03/06/2026
پنشن والوں کے لیے سپریم کورٹ پاکستان سے بڑا فیصلہ:
طویل عرصہ تک جاری رہنے والی کنٹریکٹ ملازمت کو مستقل ہونے کے بعد پنشن کے لیے شمار کیا جائے گا؛ مسلسل پیدا ہونے والے حق کے معاملات میں مدتِ معیاد اور تاخیر کا اصول لاگو نہیں ہوتا؛ مستقل نوعیت کی آسامیوں پر غیر معینہ مدت تک کنٹریکٹ ملازمت استحصال کے مترادف ہے اور آئین کے آرٹیکل 3 کی خلاف ورزی ہے: سپریم کورٹ
ایک خاتون کو 1986ء میں کنٹریکٹ بنیادوں پر ملازمت دی گئی۔ وہ 24 سال تک بلا تعطل خدمات انجام دیتی رہیں مگر ان کی ملازمت 2011ء تک مستقل نہ کی گئی۔ بعد ازاں 2020ء میں ریٹائرمنٹ کے وقت انہیں صرف 2011ء سے 2020ء تک کی مدت کی بنیاد پر پنشن دی گئی جبکہ کنٹریکٹ ملازمت کے 24 سال پنشن کے لیے شمار نہیں کیے گئے۔
اس پس منظر میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مستقل ہونے سے قبل ایک ہی آسامی پر طویل عرصہ تک انجام دی گئی کنٹریکٹ ملازمت کو پنشن کے لیے شمار کیا جائے گا۔ عدالت نے واضح کیا کہ 24 سال پر محیط کنٹریکٹ ملازمت کو محض عارضی یا محدود مدت کی تقرری قرار دے کر پنشن سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ اتنی طویل مدت اس امر کا ثبوت ہے کہ متعلقہ آسامی درحقیقت مستقل نوعیت کی تھی۔
عدالت نے ضابطۂ ملازمت کی متعلقہ شق پر انحصار کرتے ہوئے قرار دیا کہ مستقل اور بلا تعطل عارضی یا کنٹریکٹ خدمت پنشن کے لیے قابلِ شمار ہوگی، خصوصاً جب ملازم بعد میں اسی عہدے پر مستقل کر دیا جائے۔
سپریم کورٹ نے اس طرزِ عمل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا کہ کسی ملازم سے دہائیوں تک خدمات حاصل کی جائیں اور پھر یہ کہہ کر پنشن سے محروم کر دیا جائے کہ مستقل ہونے کے بعد کی مدت مطلوبہ معیارِ خدمت پوری نہیں کرتی۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ملازمہ نے اپنی زندگی کے بہترین سال عوامی خدمت کے لیے وقف کیے، لہٰذا محکمہ اپنی ہی تاخیر کو بنیاد بنا کر اسے ریٹائرمنٹ فوائد سے محروم نہیں کر سکتا۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ پنشن بڑھاپے کا تحفظ اور معاشی سہارا ہے۔ یہ کوئی احسان، خیرات، عطیہ یا سرکاری عنایت نہیں بلکہ ملازم کا قانونی اور حاصل شدہ حق ہے، جو ریٹائرمنٹ کے بعد اس کے ذریعۂ معاش کی بنیادی بنیاد بنتا ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ پنشن سے متعلق دعوے مسلسل اور بار بار پیدا ہونے والے حق کی نوعیت رکھتے ہیں، اس لیے انہیں محض مدتِ معیاد یا تاخیر کی بنیاد پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
آخر میں عدالت نے قرار دیا کہ مستقل نوعیت کی آسامیوں پر غیر معینہ مدت تک کنٹریکٹ ملازمین کو برقرار رکھنا استحصال کی ایک شکل ہے جو آئین کے آرٹیکل 3 میں مذکور استحصال کے خاتمے کے اصول کے منافی ہے۔ طویل المدت کنٹریکٹ ملازمت کو پنشن اور دیگر ملازمتی فوائد سے بچنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ عدالت نے حکومت کی درخواست مسترد کر دی۔
آپ ملازمت سے متعلق مسائل کے لیے ہم سے بلا توقف رابطہ کر سکتے ہیں۔