24/06/2026
📜 لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ: محرم کے جلوس اور مجالس کے حوالے سے تاریخی رہنمائی
لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ نے ایک اہم آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ یومِ عاشورہ اور محرم الحرام کے مذہبی اجتماعات و جلوسوں کے انعقاد کے حوالے سے ریاستی اداروں کا کردار سہولت کاری اور تحفظ فراہم کرنا ہے، نہ کہ غیر ضروری رکاوٹیں کھڑی کرنا۔
مقدمہ کے اہم حقائق:
سید واصی حیدر نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ان کے علاقے راجاپور، ملتان میں 8 محرم کا روایتی جلوس کئی برسوں سے نکالا جا رہا ہے، تاہم اس سال ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے جلوس کی رجسٹریشن اور سیکیورٹی کے حوالے سے مسائل پیدا کیے جا رہے ہیں۔ درخواست گزار نے استدعا کی کہ جلوس کو رجسٹر کیا جائے، سیکیورٹی فراہم کی جائے اور اسے سالانہ سیکیورٹی شیڈول میں شامل کیا جائے۔
عدالت کا فیصلہ:
لاہور ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ:
✅ گھروں، امام بارگاہوں یا نجی مقامات پر منعقد ہونے والی مجالس اور مذہبی اجتماعات کے لیے کسی لائسنس یا پیشگی اجازت کی ضرورت نہیں۔
✅ عوامی سڑکوں اور مقامات پر جلوس یا اجتماع کے لیے متعلقہ ضلعی پولیس اور ڈپٹی کمشنر سے قانونی تقاضوں کے مطابق اجازت حاصل کی جا سکتی ہے۔
✅ ہوم ڈیپارٹمنٹ کو ایسی اجازتوں کے معاملات میں کوئی بالادست اختیار حاصل نہیں، بلکہ یہ اختیارات قانون کے مطابق ضلعی پولیس اور ڈپٹی کمشنر کے پاس ہیں۔
✅ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 16 اور 20 شہریوں کو پرامن اجتماع اور مذہبی آزادی کے بنیادی حقوق فراہم کرتے ہیں۔
✅ محرم الحرام کے مذہبی اجتماعات اور جلوس محض ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ حق، انصاف اور ظلم کے خلاف مزاحمت کی علامت ہیں، لہٰذا ریاستی اداروں کو ان کے انعقاد میں معاونت کرنی چاہیے۔
عدالتی ہدایت:
عدالت نے حکم دیا کہ درخواست گزار کی نئی درخواست موصول ہونے پر سٹی پولیس آفیسر ملتان جلوس کی رجسٹریشن کرے، مناسب سیکیورٹی فراہم کرے اور درخواست گزار کو سابقہ روٹ اور شیڈول کے مطابق 8 محرم کا جلوس نکالنے کی اجازت دی جائے۔
⚖️ یہ فیصلہ مذہبی آزادی، بنیادی حقوق اور محرم الحرام کے اجتماعات کے قانونی تحفظ کے حوالے سے ایک اہم نظیر کی حیثیت رکھتا ہے۔