14/09/2026
یہ فیصلہ ایک ایسے فوجداری تنازع سے متعلق ہے جہاں ایک ہی وقوعہ کے بارے میں دونوں فریقین نے ایک دوسرے کو حملہ آور قرار دیتے ہوئے الگ الگ versions پیش کیے۔ عدالت نے اسی بنیادی نکتے کو سامنے رکھتے ہوئے ضمانت کے اصول، cross-version اور further inquiry کے قانونی معیار پر تفصیلی غور کیا۔
⚖️ مقدمے کے حقائق
11 جون 2026 کو تقریباً صبح 9 بجے ایک واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں دونوں فریقین کے درمیان جھگڑا اور ہاتھا پائی ہوئی اور دونوں جانب سے افراد کے زخمی ہونے کا دعویٰ سامنے آیا۔ ایک فریق کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ مخالفین نے مختلف ہتھیاروں سے مسلح ہو کر حملہ کیا اور انہیں زخمی کیا، جبکہ مخالف فریق نے بھی اسی واقعہ کے بارے میں cross-version درج کراتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ اصل حملہ ان پر کیا گیا تھا۔
ریکارڈ کے مطابق یہ واقعہ ایک ایسی کھلی جگہ پر پیش آیا جہاں کوئی boundary wall موجود نہیں تھی۔ دونوں فریق ایک دوسرے کے آمنے سامنے آئے اور دونوں جانب سے غیر روایتی ہتھیار استعمال کیے گئے۔ عدالت نے خاص طور پر نوٹ کیا کہ دونوں فریقوں کی جانب سے بیان کردہ versions کو زخمی افراد کے Medico-Legal Certificates (MLCs) سے بادی النظر میں تقویت حاصل تھی۔
عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ مرحلے پر یہ حتمی طور پر طے کرنا ممکن نہیں کہ جارحیت کا آغاز کس فریق نے کیا تھا۔ چونکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف حملے کا الزام موجود تھا اور دونوں فریقوں کے افراد زخمی ہوئے تھے، اس لیے اصل aggressor کا تعین محض ابتدائی ریکارڈ کی بنیاد پر کرنا ممکن نہیں تھا۔ عدالت کے مطابق یہ معاملہ trial کے دوران فریقین کی شہادت ریکارڈ ہونے کے بعد زیادہ بہتر طور پر طے کیا جا سکتا ہے۔
۔⚖️ Cross-Version پر ضمانت کا اہم اصول
عدالت نے واضح کیا کہ جب ایک ہی واقعہ سے متعلق cross یا counter versions موجود ہوں تو یہ سوال کہ کون سا version درست ہے اور کون سا فریق aggressor تھا، بنیادی طور پر trial court کے ذریعے pro and contra evidence ریکارڈ کرنے کے بعد طے کیا جانا چاہیے۔ ایسے معاملات میں، کسی غیر معمولی circumstance کی موجودگی کے بغیر، ملزم کو ضمانت دینا ایک تسلیم شدہ اصول ہے، جبکہ ضمانت سے انکار استثنائی صورت تصور کیا جاتا ہے۔
عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلوں Ehsan Ullah v. The State (2012 SCMR 1137)، Syed Darbar Ali Shah and others v. The State (2015 SCMR 879)، Ghulam Abbas v. The State and others (2016 SCMR 2048) اور Khizar Hayat v. The State and others (2024 SCMR 1605) کا حوالہ دیتے ہوئے اسی اصول کو reinforce کیا کہ cross-version مقدمات میں aggressor کا تعین trial میں evidence کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
۔🔍 Further Inquiry کا قانونی اصول
عدالت نے Manan Ali and others v. The State through Prosecutor General Punjab and another (2026 SCMR 442) کے اصول کو بھی مدنظر رکھا کہ further inquiry کے لیے دستیاب material کا tentative assessment کیا جاتا ہے اور اگر اس سے ملزم کے جرم میں ملوث ہونے کے بارے میں قابلِ غور شک پیدا ہو تو معاملہ further inquiry کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ bail stage پر evidence کی deeper appreciation نہیں کی جا سکتی۔ ضمانت کے مرحلے پر عدالت کو مقدمے کا حتمی فیصلہ نہیں کرنا ہوتا بلکہ صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ prosecution کے پاس ملزم کی گرفتاری یا مسلسل detention کو justify کرنے کے لیے مناسب material موجود ہے یا نہیں۔
۔🏛️ Trial کا مقصد سزا دینا نہیں
فیصلے میں ایک بنیادی اصول کو بھی اجاگر کیا گیا کہ trial کا مقصد accused کو سزا دینا نہیں بلکہ اسے trial face کرنے کے لیے عدالت کے سامنے رکھنا ہے۔ زیرِ سماعت قیدی کو محض اس بنیاد پر غیر ضروری طور پر حراست میں رکھنا کہ اس کے خلاف مقدمہ زیرِ سماعت ہے، بذاتِ خود detention کو ہمیشہ جائز نہیں بناتا۔
📌 عدالت کا نتیجہ
تمام حالات، خصوصاً دو متضاد versions، دونوں فریقوں کے زخمی ہونے، MLCs سے بادی النظر میں دونوں versions کی تائید اور aggressor کے تعین میں موجود ابہام کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے دونوں درخواستیں منظور کر لیں۔ پہلے سے دی گئی ad-interim pre-arrest bail کو confirm کر دیا گیا اور ہر درخواست گزار کو Rs.100,000/- کے fresh bail bonds اور اسی مالیت کے ایک surety پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔
📝 اصل قانونی نکتہ
“Where a case originates from a cross-version arising out of the same occurrence, and both sides claim injuries, the question as to who was the aggressor ordinarily requires determination after recording evidence at trial; therefore, in the absence of exceptional circumstances, bail may be granted on the ground of further inquiry.”