Cyber Crime Lawyer

Call Contact the business

Cyber Crime Lawyer He is the specialized in Cyber Crime Cases, Laws.Cyber Security. Financial online scame matters. Blackmailing & Harassment.

Consultant Criminal Cases, Cyber Crime Awarness.

Civil Laws23rd.Sep.2026ڈگری ہو گئی — لیکن پھر بھی گرفتاری نہیں ہو سکتی!لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہPLJ 2026 Lahore 642جسٹ...
25/09/2026

Civil Laws

23rd.Sep.2026

ڈگری ہو گئی — لیکن پھر بھی گرفتاری نہیں ہو سکتی!
لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

PLJ 2026 Lahore 642
جسٹس احمد ندیم ارشد
نصیر احمد ناصر بنام علی شیر
بات یہ ہے کہ پیسوں کی ڈگری پر مدیون کو گرفتار کرنا ایک استثنائی اقدام ہے — عام طریقہ نہیں۔
یہ صرف اسی وقت ہو سکتا ہے جب:
پہلی بات — دفعہ 51 ضابطہ دیوانی کی تمام شرائط پوری ہوں
دوسری بات — آرڈر 21 قاعدہ 40 کے تمام لازمی تقاضے پورے کیے جائیں
تیسری بات — عدالت کو مطمئن کیا جائے کہ مدیون نے جان بوجھ کر ادائیگی سے انکار کیا
چوتھی بات — صرف قرض ادا نہ ہونا — گرفتاری کی بنیاد نہیں!
اگر آپ کے خلاف ڈگری پر گرفتاری کی دھمکی ہے — یہ آپ کا قانونی حق ہے کہ صحیح طریقہ کار مانگیں

"پچھلے سال تو 2 ہزار روپے میں ریٹرن فائل کردی تھی، اس سال اتنی فیس کیوں؟یہ سوال صرف ایک کلائنٹ کا نہیں، بلکہ ہمارے معاشر...
23/09/2026

"پچھلے سال تو 2 ہزار روپے میں ریٹرن فائل کردی تھی، اس سال اتنی فیس کیوں؟

یہ سوال صرف ایک کلائنٹ کا نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے میں ٹیکس ریٹرن کے بارے میں موجود ایک خطرناک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

لوگ اکثر ریٹرن فائل کرواتے وقت صرف فیس دیکھتے ہیں، یہ نہیں دیکھتے کہ ان کی ریٹرن میں کیا ڈکلیئر کیا جا رہا ہے، کیا چھوڑا جا رہا ہے اور مستقبل میں اس کے قانونی نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔

میرے پاس اب تک جتنی ریٹرنز ریویو اور درستگی کے لیے آئیں، ان میں اکثر میں بنیادی غلطیاں موجود تھیں۔

کسی کے Assets درست ڈکلیئر نہیں تھے، کسی کے مکمل Assets ظاہر نہیں کیے گئے، کسی کی Wealth Statement میں مطابقت نہیں تھی، کسی کی آمدن اور اخراجات کا حساب درست نہیں تھا، جبکہ بعض کیسز میں گزشتہ سالوں کا ریکارڈ بھی صحیح طریقے سے carry forward نہیں کیا گیا تھا۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ کئی افراد کو اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اپنا ٹیکس ریکارڈ خراب کر رہے ہیں۔

صرف اس لیے کہ کسی نے پچھلے سال 2 ہزار روپے میں ریٹرن فائل کردی تھی، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ریٹرن درست، مکمل یا قانونی طور پر محفوظ بھی تھی۔

Income Tax Return صرف ایک فارم نہیں۔
یہ آپ کی آمدن، اثاثہ جات، سرمایہ کاری، اخراجات اور مالی حیثیت کا سرکاری ریکارڈ ہے۔

آج چند ہزار روپے کی فیس بچانے کے لیے اگر آپ غلط یا نامکمل ریٹرن فائل کروا لیتے ہیں، تو کل یہی غلطی Tax Notice، Audit، Wealth Reconciliation یا Assets کے ذرائع کی وضاحت کی صورت میں آپ کے لیے کہیں زیادہ مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔

سستی ریٹرن اور درست ریٹرن میں فرق سمجھیں۔

ایک ذمہ دار Tax Professional کا کام صرف ریٹرن submit کرنا نہیں، بلکہ کلائنٹ کے مکمل ٹیکس پروفائل، Assets، Wealth Statement اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے درست اور ذمہ دارانہ طریقے سے ریٹرن تیار کرنا ہے۔

اپنے ٹیکس ریکارڈ کو چند ہزار روپے کے لیے خطرے میں نہ ڈالیں۔

کم فیس نہیں، درست اور محفوظ ٹیکس معاملات کو ترجیح دیں۔

جائیداد کی فروخت پر کیپیٹل گینز ٹیکس اگر آپ کے پاس زمین یا کوئی پراپرٹی ہے تو سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آپ نے وہ ...
18/09/2026

جائیداد کی فروخت پر کیپیٹل گینز ٹیکس

اگر آپ کے پاس زمین یا کوئی پراپرٹی ہے تو سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آپ نے وہ پراپرٹی کب خریدی تھی۔

اگر پراپرٹی 30 جون 2024 تک خریدی گئی تھی تو قانون میں تین کیٹیگریز ہیں:

1۔ اوپن پلاٹ
2۔ تعمیر شدہ پراپرٹی
3۔ فلیٹ

پہلے سال میں تینوں پر کیپیٹل گین ٹیکس کی شرح 15 فیصد ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ شرح کم ہوتی جاتی ہے۔

فلیٹ تیسرے سال، تعمیر شدہ پراپرٹی پانچویں سال اور اوپن پلاٹ ساتویں سال میں مقررہ شرائط کے مطابق ٹیکس سے مستثنیٰ ہو جاتا ہے۔

لیکن اگر پراپرٹی 01 جولائی 2024 یا اس کے بعد خریدی گئی ہے تو ہولڈنگ پیریڈ کی بنیاد پر ٹیکس کم ہونے کا تصور نہیں رہا۔

اگر آپ فائلر ہیں تو کیپیٹل گین پر 15 فیصد ٹیکس ہوگا۔ اگر فائلر نہیں ہیں تو نارمل ٹیکس ریٹس لاگو ہوں گے، لیکن ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے کم نہیں ہوگی۔

گین نکالنے کا طریقہ بھی آسان ہے:

فروخت کی قیمت منفی خرید کی قیمت = کیپیٹل گین یا لاس

ایک اہم غلط فہمی بھی دور کر لیں۔

پراپرٹی فروخت کرتے وقت سیکشن 236C کے تحت جو ٹیکس کٹتا ہے، وہ خود کیپیٹل گین ٹیکس نہیں ہوتا۔

یہ ایڈوانس انکم ٹیکس ہوتا ہے، جسے بعد میں اصل کیپیٹل گین ٹیکس کی ذمہ داری کے خلاف ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔

یعنی 236C کا ایڈوانس ٹیکس اور کیپیٹل گین ٹیکس.

نان فائلر جب تک۔۔۔ اضافی ٹیکس تب تک!نان فائلر رہنے کی صورت میں گاڑی اور جائیداد کی خریداری، بینک منافع، جائیداد کے کرائے...
16/09/2026

نان فائلر جب تک۔۔۔ اضافی ٹیکس تب تک!

نان فائلر رہنے کی صورت میں گاڑی اور جائیداد کی خریداری، بینک منافع، جائیداد کے کرائے اور دیگر مالی لین دین پر اضافی ٹیکس کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔

فائلر بنیں اور یہ فوائد حاصل کریں:

• 3 کروڑ روپے کی گاڑی خریدنے پر نان فائلر کو 1 کروڑ 8 لاکھ روپے، جبکہ فائلر کو 36 لاکھ روپے ٹیکس ادا کرنا ہوگا—یعنی نان فائلر پر 72 لاکھ روپے کا اضافی بوجھ۔

• 5 کروڑ روپے کی جائیداد خریدنے پر نان فائلر کو 52 لاکھ 50 ہزار روپے، جبکہ فائلر کو 6 لاکھ 25 ہزار روپے ٹیکس ادا کرنا ہوگا—یعنی نان فائلر پر 46 لاکھ 25 ہزار روپے کا اضافی بوجھ۔

• بینک میں جمع شدہ رقم سے 50 لاکھ روپے منافع حاصل ہونے پر نان فائلر کو 20 لاکھ روپے، جبکہ فائلر کو 10 لاکھ روپے ٹیکس ادا کرنا ہوگا—یعنی نان فائلر پر 10 لاکھ روپے کا اضافی بوجھ۔

• جائیداد سے 5 لاکھ روپے ماہانہ کرایہ، یعنی 60 لاکھ روپے سالانہ، حاصل ہونے پر نان فائلر کو 23 لاکھ 10 ہزار روپے، جبکہ فائلر کو 11 لاکھ 55 ہزار روپے سالانہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا—یعنی نان فائلر پر 11 لاکھ 55 ہزار روپے کا اضافی بوجھ۔

ٹیکس سال 2026 کے لیے اپنا انکم ٹیکس گوشوارہ 30 ستمبر تک لازمی جمع کروائیں۔

فائلنگ کے لیے ایف بی آر کی ویب سائٹ یا ٹیکس آسان ایپ استعمال کریں۔ رہنمائی کے لیے ایف بی آر کی ہیلپ لائن یا قریبی دفتر سے رجوع کریں۔

بروقت ریٹرن فائل کریں۔ اب چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ ایف بی آر سب جانتا ہے!

ویب سائٹ: www.fbr.gov.pk

موبائل ایپ: ٹیکس آسان ‎(Tax Asaan)‎

ہ



‎ ‎
Karachi update 🇵🇰 Copy.@

یہ فیصلہ ایک ایسے فوجداری تنازع سے متعلق ہے جہاں ایک ہی وقوعہ کے بارے میں دونوں فریقین نے ایک دوسرے کو حملہ آور قرار دیت...
14/09/2026

یہ فیصلہ ایک ایسے فوجداری تنازع سے متعلق ہے جہاں ایک ہی وقوعہ کے بارے میں دونوں فریقین نے ایک دوسرے کو حملہ آور قرار دیتے ہوئے الگ الگ versions پیش کیے۔ عدالت نے اسی بنیادی نکتے کو سامنے رکھتے ہوئے ضمانت کے اصول، cross-version اور further inquiry کے قانونی معیار پر تفصیلی غور کیا۔

⚖️ مقدمے کے حقائق

11 جون 2026 کو تقریباً صبح 9 بجے ایک واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں دونوں فریقین کے درمیان جھگڑا اور ہاتھا پائی ہوئی اور دونوں جانب سے افراد کے زخمی ہونے کا دعویٰ سامنے آیا۔ ایک فریق کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ مخالفین نے مختلف ہتھیاروں سے مسلح ہو کر حملہ کیا اور انہیں زخمی کیا، جبکہ مخالف فریق نے بھی اسی واقعہ کے بارے میں cross-version درج کراتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ اصل حملہ ان پر کیا گیا تھا۔

ریکارڈ کے مطابق یہ واقعہ ایک ایسی کھلی جگہ پر پیش آیا جہاں کوئی boundary wall موجود نہیں تھی۔ دونوں فریق ایک دوسرے کے آمنے سامنے آئے اور دونوں جانب سے غیر روایتی ہتھیار استعمال کیے گئے۔ عدالت نے خاص طور پر نوٹ کیا کہ دونوں فریقوں کی جانب سے بیان کردہ versions کو زخمی افراد کے Medico-Legal Certificates (MLCs) سے بادی النظر میں تقویت حاصل تھی۔

عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ مرحلے پر یہ حتمی طور پر طے کرنا ممکن نہیں کہ جارحیت کا آغاز کس فریق نے کیا تھا۔ چونکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف حملے کا الزام موجود تھا اور دونوں فریقوں کے افراد زخمی ہوئے تھے، اس لیے اصل aggressor کا تعین محض ابتدائی ریکارڈ کی بنیاد پر کرنا ممکن نہیں تھا۔ عدالت کے مطابق یہ معاملہ trial کے دوران فریقین کی شہادت ریکارڈ ہونے کے بعد زیادہ بہتر طور پر طے کیا جا سکتا ہے۔

۔⚖️ Cross-Version پر ضمانت کا اہم اصول

عدالت نے واضح کیا کہ جب ایک ہی واقعہ سے متعلق cross یا counter versions موجود ہوں تو یہ سوال کہ کون سا version درست ہے اور کون سا فریق aggressor تھا، بنیادی طور پر trial court کے ذریعے pro and contra evidence ریکارڈ کرنے کے بعد طے کیا جانا چاہیے۔ ایسے معاملات میں، کسی غیر معمولی circumstance کی موجودگی کے بغیر، ملزم کو ضمانت دینا ایک تسلیم شدہ اصول ہے، جبکہ ضمانت سے انکار استثنائی صورت تصور کیا جاتا ہے۔

عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلوں Ehsan Ullah v. The State (2012 SCMR 1137)، Syed Darbar Ali Shah and others v. The State (2015 SCMR 879)، Ghulam Abbas v. The State and others (2016 SCMR 2048) اور Khizar Hayat v. The State and others (2024 SCMR 1605) کا حوالہ دیتے ہوئے اسی اصول کو reinforce کیا کہ cross-version مقدمات میں aggressor کا تعین trial میں evidence کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

۔🔍 Further Inquiry کا قانونی اصول

عدالت نے Manan Ali and others v. The State through Prosecutor General Punjab and another (2026 SCMR 442) کے اصول کو بھی مدنظر رکھا کہ further inquiry کے لیے دستیاب material کا tentative assessment کیا جاتا ہے اور اگر اس سے ملزم کے جرم میں ملوث ہونے کے بارے میں قابلِ غور شک پیدا ہو تو معاملہ further inquiry کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ bail stage پر evidence کی deeper appreciation نہیں کی جا سکتی۔ ضمانت کے مرحلے پر عدالت کو مقدمے کا حتمی فیصلہ نہیں کرنا ہوتا بلکہ صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ prosecution کے پاس ملزم کی گرفتاری یا مسلسل detention کو justify کرنے کے لیے مناسب material موجود ہے یا نہیں۔

۔🏛️ Trial کا مقصد سزا دینا نہیں

فیصلے میں ایک بنیادی اصول کو بھی اجاگر کیا گیا کہ trial کا مقصد accused کو سزا دینا نہیں بلکہ اسے trial face کرنے کے لیے عدالت کے سامنے رکھنا ہے۔ زیرِ سماعت قیدی کو محض اس بنیاد پر غیر ضروری طور پر حراست میں رکھنا کہ اس کے خلاف مقدمہ زیرِ سماعت ہے، بذاتِ خود detention کو ہمیشہ جائز نہیں بناتا۔

📌 عدالت کا نتیجہ

تمام حالات، خصوصاً دو متضاد versions، دونوں فریقوں کے زخمی ہونے، MLCs سے بادی النظر میں دونوں versions کی تائید اور aggressor کے تعین میں موجود ابہام کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے دونوں درخواستیں منظور کر لیں۔ پہلے سے دی گئی ad-interim pre-arrest bail کو confirm کر دیا گیا اور ہر درخواست گزار کو Rs.100,000/- کے fresh bail bonds اور اسی مالیت کے ایک surety پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔

📝 اصل قانونی نکتہ

“Where a case originates from a cross-version arising out of the same occurrence, and both sides claim injuries, the question as to who was the aggressor ordinarily requires determination after recording evidence at trial; therefore, in the absence of exceptional circumstances, bail may be granted on the ground of further inquiry.”

خلع کی بنیاد پر نکاح ختم ہو تو کیا بیوی حقِ مہر میں ملی جائیداد اپنے پاس رکھ سکتی ہے؟سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم قانونی...
11/09/2026

خلع کی بنیاد پر نکاح ختم ہو تو کیا بیوی حقِ مہر میں ملی جائیداد اپنے پاس رکھ سکتی ہے؟
سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم قانونی فیصلہ — PLD 2026 Supreme Court 319

مقدمہ کا بنیادی پس منظر

فریقین کے درمیان نکاح 5 اپریل 2001 کو ہوا۔ نکاح کے وقت حقِ مہر میں 10 لاکھ روپے نقد اور ایک غیر منقولہ جائیداد، یعنی پلاٹ نمبر 6، غازی کوٹ ٹاؤن شپ، مانسہرہ مقرر کیا گیا۔

بعد ازاں مذکورہ پلاٹ شوہر کے والد کی جانب سے فروخت کیے جانے پر بیوی نے نکاح نامہ کی بنیاد پر جائیداد کے متعلق اپنا حقِ ملکیت تسلیم کرانے کے لیے دعویٰ دائر کیا، جس میں اسے ڈگری بھی حاصل ہوئی۔

بعد میں بیوی نے تنسیخِ نکاح، نفقہ، حقِ مہر اور جہیز وغیرہ کے لیے فیملی سوٹ دائر کیا۔

فیملی کورٹ کا فیصلہ

فیملی کورٹ نے فریقین کے درمیان نکاح کو خلع کی بنیاد پر ختم کر دیا۔

تاہم بیوی کی جانب سے شوہر کے خلاف ظلم یا cruelty ثابت نہ ہونے کی صورت میں عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ نکاح خلع کی بنیاد پر ختم ہوا ہے، اس لیے حقِ مہر میں حاصل ہونے والی جائیداد واپس کرنا ہوگی۔

ہائی کورٹ نے بھی اس مؤقف کو برقرار رکھا۔

سپریم کورٹ کا اہم قانونی اصول

سپریم کورٹ نے Family Courts Act, 1964 کی Section 10(4) اور اس میں Family Courts (Amendment) Act, 2015 کے ذریعے کی گئی ترمیم کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا کہ:

اگر مصالحت کی کوشش ناکام ہو جائے اور بیوی خلع کی بنیاد پر نکاح ختم کرواتی ہے، جبکہ شوہر کی جانب سے ظلم یا زیادتی ثابت نہ ہو، تو قانون کے تحت خلع کے نتیجے میں بیوی کو حاصل شدہ حقِ مہر یا اس کا نعم البدل واپس کرنے کا قانونی اثر پیدا ہوتا ہے۔

جائیداد بھی حقِ مہر ہو تو؟

یہ فیصلہ اس پہلو سے بھی انتہائی اہم ہے کہ اگر حقِ مہر صرف نقد رقم تک محدود نہ ہو بلکہ پلاٹ، مکان یا کوئی دوسری غیر منقولہ جائیداد بھی مہر میں شامل ہو، تو خلع کی قانونی صورتِ حال میں اس جائیداد کی واپسی کا سوال بھی پیدا ہوسکتا ہے۔

یعنی حقِ مہر میں دی گئی جائیداد کو محض اس بنیاد پر محفوظ نہیں سمجھا جا سکتا کہ اس کے متعلق پہلے کوئی ڈگری یا declaration حاصل کی جا چکی تھی۔

سابقہ ڈگری اور بعد کی خلع کی ڈگری

سپریم کورٹ نے اس امر پر بھی غور کیا کہ جب بعد میں فیملی کورٹ نے خلع کی بنیاد پر نکاح ختم کرتے ہوئے حقِ مہر کی واپسی کا حکم دیا تو اس کا پہلے سے موجود عدالتی فیصلے پر کیا اثر ہوگا۔

عدالت نے قرار دیا کہ بعد میں آنے والی خلع کی ڈگری اور اس کے قانونی نتائج کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور موجودہ قانونی صورتحال کے تناظر میں سابقہ declaration/ڈگری کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔

🚨 نرسز کی عزت اور جان سے کھیلنا بند کرو!راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (RIC) میں ڈیوٹی پر موجود نرس کے ساتھ پیش آنے وا...
07/09/2026

🚨 نرسز کی عزت اور جان سے کھیلنا بند کرو!

راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (RIC) میں ڈیوٹی پر موجود نرس کے ساتھ پیش آنے والا مبینہ واقعہ صرف ایک نرس پر حملہ نہیں، بلکہ پورے شعبۂ صحت اور انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے۔

رات کی شفٹ میں جب ایک نرس اپنی ڈیوٹی انجام دے رہی تھی، تو مریض کے تیمارداروں کی جانب سے مبینہ طور پر اسے ہراساں کیا گیا، اس کے کپڑے پھاڑنے کی کوشش کی گئی اور اسے گھسیٹتے ہوئے میل وارڈ سے فی میل وارڈ تک لے جایا گیا۔

❗ سوال صرف یہ نہیں کہ حملہ آور کون تھے۔

❗ سوال یہ بھی ہے کہ اس وقت ہسپتال کی سیکیورٹی کہاں تھی؟

اگر ایک نرس ہسپتال کے اندر، اپنی ڈیوٹی کے دوران بھی محفوظ نہیں، تو پھر کون محفوظ ہے؟

👩‍⚕️ نرس کوئی punching bag نہیں۔
👩‍⚕️ نرس کسی کی ذاتی ملازم نہیں۔
👩‍⚕️ نرس عزت، احترام اور تحفظ کی حقدار ہے۔

ہم رات دن مریضوں کی جان بچاتے ہیں، تکلیف میں مبتلا لوگوں کی خدمت کرتے ہیں، ایمرجنسی میں سب سے پہلے پہنچتے ہیں—تو کیا بدلے میں ہمیں تشدد، ہراسانی اور بے حرمتی برداشت کرنی ہوگی؟

آج اگر ایک نرس کے ساتھ یہ ہوا اور ہم خاموش رہے، تو کل یہی خطرہ کسی اور نرس، ڈاکٹر، پیرا میڈک یا ہیلتھ کیئر ورکر کے سامنے ہوگا۔

📢 ہمارا مطالبہ واضح ہے:

🔴 واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔
🔴 ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔
🔴 مبینہ غفلت کے مرتکب سیکیورٹی اہلکاروں اور ذمہ دار انتظامیہ کا بھی احتساب کیا جائے۔
🔴 ہسپتالوں میں نرسز اور تمام ہیلتھ کیئر ورکرز کے لیے مؤثر سیکیورٹی پروٹوکول نافذ کیے جائیں۔
🔴 رات کی شفٹ میں کام کرنے والے عملے کے تحفظ کو خصوصی ترجیح دی جائے۔
🔴 خواتین نرسز کی عزت، وقار اور جسمانی تحفظ یقینی بنایا جائے۔

یہ صرف ایک نرس کا مسئلہ نہیں۔
یہ ہر نرس کا مسئلہ ہے۔
یہ ہر ہیلتھ کیئر ورکر کا مسئلہ ہے۔

⚠️ مسیحاؤں پر تشدد بند کرو!
⚠️ ہسپتالوں کو محفوظ بناؤ!
⚠️ نرسز کو تحفظ دو!

خاموشی اختیار نہ کریں۔ آواز اٹھائیں، پوسٹ شیئر کریں، اور مطالبہ کریں کہ نرس کے ساتھ انصاف ہو۔

مسمات تبسم طاہرہ کی شادی فیاض احمد سے ہوئی تھی۔ دونوں میاں بیوی کے درمیان تعلقات کشیدہ تھے اور ان کے درمیان اکثر جھگڑا ر...
06/09/2026

مسمات تبسم طاہرہ کی شادی فیاض احمد سے ہوئی تھی۔ دونوں میاں بیوی کے درمیان تعلقات کشیدہ تھے اور ان کے درمیان اکثر جھگڑا رہتا تھا۔

25 فروری 2020ء کو تبسم طاہرہ نے فون پر شکایت کنندہ کو بتایا کہ اس کا اپنے شوہر کے ساتھ شدید جھگڑا ہوا ہے۔ شکایت کنندہ اپنی بہن کے گھر گئی تاکہ میاں بیوی کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو حل کیا جا سکے، اور پھر اسی گھر میں رات گزارنے کا فیصلہ کیا۔

اگلی صبح تقریباً ساڑھے پانچ بجے گھر سے چیخ و پکار کی آوازیں آئیں۔ شکایت کنندہ، طلحہ فیاض اور زیبا فیاض واش روم کی طرف بھاگے۔

وہاں پہنچ کر انہوں نے دیکھا کہ مسز تبسم طاہرہ زمین پر پڑی ہوئی تھیں جبکہ ملزم فیاض احمد ان پر چھری سے متعدد وار کر رہا تھا۔

🏛️ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ

واقعے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا اور پولیس نے تفتیش مکمل کرکے چالان عدالت میں پیش کر دیا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے گیارہ گواہان پیش کیے۔

ملزم نے صحتِ جرم سے انکار کرتے ہوئے خود کو بے گناہ قرار دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ اسے جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے۔ تاہم اس نے اپنے دفاع میں نہ حلف پر اپنا بیان ریکارڈ کرایا اور نہ ہی کوئی زبانی یا دستاویزی ثبوت پیش کیا۔

ایڈیشنل سیشن جج، گجرات نے 31 جنوری 2023ء کو فیاض احمد کو قتلِ عمد کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی اور مقتولہ کے قانونی ورثاء کو چار لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا۔

⚔️ ہائیکورٹ میں ملزم کے اعتراضات

ملزم کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ مقدمہ درج کرنے میں چھ گھنٹے سے زیادہ تاخیر ہوئی، جبکہ مقتولہ کے پوسٹ مارٹم میں بھی تقریباً دس گھنٹے کی تاخیر ہوئی۔

یہ بھی مؤقف اپنایا گیا کہ شکایت کنندہ وقوعہ کے گھر کی رہائشی نہیں تھی اور مقتولہ کی بیٹی زیبا فیاض نے اپنی خالہ کے اثر و رسوخ میں آکر ملزم کے خلاف بیان دیا۔

دفاع نے طبی اور عینی شہادت میں مبینہ تضاد، مقتولہ کے کپڑوں پر چھری کے وار کے مطابق کٹ نہ ہونے اور استغاثہ کی جانب سے بعد میں کہانی تیار کیے جانے کا بھی مؤقف اختیار کیا۔

👧 ملزم کی اپنی بیٹی اہم گواہ بن گئی

مقدمے میں سب سے اہم گواہوں میں سے ایک زیبا فیاض، ملزم کی اپنی بیٹی تھی۔

عدالت نے قرار دیا کہ وہ وقوعہ کے وقت گھر میں موجود تھی اور ایک قدرتی گواہ تھی۔ دفاع یہ ثابت نہیں کر سکا کہ وہ وقوعہ کے وقت گھر میں موجود نہیں تھی۔

عدالت نے اس بات کو بھی اہم قرار دیا کہ ایک بیٹی کا اپنی ماں کے قتل کے مقدمے میں اپنے ہی والد کے خلاف جھوٹی گواہی دینا محض الزام کی بنیاد پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی گواہی کو عدالت نے قابلِ اعتماد اور سچائی پر مبنی قرار دیا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ قانونِ شہادت کے تحت بعض حالات میں ایک قابلِ اعتماد گواہ کی گواہی بھی کسی ملزم کی سزا کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔

🔪 طبی شہادت پر بھی عدالت نے وضاحت کی

دفاع کی جانب سے کہا گیا کہ ڈاکٹر نے بعض زخم ایسے بیان کیے جو بظاہر چھری سے لگنے والے زخم نہیں تھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ یہ کوئی قطعی اصول نہیں کہ چھری سے ایسے زخم پیدا نہیں ہو سکتے۔ زخم کی نوعیت چھری کی قسم، وزن اور جسم کے جس حصے پر وار کیا گیا ہو، اس پر منحصر ہو سکتی ہے۔

لہٰذا عدالت نے طبی اور عینی شہادت میں ایسا تضاد تسلیم نہیں کیا جو استغاثہ کے مقدمے کو مشکوک بنا دے۔

👕 مقتولہ کے کپڑوں پر کٹ کیوں نہیں تھے؟

دفاع نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ مقتولہ کے کپڑوں پر چھری کے وار کے مطابق کٹ موجود نہیں تھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ وقوعہ صبح تقریباً ساڑھے پانچ بجے واش روم میں پیش آیا تھا۔ اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ مقتولہ نہانے کے لیے اپنے کپڑے اتار چکی ہوں۔ ایسی صورت میں کپڑوں پر چھری کے کٹ نہ ہونا قابلِ فہم ہے۔

🩸 خون آلود چھری بھی برآمد ہوئی

ملزم کی نشاندہی پر ایک چھری برآمد ہوئی جس پر خون موجود تھا۔ فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ نے اس پر انسانی خون کی موجودگی کی تصدیق کی۔

عدالت نے اس شہادت کو بھی استغاثہ کے مؤقف کی تائید کرنے والا اہم قرینہ قرار دیا۔

🏭 ملزم نے کہا کہ وہ فیکٹری میں موجود تھا

ملزم نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ وقوعہ کے وقت وہ گھر میں نہیں بلکہ سیمنٹ فیکٹری میں ڈیوٹی پر تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ اگر ملزم واقعی فیکٹری میں موجود تھا تو وہ اپنی موجودگی ثابت کرنے کے لیے متعلقہ دستاویزات، کسی ساتھی ملازم یا فیکٹری انتظامیہ کے کسی شخص کو بطور گواہ پیش کر سکتا تھا، لیکن ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

اس لیے عدالت نے اس مؤقف کو ذمہ داری سے بچنے کی کوشش قرار دیا۔

⚖️ گھر میں بیوی کی موت ہو تو قانونی ذمہ داری کا اہم اصول

فیصلے کا سب سے اہم قانونی پہلو بارِ ثبوت سے متعلق ہے۔

عدالت نے قانونِ شہادت کے متعلقہ آرٹیکلز پر تفصیلی غور کرتے ہوئے قرار دیا کہ جب استغاثہ یہ بنیادی حقائق ثابت کر دے کہ:

اول: موت ملزم کے گھر میں ہوئی؛
دوم: موت غیر طبعی تھی؛
سوم: موت کسی مخصوص ہتھیار یا طریقے سے ہوئی؛

تو حالات کے مطابق ثبوت پیش کرنے کی ذمہ داری ملزم کی طرف منتقل ہو سکتی ہے اور اسے ان ثابت شدہ حالات کی وضاحت یا تردید کرنا پڑ سکتی ہے۔

اگر ملزم یہ مؤقف اختیار کرے کہ قتل کے وقت وہ کسی دوسری جگہ موجود تھا تو اس مخصوص حقیقت کو ثابت کرنے کی ذمہ داری اس پر عائد ہو سکتی ہے۔

اسی طرح جو حقیقت کسی شخص کے خصوصی علم میں ہو، اس کے ثبوت کی ذمہ داری بھی اسی شخص پر ہو سکتی ہے۔

❗ ملزم کی خاموشی بھی حالات میں اہم ہو سکتی ہے

عدالت نے قانونِ شہادت کے تحت اس اصول پر بھی غور کیا کہ اگر کسی شخص کے پاس کسی اہم حقیقت کی وضاحت موجود ہو لیکن وہ مناسب وضاحت پیش نہ کرے، تو مقدمے کے دیگر ثابت شدہ حقائق کے ساتھ عدالت اس کے طرزِ عمل سے منفی نتیجہ اخذ کر سکتی ہے۔

تاہم یہ اصول استغاثہ کے بنیادی ثبوت کی جگہ نہیں لیتا؛ پہلے استغاثہ کو اپنے مقدمے کے بنیادی حقائق ثابت کرنا ہوتے ہیں۔

🏛️ لاہور ہائیکورٹ کا حتمی فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کا جرم معقول شک سے بالاتر ثابت کرنے میں کامیاب رہا۔

چنانچہ عدالت نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی عمر قید کی سزا برقرار رکھی اور فیاض احمد کی فوجداری اپیل خارج کر دی۔

⚠️ عدالت کا اہم مشاہدہ

فیصلے کے آخر میں عدالت نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ قانون میں ایسے مقدمات کے لیے مزید واضح قانونی دفعات کی ضرورت ہے، خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں کسی خاتون کی موت اس کے شوہر کے گھر میں واقع ہو۔

عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین جیسے کمزور طبقے کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے قانون سازی کے ذریعے مؤثر راستہ نکالا جانا چاہیے۔

مقدمہ: فیاض احمد بنام ریاست
فوجداری اپیل نمبر: 10150-جے/2023
عدالت: لاہور ہائیکورٹ، لاہور
سماعت: 23 ستمبر 2025ء

مڈھ رانجھا، سرگودھا کا اسلم اپنی فیملی کے ساتھ دوسرے گاؤں میں ایک فوتگی پر گیا ہوا تھا۔ پیچھے گھر میں اس کی سترہ سالہ کن...
03/09/2026

مڈھ رانجھا، سرگودھا کا اسلم اپنی فیملی کے ساتھ دوسرے گاؤں میں ایک فوتگی پر گیا ہوا تھا۔ پیچھے گھر میں اس کی سترہ سالہ کنواری بیٹی انعم اکیلی موجود تھی کہ مناظر علی نامی ایک شخص اسلم کے گھر کی دیوار پھلانگ کر اندر آیا اور انعم کو ایک کمرے میں لے جا کر اس کے ساتھ زیادتی کرنے لگا۔ انعم نے شور و واویلا کیا تو دو راہگیر آواز سن کر گھر کے اندر آ گئے۔ انہیں اپنی طرف آتا دیکھ کر مناظر علی اپنی شلوار اٹھا کر وہاں سے فرار ہوگیا۔ یہ 2 جولائی 2020ء کا دن تھا۔ اسلم نے اسی روز وقوعے کی ایف آئی آر درج کروا دی۔

انعم کا طبی معائنہ کیا گیا، جس کے مطابق اس کے خفیہ اعضاء پر تشدد، تازہ زخموں کے نشانات اور پردۂ بکارت تازہ پھٹا ہوا پایا گیا۔ مزید تفتیش کے لیے اندام نہانی (ویجائنا) کے اندرونی اور بیرونی نمونے فرانزک تجزیے کے لیے بھجوائے گئے۔ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ ملزم کے طبی معائنے کے مطابق وہ جنسی عمل انجام دینے کے قابل پایا گیا۔

مقامی عدالت میں مقدمے کا ٹرائل چلا۔ استغاثہ کی جانب سے ڈاکٹروں، تفتیشی افسر، متاثرہ لڑکی اور چشم دید گواہ سمیت کل 9 گواہ پیش کیے گئے۔ دوسری جانب ملزم نے صحتِ جرم سے انکار کیا اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ اسے ایک پرانی خاندانی دشمنی کی بنیاد پر جھوٹا پھنسایا گیا ہے۔ اپریل 2022ء میں ٹرائل کورٹ نے ملزم کو 25 سال قیدِ بامشقت اور متاثرہ لڑکی کو پانچ لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنائی۔ ملزم نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا۔

ہائیکورٹ میں ملزم کے وکیل نے دلائل دیے کہ فرانزک رپورٹ میں مخلوط ڈی این اے پایا گیا، جو متعدد افراد کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ڈی این اے کا غیر سپرم والا حصہ ملزم سے میچ نہیں ہوا، اس لیے ملزم کو شک کا فائدہ ملنا چاہیے۔ مزید یہ کہ مقدمہ سابقہ دشمنی کی بنا پر جھوٹا درج کروایا گیا۔ مدعی اسلم کی طرف سے کوئی وکیل پیش نہ ہوا۔ سرکاری وکیل نے استغاثہ کی جانب سے دلائل دیتے ہوئے ماتحت عدالت کے فیصلے کا دفاع کیا۔

ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے رواں ماہ 8 جولائی کو اپیل کی سماعت کی اور جسٹس سید شہباز علی رضوی نے فیصلہ تحریر کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ فرانزک لیبارٹری میں جنسی زیادتی کے نمونوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے؛ ایک سپرم والا حصہ اور دوسرا بغیر سپرم والا حصہ۔ فرانزک سائنس کے اصولوں کے مطابق یہ ضروری نہیں کہ ملزم کا ڈی این اے ان دونوں حصوں میں موجود ہو، کیونکہ غیر سپرم والے حصے میں بنیادی طور پر متاثرہ لڑکی کے اپنے جسمانی خلیات ہوتے ہیں۔ اس لیے اس حصے سے ملزم کا ڈی این اے میچ نہ ہونا جنسی زیادتی کے وقوع کی نفی نہیں کرتا۔

اصل اور بنیادی ثبوت ’’سپرم والے حصے‘‘ کا ڈی این اے ہوتا ہے، کیونکہ یہی اس بات کا ثبوت فراہم کرتا ہے کہ ملزم کا نطفہ، یعنی سپرم، متاثرہ لڑکی کے جسم میں منتقل ہوا۔ دوسرے حصے، یعنی بغیر سپرم والے حصے میں ملزم کے ڈی این اے کی عدم موجودگی، پہلے سے میچ شدہ سپرم ڈی این اے کی اہمیت اور سچائی کو کم نہیں کر سکتی۔ نطفے والے حصے (S***m Fraction) کا جب علیحدہ ٹیسٹ کیا گیا تو اس میں پایا جانے والا نطفہ، یعنی سپرم، صرف اور صرف ملزم مناظر علی کا ثابت ہوا۔

مخلوط ڈی این اے کی حقیقت یہ ہے کہ جب متاثرہ جگہ سے نمونے حاصل کیے جاتے ہیں تو ان میں متاثرہ فرد کے اپنے جسمانی خلیات اور ملزم کا نطفہ آپس میں مل جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بیرونی جلدی خلیات یا ماحولیاتی عوامل کی وجہ سے ڈی این اے کا پروفائل سائنسی زبان میں ’’مخلوط‘‘ (Mixture of Individuals) ظاہر ہو سکتا ہے۔

وقوعے کی ایف آئی آر بلا تاخیر درج ہوئی، لڑکی کا بروقت طبی معائنہ ہوا اور گواہان کے بیانات میں کوئی اہم تضاد سامنے نہیں آیا۔ میڈیکل رپورٹ میں پھٹن، سوجن، سرخی اور تازہ پھٹا ہوا پردۂ بکارت جیسی علامات پائی گئیں، جو جنسی زیادتی کے وقوع سے مطابقت رکھتی ہیں۔ سابقہ دشمنی کا دفاع بھی کمزور ہے۔ ایک باپ اپنی نوجوان کنواری بیٹی کو محض کسی رشتہ دار کے ناکام مقدمے کی بنیاد پر بدنام نہیں کرے گا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ماتحت عدالت کا فیصلہ درست ہے اور ملزم کی اپیل خارج کرتے ہوئے اس کے خلاف عائد تمام سزائیں برقرار رکھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
☆ شناخت خفیہ رکھنے کی غرض سے ’’اسلم‘‘ اور ’’انعم‘‘ نام فرضی ہیں۔


از: محمد رضوان ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، لاہور

Address

Al-Rehan Building Near Judges Gate High Court Multan
Multan

Telephone

+923006906336

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Cyber Crime Lawyer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Cyber Crime Lawyer:

Shortcuts

Share