Al-Hasseeb Law and corporates associates

Al-Hasseeb Law and corporates associates Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Al-Hasseeb Law and corporates associates, Chambers 35 Bashir Khan Block District Court Multan. , Office. 119Bilal Block Bodla Town Chowk Qazafi Multan, Multan.

We are All Citizen Of Pakistani Be aware about Constitution of Pakistan in which Fundamental right be discuss .So we will try to discuss Basic Law and Constitution for awarness .

14/10/2026
22/09/2026

مشترکہ Agreement to Sell میں ایک فریق کا معاہدہ ثابت نہ ہونے کا دوسرے فریق پر اثر

سپریم کورٹ آف پاکستان نے Civil Petitions No.1971 & 2395 of 2022 میں واضح کیا کہ اگر ایک ہی Agreement to Sell میں مختلف مالکان کی الگ الگ جائیدادیں شامل ہوں اور معاہدہ Severable ہو، تو ایک شریک فروخت کنندہ کے خلاف Agreement کی ex*****on ثابت نہ ہونے سے دوسرے شریک فروخت کنندہ کی اپنی جائیداد سے متعلق contractual liability ختم نہیں ہوتی۔

🔹 اہم قانونی نکات:

1️⃣ Severable Contract
اگر ہر مالک اپنی الگ جائیداد فروخت کرنے کا پابند ہو تو ایک مالک کے حصے میں پیدا ہونے والا تنازع دوسرے مالک کی contractual obligation کو ختم نہیں کرتا۔

2️⃣ Admission in Pleadings
جس فروخت کنندہ نے اپنے Written Statement میں Agreement، earnest money کی وصولی اور اپنی جائیداد فروخت کرنے کا اقرار کیا ہو، وہ بعد میں اپنی contractual liability سے محض دوسرے co-vendor کے تنازع کی بنیاد پر فرار نہیں ہو سکتا۔

3️⃣ Time is not ordinarily of the Essence
غیر منقولہ جائیداد کے معاملات میں وقت عموماً Time is of the Essence نہیں سمجھا جاتا، جب تک فریقین کی واضح نیت اور متعلقہ حالات اس کے برعکس ثابت نہ کریں۔

4️⃣ Burden to Prove Ex*****on
اگر کوئی فریق Agreement پر دستخط سے انکار کرے تو Article 177, Qanun-e-Shahadat Order, 1984 کے تحت مدعی پر ex*****on ثابت کرنے کا بوجھ ہوتا ہے۔

5️⃣ Inconclusive Forensic Report
اگر FIA/Forensic report inconclusive ہو، marginal witnesses ex*****on ثابت نہ کر سکیں اور defendant مسلسل دستخطوں سے انکار کرتا رہے تو محض Agreement کی موجودگی specific performance کے لیے کافی نہیں۔

6️⃣ Revisional Jurisdiction
Section 115 CPC کے تحت High Court factual findings میں تب ہی مداخلت کرے گی جب misreading/non-reading of evidence یا واضح jurisdictional/legal error موجود ہو۔

⚖️ Ratio Decidendi

"ایک severable Agreement میں ایک co-vendor کے خلاف ex*****on ثابت نہ ہونے سے دوسرے co-vendor کی ثابت شدہ contractual liability ختم نہیں ہوتی۔ تاہم جس فریق کے خلاف Specific Performance طلب کی جائے، اس کے خلاف Agreement کی ex*****on اور consensus ad idem قابلِ اعتماد شہادت سے ثابت کرنا لازم ہے۔"

📚 Case: Bashir Ahmad & Javed Iqbal v. Javed Iqbal & Muhammad Saleem etc.
C.P. Nos.1971 & 2395 of 2022
Date of Hearing: 17.07.2026
Supreme Court of Pakistan

اب ہر سیشن اور مجسٹریٹ کورٹ ایف آئی آر کی تاخیر پر پولیس کے کردار کا تعین کرے گی اور رپورٹ آئی جی کو بھیجے گی۔قابلِ دست ...
21/09/2026

اب ہر سیشن اور مجسٹریٹ کورٹ ایف آئی آر کی تاخیر پر پولیس کے کردار کا تعین کرے گی اور رپورٹ آئی جی کو بھیجے گی۔
قابلِ دست اندازی جرم کی اطلاع ملنے کے باوجود ایف آئی آر درج نہ کرنا یا تاخیر کرنا جس سے ثبوت ضائع ہوں، محض طریقہ کار کی غلطی نہیں بلکہ جرم کے ثبوت مٹانے (Section 201 PPC) کے زمرے میں آتا ہے۔

یہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک اہم فیصلہ (Judgment) ہے، جسے جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا ہے اور جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ بھی اس بنچ کا حصہ تھے۔

1. کیس کا پس منظر اور فیصلہ
* سزا کی توثیق: سپریم کورٹ نے ملزم علی رضا سیال کی درخواستِ اپیل مسترد کر دی ہے۔ ملزم کی عمر قید اور 1,000,000 روپے ہرجانے کی سزا (جو اسے قتل کے جرم میں دی گئی تھی) کو برقرار رکھا گیا ہے۔
* واقعہ: یہ واقعہ 30 اپریل 2012 کو دادو (سیتا روڈ) میں پیش آیا تھا، جہاں ملزم نے اپنے والد کی شہ پر عاشقان علی (مقتول) کو خنجر مار کر قتل کر دیا تھا۔
* عدالتی موازنہ: عدالت نے قرار دیا کہ مقتول کے بیٹے (مستغیث) اور بھتیجے کی گواہی بالکل سچی، اعتماد کے قابل اور میڈیکل رپورٹ (ڈاکٹر کی رپورٹ) سے مکمل مطابقت رکھتی ہے۔ آلۂ قتل (خنجر) بھی ملزم کی نشاندہی پر برآمد ہوا تھا۔ گواہوں کی آپسی رشتہ داری یا وقت گزرنے کے باعث معمولی تضادات سے مرکزی کیس پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
2. ایف آئی آر (FIR) میں تاخیر اور پولس کی غفلت
* پولیس کا رخ: واقعہ 30 اپریل 2012 کی رات 8:30 بجے ہوا، اور پولیس کو 8:40 بجے ہی اطلاع مل گئی تھی (روزنامچے اور لاش جانچ فارم کے مطابق پولیس 9:00 بجے موقع پر موجود تھی)۔ اس کے باوجود ایف آئی آر 3 دن بعد (3 مئی 2012) درج کی گئی۔
* شہری کا دفاع: عدالت نے واضح کیا کہ ایف آئی آر میں یہ تاخیر مدعی/مستغیث کی طرف سے نہیں بلکہ پولیس کی غفلت کی وجہ سے ہوئی۔ لہٰذا، پولیس کی سستی یا ناہلی کی سزا شاکی (فریادی) کو نہیں دی جا سکتی۔
3. پولیس اصلاحات اور عدالتی ہدایات
عدالت نے سندھ اور دیگر صوبوں کی پولیس کے رویے اور نظام پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے درج ذیل اہم احکامات جاری کیے:
* نوآبادیاتی (Colonial) الفاظ کا خاتمہ:
* پولیس کے کاغذات میں "فریادی" یا "بخدمت جناب ایس ایچ او" جیسے الفاظ کے استعمال کو سختی سے منع کر دیا گیا۔
* عدالت نے کہا کہ شہری اپنے حق کے لیے پولیس کے پاس آتے ہیں، رحم کی بھیک یا التجا (Cry/Lamentation) کے لیے نہیں۔ ایس ایچ او عوام کا خادم ہے، مالک نہیں۔
* پولیس افسران کے خلاف سیشن 201 PPC کے تحت کارروائی:
* اگر پولیس کو قابلِ دست اندازی (Cognizable) جرم کی اطلاع مل جائے اور وہ قصداً ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کرے جس سے ثبوت یا فارنزک ثبوت ضائع ہوں، تو یہ صرف طریقہ کار کی غلطی نہیں بلکہ جرم کے ثبوت مٹانے (Section 201 PPC) کے زمرے میں آئے گا اور متعلقہ پولیس اہلکار کے خلاف پرچہ درج ہو سکتا ہے۔
* عدالتی اداروں (Trial Courts) کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ایف آئی آر میں پولیس کی جانب سے تاخیر کا نوٹس لیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی و محکماتی کارروائی کا حکم دیں۔
* آئی جی ایس (IGPs) کو توہینِ عدالت کی تنبیہ:
* سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اس فیصلے کے بعد اگر ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر یا پرانے نوآبادیاتی الفاظ کا استعمال جاری رہا، تو تمام آئی جی پیز (IGPs)، ایس پیز (SP Investigation) اور ایس ڈی پی اوز (SDPOs) کے خلاف توہینِ عدالت (Contempt of Court) کی کارروائی کی جائے گی۔
* دیگر انتظامی احکامات:
* پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو حکم دیا گیا کہ وہ 1 جنوری 2025 سے فیصلے کی تاریخ تک کے تمام قتل کے مقدمات کا ریکارڈ (جس میں 24 گھنٹے سے زیادہ تاخیر سے FIR درج ہوئی) 2 ماہ کے اندر عدالت کے چیمبر میں جمع کرائیں۔
* رجسٹرار سپریم کورٹ کو ہدایت کی گئی کہ وہ 'محمد بخش کیس' کے سابقہ تاریخی فیصلے کا سندھی زبان میں ترجمہ کروا کر ویب سائٹ پر اپ لوڈ کریں تاکہ عام عوام اپنے حقوق سے آگاہ ہو سکے۔
نتیجہ: سپریم کورٹ نے ملزم کی اپیل خارج کرتے ہوئے اس کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی اور ساتھ ہی سندھ پولیس میں ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر اور تحکمانہ زبان کے استعمال پر سخت قانونی قدغنیں عائد کر دیں۔
Abdul Aziz Soomro
Advocate High Court, Larkana 0333-7555658

خلع کی بنیاد پر نکاح ختم ہو تو کیا بیوی حقِ مہر میں ملی جائیداد اپنے پاس رکھ سکتی ہے؟سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم قانونی...
15/09/2026

خلع کی بنیاد پر نکاح ختم ہو تو کیا بیوی حقِ مہر میں ملی جائیداد اپنے پاس رکھ سکتی ہے؟
سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم قانونی فیصلہ
PLD 2026 Supreme Court 319
فریقین کے درمیان نکاح 5 اپریل 2001 کو ہوا۔ نکاح کے وقت حقِ مہر میں 10 لاکھ روپے نقد اور ایک غیر منقولہ جائیداد، یعنی پلاٹ نمبر 6، غازی کوٹ ٹاؤن شپ، مانسہرہ مقرر کیا گیا۔
بعد ازاں مذکورہ پلاٹ شوہر کے والد کی جانب سے فروخت کیے جانے پر بیوی نے نکاح نامہ کی بنیاد پر جائیداد کے متعلق اپنا حقِ ملکیت تسلیم کرانے کے لیے دعویٰ دائر کیا، جس میں اسے ڈگری بھی حاصل ہوئی۔
بعد میں بیوی نے تنسیخِ نکاح، نفقہ، حقِ مہر اور جہیز وغیرہ کے لیے فیملی سوٹ دائر کیا۔
فیملی کورٹ کا فیصلہ
فیملی کورٹ نے فریقین کے درمیان نکاح کو خلع کی بنیاد پر ختم کر دیا۔
تاہم بیوی کی جانب سے شوہر کے خلاف ظلم یا cruelty ثابت نہ ہونے کی صورت میں عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ نکاح خلع کی بنیاد پر ختم ہوا ہے، اس لیے حقِ مہر میں حاصل ہونے والی جائیداد واپس کرنا ہوگی۔
ہائی کورٹ نے بھی اس مؤقف کو برقرار رکھا۔
سپریم کورٹ کا اہم قانونی اصول
سپریم کورٹ نے Family Courts Act, 1964 کی Section 10(4) اور اس میں Family Courts (Amendment) Act, 2015 کے ذریعے کی گئی ترمیم کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا کہ:
اگر مصالحت کی کوشش ناکام ہو جائے اور بیوی خلع کی بنیاد پر نکاح ختم کرواتی ہے، جبکہ شوہر کی جانب سے ظلم یا زیادتی ثابت نہ ہو، تو قانون کے تحت خلع کے نتیجے میں بیوی کو حاصل شدہ حقِ مہر یا اس کا نعم البدل واپس کرنے کا قانونی اثر پیدا ہوتا ہے۔
جائیداد بھی حقِ مہر ہو تو؟
یہ فیصلہ اس پہلو سے بھی انتہائی اہم ہے کہ اگر حقِ مہر صرف نقد رقم تک محدود نہ ہو بلکہ پلاٹ، مکان یا کوئی دوسری غیر منقولہ جائیداد بھی مہر میں شامل ہو، تو خلع کی قانونی صورتِ حال میں اس جائیداد کی واپسی کا سوال بھی پیدا ہوسکتا ہے۔
یعنی حقِ مہر میں دی گئی جائیداد کو محض اس بنیاد پر محفوظ نہیں سمجھا جا سکتا کہ اس کے متعلق پہلے کوئی ڈگری یا declaration حاصل کی جا چکی تھی۔
سابقہ ڈگری اور بعد کی خلع کی ڈگری
سپریم کورٹ نے اس امر پر بھی غور کیا کہ جب بعد میں فیملی کورٹ نے خلع کی بنیاد پر نکاح ختم کرتے ہوئے حقِ مہر کی واپسی کا حکم دیا تو اس کا پہلے سے موجود عدالتی فیصلے پر کیا اثر ہوگا۔
عدالت نے قرار دیا کہ بعد میں آنے والی خلع کی ڈگری اور اس کے قانونی نتائج کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور موجودہ قانونی صورتحال کے تناظر میں سابقہ declaration/ڈگری کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا

12/09/2026

صرف سنگین الزام سزا کی بنیاد نہیں بن سکتا — ضمانت کے قانونی اصول
تحریر عامر علی قریشی

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس غلام سرور نہنگ کی جانب سے کم سن بچی سے مبینہ زیادتی کے مقدمے میں ملزم کی ضمانت منظور کرنے کا فیصلہ ایک اہم قانونی اصول کو اجاگر کرتا ہے کہ کسی شخص کو محض سنگین الزام کی بنیاد پر غیر معینہ مدت تک جیل میں نہیں رکھا جا سکتا۔

خبر کے مطابق عدالت نے میڈیکل اور فرانزک مواد کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ دستیاب رپورٹس میں ملزم کو جرم سے جوڑنے والا کوئی ایسا واضح ثبوت سامنے نہیں آیا جس کی بنیاد پر ضمانت کے مرحلے پر مزید حراست کو لازمی قرار دیا جائے۔ عدالت نے مبینہ واقعے اور ڈاکٹر کے معائنے کے درمیان تاخیر کو بھی اہم پہلو سمجھا، جس کے باعث مقدمے کے شواہد کے بارے میں بعض شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔

یہاں ایک بنیادی قانونی نکتہ سمجھنا ضروری ہے: ضمانت کا مطلب بریت نہیں ہوتا۔ عدالت جب ملزم کو ضمانت دیتی ہے تو وہ یہ اعلان نہیں کرتی کہ ملزم بے گناہ ثابت ہوگیا ہے۔ ضمانت دراصل ایک عبوری قانونی ریلیف ہے۔ مقدمے کا حتمی فیصلہ ٹرائل کورٹ ہی کرتی ہے، جہاں گواہوں کے بیانات، دستاویزی شہادت، میڈیکل ریکارڈ، فرانزک شواہد اور دیگر تمام مواد کا مکمل جائزہ لیا جاتا ہے۔

سنگین الزام اپنی جگہ، ثبوت اپنی جگہ

بچوں سے جنسی زیادتی کے مقدمات یقیناً انتہائی حساس اور سنگین نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ریاست اور عدالتوں کی ذمہ داری ہے کہ متاثرہ بچے یا بچی کو انصاف فراہم کیا جائے، اسے تحفظ دیا جائے اور مقدمے کی تفتیش غیرجانبدارانہ اور سائنسی بنیادوں پر مکمل کی جائے۔

لیکن فوجداری قانون کا بنیادی اصول یہ بھی ہے کہ الزام اور جرم ثابت ہونے میں فرق ہے۔ کسی شخص پر انتہائی سنگین جرم کا الزام عائد ہونا بذاتِ خود اس جرم کا حتمی ثبوت نہیں بن جاتا۔

عدالت کو یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ پراسیکیوشن کے پاس ایسا قابلِ اعتماد مواد موجود ہے یا نہیں جو ملزم کو مبینہ جرم کے ساتھ مضبوط طور پر جوڑتا ہو۔

میڈیکل اور فرانزک شواہد کی اہمیت

جنسی زیادتی کے مقدمات میں میڈیکل اور فرانزک شہادت انتہائی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ DNA، جسمانی معائنہ، نمونے، کپڑے، دیگر فرانزک مواد اور وقوعہ سے متعلق سائنسی شواہد تفتیش کو مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

تاہم اگر طبی معائنہ غیر معمولی تاخیر سے ہو تو بعض اوقات ایسے شواہد کے ضائع ہونے یا کمزور ہونے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عدالتیں اس پہلو کو بھی مجموعی حالات کے ساتھ دیکھتی ہیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف میڈیکل رپورٹ میں واضح ثبوت نہ ملنے سے مقدمہ خود بخود ختم ہوجاتا ہے۔ ہر کیس کا فیصلہ اس کے مجموعی شواہد اور مخصوص حالات کی بنیاد پر ہوتا ہے۔

ضمانت کے مرحلے پر عدالت کیا دیکھتی ہے؟

ضمانت کی سماعت مکمل ٹرائل نہیں ہوتی۔ عدالت اس مرحلے پر گواہوں کے بیانات کا اسی تفصیل سے حتمی فیصلہ نہیں کرتی جس طرح ٹرائل کے اختتام پر کیا جاتا ہے۔

عدالت بنیادی طور پر یہ دیکھتی ہے کہ:

- کیا ملزم کے خلاف بادی النظر میں مضبوط مواد موجود ہے؟
- کیا مزید تفتیش کی ضرورت ہے؟
- کیا دستیاب شواہد ملزم کو جرم سے جوڑتے ہیں؟
- کیا تفتیش میں کوئی اہم تضاد یا قانونی کمزوری موجود ہے؟
- کیا ملزم کی مزید حراست کا کوئی قانونی جواز بنتا ہے؟
- کیا ملزم کے فرار ہونے، گواہوں پر اثرانداز ہونے یا شواہد خراب کرنے کا خدشہ موجود ہے؟

اگر عدالت کو محسوس ہو کہ معاملہ مزید تحقیق کا متقاضی ہے یا پراسیکیوشن کا مواد اس مرحلے پر اتنا مضبوط نہیں کہ ملزم کو مسلسل جیل میں رکھا جائے، تو قانون کے تحت ضمانت دی جا سکتی ہے۔

متاثرہ بچی کے حقِ انصاف پر کوئی سمجھوتہ نہیں

اس فیصلے کو سمجھتے ہوئے ایک اور پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ضمانت ملنے کے باوجود متاثرہ بچی کے انصاف کا حق ختم نہیں ہوتا۔

اگر ٹرائل کے دوران پراسیکیوشن مضبوط اور قابلِ اعتماد شہادت پیش کرتی ہے اور جرم ثابت ہوجاتا ہے تو عدالت قانون کے مطابق سزا دے سکتی ہے۔

اسی طرح اگر تفتیش میں خامیاں ہیں تو ان کی اصلاح بھی ضروری ہے تاکہ حقیقی مجرم سزا سے نہ بچ سکے اور کسی بے گناہ شخص کو بھی محض الزام کی بنیاد پر سزا نہ ملے۔

عدالت کا فیصلہ جذبات نہیں، قانون کی بنیاد پر ہونا چاہیے

جنسی زیادتی جیسے مقدمات میں عوامی جذبات فطری طور پر شدید ہوتے ہیں۔ لیکن عدالت کا کام عوامی جذبات کے مطابق نہیں بلکہ قانون اور شہادت کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔

اگر صرف الزام کو سزا کے برابر سمجھ لیا جائے تو فوجداری انصاف کا بنیادی اصول متاثر ہوگا۔ دوسری طرف اگر حقیقی متاثرہ کی شکایت کو محض اس بنیاد پر نظرانداز کردیا جائے کہ میڈیکل شہادت کمزور ہے، تو یہ بھی انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہوگا۔

اس لیے اصل ضرورت شفاف، فوری اور سائنسی تفتیش کی ہے۔

حتمی فیصلہ ٹرائل کورٹ کرے گی

خبر میں بیان کردہ عدالتی اصول کا سب سے اہم حصہ یہی ہے کہ ضمانت کے فیصلے کو مقدمے کا حتمی فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

ملزم اس وقت تک قانونی طور پر صرف ایک زیرِ الزام شخص ہے، جبکہ ٹرائل کورٹ مکمل شہادت ریکارڈ کرنے کے بعد یہ فیصلہ کرے گی کہ الزام ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔

مختصراً، ضمانت بے گناہی کا سرٹیفکیٹ نہیں، بلکہ آزادی کا ایک عبوری قانونی حق ہے؛ جبکہ جرم ثابت کرنا پراسیکیوشن کی ذمہ داری اور حتمی فیصلہ ٹرائل کورٹ کا اختیار ہے۔

یہی وہ توازن ہے جس پر ایک منصفانہ فوجداری نظام قائم رہتا ہے:
متاثرہ کو انصاف بھی ملے اور ملزم کے بنیادی قانونی حقوق بھی محفوظ رہیں۔

09/09/2026

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ (2025 PCrLJ 1095): 249-A Cr.P.C کے تحت بریت خواہ شہادت کے ساتھ ہو یا بغیر شہادت کے، سیشن کورٹ میں نگرانی (Revision) ناقابلِ سماعت — علاج صرف دفعہ 417(2-A) Cr.P.C کے تحت اپیل ہے!
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: 249-A Cr.P.C کے تحت بریت خواہ شہادت کے ساتھ ہو یا بغیر شہادت کے، سیشن کورٹ میں نگرانی (Revision) ناقابلِ سماعت — علاج صرف دفعہ 417(2-A) Cr.P.C کے تحت اپیل ہے!

reported on case law PCRLJ 2025 .p 1095

خلاصہ مقدمہ (Case Summary)

ایڈووکیٹ محبوب علی

1. کیس کے بنیادی حقائق (Factual Background)

مقدمہ نمبر و عنوان: Crl. Misc. No. 6425-M of 2024

(محمد سرفراز وغیرہ بنام ریاست وغیرہ)، لاہور ہائی کورٹ

ملتان بینچ (فاضل جج: جناب صادق محمود خرم)۔

ایف آئی آر (F.I.R): ملزمان کے خلاف ایف آئی آر نمبر 761/2021، تھانہ جلال پور پیروالا، ضلع ملتان میں درج کی گئی تھی۔

چالان و فردِ جرم: پولیس کی رپورٹ زیر دفعہ 173 Cr.P.C کے بعد میجسٹریٹ نے 15.11.2022 کو ملزمان پر فردِ جرم عائد کی، جس سے انہوں نے صحتِ جرم سے انکار کیا۔
249-A Cr.P.C کے تحت بریت: ملزمان نے میجسٹریٹ کے سامنے زیر دفعہ 249-A Cr.P.C بریت کی درخواست دائر کی، جسے میجسٹریٹ نے 28.10.2023 کو منظور کرتے ہوئے ملزمان کو بری (Acquit) کر دیا۔

سیشن کورٹ کی غلط پیشرفت: مدعی مقدمہ

(Respondent No.2) نے اس بریت کے خلاف اپیل کے بجائے کرمنل ریویژن (Criminal Revision) دائر کی۔ ایڈیشنل سیشن جج نے 08.06.2024 کو ریویژن منظور کرتے ہوئے ملزمان کے دوبارہ ٹرائل (Re-trial) کا حکم دے دیا۔
ہائی کورٹ میں چیلنج: ملزمان نے ایڈیشنل سیشن جج کے اس غیر قانونی حکم کو زیر دفعہ 561-A Cr.P.C ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔

2. فریقین کے دلائل (Arguments)
وکیلِ درخواست دہندگان: ایڈیشنل سیشن جج کا حکم دفعہ 417 اور دفعہ 439(5) Cr.P.C کی صریح خلاف ورزی ہے، لہٰذا کالعدم قرار دیا جائے۔

ایڈیشنل پروویکیٹر جنرل (APG): سیشن کورٹ کے پاس بریت کے خلاف ریویژن سن کر ایسا حکم جاری کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں تھا۔

وکیلِ مدعی: چونکہ میجسٹریٹ نے بغیر شہادت ریکارڈ کیے بریت کا حکم دیا تھا، اس لیے سیشن کورٹ کی جانب سے اپنایا گیا طریقہ کار درست ہے۔

3. عدالتی نتائج اور طے شدہ اصول (High Court Findings & Principles)

شہادت کی غیر متعلقیت: ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ میجسٹریٹ کا 249-A Cr.P.C کے تحت جاری کردہ حکم قانون کی نظر میں "بریت" (Acquittal) ہے—خواہ یہ شہادت ریکارڈ کرنے کے بعد ہو یا بغیر شہادت قلمبند کیے۔
ریویژن پر مکمل قدغن (Section 439(5) Cr.P.C): ضابطہ فوجداری کی دفعہ 439(5) کے تحت اگر قانون میں کسی حکم کے خلاف اپیل کا علاج موجود ہو، تو متاثرہ فریق کی ریویژن دائر کرنے کی درخواست بالکل ناقابلِ سماعت ہوگی۔

صحیح فورم (Section 417(2-A) Cr.P.C): 249-A کے تحت بریت کے بعد متاثرہ فریق کے پاس صرف اور صرف دفعہ 417(2-A) Cr.P.C کے تحت 30 ایام کے اندر ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا علاج دستیاب ہے۔

4. اتھاریٹیز و نظائر (Case Laws Cited)
فاضل ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے کی بنیاد درج ذیل اہم نظائر پر رکھی:

2003 P Cr. L J 768 (Mst. Bahisht Bibi V. Maqbool Ahmad): بریت کے خلاف اپیل کا حق ہوتے ہوئے ریویژن دائر کرنا دفعہ 439(5) کے تحت ممنوع ہے۔
2005 MLD 896 (Mst. Mamoona Akhtar V. Magistrate Section 30, Wazirabad): 249-A Cr.P.C کی بریت کے خلاف سیشن کورٹ کی ریویژن اور حکم قانونی اختیار کے بغیر (Without Lawful Authority) ہے۔

1998 MLD 1605 (Ghulam Muhammad V. Additional Sessions Judge): بریت کے خلاف اپیل نہ
دائر کرنا اور ریویژن میں جانا قانونی غلطی ہے۔

2005 YLR 1037 (Malik Iftikhar V. Additional Sessions Judge, Rawalpindi): عدالت نے واضح کیا کہ دفعہ 417(2-A) کے اضافے کے بعد بریت کے ہر آرڈر کے خلاف اپیل ہی واحد قانونی راستہ ہے۔

5. حتمی فیصلہ (Final Order)
ہائی کورٹ نے زیر دفعہ 561-A Cr.P.C درخواست منظور کرتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج کا 08.06.2024 کا حکم کالعدم (Set Aside) کر دیا اور مدعی کو قانون کے مطابق اپیل کا فورم اختیار کرنے کی آزادی دی۔

🚨 سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: CNS کیس میں 12 کلو چرس کیس ختمTariq Sajjad Khan v. The State | 2026 SCMR 1215_فیصلہ: 23 اک...
08/09/2026

🚨 سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: CNS کیس میں 12 کلو چرس کیس ختم

Tariq Sajjad Khan v. The State | 2026 SCMR 1215
_فیصلہ: 23 اکتوبر 2025 | بینچ: جسٹس محمد ہاشم کاکڑ، جسٹس اشتیاق ابراہیم، جسٹس علی باقر نجفی_

کیس کا پس منظر:
اینٹی نارکوٹکس فورس نے 06.08.2017 کو ملزم سے موٹر سائیکل پر *12 کلو چرس* برآمدگی کا دعویٰ کیا۔
ٹرائل کورٹ نے 12 سال 6 ماہ قید کی سزا سنائی۔ لاہور ہائی کورٹ نے سزا کم کر کے "مدت جو گزار چکے" کر دی۔
سپریم کورٹ میں اپیل دائر ہوئی۔

سپریم کورٹ نے کیا کہا؟ اور ملزم کیوں بری ہوا ⚖️

سپریم کورٹ نے conviction اور sentence دونوں ختم کر کے ملزم کو بری کر دیا۔ 3 بڑی وجوہات:

1. شہادت میں سنگین تضادات - Benefit of Doubt*

۔(i). وزن کا فرق: FIR میں ہر پیکٹ 1200 گرام لکھا تھا = 12 کلو۔ لیکن عدالت میں کھول کر تولنے پر 10 پیکٹ کا کل وزن 9.930 کلو* نکلا۔ انفرادی وزن بھی 912 گرام سے 1096 گرام تک تھا۔

۔(ii). رنگ کا فرق:
گواہ نے کہا برآمد شدہ چرس کا رنگ "بھورا" تھا۔ لیکن عدالت میں کھولنے پر وہ "کالا" نکلا۔

۔(iii). Roznamcha میں اندراج نہیں:* مالِ مقدمہ پولیس اسٹیشن پہنچا لیکن روزنامچے میں چرس کی کوئی تفصیل نہیں لکھی گئی۔ صرف موٹر سائیکل کا ذکر تھا۔

۔2. CNS ایکٹ میں Proof کا Standard سب سے بلند ہے*
عدالت نے کہا: _"Control of Narcotic Substances Act, 1997 ایک سخت قانون ہے۔ اس لیے اس کے تحت جرم ثابت کرنے کے لیے شہادت کا معیار بھی سب سے اعلیٰ ہونا چاہیے، جس میں شک کی کوئی گنجائش نہ ہو۔"_

لیکن استغاثہ اس معیار پر پورا نہ اتر سکا۔

۔3. CCTV فوٹیج نہ دینا = شک پیدا ہونا
ملزم نے شروع سے کہا تھا کہ یہ جھوٹا مقدمہ ہے۔ اس نے پولیس اسٹیشن کی *CCTV فوٹیج* مانگی تاکہ ثابت کرے کہ برآمدگی پلانٹ کی گئی۔
تفتیشی افسر نے تسلیم کیا کہ کیمرے لگے تھے لیکن فوٹیج قبضے میں نہیں لی گئی اور نہ عدالت میں پیش کی گئی۔
سپریم کورٹ نے کہا: _"اگر CCTV فوٹیج پیش کی جاتی تو یہ فیصلہ کن طور پر ملزم کی بے گناہی یا جرم ثابت کر سکتی تھی۔"_

بونس قانونی نکتہ: Sec 423 CrPC
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ *اپیلٹ کورٹ کا فرض صرف رسمی نہیں ہے۔ Sec 423 CrPC کے تحت اپیلٹ کورٹ کو ریکارڈ پرکھ کر میرٹ پر فیصلہ کرنا لازمی ہے، چاہے وکیل صرف سزا کم کرنے کی استدعا ہی کیوں نہ کرے۔

نتیجہ: اپیل منظور۔ سزا ختم۔ ملزم بری ✅

🎯 وکلاء اور عوام کے لیے 3 بڑے سبق:
۔1. *Narcotics کیس میں وزن، رنگ، اور سیزنگ کی کارروائی میں ایک گرام کا فرق بھی کیس ختم کروا سکتا ہے۔

۔2. *CCTV, Roznamcha جیسے ثبوت نہ دینا استغاثہ کے لیے مہنگا پڑتا ہے۔

3. اپیل میں صرف سزا کم مانگنے سے بھی کورٹ conviction کو خود پرکھنے کی پابند ہے۔

قانون کا اصول: _"شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو جائے گا"_

07/09/2026

وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ سول تنازع کے فیصلے سے پہلے فوجداری کارروائی نہیں
C.P.L.A. No. 1560 of 2025Mr. Justice Ali Baqar NajafiJudgement2026-09-02DOWNLOAD
وکیل دوست — اہم عدالتی اصول
سول تنازع کے فیصلے سے پہلے فوجداری کارروائی نہیں
سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ اگر کسی مقدمے میں فوجداری ذمہ داری کا انحصار کسی زیرِ التوا سول مقدمے کے فیصلے پر ہو اور دونوں کارروائیوں کا موضوع باہم گہرا تعلق رکھتا ہو، تو فوجداری کارروائی کو سول عدالت کے فیصلے تک روک دینا انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔

اہم قانونی اصول
اگر کسی تعیناتی، ڈگری، دستاویز یا حق کی اصلیت/جعلیت کا فیصلہ سول عدالت کے دائرۂ اختیار میں زیرِ سماعت ہو، تو اس فیصلے سے پہلے اسی بنیاد پر متعلقہ شخص کے خلاف فوجداری یا محکمانہ کارروائی شروع کرنا مناسب نہیں۔
عام اصول یہ ہے کہ سول اور فوجداری کارروائیاں بیک وقت چل سکتی ہیں، لیکن جہاں فوجداری ذمہ داری کا فیصلہ سول مقدمے کے نتیجے پر براہِ راست منحصر ہو، یا دونوں عدالتوں کے متضاد فیصلوں سے کسی فریق کو شدید ناانصافی کا خطرہ ہو، وہاں فوجداری کارروائی کو سول فیصلے تک مؤخر کیا جا سکتا ہے۔

دفعہ 561-A ضابطہ فوجداری
ہائی کورٹ کو دفعہ 561-A Cr.P.C. کے تحت inherent powers حاصل ہیں کہ مناسب حالات میں فوجداری کارروائی کو روکے، خصوصاً جب اس کا جاری رہنا عدالتی عمل کا غلط استعمال یا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہو۔

سپریم کورٹ کا حتمی اصول
متنازعہ دستاویزات کی صداقت کا فیصلہ سول عدالت سے ہونا ضروری ہو تو، اس فیصلے سے پہلے متعلقہ افراد کے خلاف فوجداری یا انتظامی کارروائی شروع نہیں کی جا سکتی؛ کارروائی سول عدالت کے فیصلے کے بعد قانون کے مطابق ہی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

اصول
Justice requires that the civil issue be determined first where criminal liability is dependent upon it.

03/09/2026

مڈھ رانجھا، سرگودھا کا اسلم اپنی فیملی کے ساتھ دوسرے گاؤں میں ایک فوتگی پر گیا ہوا تھا۔ پیچھے گھر میں اس کی سترہ سالہ کنواری بیٹی انعم اکیلی موجود تھی کہ مناظر علی نامی ایک شخص اسلم کے گھر کی دیوار پھلانگ کر اندر آیا اور انعم کو ایک کمرے میں لے جا کر اس کے ساتھ زیادتی کرنے لگا۔ انعم نے شور و واویلا کیا تو دو راہگیر آواز سن کر گھر کے اندر آ گئے۔ انہیں اپنی طرف آتا دیکھ کر مناظر علی اپنی شلوار اٹھا کر وہاں سے فرار ہوگیا۔ یہ 2 جولائی 2020ء کا دن تھا۔ اسلم نے اسی روز وقوعے کی ایف آئی آر درج کروا دی۔

انعم کا طبی معائنہ کیا گیا، جس کے مطابق اس کے خفیہ اعضاء پر تشدد، تازہ زخموں کے نشانات اور پردۂ بکارت تازہ پھٹا ہوا پایا گیا۔ مزید تفتیش کے لیے اندام نہانی (ویجائنا) کے اندرونی اور بیرونی نمونے فرانزک تجزیے کے لیے بھجوائے گئے۔ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ ملزم کے طبی معائنے کے مطابق وہ جنسی عمل انجام دینے کے قابل پایا گیا۔

مقامی عدالت میں مقدمے کا ٹرائل چلا۔ استغاثہ کی جانب سے ڈاکٹروں، تفتیشی افسر، متاثرہ لڑکی اور چشم دید گواہ سمیت کل 9 گواہ پیش کیے گئے۔ دوسری جانب ملزم نے صحتِ جرم سے انکار کیا اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ اسے ایک پرانی خاندانی دشمنی کی بنیاد پر جھوٹا پھنسایا گیا ہے۔ اپریل 2022ء میں ٹرائل کورٹ نے ملزم کو 25 سال قیدِ بامشقت اور متاثرہ لڑکی کو پانچ لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنائی۔ ملزم نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا۔

ہائیکورٹ میں ملزم کے وکیل نے دلائل دیے کہ فرانزک رپورٹ میں مخلوط ڈی این اے پایا گیا، جو متعدد افراد کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ڈی این اے کا غیر سپرم والا حصہ ملزم سے میچ نہیں ہوا، اس لیے ملزم کو شک کا فائدہ ملنا چاہیے۔ مزید یہ کہ مقدمہ سابقہ دشمنی کی بنا پر جھوٹا درج کروایا گیا۔ مدعی اسلم کی طرف سے کوئی وکیل پیش نہ ہوا۔ سرکاری وکیل نے استغاثہ کی جانب سے دلائل دیتے ہوئے ماتحت عدالت کے فیصلے کا دفاع کیا۔

ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے رواں ماہ 8 جولائی کو اپیل کی سماعت کی اور جسٹس سید شہباز علی رضوی نے فیصلہ تحریر کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ فرانزک لیبارٹری میں جنسی زیادتی کے نمونوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے؛ ایک سپرم والا حصہ اور دوسرا بغیر سپرم والا حصہ۔ فرانزک سائنس کے اصولوں کے مطابق یہ ضروری نہیں کہ ملزم کا ڈی این اے ان دونوں حصوں میں موجود ہو، کیونکہ غیر سپرم والے حصے میں بنیادی طور پر متاثرہ لڑکی کے اپنے جسمانی خلیات ہوتے ہیں۔ اس لیے اس حصے سے ملزم کا ڈی این اے میچ نہ ہونا جنسی زیادتی کے وقوع کی نفی نہیں کرتا۔

اصل اور بنیادی ثبوت ’’سپرم والے حصے‘‘ کا ڈی این اے ہوتا ہے، کیونکہ یہی اس بات کا ثبوت فراہم کرتا ہے کہ ملزم کا نطفہ، یعنی سپرم، متاثرہ لڑکی کے جسم میں منتقل ہوا۔ دوسرے حصے، یعنی بغیر سپرم والے حصے میں ملزم کے ڈی این اے کی عدم موجودگی، پہلے سے میچ شدہ سپرم ڈی این اے کی اہمیت اور سچائی کو کم نہیں کر سکتی۔ نطفے والے حصے (S***m Fraction) کا جب علیحدہ ٹیسٹ کیا گیا تو اس میں پایا جانے والا نطفہ، یعنی سپرم، صرف اور صرف ملزم مناظر علی کا ثابت ہوا۔

مخلوط ڈی این اے کی حقیقت یہ ہے کہ جب متاثرہ جگہ سے نمونے حاصل کیے جاتے ہیں تو ان میں متاثرہ فرد کے اپنے جسمانی خلیات اور ملزم کا نطفہ آپس میں مل جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بیرونی جلدی خلیات یا ماحولیاتی عوامل کی وجہ سے ڈی این اے کا پروفائل سائنسی زبان میں ’’مخلوط‘‘ (Mixture of Individuals) ظاہر ہو سکتا ہے۔

وقوعے کی ایف آئی آر بلا تاخیر درج ہوئی، لڑکی کا بروقت طبی معائنہ ہوا اور گواہان کے بیانات میں کوئی اہم تضاد سامنے نہیں آیا۔ میڈیکل رپورٹ میں پھٹن، سوجن، سرخی اور تازہ پھٹا ہوا پردۂ بکارت جیسی علامات پائی گئیں، جو جنسی زیادتی کے وقوع سے مطابقت رکھتی ہیں۔ سابقہ دشمنی کا دفاع بھی کمزور ہے۔ ایک باپ اپنی نوجوان کنواری بیٹی کو محض کسی رشتہ دار کے ناکام مقدمے کی بنیاد پر بدنام نہیں کرے گا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ماتحت عدالت کا فیصلہ درست ہے اور ملزم کی اپیل خارج کرتے ہوئے اس کے خلاف عائد تمام سزائیں برقرار رکھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
☆ شناخت خفیہ رکھنے کی غرض سے ’’اسلم‘‘ اور ’’انعم‘‘ نام فرضی ہیں۔


از: محمد رضوان ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، لاہور

23/08/2026

*سروس ٹریبیونل کا بحیثیتِ پہلا عدالتی اپیل فارم فرض اور تاخیر کی بنیاد پر اپیل کے اخراج کی ممانعت*

*سول سروسز — تاخیر کی معافی — آئینی و قانونی حقِ اپیل — عدم استعمالِ اختیار (Non-exercise of Jurisdiction)*

*(CIVIL SERVICE — CONDONATION OF DELAY IN DEPARTMENTAL APPEAL AND JURISDICTION OF SERVICE TRIBUNAL)*

Zahid Nadeem Malik Advocate High Court Multan Expert Civil Service Laws and Constitutional Writ Matters 03006342336

2025 SCP 393

متعلقہ سول سرونٹس ایکٹس اور اپیل رولز کے تحت، محکماتی حکام (ڈیپارٹمنٹل اتھارٹیز) معقول یا کافی وجہ بتائے جانے پر تاخیر سے دائر کی گئی اپیلوں کو روکنے (وِتھ ہولڈ) یا تاخیر کو معاف (کَنڈون) کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ جہاں محکماتی اتھارٹی تاخیر کی معافی کی درخواست پر غور کرنے میں ناکام رہے یا اسے مسترد کر دے، وہاں سروس ٹریبیونل، بحیثیتِ پہلا عدالتی اپیل فارم، اس فیصلے کی قانونی حیثیت کا جائزہ لینے کا پابند ہے۔ ٹریبیونل صرف اس بنیاد پر اپیل کو نااہل یا ناقبلِ سماعت قرار دے کر خارج نہیں کر سکتا کہ محکماتی اپیل کی میعاد گزر چکی تھی، کیونکہ ایسا کرنا اپنے اختیارِ سماعت (jurisdiction) سے دستبردار ہونے اور قانونی حقِ اپیل سے انکار کے مترادف ہے۔

---

**اہم قانونی اصطلاحات کا آسان مفہوم:**

* **Departmental Authorities:** محکماتی حکام / افسران
* **Condonation of delay:** تاخیر کی معافی
* **Reasonable or sufficient cause:** معقول یا کافی وجہ
* **Service Tribunal:** سروس ٹریبیونل (سرکاری ملازمین کے مقدمات کی عدالت)
* **First judicial appellate forum:** پہلا عدالتی اپیل فارم
* **Abdication of jurisdiction:** اپنے عدالتی اختیارِ سماعت کو استعمال کرنے سے انکار کرنا / دستبردار ہونا

Zahid Nadeem Malik Advocate High Court Multan Expert Civil Service Laws and Constitutional Writ Matters 03006342336

2025 SCP 393
(سپریم کورٹ آف پاکستان) کا فیصلہ
**قانونی تجزیاتی جائزہ**
اور متعلقہ قوانین کی دفعات کے بیر ایکٹ (Bare Act) کے ساتھ

---

# # # 1. مقدمے کے بنیادی نکات (Key Findings)

* **محکماتی اختيار (Administrative Discretion):** سول سروس قوانین کے تحت محکماتی حکام (Appellate Authorities) کو تاخیر سے دائر اپیلوں میں "معقول وجہ" (Sufficient Cause) ظاہر ہونے پر تاخیر معاف (Condonation) کرنے یا معاف نہ کرنے کا قانونی اختیار ہوتا ہے۔
* **سروس ٹریبیونل کی ذمہ داری:** سروس ٹریبیونل محض ایک انتظامی ادارہ نہیں بلکہ **پہلا عدالتی اپیل فارم (First Judicial Appellate Forum)** ہے۔ اگر محکماتی اتھارٹی تاخیر کی درخواست کا فیصلہ نہ کرے یا اسے مسترد کر دے، تو ٹریبیونل پر قانونی فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ خود اس تاخیر کی وجہ اور فیصلہ کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے۔
* **عدالتی اختیار سے انکار کا ممانعت (Abdication of Jurisdiction):** سروس ٹریبیونل تاخیر کی بنیاد پر محکماتی اپیل خارج ہونے کا بہانہ بنا کر کیس کو بلا سماعت (Non-maintainable) خارج نہیں کر سکتا۔ ایسا کرنا عدالت کی طرف سے اپنے آئینی و قانونی فرائض کی اداکاری سے بھاگنے اور ملازم کو "حقِ اپیل" سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔

---

# # # 2. متعلقہ قوانین کی دفعات اور بیر ایکٹ (Bare Act) ترجمہ

# # # # (ا) Limitation Act, 1908 — Section 5 (دفعہ 5)

> **Bare Act Wording:** *"Any appeal or application... may be admitted after the period of limitation prescribed therefor, when the appellant or applicant satisfies the Court that he had sufficient cause for not preferring the appeal or making the application within such period."*

* **اردو ترجمہ:**
"کوئی بھی اپیل یا درخواست... مقررہ میعاد گزرنے کے بعد بھی سماعت کے لیے منظور کی جا سکتی ہے، جب اپیل کنندہ یا درخواست گزار عدالت کو اطمینان دلا دے کہ اس کے پاس مقررہ میعاد کے اندر اپیل یا درخواست دائر نہ کرنے کی **کافی یا معقول وجہ (Sufficient Cause)** موجود تھی۔"

---

# # # # (ب) Civil Servants Act, 1973 / Provincial Civil Servants Acts — Section 19 (دفعہ 19)

*(محکماتی اپیل اور تاخیر کی معافی)*

> **Bare Act Wording:** *"Where no provision for appeal or review exists... a civil servant aggrieved by any order may, within thirty days of the communication of such order, prefer an appeal or application for review to the authority next above... Provided that the departmental authority may condone delay on showing sufficient cause."*

* **اردو ترجمہ:**
"جہاں اپیل یا نظرِ ثانی کی کوئی اور گنجائش نہ ہو... تو متاثرہ سول سرونٹ حکم کی اطلاع ملنے کے **30 دن** کے اندر اعلیٰ محکماتی اتھارٹی کو اپیل دائر کر سکتا ہے۔ **شرط یہ ہے** کہ محکماتی اتھارٹی معقول وجہ پیش کیے جانے پر تاخیر کو معاف (Condone) کر سکتی ہے۔"

---

# # # # (ج) Service Tribunals Act, 1973 — Section 4 (دفعہ 4)

*(سروس ٹریبیونل کا دائرہ اختیار)*

> **Bare Act Wording:** *"Any civil servant aggrieved by any final order... made by a departmental authority in respect of any of the terms and conditions of his service may, within thirty days of communication of such order... prefer an appeal to the Tribunal: Provided that no appeal shall lie to a Tribunal unless the aggrieved civil servant has preferred a departmental appeal..."*

* **اردو ترجمہ:**
"محکماتی اتھارٹی کے کسی حتمی حکم سے متاثرہ سول سرونٹ اپنی ملازمت کی شرائط و ضوابط کے حوالے سے **30 دن** کے اندر سروس ٹریبیونل میں اپیل دائر کر سکتا ہے: **شرط یہ ہے** کہ ٹریبیونل میں اپیل صرف اسی صورت میں قابلِ سماعت ہوگی جب متاثرہ ملازم پہلے محکماتی اپیل کا حق استعمال کر چکا ہو۔"

---

# # # 3. خلاصہ و القائےِ قانون (Legal Ratio / Impact)

1. **عدالتی جائزہ (Judicial Review):** اگر انتظامی افسران غلط یا بغير وجہ بتائے تاخیر معاف کرنے کی درخواست مسترد کریں، تو سروس ٹریبیونل پر قانونی پابندی ہے کہ وہ حقائق پر خود فیصلہ کرے کہ تاخیر واقعی معقول تھی یا نہیں۔
2. **سماعت کے حق کا تحفظ:** اپیل کو تکنیکی بنیادوں (Technicialities / Limitation) پر خارج کرنے کے بجائے مقدمے کے شواہد اور گداز (Merits) پر فیصلہ کرنا نظامِ انصاف کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔

Zahid Nadeem Malik Advocate High Court Multan Expert Civil Service Laws and Constitutional Writ Matters 03006342336

سول سروس اور دیگر قانونی معاملات میں **"معقول / کافی وجہ" (Sufficient Cause)** سے مراد وہ حالات یا واقعات ہیں جو انسان کے انتظامی یا ذاتی کنٹرول سے باہر ہوں اور جن کی وجہ سے وہ قانونی میعاد کے اندر اپیل دائر نہ کر سکا ہو۔

عدالتیں اور اعلیٰ ترین فورمز (بشمول سپریم کورٹ آف پاکستان) عام طور پر درج ذیل وجوہات کو تاخیر معافی (Condonation of Delay) کے لیے معقول وجہ تسلیم کرتے ہیں

---

# # # 1. بنیادی معقول وجوہات (Recognized Grounds for Condonation)

* **شدید بیماری یا طبی معذوری (Severe Illness / Medical Incapacity):**
اگر ملازم یا اس کا کوئی اہم کفیل اتنی شدید بیماری میں مبتلا ہو کہ وہ ذہنی یا جسمانی طور پر عدالت یا دفتر جا کر اپیل دائر کرنے کے قابل نہ رہے۔ (اس کے لیے مستند **میڈیکل سرٹیفکیٹ** اور ہسپتال کا ریکارڈ کا ہونا ضروری ہے)۔
* **محکماتی حکم کی دیر سے اطلاع (Late Communication of Order):**
اگر محکماتی سزا يا آرڈر کی کاپی ملازم کو وقت پر نہ ملی ہو یا غلط پتہ پر ارسال کی گئی ہو۔ اپیل کی میعاد (30 دن) کا شمار **اطلاع ملنے کی تاریخ (Date of Knowledge/Communication)** سے ہوتا ہے، نہ کہ حکم جاری ہونے کی تاریخ سے۔
* **محکماتی افسران کا گمراہ کن عمل (Misleading Conduct of Department):**
اگر محکماتی اتھارٹی نے ملازم کو یہ تاثر دیا ہو کہ اس کا معاملہ درپیش کارروائی کے تحت حل ہو رہا ہے، یا غلط فورم کی نشاندہی کی ہو جس کی وجہ سے تاخیر ہوئی ہو۔
* **وکالت/ قانونی مشورے کی غلطی (Bona fide Mistake of Counsel):**
اگر ملازم کے وکیل نے نیک نیتی سے غلط فورم کا انتخاب کیا یا غلط قانونی رائے دی، اور ملازم نے اس کی پیروی کی، تو اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کے مطابق وکیل کی غلطی کا خمیازہ موکل (ملازم) کو نہیں بھگتنا پڑتا۔
* **ناگہانی و قاہرہ حالات (Act of God / Force Majeure):**
قدرتی آفات (سیلاب، زلزلہ)، ہنگامی حالات، یا امن و امان کی ایسی شدید خرابی جس کے باعث دفاتر یا عدالتیں مکمل طور پر بند یا رسائی سے باہر ہوں۔
* **جیل یا تحویل میں ہونا (Confinement / Detention):**
اگر ملازم کو کسی کارروائی کے تحت حراست میں رکھا گیا ہو اور اسے اپیل دائر کرنے کی سہولت نہ مل سکی ہو۔

---

# # # 2. کن وجوہات کو "معقول وجہ" تسلیم **نہیں** کیا جاتا؟

عدالتیں درج ذیل وجوہات کو محض سستی یا لاپرواہی شمار کرتی ہیں اور ان کی بنیاد پر تاخیر معاف نہیں کرتی ہیں:

| نا قابلِ قبول وجوہات (Not Sufficient Cause) | وضاحت |
| --- | --- |
| **قانون سے لاعلمی (Ignorance of Law)** | قانون کا بنیادی اصول ہے کہ "قانون سے لاعلمی کوئی عذر نہیں" (*Ignorantia juris non excusat*)۔ |
| **محض لاپرواہی یا سستی (Gross Negligence)** | بغیر کسی معقول وجہ کے اپیل التوا میں رکھنا۔ |
| **غیر رسمی یاد دہانیاں (Repeated Representations)** | تاخیر کے دوران بار بار بلا جواز محکماتی یاد دہانیاں (Reminders) یا درخواستیں بھیجتے رہنا قانوناً میعاد میں اضافہ نہیں کرتا۔ |

---

# # # 3. قانونی اصول (Legal Test)

سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق تاخیر معافی کی درخواست کو پرکھنے کے لیے عدالتیں دو اہم قانونی اصول مدِنظر رکھتی ہیں:

1. **دن بہ دن کا حساب (Explanation of Each Day's Delay):** درخواست گزار کو میعاد ختم ہونے کی تاریخ سے لے کر اپیل دائر کرنے کے دن تک **ہر ایک دن کی تاخیر** کی معقول اور سچی وجہ بیان کرنا ہوتی ہے۔
2. **نیک نیتی (Bona Fides):** یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ تاخیر قصداً، بدنیتی یا دوسرے فریق کو تنگ کرنے کے لیے نہیں کی گئی تھی بلکہ حقیقی اور ناگزیر مجبوری تھی۔

Zahid Nadeem Malik Advocate High Court Multan Expert Civil Service Laws and Constitutional Writ Matters 03006342336

Address

Chambers 35 Bashir Khan Block District Court Multan. , Office. 119Bilal Block Bodla Town Chowk Qazafi Multan
Multan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Hasseeb Law and corporates associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share