Family Laws in Pakistan

Family Laws in Pakistan Legal Problems And Solution

Can Wife Claim 12 Years of Back Maintenance Allowanceمقدمہ کے حقائق کے مطابق فریقین کا نکاح 20 فروری 2003 کو ہوا، جبکہ ب...
25/04/2026

Can Wife Claim 12 Years of Back Maintenance Allowance
مقدمہ کے حقائق کے مطابق فریقین کا نکاح 20 فروری 2003 کو ہوا، جبکہ بیوی نے 20 ستمبر 2024 کو خلع، نان و نفقہ اور جہیز کی واپسی کا دعویٰ دائر کیا۔ فیملی کورٹ نے خلع کی ڈگری جاری کرتے ہوئے بیوی کے حق میں جنوری 2012 سے عدت تک نان و نفقہ دینے کا حکم دیا۔ شوہر نے اس فیصلے کو اپیل میں چیلنج کیا، تاہم اپیلیٹ عدالت نے بھی فیملی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

بعد ازاں شوہر نے ہائیکورٹ سے رجوع کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ نان و نفقہ کی ہر ماہ عدم ادائیگی ایک الگ cause of action ہے، اس لیے قانون کے مطابق صرف چھ سال تک کے بقایاجات ہی وصول کیے جا سکتے ہیں، جبکہ اس سے زائد مدت کا نان و نفقہ قابلِ وصول نہیں۔

عدالت نے اس اعتراض کو مقدمہ کے مخصوص حالات میں قابلِ قبول نہیں سمجھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ شوہر نے اپنے تحریری جواب میں اعادہ حقوقِ زوجیت (Restitution of Conjugal Rights) کا دعویٰ کیا، جو اس بات کا اظہار ہے کہ وہ ازدواجی تعلق کو برقرار تسلیم کرتا ہے اور بیوی کی واپسی کا خواہاں ہے۔ ایسی صورت میں وہ ایک طرف ازدواجی تعلق کا دعویٰ کرے اور دوسری طرف نان و نفقہ سے انکار کرے، یہ ایک متضاد مؤقف ہے جس کی قانون اجازت نہیں دیتا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ اس معاملے میں estoppel کا اصول لاگو ہوتا ہے، جس کے تحت اگر کوئی فریق اپنے عمل یا مؤقف کے ذریعے کسی حق کو تسلیم کر لے تو وہ بعد میں اس کے خلاف مؤقف اختیار نہیں کر سکتا۔ لہٰذا شوہر limitation کے قانون کو بطور دفاع استعمال کرنے سے محروم ہو جاتا ہے۔

مزید برآں عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ایسے مقدمات، جن میں خلع، نان و نفقہ اور اعادہ حقوقِ زوجیت کے دعوے شامل ہوں، انہیں الگ الگ نہیں بلکہ ایک مربوط ازدواجی تنازع کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس تناظر میں چھ سال کی تحدید سابقہ نان و نفقہ کی ادائیگی میں رکاوٹ نہیں بنتی، خواہ مدت بارہ سال یا اس سے زائد ہی کیوں نہ ہو۔

ان وجوہات کی بنا پر ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں کی جانب سے بارہ سالہ سابقہ نان و نفقہ دینا قانون کے مطابق ہے اور اس میں کوئی غیر قانونی پہلو موجود نہیں۔ چنانچہ آئینی درخواست کو خارج کر دیا گیا۔

اہم قانونی نکتہ یہ ہے کہ اگر شوہر خود اعادہ حقوقِ زوجیت کا دعویٰ کرے اور اپنے طرزِ عمل سے ازدواجی تعلق کو تسلیم کرے، تو وہ بعد میں limitation کا سہارا لے کر سابقہ نان و نفقہ کی ادائیگی سے نہیں بچ سکتا۔
یہ مقدمہ اس بنیادی قانونی سوال کے گرد گھومتا ہے کہ آیا بیوی کو سابقہ نان و نفقہ چھ سال سے زائد مدت کے لیے دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ شوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ Limitation Act 1908 کے تحت چھ سال سے زیادہ عرصہ کے بقایاجات نان و نفقہ کا دعویٰ قابلِ سماعت نہیں، لہٰذا بارہ سالہ سابقہ نان و نفقہ کی ڈگری غیر قانونی ہے۔

24/04/2026
06/04/2026

2026 SCMR 561

Husband claiming recovery of various items given to wife relating to wedding functions---Permissibility---Law draws a clear distinction between dower, dowry, bridal gifts and presents---Items given by a husband or his family in connection with marriage fall within the category of bridal gifts or presents and, as such, vest absolutely in the bride---Such items cannot be reclaimed by the husband, as they do not constitute dower nor are they recoverable as personal property of the husband.

CP. 2159 of 2025
Mst. Rafia Yaqoob vs Suleman Ayub

🚨  پاکستانی قانون میں تاریخی تبدیلی! 🚨کیا آپ کی والدہ پاکستانی اور والد غیر ملکی ہیں؟ کیا آپ کو شہریت یا پاسپورٹ کے حصول...
06/04/2026

🚨 پاکستانی قانون میں تاریخی تبدیلی! 🚨
کیا آپ کی والدہ پاکستانی اور والد غیر ملکی ہیں؟ کیا آپ کو شہریت یا پاسپورٹ کے حصول میں دشواری کا سامنا تھا؟
اب یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو گیا ہے! ✅
"پاکستان شہریت (ترمیمی) ایکٹ 2026" کے تحت ایک نئی تاریخ رقم کر دی گئی ہے۔ اب قانون کی نظر میں ماں اور باپ برابر ہیں۔
✨ پوسٹ کے اہم نکات:
تاریخی ترمیم: شہریت ایکٹ 1951 کی دفعہ 5 میں لفظ "باپ" کو "والدین" (Parent) سے بدل دیا گیا ہے۔
ماضی سے اطلاق: یہ قانون صرف آج کے لیے نہیں، بلکہ 1951 سے ہی نافذ العمل تصور ہوگا (Retrospective Effect)۔
بڑا فائدہ: 18 اپریل 2000 سے پہلے پیدا ہونے والے وہ تمام افراد جن کی مائیں پاکستانی ہیں، اب وہ قانونی طور پر پاکستانی شہری تسلیم کیے جائیں گے اور پاسپورٹ حاصل کر سکیں گے۔
امتیاز کا خاتمہ: اب شہریت کے لیے صرف والد کا پاکستانی ہونا لازمی نہیں، ماں کی بنیاد پر بھی مکمل حق ملے گا۔
⚖️ قانونی پیچیدگیوں کے حل اور اس ایکٹ کے تحت اپنے حقوق کے حصول کے لیے آج ہی رابطہ کریں!

17/03/2026

مدیون بوقت ادائیگی زیورات کی رائج قیمت ادا کرنے کا پابند ہے
Where a Decree expressly affords alternate modes of satisfaction, the decree-holder retains the liberty to exercise her choice.

An executing court can direct payment of the current market value of gold ornaments if their return is not possible.

C.P.L.A.74/2025
Shafaqat Ali v. Mst. Zaib un Nisa and others
Mr. Justice Syed Hasan Azhar Rizvi
20-08-2025

11/03/2026

نکاح نامہ کا کالم نمبر 17 خود ایک رجسٹری ہے؛ اس میں درج جائیداد مکمل طور پر بیوی کی ہے جس کے لیے الگ سے رجسٹری کروانے کی ضرورت نہیں ہوتی، اور بیوی کی مرضی کے بغیر کوئی دوسرا شخص جائیداد فروخت یا منتقل نہیں کر سکتا
2024 SCMR 1078

02/02/2026

اجراء اور منسوخی ڈگری دونوں زیر سماعت تھے فریقین میں راضی نامہ ھو گیا۔ خاتون آباد ھو گئی اور کچھ عرصہ بعد پھر علیحدگی ھو گئی۔ ایسی صورت میں سابقہ ڈگری اور اجراء کی حیثیت پر خوبصورت ججمنٹ ھے
PLJ 2021 Lahore 599

Constitution of Pakistan, 1973--

----Art. 199--Muslim Family Law Ordinance, 1961, S. 9--Suit for recovery of maintenance allowance--Ex-parte declared--Execution petition--Petitioner filed application for setting aside ex-parte degree--Court compromise between parties--Execution petition as well as suit were withdrawn--Application for restoration of ex*****on petition--Dismissed--Fresh ex*****on petition--Dismissed--Appeal--Accepted--Challenge to--Neither judgment was set-aside nor modified as per statement--Valid lawful decree--Legal obligation of father--Record shows that on 29.1 1.2014, parties} got recorded their respective statements before Judge Family Court to effect that Respondent No. 2 started living with petition owing to compromise between parties and they were, not willing to pursue their cases--Resultantly ex*****on petition as well as application, seeking setting aside of ex parte decree was ordered to be dismissed as withdrawn--It is no where mentioned in said order or in statements that decree would not hold field--Neither it was set-aside, nor modified as per alleged settlement--Respondent No. 2 could not have been estopped to get ex*****on of a valid lawful decree as decree holder has right to get it executed within contemplation of provisions of law--Matter pertains to maintenance allowance of minor as well, therefore, petitioner cannot hide himself behind procedural technicalities--Petitioner, being a father, is under legal obligation to maintain his child--Question of payment of maintenance allowance must be addressed to its ultimate conclusion--Impugned order has rightly been passed after appreciating facts and circumstances of case--So far as plea that Respondent No. 3 is not entitled to get maintenance allowance

27/01/2026

2026 CLC 12
نان ونفقہ میں سالانہ اضافہ ابتدائی ڈگری(basic)کی رقم بجائے موجودہ(current) رقم پر ہوگا
مثلا اگر فیملی کورٹ 5000 روپے ماہوار خرچہ ناں و نفقہ ڈگری کرتی ہے تو پہلے سال سالانہ اضافہ 5000 روپے کی رقم پر ہوگا اگلے سال سالانہ اضافہ 5500 روپے اور اگلے سال سالانہ اضافہ 6050 روپے کی رقم پر ہوگا

30/10/2025

خرچہ کا کیس نانی نے کیا جو سپریم کورٹ تک ڈگری رہا
والدہ وفات پا چکی تھی
2025 SC 247

خرچہ سے بچنے کی خاطر ولدیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا
2025 CLC 276

بالغ بیٹا اپنے والد سے اگر تعلیم حاصل کر رہا ہو تو خرچہ لے سکتا ہے
2025 PLD Lahore 152

16 دن کی تاخیر سے اپیل فیملی ہوئی جو کہ خارج
2025 MLD 391
سابقہ تیس سال کا خرچہ ملا بیوی کو
2018 YLR 128
سابقہ 6 سال کا خرچہ ملا بیوی کو
2024 CLC 363

حق مہر پلاٹ 5 مرلہ ڈگری
2025 ylr 1

کالم نمبر 17 میں حق مہر میں اک پلاٹ لکھا گیا جو کہ عورت کے حق میں ڈگری ہوا
2024 scmr 1078

حق مہر میں اک مکان 2 کنال کا لکھا ہوا تھا محکمہ مال سے قمیت معلوم کر کے اک کنال کی قمیت ڈگری ہوئی
2011 pld sc 221

جب خاوند نے حق مہر میں غیر منقولہ جائیداد دی ہو وہ نکاح نامہ میں تحریر ہو تو جائیداد بیوی کی ہو گئی۔
2020 clc 803

جب بھی حق مہر کا مطالبہ کیا جائے تو حق مہر ادا کرنا ہو گا ۔
2024 scmr 142

جب حق مہر کی ادائیگی کے بارے میں درج نا ہو کہ ادا شدہ ہے یا غیر ادا شدہ تو تصور کیا جائے گا کہ عندالطلب ہے
2017 clc note 16 p 17

سسر کی رضا مندی سے اس کی جائیداد نکاح نامہ میں بطور حق مہر درج ہو تو اسکی ذمہ داری سسر پر ہو گئی
2015 pld 182
2011 mld 176.

Address

Multan

Telephone

+923004515835

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Family Laws in Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share