Free Legal Advice

Free Legal Advice We are Multan based Firm

31/07/2026

منشیات کے مقدمات میں جرح
سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے 2025 SCMR 923 کی روشنی میں

ذیل میں دیے گئے سوالات منشیات کے مقدمات میں براہِ راست تفتیشی افسر (I.O.)، محرر/انچارج مالخانہ اور فرانزک ماہر سے جرح کے دوران استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

حصہ اول: تفتیشی افسر / برآمد کنندہ افسر سے جرح

دفعہ 20 قانون انسدادِ منشیات 1997 اور پیشگی اطلاع کے متعلق

1۔ کیا آپ کو وقوعہ سے قبل کوئی پیشگی اطلاع موصول ہوئی تھی؟
2۔ کیا اس پیشگی اطلاع کا اندراج رول 22.49 پولیس رولز 1934 کے مطابق رجسٹر نمبر II میں کیا گیا؟
3۔ کیا آپ نے دفعہ 20 قانون انسدادِ منشیات 1997 کے تحت سرچ وارنٹ حاصل کیا؟
4۔ اگر نہیں، تو اس کی کیا وجہ تھی؟ کیا یہ وجہ روزنامچہ میں درج کی گئی؟
5۔ کیا آپ نے موقع پر دو آزاد گواہوں کو شامل کیا؟ اگر ہاں، ان کے نام بتائیں۔

برآمدگی اور قبضہ کے متعلق

6۔ برآمد شدہ منشیات کس ترازو سے تولی گئی؟ کیا اس ترازو کا تصدیقی سرٹیفکیٹ موجود ہے؟
7۔ تین نمائندہ نمونے کب اور کہاں تیار کیے گئے؟ کیا وہ آپ کی موجودگی میں تیار ہوئے یا محرر نے تیار کیے؟
8۔ کیا ہر نمونے پر مقدمہ نمبر، تاریخ، آپ کے اور گواہوں کے دستخط موجود ہیں؟
9۔ نمونے لینے کے بعد باقی مال کو کس نے سیل کیا؟ کیا فارم 22.70 پر نمونہ مہر موجود ہے؟

حصہ دوم: محرر / انچارج مالخانہ سے جرح

2025 SCMR 923 کا بنیادی اصول: محفوظ تحویل (Chain of Custody)

1۔ کیا آپ متعلقہ تھانے کے انچارج مالخانہ ہیں؟
2۔ کیا آپ نے مقدمہ کی ضبط شدہ پراپرٹی وصول کی؟ تاریخ اور وقت بتائیں۔
3۔ کیا اس کا اندراج رجسٹر نمبر XIX میں کیا گیا؟ براہِ کرم رجسٹر عدالت میں پیش کریں۔
4۔ متعلقہ اندراج کا سیریل نمبر کیا ہے؟ کیا اس کی مصدقہ نقل پیش کر سکتے ہیں؟
5۔ کیا لیبارٹری بھیجنے سے قبل رول 22.72 کے مطابق روڈ سرٹیفکیٹ (فارم 10.17) تیار کیا گیا؟
6۔ نمونے لیبارٹری لے جانے والے پولیس اہلکار کا نام، تاریخ اور وقت کیا ہے؟ اس کا اندراج کہاں موجود ہے؟
7۔ کیا لیبارٹری سے واپسی کا روڈ سرٹیفکیٹ بھی موجود ہے؟
8۔ کیا مالخانہ سے لیبارٹری، لیبارٹری سے واپسی اور بعد ازاں عدالت تک مقدمہ کی پراپرٹی کی ہر نقل و حرکت کا باقاعدہ ریکارڈ موجود ہے؟
9۔ اگر نہیں، تو کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ 2025 SCMR 923 کی روشنی میں مقدمہ کی محفوظ تحویل ثابت نہیں ہوتی؟

نوٹ: اگر گواہ زبانی یادداشت کا سہارا لے تو آرٹیکل 102 قانونِ شہادت کے تحت اعتراض کیا جائے کہ دستاویزی ثبوت کی موجودگی میں زبانی شہادت قابلِ قبول نہیں۔

حصہ سوم: فرانزک / لیبارٹری کے گواہ سے جرح

1۔ آپ کو پارسل کس شخص نے فراہم کیا؟ کیا اس کے ساتھ روڈ سرٹیفکیٹ بھی موجود تھا؟
2۔ کیا پارسل وصول کرتے وقت اس کی مہر صحیح اور سالم حالت میں تھی؟
3۔ پارسل وصولی کا اندراج کس رجسٹر میں کیا گیا؟
4۔ تجزیہ مکمل ہونے کے بعد پارسل کس کے حوالے کیا گیا؟ متعلقہ روڈ سرٹیفکیٹ نمبر کیا تھا؟
5۔ کیا آپ اس امر سے اتفاق کرتے ہیں کہ روڈ سرٹیفکیٹ کی عدم موجودگی میں Chain of Custody ٹوٹ جاتی ہے، جیسا کہ 2025 SCMR 923 میں قرار دیا گیا؟

حصہ چہارم: ناقص تفتیش سے متعلق جرح

1۔ کیا آپ نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ منشیات ملزم کو کس نے فراہم کی؟
2۔ کیا آپ نے یہ تفتیش کی کہ منشیات کس شخص تک پہنچائی جانی تھیں؟
3۔ کیا آپ نے دفعہ 26 قانون انسدادِ منشیات کے تحت ملزم کے بینک اکاؤنٹس، اثاثوں یا جائیداد کی جانچ کی؟
4۔ کیا آپ نے اصل سپلائر، مینوفیکچرر یا بڑے منشیات فروشوں تک پہنچنے کی کوشش کی؟
5۔ کیا آپ نے اس مقدمہ سے متعلقہ نشہ کے عادی افراد کو تلاش کر کے بحالی مراکز بھیجنے کی کوشش کی؟
6۔ اگر نہیں، تو کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ تفتیش نامکمل رہی اور صرف ایک مبینہ پیڈلر کی گرفتاری تک محدود رہی، جیسا کہ 2025 SCMR 923 میں نشاندہی کی گئی؟

2025 SCMR 923 کی روشنی میں تین اہم قانونی اعتراضات

اول: آرٹیکل 102 قانونِ شہادت
"جناب والا! گواہ مقدمہ کی پراپرٹی کی تحویل زبانی شہادت سے ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ قانون کے مطابق رجسٹر نمبر XIX اور روڈ سرٹیفکیٹ پیش کرنا لازم ہے۔ ان دستاویزات کے بغیر زبانی شہادت قابلِ قبول نہیں۔"

دوم: آرٹیکل 129(g) قانونِ شہادت
"استغاثہ نے رجسٹر نمبر XIX اور روڈ سرٹیفکیٹ پیش نہیں کیے، لہٰذا قانون کے مطابق یہ منفی مفروضہ قائم ہوتا ہے کہ اگر یہ دستاویزات پیش کی جاتیں تو استغاثہ کے مؤقف کے خلاف ہوتیں۔"

سوم: محفوظ تحویل ثابت نہ ہونا
"استغاثہ Chain of Custody ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ مقدمہ کی پراپرٹی کب مالخانہ میں جمع ہوئی، کب فرانزک لیبارٹری بھیجی گئی اور کب واپس آئی، اس کا کوئی مستند دستاویزی ثبوت موجود نہیں۔ لہٰذا مقدمہ کی پراپرٹی کی سالمیت ثابت نہیں ہوتی۔ (2025 SCMR 923)"

عملی مشورہ

گواہ سے صرف "ہاں" یا "نہیں" میں جواب حاصل کریں اور غیر ضروری وضاحت کی اجازت نہ دیں۔ آخر میں گواہ سے یہ اقرار ضرور ریکارڈ کروائیں:

"میں تسلیم کرتا ہوں کہ رجسٹر نمبر XIX اور متعلقہ روڈ سرٹیفکیٹ معزز عدالت میں پیش نہیں کیے گئے۔

عمر قید کی سزا 14 سال میں تبدیل: سپریم کورٹ آف پاکستان کا ناگہانی اشتعال (Grave & Sudden Provocation) اور 302(c) PPC پر ...
30/07/2026

عمر قید کی سزا 14 سال میں تبدیل: سپریم کورٹ آف پاکستان کا ناگہانی اشتعال (Grave & Sudden Provocation) اور 302(c) PPC پر اہم فیصلہ
​1. بنیادی اور تکنیکی معلومات (Case Details)
​عدالت (Court): سپریم کورٹ آف پاکستان (Supreme Court of Pakistan)
​کیس کا عنوان (Case Title): محمد ناصر حسین بنام ریاست (Jail Petition No. 459 of 2022)
​جج صاحبان کی تعداد (Bench): 2 جج
​جسٹس جمال خان مندوخیل (Justice Jamal Khan Mandokhail)
​جسٹس ملک شہزاد احمد خان (Justice Malik Shahzad Ahmad Khan) — (محررِ فیصلہ)
​تاریخِ سماعت و فیصلہ (Date of Hearing & Judgment): 28 جولائی 2026 (28.07.2026)
​زیرِیں عدالتیں (Lower Courts): جووینائل کورٹ/ایڈیشنل سیشن جج میاں چنوں اور لاہور ہائی کورٹ (ملتان بینچ)
​2. کیس کے حقائق اور ملزم کی کم عمری (Facts & Juvenile Status)
​مقدمہ: 05 ستمبر 2018 کو پولیس اسٹیشن چھاب کلاں، میاں چنوں میں FIR No. 344/2018 (زیرِ دفعات 302, 109, 34 PPC) درج کی گئی۔
​واقعہ: مقتول (ظہور احمد) اور ملزم کی والدہ (مسماۃ خورشید بی بی) کے درمیان گلی میں جھگڑا اور ہاتھا پائی ہوئی۔
​ملزم کی کم عمری (Minority): ملزم (محمد ناصر حسین) وقوعہ کے وقت نابالغ (Minor/Juvenile) تھا، جس کی وجہ سے اس کا ٹرائل بھی جووینائل کورٹ (Juvenile Court) میں ہی چلایا گیا۔
​مداخلیت: ملزم نے جب گلی میں اپنی ماں کو مقتول کے ساتھ الجھتے اور ہاتھا پائی کرتے دیکھا، تو اپنی کم عمری اور این موقع کے شدید ناگہانی اشتعال (Grave & Sudden Provocation) میں آ کر اپنے حواس (Self-Control) کھو دیے۔ اس نے گھر سے چھری (Churri) اٹھا کر ظہور احمد پر دو وار کیے جس سے اس کی وفات ہو گئی۔
​سابقہ سزائیں: ٹرائل کورٹ نے 28 فروری 2019 کو اور بعد میں لاہور ہائی کورٹ نے 20 جون 2022 کو ملزم کو 302(b) PPC کے تحت عمر قید اور 200,000 روپے معاوضے کی سزا سنائی تھی۔
​3. فیصلے میں شامل نظائر / کیس لاز (Case Laws / Precedents Cited)
​سپریم کورٹ نے اپنے اس فیصلے کو قانونی مستند فراہم کرنے کے لیے درج ذیل 4 تاریخی نظائر کا حوالہ دیا:
​Azmat Ullah v. The State (2014 SCMR 1178)
​Muhammad Abbas and another v. The State (2023 SCMR 487)
​Chandoo alias Chand Muhammad v. The State (1986 SCMR 720)
​Muhammad Ajmal v. The State (2022 SCMR 88)
​4. طلائی اصول (Golden Principle Set)
​تمام کیس لاز، ملزم کے نابالغ ہونے اور حالاتِ واقعہ کا جائزہ لینے کے بعد عدالتِ عظمیٰ نے یہ اصول قائم کیا:
​اصول: اگر فریقین کے درمیان کوئی پرانی دشمنی نہ ہو، قتل کی پہلے سے کوئی منصوبہ بندی نہ کی گئی ہو، اور ملزم (جو واقعے کے وقت کم عمر/نابالغ تھا) نے اپنی والدہ کو لڑتے دیکھ کر این موقع پر (Spur of the moment) شدید ناگہانی اشتعال میں آ کر سیلف کنٹرول کھو دیا ہو، تو ایسا اقدام تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302(b) کے تحت عمر قید/سزائے موت کے بجائے دفعہ 302(c) PPC کے زمرے میں آتا ہے۔
​5. سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ و ہدایات (Final Order & Directions)
​جیل پٹیشن: عدالت نے جیل پٹیشن کو باقاعدہ اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے اسے جزوی طور پر منظور (Partly Allowed) کیا۔
​سزا کی تبدیلی: ملزم کی 302(b) PPC کے تحت سزائے عمر قید ختم (Set Aside) کر کے اسے 302(c) PPC کے تحت 14 سال قیدِ با مشقت (14 Years Rigorous Imprisonment) کی سزا سنائی گئی۔
​معاوضہ: ٹرائل کورٹ کا مقرر کردہ 200,000 روپے معاوضہ (Compensation) 302(c) کے تحت بھی برقرار رکھا گیا۔
​دفعہ 382-B Cr.P.C کا فائدہ: ملزم کو 382-B Cr.P.C کا فائدہ دیا گیا، جس سے اس کا دورانِ مقدمہ جتنا بھی وقت جیل میں گزرا ہے، وہ اس کی 14 سالہ کل سزا سے منفی کر دیا جائے گا۔
​تحریر و ترتیب:
ایڈووکیٹ محبوب علی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

27/07/2026

مسٹر جسٹس محسن اختر کیانی
فیصلہ مورخہ: 01-07-2026

نکاح کی تنسیخ، خلع اور حقِ مہر سے متعلق اہم قانونی اصول
لاہور ہائی کورٹ نے اس اہم فیصلے میں واضح کیا کہ حقِ مہر (مہر) ایک مالی و قانونی حق ہے جو نکاح کے معاہدے سے پیدا ہوتا ہے۔ صرف نکاح ختم ہونے سے خودکار طور پر مہر ختم، ضبط یا واپس نہیں ہو جاتا، بلکہ اس کے بارے میں الگ قانونی فیصلہ ضروری ہے۔
عدالت نے درج ذیل اہم سوالات کا فیصلہ کیا:
کیا فیڈرل شریعت کورٹ کی جانب سے فیملی کورٹس ایکٹ، 1964 کی دفعہ 10 کی ذیلی دفعات (5) اور (6) کو خلافِ اسلام قرار دینے کے بعد بھی فیملی کورٹ ہر مقدمے میں الگ الگ حقِ مہر کا فیصلہ کرنے کی مجاز ہے؟
کیا ہر وہ ڈگری جس میں "خلع" کا لفظ استعمال ہو، لازماً مہر کی واپسی یا اس سے دستبرداری کا باعث بنتی ہے، یا خلع اور Dissolution of Muslim Marriages Act, 1939 کے تحت شوہر کے ظلم یا دیگر قانونی وجوہات پر ہونے والی تنسیخِ نکاح میں فرق موجود ہے؟
کیا جسمانی، ذہنی، نفسیاتی، زبانی یا معاشی تشدد "ظلم (Cruelty)" شمار ہوگا جس کی وجہ سے شوہر مہر کی واپسی کا حق کھو سکتا ہے؟
فیملی کورٹ کو شوہر کے ظلم یا ازدواجی بدسلوکی کی بنیاد پر مہر کے متعلق فیصلہ کرتے وقت کون سے اصول مدنظر رکھنے چاہییں؟
کیا اس مقدمہ میں فیملی کورٹ کی جانب سے بیوی کو مؤخر مہر کا صرف 50 فیصد دینا درست تھا؟
عدالت کے طے کردہ اصول
1۔ مہر نکاح کے معاہدے سے پیدا ہونے والا ایک مستقل مالی حق ہے۔ یہ شوہر پر سزا نہیں اور نہ ہی ایسا فائدہ ہے جسے عدالت اپنی صوابدید سے ختم یا کم کر دے۔ قانون کے بغیر مہر ضبط، کم یا تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔
2۔ نکاح کی تنسیخ اور مہر دو الگ الگ حقوق ہیں۔ نکاح ختم ہونے سے مہر کا فیصلہ خود بخود نہیں ہو جاتا بلکہ اس کے لیے الگ شواہد اور الگ قانونی فیصلہ ضروری ہے۔
3۔ PLD 2022 FSC 25 (Imran Anwar Khan case) میں فیڈرل شریعت کورٹ نے صرف دفعہ 10(5) اور 10(6) میں موجود مقررہ فارمولا ختم کیا تھا، لیکن خلع (محض ناپسندیدگی کی بنیاد پر علیحدگی) اور شوہر کے ظلم کی بنیاد پر تنسیخ کے درمیان قانونی فرق برقرار رکھا تھا۔
4۔ صرف دعویٰ یا ڈگری میں "خلع" لکھ دینے سے مقدمہ خلع نہیں بن جاتا۔ اگر بیوی نے Dissolution of Muslim Marriages Act, 1939 کی دفعہ 2 کے تحت کوئی قانونی بنیاد ثابت کی ہو تو فیصلہ اسی بنیاد پر ہوگا، خلع قرار نہیں دیا جا سکتا، جب تک بیوی باخبر رضامندی نہ دے۔
5۔ ظلم (Cruelty) صرف جسمانی تشدد تک محدود نہیں بلکہ ذہنی، نفسیاتی، جذباتی، زبانی اور معاشی بدسلوکی بھی ظلم میں شامل ہے۔ اس کے ثبوت کے لیے میڈیکل یا دستاویزی ثبوت لازمی نہیں، اگر بیوی کی گواہی قابلِ اعتماد ہو۔
6۔ اگر دفعہ 2، Dissolution of Muslim Marriages Act, 1939 کے تحت کوئی قانونی وجہ ثابت ہو جائے تو دفعہ 5 کے مطابق تنسیخِ نکاح سے مہر متاثر نہیں ہوگا۔ چاہے مہر معجل ہو یا مؤجل، ادا شدہ ہو یا غیر ادا شدہ، بیوی پورے مہر کی حقدار رہے گی۔
7۔ اگر قانونی بنیاد ثابت نہ ہو اور معاملہ خلع کا ہو، تب بھی مہر کی واپسی خودکار نہیں ہوگی۔ فیملی کورٹ وجوہات درج کرکے طے کرے گی کہ اگر کوئی مہر واپس کرنا ہے تو کتنا، اور جو مہر کبھی ادا ہی نہیں ہوا اس کی واپسی کا حکم نہیں دیا جا سکتا۔
8۔ اگر شواہد برابر ہوں اور عدالت یقین سے فیصلہ نہ کر سکے کہ معاملہ خلع ہے یا ظلم کی بنیاد پر تنسیخ، تو شک کا فائدہ بیوی کے حقِ مہر کو دیا جائے گا۔
9۔ مہر سے متعلق ہر فیصلے میں عدالت واضح طور پر لکھے گی کہ آیا 1939 کے قانون کی دفعہ 2 کے تحت کوئی بنیاد ثابت ہوئی یا نہیں، اور اگر نہیں تو مقدمہ خلع کیوں قرار دیا گیا۔ اس کے بغیر فیصلہ قانونی معیار پر پورا نہیں اترے گا۔
عدالت کا اہم مشاہدہ
عدالت نے قرار دیا کہ فیڈرل شریعت کورٹ کے فیصلے کے بعد چونکہ دفعہ 10(5) اور (6) ختم ہوگئیں، اس لیے بعض فیملی عدالتوں نے غلطی سے ہر مقدمے کو خلع سمجھنا شروع کر دیا اور خواتین کو مہر سے محروم کیا، حالانکہ قرآنِ مجید اور Dissolution of Muslim Marriages Act, 1939 کی دفعہ 5 کے تحت اگر شوہر کا ظلم ثابت ہو جائے تو بیوی کا حقِ مہر مکمل طور پر برقرار رہتا ہے۔
اسی لیے لاہور ہائی کورٹ نے سفارش کی کہ قانون میں نئی ترمیم کی جائے تاکہ فیملی کورٹ پہلے تنسیخِ نکاح کی اصل وجہ کا تعین کرے، پھر اسی بنیاد پر حقِ مہر کا فیصلہ کرے۔
حوالہ:
2026 LHC 4758
Arslan v. Nisha Shahid etc.
W.P. No. 20300/2023

قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالتوفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے ...
26/07/2026

قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق مقدمے میں دائر نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے قانونی معاونت طلب کر لی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، حالانکہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کرایا گیا۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے ؟ وکیل نے جواب دیا کہ شادی کے لیے 18 سال عمر مقرر ہے ، اس لیے قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔

اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر موجود ہے ، تاہم نکاح کو منسوخ قرار دینے کا ذکر نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر عمر کم بھی ہو اور شادی ہو جائے تو قانون اس صورتحال کا کیا حل فراہم کرتا ہے ؟
دوران سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ نہیں کہا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی۔ انہوں نے کہا چونکہ درخواست گزار اپنے مؤقف پر اصرار کر رہے ہیں، اس لیے عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کرے گی۔

بعد ازاں عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

26/07/2026
سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ حقِ مہر میں سونے کے زیورات اگر موجود نہ ہوں تو ان کی موجودہ مارکیٹ ویلیو ادا کی ...
26/07/2026

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ حقِ مہر میں سونے کے زیورات اگر موجود نہ ہوں تو ان کی موجودہ مارکیٹ ویلیو ادا کی جائے گی۔

خلع کے مقدمہ میں بیوی کی "عام رہائش (Ordinary Residence)" کے تعین پر سندھ ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ — چند دن بلکہ ایک دن کی...
26/07/2026

خلع کے مقدمہ میں بیوی کی "عام رہائش (Ordinary Residence)" کے تعین پر سندھ ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ — چند دن بلکہ ایک دن کی رہائش بھی دائرۂ اختیار کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔

سائٹیشن: 2019 MLD 720 (Karachi)
Zahid Hussain vs. Mst. Farhana �

مقدمہ کس چیز کا تھا؟
یہ خلع (Dissolution of Marriage) کا مقدمہ تھا۔ شوہر نے خلع کے فیصلے کو آئینی درخواست کے ذریعے سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ جس فیملی کورٹ نے خلع کی ڈگری دی، اس کے پاس علاقائی دائرۂ اختیار (Territorial Jurisdiction) نہیں تھا کیونکہ بیوی اس علاقے میں مستقل طور پر نہیں رہتی تھی۔ �

مقدمہ کہاں تک گیا؟
فیملی کورٹ نے خلع کی ڈگری جاری کی۔
شوہر نے اس فیصلے کو سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست کے ذریعے چیلنج کیا۔
سندھ ہائی کورٹ نے فیملی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا اور شوہر کی درخواست مسترد کر دی۔ �

کون سے قانون کی تشریح کی گئی؟
اس فیصلے میں درج ذیل قوانین کی تشریح کی گئی:
West Pakistan Family Courts Rules, 1965 خصوصاً Rule 6 ("Ordinarily Resides")
Family Courts Act, 1964
Muslim Family Laws Ordinance, 1961 کی متعلقہ دفعات (Sections 7 & 8) �

عدالت نے کیا اصول طے کیا؟
بیوی کے لیے "Ordinarily Resides" کا مطلب مستقل رہائش نہیں ہے۔
اگر بیوی شوہر کے گھر سے نکال دی جائے تو وہ جہاں چند دن یا حتیٰ کہ ایک دن بھی رہ لے، وہ جگہ خلع کا مقدمہ دائر کرنے کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔
ایسی رہائش ثابت کرنے کے لیے سخت معیارِ ثبوت ضروری نہیں۔
اگر بیوی کا بیان، حلف اور کچھ آزاد تائیدی ثبوت موجود ہوں تو وہ کافی ہیں۔
اس مقدمے میں شوہر کی درخواست پر کمشنر مقرر کیا گیا، جس نے پڑوسیوں اور گواہوں سے معلومات لے کر رپورٹ دی کہ بیوی اسی پتے پر رہ رہی تھی، جسے عدالت نے قابلِ اعتماد مانا۔ �

حتمی فیصلہ
سندھ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ:
فیملی کورٹ کے پاس مقدمہ سننے کا اختیار موجود تھا۔
خلع کی ڈگری قانونی تھی۔
شوہر کی آئینی درخواست خارج کر دی گئی۔ �

خواتین کے جائیدادی حقوق پر سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: دلہن کے ذاتی زیورات کی واپسی کا حق تسلیم، فیملی کورٹ کو مکمل اختیارس...
26/07/2026

خواتین کے جائیدادی حقوق پر سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: دلہن کے ذاتی زیورات کی واپسی کا حق تسلیم، فیملی کورٹ کو مکمل اختیار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے Civil Petition No. 5432 of 2025 میں خواتین کے جائیدادی اور معاشی حقوق کے تحفظ سے متعلق ایک اہم فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ شادی کے موقع پر دلہن کو اس کے والدین یا رشتہ داروں کی جانب سے اس کے ذاتی استعمال اور فائدے کے لیے دیے گئے سونے کے زیورات، جہیز اور دیگر ذاتی اشیاء اس کی مکمل ملکیت ہیں۔ شوہر یا سسرال ان پر کسی قسم کا قانونی حق یا قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتے۔ �
Adv Mahboob Ali

اس مقدمے میں بیوی نے فیملی کورٹ میں جہیز، سونے کے زیورات، نان و نفقہ اور دیگر حقوق کی وصولی کا دعویٰ دائر کیا۔ فیملی کورٹ نے دعویٰ جزوی طور پر منظور کیا، جبکہ اپیلیٹ کورٹ نے صرف سونے کے زیورات کی مقدار 87 تولے سے کم کرکے 44 تولے کر دی۔ بعد ازاں شوہر نے لاہور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی، جو مسترد ہوگئی۔ اس کے بعد سپریم کورٹ میں Leave to Appeal دائر کی گئی، لیکن سپریم کورٹ نے بھی درخواست مسترد کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کو برقرار رکھا۔ �
Adv
سپریم کورٹ نے Family Courts Act, 1964 کی دفعہ 5 اور اس کے شیڈول کی تشریح کرتے ہوئے قرار دیا کہ "بیوی کی ذاتی ملکیت (Personal Property and Belongings of Wife)" میں سونے کے زیورات، برائیڈل گفٹس اور وہ تمام اشیاء شامل ہیں جو دلہن کو اس کے ذاتی استعمال اور فائدے کے لیے دی گئی ہوں۔ ایسے تمام مقدمات کی سماعت کا خصوصی اختیار (Exclusive Jurisdiction) فیملی کورٹ کے پاس ہے۔ �

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ کسی چیز کو جہیز، برائیڈل گفٹ یا ذاتی سامان کہنا فیصلہ کن نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ چیز دلہن کو اس کے ذاتی استعمال اور فائدے کے لیے دی گئی تھی یا نہیں۔ اگر ایسا ثابت ہو جائے تو وہ اس کی مکمل ذاتی ملکیت ہوگی اور شوہر یا سسرال کی جانب سے اس پر قبضہ یا روک لینا بیوی کے جائیدادی حقوق کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔ �

سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں PLD 2025 SC 461 (Muhammad Sajid v. Shamsa Asghar) کے فیصلے کا بھی جائزہ لیا، جس پر شوہر کے وکیل نے انحصار کیا تھا، مگر عدالت نے قرار دیا کہ وہ فیصلہ موجودہ مقدمے پر لاگو نہیں ہوتا۔ وجہ یہ بیان کی گئی کہ اس سابقہ مقدمے میں دلہا یا اس کے خاندان کو دیے گئے تحائف زیرِ بحث تھے، جبکہ موجودہ مقدمے میں دلہن کو اس کے والدین کی طرف سے اس کے ذاتی استعمال کے لیے دیے گئے سونے کے زیورات کا معاملہ تھا، جو قانوناً بیوی کی ذاتی ملکیت ہیں اور ان کی واپسی کا دعویٰ فیملی کورٹ میں ہی قابلِ سماعت ہے۔ �

قانونی اصول (Principle of Law):
شادی کے موقع پر دلہن کو اس کے ذاتی استعمال کے لیے ملنے والے سونے کے زیورات اس کی مکمل ذاتی ملکیت ہیں۔
شوہر یا سسرال ان پر کوئی قانونی حق نہیں رکھتے۔
ان زیورات یا دیگر ذاتی اشیاء کی واپسی کا دعویٰ Family Courts Act, 1964 کے تحت صرف فیملی کورٹ میں دائر ہوگا۔
خواتین کے جائیدادی اور معاشی حقوق کا تحفظ فیملی کورٹ کی قانونی ذمہ داری ہے۔ �

Address

District Courts Multan
Multan

Telephone

+923001499572

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Free Legal Advice posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Free Legal Advice:

Shortcuts

Share