22/09/2026
سپریم کورٹ کا وراثت میں خواتین کے حق پر تاریخی فیصلہ
Mohammad Boota Vs Mst. Fatima
[2023 SCMR 1901] - تحریر کردہ: جسٹس عائشہ اے ملک
بنچ: چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس اطہر من اللہ
پس منظر:
یہ کیس ریاست بہاولپور کی زرعی اراضی کی وراثت کا تھا۔ دین محمد نامی شخص کو کالونائزیشن ایکٹ کے تحت زمین الاٹ ہوئی تھی۔ اس کی وفات کے بعد اس کے بیٹوں نے 1952 اور 1956 میں وراثتی انتقالات اپنے نام کرا لیے اور بیٹیوں کو وراثت سے محروم کر دیا۔ بیٹیوں نے 1985 اور 1994 میں دعویٰ دائر کیا کہ انہیں وراثت سے محروم کیا گیا ہے۔ ٹرائل کورٹ، اپیلٹ کورٹ اور ہائیکورٹ نے بیٹیوں کے حق میں فیصلہ دیا، جسے بھائیوں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ بھائیوں کے دو اعتراض تھے: 1) اس وقت رواج (Custom) کے تحت بیٹیاں زرعی زمین میں حقدار نہیں تھیں۔ 2) مقدمہ 40 سال بعد دائر ہوا، معیاد ختم ہو چکی ہے۔
سپریم کورٹ نے شریعت کے نفاذ کی پوری تاریخ واضح کر دی:
1. 1872 سے 1951 تک کا قانون:
- Punjab Laws Act 1872 کی دفعہ 5 کہتی تھی کہ وراثت کے مقدمات کا فیصلہ رواج (Custom) کے مطابق ہوگا، لیکن اگر رواج انصاف، مساوات اور ضمیر کے خلاف ہو تو محمدی قانون (شریعت) لگے گا۔ اس وقت فریق کو رواج ثابت کرنا پڑتا تھا۔
- "1937 کا شریعت ایکٹ" آیا جس نے کہا کہ مسلمانوں میں وراثت کا فیصلہ رواج پر نہیں بلکہ شریعت پر ہوگا، لیکن اس میں زرعی زمین شامل نہیں تھی، اس پر رواج ہی چلتا رہا۔
- 1948 کا پنجاب شریعت ایکٹ (Punjab Act IX of 1948):
یہ پاکستان بننے کے بعد 15 مارچ 1948 کو نافذ ہوا۔ اس نے واضح کر دیا کہ زرعی زمین سمیت تمام وراثتی معاملات کا فیصلہ شریعت کے مطابق ہوگا، چاہے کوئی رواج اس کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ یہ قانون ریاست بہاولپور پر بھی لاگو تھا۔
- 1951 کا شریعت ایکٹ:
اس نے 1948 کے ایکٹ میں مزید وضاحت کی۔
2. سب سے اہم دفعہ - 2-A کا اضافہ (1983):
بعد میں *1962 کے West Pakistan Muslim Personal Law (Shariat) Act* میں 1983 کے آرڈیننس کے ذریعے دفعہ 2-A شامل کی گئی۔ اس دفعہ نے تو فیصلہ کن طور پر کہہ دیا کہ:
اگر 1948 کے شریعت ایکٹ سے پہلے کسی عدالت نے رواج کی بنیاد پر کسی مرد وارث کو زرعی زمین کا مالک قرار دے دیا تھا یا بیٹیوں کو محروم کرنے کا ڈگری جاری کی تھی، تو وہ تمام ڈگریاں، فیصلے اور احکامات *کالعدم، ناقابل عمل اور غیر قانونی* تصور ہوں گے۔ اور ایسے تمام زیر التواء مقدمات ختم ہو جائیں گے۔
مطلب:
جہاں فریقین مسلمان ہوں، وہاں وراثت میں ہمیشہ شریعت ہی قانون ہوگا، رواج نہیں۔
3. بھائیوں کا دوسرا بہانہ - کرایہ داری (Tenancy):
بھائیوں نے کہا کہ ہم نے زمین کی قیمت 1958 میں ادا کی تھی اس لیے ہم خود مالک ہیں۔ عدالت نے اسے مسترد کر دیا۔ عدالت نے کہا کالونائزیشن ایکٹ کی دفعہ 20 کے تحت اصل کرایہ دار دین محمد ہی تھا۔ اس کے بیٹے اس کے قانونی وارث کے طور پر آئے۔ انہوں نے خود کو دین محمد کا وارث ظاہر کر کے فائدہ لیا، اب وہ وراثت سے انکار نہیں کر سکتے۔ _(حوالہ: Saeed-ud-Din vs Hafeez 2013 SCMR 1133)_
4. معیاد (Limitation) کا اعتراض - 40 سال بعد دعویٰ؟
بھائیوں نے کہا انتقال 1952 میں ہوا اور دعویٰ 1985 میں، یہ تاخیر ہے۔
سپریم کورٹ نے اس اعتراض کو بھی مسترد کر دیا اور قرار دیا:
- وراثت میں کوئی معیاد نہیں چلتی:
جب بھائی بہنوں کا حق دباتے ہیں اور انہیں ان کے حصے سے محروم رکھتے ہیں تو معیاد اس وقت شروع ہوتی ہے جب بہنوں کو اس فراڈ یا انکار کا علم ہوتا ہے۔ _(حوالہ: Saadat Khan vs Shahid-ur-Rehman PLD 2023 SC 362)_
- غلط انتقال سے ملکیت نہیں بنتی:
اگر انتقال شریعت کے خلاف کسی مرد کے حق میں غلط طور پر کر دیا گیا ہو تو اس سے اسے کوئی حق ملکیت نہیں ملتا۔ _(Mst. Gohar Khanum vs Mst. Jamila Jan 2014 SCMR 801)_
- خاتون کی وراثت پر کوئی معیاد نہیں:
جہاں عورت کو اس کے خاندان نے وراثت سے محروم رکھا ہو، وہاں معیاد کا قانون نہیں چلے گا۔ _(Shahla vs Jahan Afroz Khilat 2020 SCMR 352)_
- مشترکہ کھاتہ دار (Co-sharer):
باپ کی وفات پر ہر وارث مشترکہ مالک بن جاتا ہے۔ وراثتی انتقال صرف ریونیو ریکارڈ درست کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ ایک مشترکہ کھاتہ دار کے خلاف دوسرے پر معیاد نہیں چلتی۔
حتمی فیصلہ:
ان تمام وجوہات کی بنا پر سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کے فیصلوں میں مداخلت سے انکار کر دیا۔ بھائیوں کی اپیلیں خارج۔ بہنوں کو دین محمد کی زرعی اراضی میں ان کے شرعی حصے کا حقدار قرار دیا گیا۔
Civil Appeals Dismissed
یہ فیصلہ خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ میں ایک سنگ میل ہے۔
مزید اہم عدالتی فیصلوں، وراثت کے قوانین اور سپریم کورٹ کی تازہ ترین ججمنٹس کے لیے ہمارے پیج کو فالو کریں۔
Follow for more Updates