فرانس میں خانہ جنگی‘ نامی تصنیف میں مارکس نے اس واقعے کا جامع، واضح، شاندار، مؤثر اور انقلابی تجزیہ پیش کیا ہے) اور باکونن کی وجہ سے انٹرنیشنل میں پڑنے والی دراڑ کے بعد یہ تنظیم یورپ میں قائم نہیں رہ سکتی تھی۔ 1872ء میں انٹرنیشنل کی ہیگ کانگریس کے بعد مارکس نے اس کی جنرل کونسل کو یورپ سے نیویارک منتقل کرا دیا۔ پہلی انٹرنیشنل نے اپنا تاریخی کردار ادا کر دیا تھا اور تمام دنیا میں مزدور تحریک کی وسیع تر بڑھوتری کے عہد کی راہ ہموار کر دی تھی۔ ایک ایسا عہد جس میں تحریک نے وسعت اختیار کی اور مختلف قومی ریاستوں میں سوشلسٹ مزدور پارٹیاں قائم ہوئیں۔

انٹرنیشنل کے لئے انتھک کام اور اس سے بھی بڑھ کر انتھک فکری مصروفیات نے مارکس کی صحت کو بری طرح متاثر کیا۔ اُس نے سیاسی معاشیات کو ازسر نو مرتب کرنے اور ’سرمایہ‘ کو مکمل کرنے کا کام جاری رکھا، جس کے لئے اُس نے بہت سا نیا مواد اکٹھا کیا اور کئی زبانوں (مثلاً روسی زبان) کا مطالعہ کیا۔ تاہم صحت کی خرابی نے اسے ’سرمایہ‘ کی تصنیف مکمل نہ کرنے دی۔

2 دسمبر 1881ء کو اُس کی شریک حیات وفات پا گئی اور 14 مارچ 1883ء کو مارکس اپنی آرام کرسی پر اطمینان بھری ابدی نیند سو گیا۔ لندن کے ہائی گیٹ قبرستان میں وہ اپنی بیوی کے پہلو میں دفن ہے۔ مارکس کے بچوں میں سے کچھ لندن میں بچپن میں ہی فوت ہو گئے، جب خاندان کو سخت افلا س کا سامنا تھا۔ تین بیٹیوں (یولینگ، لاورا لافارگ اور جینی لونگے) نے انگریز اور فرانسیسی سوشلسٹوں سے شادیاں کر لیں۔ جینی لونگے کا بیٹا فرانسیسی سوشلسٹ پارٹی کا رُکن ہے۔

Address

Muzaffarabad

Telephone

+923558155686

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GM Awan Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share