13/02/2026
خون کے آنسو اور خاموش چیخیں
جب ستم کی انتہا ہو جائے
سلاخوں کے پیچھے ایک شیر قید ہے، اور باہر ساڑھے بائیس کروڑ دل خاموشی کے عذاب میں جل رہے ہیں۔
عمران خان - وہ نام جس نے ایک مردہ قوم میں زندگی کی لہر دوڑا دی تھی، آج جیلوں کی تاریکیوں میں ہے۔ مگر کیا تم نے سوچا؟ اصل قیدی کون ہے؟ وہ جو سلاخوں کے پیچھے ہے یا وہ ساڑھے بائیس کروڑ روحیں جو اپنے ہی ملک میں گونگی، بہری، مجبور اور لاچار ہیں؟
ظلم کی دستان
کیسا ظلم ہے کہ جس نے اس قوم کو عزت دی، اسے ذلیل کیا جا رہا ہے۔ جس نے غریبوں کے لیے گھر بنائے، اسے چار دیواری میں قید کر دیا گیا۔ جس نے بیماروں کے لیے ہسپتال کھولے، اسے سانس لینے کی آزادی بھی نصیب نہیں۔
یہ کیسا انصاف ہے جہاں لٹیروں کے محل ہیں اور صادق کے لیے زنداں؟ یہ کیسا نظام ہے جہاں جھوٹ کی جیت ہے اور سچ کی سولی؟
عوام کی بے بسی - ایک المناک حقیقت
دیکھو اُن ماؤں کو جن کے بیٹے 9 مئی کو اُٹھا لیے گئے - بےقصور، بےگناہ۔ سنو اُن بہنوں کی سسکیاں جن کے بھائیوں کو فوجی عدالتوں میں پھینک دیا گیا۔ محسوس کرو اُن بوڑھے باپوں کا درد جو اپنے جوان بیٹوں کی لاش کا انتظار کر رہے ہیں۔
عوام بے بس ہیں۔
کوئی سنتا نہیں۔
کوئی دیکھتا نہیں۔
کوئی محسوس نہیں کرتا۔
ہم چیختے ہیں تو ہماری آواز دبا دی جاتی ہے۔
ہم پکارتے ہیں تو ہمیں دہشت گرد کہا جاتا ہے۔
ہم سڑکوں پر نکلتے ہیں تو گولیاں ہماری تقدیر بنتی ہیں۔
بہری نظام کا جبر
یہ نظام بہرا ہے - جان بوجھ کر بہرا۔
یہاں عدالتوں کی آنکھوں پر پٹی ہے، میڈیا کی زبان پر تالے ہیں، اور حقیقت کو جھوٹ کا لبادہ پہنایا جاتا ہے۔ یہاں انصاف کی لاش پر طاقت کا شہنشاہ بیٹھا مسکرا رہا ہے۔
کیسی ستم ظریفی ہے کہ جس ملک کا نام “اسلامی جمہوریہ” ہے، وہاں نہ اسلام کا نشان ہے نہ جمہوریت کا۔ جس کا جھنڈا “ایمان، اتحاد، تنظیم” کا نعرہ بلند کرتا ہے، وہاں ایمان فروخت ہے، اتحاد ٹوٹ چکا ہے، اور تنظیم ظلم کا ہتھیار بن چکی ہے۔
پھر بھی امید
لیکن سنو!
تاریخ گواہ ہے کہ سچ کبھی نہیں مرتا۔ فرعون کتنا ہی طاقتور تھا، موسیٰ کی لاٹھی کے سامنے ڈھیر ہو گیا۔ نمرود کتنا ہی جابر تھا، ابراہیم کی آگ گلزار بن گئی۔
عمران خان محض ایک نام نہیں، یہ ایک تحریک ہے، ایک عزم ہے، ایک امید ہے۔ اسے قید کر سکتے ہو، مگر اس کے خیال کو نہیں۔ اس کی آواز دبا سکتے ہو، مگر اس کے پیغام کو نہیں۔
قوم سے التجا
اے میری قوم! اے میرے پاکستان کے بیٹو اور بیٹیو!
یہ وقت نہیں ہے خاموش ہونے کا۔ یہ وقت ہے جاگنے کا، اٹھنے کا، آواز بلند کرنے کا۔
تمہاری خاموشی گناہ ہے۔
تمہاری بے حسی جرم ہے۔
تمہاری بزدلی زنا ہے اس وطن کے ساتھ جس نے تمہیں پالا۔
یاد رکھو، آزادی مفت میں نہیں ملتی۔ قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ اقبال نے کہا تھا:
“ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں”
آخری پیغام
عمران خان کے ساتھ ظلم، ہمارے ساتھ ظلم ہے۔
اس کی بے عزتی، ہماری بے عزتی ہے۔
اس کا درد، ہمارا درد ہے۔
لیکن یاد رکھو - رات کتنی بھی تاریک ہو، صبح ضرور ہوتی ہے۔ ظلم کتنا بھی بڑھ جائے، انصاف کا دن آتا ہے۔
یہ قوم نہیں مرے گی۔
یہ خواب نہیں ٹوٹے گا۔
یہ چنگاری ضرور شعلہ بنے گی۔
پاکستان زندہ باد!
عمران خان زندہ باد!
انصاف کی جیت ہو گی!