04/05/2026
سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے 2025 SCMR 993 میں ایک نہایت اہم اصول واضح کیا گیا ہے کہ دفعہ 302 PPC کے تحت قتلِ عمد کے ہر مقدمہ میں سزائے موت لازمی نہیں ہوتی۔ قانون نے دفعہ 302 میں مختلف حالات کے مطابق مختلف سزائیں مقرر کی ہیں، اور ہر مقدمہ کے حقائق و حالات کو دیکھ کر عدالت یہ طے کرتی ہے کہ کون سی سزا مناسب ہے۔
عدالت نے وضاحت کی کہ دفعہ 302(a) کے تحت اگر مقدمہ قصاص کے دائرے میں آتا ہو، تو اس میں سزا صرف موت ہے اور عدالت کے پاس کوئی دوسری سزا دینے کا اختیار نہیں۔ لیکن اگر مقدمہ دفعہ 302(b) کے تحت آتا ہو، تو وہاں قانون نے دو متبادل سزائیں دی ہیں: سزائے موت یا عمر قید۔ یہ دونوں قانونی سزائیں ہیں، اور ایک کو دوسری پر فوقیت حاصل نہیں۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ ہر قتل کے مقدمہ میں پہلے سزائے موت دی جائے اور صرف خاص رعایت میں عمر قید دی جائے۔ عدالت نے قرار دیا کہ دونوں سزائیں alternate punishments ہیں، اور عدالت مقدمہ کے facts and circumstances کو دیکھ کر ان میں سے ایک سزا منتخب کرتی ہے۔
اگر مقدمہ کے حالات ایسے ہوں جن میں تخفیفی پہلو (mitigating circumstances) موجود ہوں، مثلاً وقوعہ کے حالات غیر معمولی ہوں، اچانک جھگڑا ہوا ہو، نیت کے بارے میں ابہام ہو، یا ایسے حالات موجود ہوں جو کم سزا کی طرف اشارہ کرتے ہوں، تو عدالت عمر قید کی سزا دے سکتی ہے۔ ایسی صورت میں عمر قید کوئی رعایت نہیں بلکہ قانون کے مطابق جائز سزا ہے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ دفعہ 302(b) میں موجود الفاظ “having regard to the facts and circumstances of the case” بہت اہم ہیں، کیونکہ یہی الفاظ عدالت کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ وہ مقدمہ کے حالات کو دیکھ کر مناسب سزا طے کرے۔ یعنی سزا کا فیصلہ صرف جرم کے نام پر نہیں بلکہ پورے مقدمہ کے حالات دیکھ کر کیا جاتا ہے۔
سپریم کورٹ نے ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 367(5) Cr.P.C. کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر عدالت سزائے موت کے بجائے عمر قید دیتی ہے، تو اسے اپنے فیصلے میں وجہ بھی لکھنا ہوگی کہ موت کی سزا کیوں مناسب نہ سمجھی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عمر قید دینے کے لیے عدالتی وجوہات موجود ہونا ضروری ہیں۔
فیصلہ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اگر ٹرائل کورٹ نے حالات دیکھ کر عمر قید دی ہو، تو اپیلی عدالت صرف اسی بنیاد پر سزا بڑھا کر موت نہیں دے سکتی کہ وہ مختلف رائے رکھتی ہے۔ سزا میں اضافہ صرف انہی معاملات میں ہوگا جہاں واضح ناانصافی یا سنگین غلطی موجود ہو۔
اس فیصلے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ دفعہ 302(b) میں سزائے موت اور عمر قید دونوں برابر قانونی سزائیں ہیں۔ اگر مقدمہ میں mitigating circumstances موجود ہوں، تو عمر قید دی جا سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، 302 کی سزا صرف جرم دیکھ کر نہیں بلکہ جرم کے حالات، ملزم کے کردار، اور مقدمہ کے مجموعی حقائق کو دیکھ کر طے ہوتی ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر بعض قتل کے مقدمات میں سزائے موت کے بجائے عمر قید دی جاتی ہے۔
⚖️ English:
The Supreme Court of Pakistan in the judgment 2025 SCMR 993 laid down an important principle that under Section 302 PPC, the death penalty is not mandatory in every case of murder. The law provides different punishments depending upon the circumstances, and the Court determines the appropriate sentence after considering the facts and circumstances of each case.
Under Section 302(a), where the case falls within the ambit of Qisas, the punishment is only death and the Court has no discretion to award any other sentence. However, under Section 302(b), the law provides two alternate punishments: death penalty or life imprisonment. Both are legally recognized punishments and neither has precedence over the other.
The Court clarified that it is incorrect to assume that death penalty must be awarded in every murder case and life imprisonment is only an exception. Both punishments are alternate, and the Court chooses one based on the facts and circumstances of the case.
Where mitigating circumstances exist—such as sudden quarrel, lack of premeditation, or doubtful intention—the Court may award life imprisonment. In such cases, life imprisonment is not a concession but a lawful punishment.
The Court further emphasized that the phrase “having regard to the facts and circumstances of the case” in Section 302(b) empowers the Court to determine the appropriate sentence. Thus, punishment is based on the overall facts, not merely the offence.
Referring to Section 367(5) Cr.P.C., the Court held that if life imprisonment is awarded instead of death penalty, reasons must be recorded explaining why death was not considered appropriate.
It was also held that an appellate court cannot enhance the sentence to death merely on a different view if the trial court has already awarded life imprisonment after considering the facts. Enhancement is justified only in cases of clear miscarriage of justice or serious error.
The core principle is that under Section 302(b), death and life imprisonment are equal punishments. Where mitigating circumstances exist, life imprisonment may be awarded.
#03409141394