25/04/2026
Can Wife Claim 12 Years of Back Maintenance Allowance
مقدمہ کے حقائق کے مطابق فریقین کا نکاح 20 فروری 2003 کو ہوا، جبکہ بیوی نے 20 ستمبر 2024 کو خلع، نان و نفقہ اور جہیز کی واپسی کا دعویٰ دائر کیا۔ فیملی کورٹ نے خلع کی ڈگری جاری کرتے ہوئے بیوی کے حق میں جنوری 2012 سے عدت تک نان و نفقہ دینے کا حکم دیا۔ شوہر نے اس فیصلے کو اپیل میں چیلنج کیا، تاہم اپیلیٹ عدالت نے بھی فیملی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
بعد ازاں شوہر نے ہائیکورٹ سے رجوع کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ نان و نفقہ کی ہر ماہ عدم ادائیگی ایک الگ cause of action ہے، اس لیے قانون کے مطابق صرف چھ سال تک کے بقایاجات ہی وصول کیے جا سکتے ہیں، جبکہ اس سے زائد مدت کا نان و نفقہ قابلِ وصول نہیں۔
عدالت نے اس اعتراض کو مقدمہ کے مخصوص حالات میں قابلِ قبول نہیں سمجھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ شوہر نے اپنے تحریری جواب میں اعادہ حقوقِ زوجیت (Restitution of Conjugal Rights) کا دعویٰ کیا، جو اس بات کا اظہار ہے کہ وہ ازدواجی تعلق کو برقرار تسلیم کرتا ہے اور بیوی کی واپسی کا خواہاں ہے۔ ایسی صورت میں وہ ایک طرف ازدواجی تعلق کا دعویٰ کرے اور دوسری طرف نان و نفقہ سے انکار کرے، یہ ایک متضاد مؤقف ہے جس کی قانون اجازت نہیں دیتا۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ اس معاملے میں estoppel کا اصول لاگو ہوتا ہے، جس کے تحت اگر کوئی فریق اپنے عمل یا مؤقف کے ذریعے کسی حق کو تسلیم کر لے تو وہ بعد میں اس کے خلاف مؤقف اختیار نہیں کر سکتا۔ لہٰذا شوہر limitation کے قانون کو بطور دفاع استعمال کرنے سے محروم ہو جاتا ہے۔
مزید برآں عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ایسے مقدمات، جن میں خلع، نان و نفقہ اور اعادہ حقوقِ زوجیت کے دعوے شامل ہوں، انہیں الگ الگ نہیں بلکہ ایک مربوط ازدواجی تنازع کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس تناظر میں چھ سال کی تحدید سابقہ نان و نفقہ کی ادائیگی میں رکاوٹ نہیں بنتی، خواہ مدت بارہ سال یا اس سے زائد ہی کیوں نہ ہو۔
ان وجوہات کی بنا پر ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں کی جانب سے بارہ سالہ سابقہ نان و نفقہ دینا قانون کے مطابق ہے اور اس میں کوئی غیر قانونی پہلو موجود نہیں۔ چنانچہ آئینی درخواست کو خارج کر دیا گیا۔
اہم قانونی نکتہ یہ ہے کہ اگر شوہر خود اعادہ حقوقِ زوجیت کا دعویٰ کرے اور اپنے طرزِ عمل سے ازدواجی تعلق کو تسلیم کرے، تو وہ بعد میں limitation کا سہارا لے کر سابقہ نان و نفقہ کی ادائیگی سے نہیں بچ سکتا۔
یہ مقدمہ اس بنیادی قانونی سوال کے گرد گھومتا ہے کہ آیا بیوی کو سابقہ نان و نفقہ چھ سال سے زائد مدت کے لیے دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ شوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ Limitation Act 1908 کے تحت چھ سال سے زیادہ عرصہ کے بقایاجات نان و نفقہ کا دعویٰ قابلِ سماعت نہیں، لہٰذا بارہ سالہ سابقہ نان و نفقہ کی ڈگری غیر قانونی ہے۔