Apex Tax consultant

Apex Tax consultant Income Tax Consultant, Civil and Criminal Lawyer

24/08/2026

Apex Tax consultant
Tax Consultant | Income Tax Return | FBR | NTN Registration –

Looking for a professional Tax Consultant in Pakistan? We provide reliable and affordable Income Tax Return Filing, FBR Registration, NTN Registration, Sales Tax (GST) Registration, Tax Consultancy, and Legal Tax Services for individuals, salaried persons, freelancers, business owners, companies, and partnerships across Pakistan.

Our experienced tax consultants and legal experts help you become an Active Taxpayer, reduce tax-related issues, and ensure your tax records are fully compliant with FBR regulations. Whether you are a Non-Filer looking to become a Filer or need assistance with Income Tax Returns, we offer fast, secure, and hassle-free services.

Our Services
Income Tax Return Filing
FBR Income Tax Return
NTN Registration
New NTN Registration
Sales Tax (GST) Registration
FBR Registration
Become an Active Taxpayer
Non-Filer to Filer Services
Tax Consultancy
Tax Planning & Tax Advisory
Business Tax Consultant
Company Tax Registration
Sole Proprietor Registration
Partnership Registration
Sales Tax Return Filing
Income Tax Notices Assistance
Tax Compliance Services
Legal Tax Consultation
High Court Advocate & Tax Lawyer Services
Online Tax Filing
Freelancers Tax Registration
Business Registration & Tax Solutions

Tax Consultant Pakistan, Income Tax Return, FBR Tax Return, NTN Registration, NTN Registration Online, New NTN Registration, FBR Registration, Sales Tax Registration, GST Registration, Tax Return Filing, Tax Return Consultant, Tax Lawyer Pakistan, Advocate High Court, Non Filer to Filer, Active Taxpayer, FBR Consultant, Tax Advisory Services, Online Tax Consultant, Business Tax Consultant, Income Tax Filing Pakistan, Sales Tax Return, Corporate Tax Services, Freelancer Tax Registration, Company NTN Registration, Tax Compliance, FBR Services, Legal Tax Consultant, Pakistan Tax Consultant, Tax Filing Services.

Fast Service • Affordable Charges • Professional Tax Consultants • Online Services Available • Trusted FBR & Tax Consultancy Solutions Across Pakistan

contact us :+92 3009872283

29/06/2026

کہانی پچیس ہزار کے سرچارج کی فنانس ایکٹ کی زبانی
جو بل پیش ہوا وہ اب ایکٹ بن چکا یعنی اب وہ قانون ہے۔
یہ پچیس ہزار سرچارج بارے کیا بتا رہا ہے؟
فرض کرتے ہیں آپ ابھی فائلر نہیں ہیں ایکٹو لسٹ میں نہیں ہیں۔ اگلا سال شروع ہوگیا تو کیا آپ کو ایکٹو لسٹ یا فائلر ہونے کے لئے پچیس ہزار ادا کرنے ہونگے؟
نہیں ایسا نہیں ہے۔ آپ دو ہزار چھبیس کی ریٹرن فائل کریں اور بغیر سرچارج ادا کئے آپ فائلر بن جائیں گے ایکٹو پئیر لسٹ میں آجائیں گے۔
تو سرچارج کب ادا کرنا ہوگا؟
سرچارج ادا کرنے کی ضرورت تب ہوگی جب دو ہزار چھبیس کی ریٹرن ڈیو ڈیٹ تک آپ فائل نہیں کرتے۔
ڈیو ڈیٹ کب ہے ؟
30 ستمبر 2026 ہے اس میں ایف بی آر عموما ایکسٹینشن بھی دیتا ہے اگر نہ بھی دے تو بھی 30 ستمبر تک آپ دو ہزار چھبیس کی ریٹرن فائل کریں اور بغیر سرچارج ادا کئے فائلر بنیں ، ایکٹو ٹیکس پئیر لسٹ میں آئیں۔
تو پھر سرچارج کب سے ادا کرنا ہوگا اور کتنا ادا کرنا ہوگا؟
اگر آپ 30 ستمبر 2026 کو اپنی ریٹرن فائل نہیں کرتے جو کہ ڈیو ڈیٹ ہے پھر آپ کو ایکٹو ٹیکس پئیر لسٹ میں آنے کے لئے سرچارج ادا کرنا ہوگا۔۔
یہ سرچارج کتنا ادا کرنا ہوگا کیا پچیس ہزار ادا کرنا ہوگا؟
نہیں ۔ اگر آپ تیس ستمبر 2026 کے بعد 2026 کی ریٹرن فائل کرتے ہیں اور کمشنر کو انڈرٹیکنگ دیتے ہیں کہ اس ڈیٹ سے چھ مہینے تک میں کوئی پراپرٹی نہیں خریدوں گا تو بھی آپ کو پچیس ہزار سرچارج ادا نہیں کرنا پڑے گا ۔

13/06/2026
13/06/2026

The ATL surcharge has been revised in the Federal Budget 2026–27 as follows:

For individuals, the surcharge has been increased from Rs. 1,000 to Rs. 25,000.

For AOPs, the surcharge has been increased from Rs. 10,000–50,000

For companies, the surcharge has been increased from Rs. 20,000 to Rs. 100,000.

13/06/2026

دوسرا شیڈول، حصہ اول — سابقہ فاٹا/پاٹا کے لیے ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہیں [شق 145A]

شق (145A) کے تحت خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سابقہ قبائلی علاقوں (فاٹا/پاٹا) میں ڈومیسائل رکھنے والے افراد، نیز وہاں مقیم کمپنیوں اور ایسوسی ایشن آف پرسنز (AOPs) کی ایسی آمدنی کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا جو آئینِ پاکستان کی پچیسویں ترمیم (2018) سے قبل قابلِ ٹیکس نہیں تھی۔ یہ رعایت یکم جون 2018 سے 30 جون 2026 تک مؤثر ہے، جس میں آخری توسیع فنانس ایکٹ 2025 کے ذریعے دی گئی تھی۔ موجودہ فنانس بل میں اس رعایت میں مزید توسیع کی کوئی تجویز شامل نہیں۔

اگر قانون سازی کے دوران اس مدت میں مزید توسیع نہ کی گئی تو یہ ٹیکس چھوٹ 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی اور یکم جولائی 2026 (ٹیکس سال 2027) سے مذکورہ افراد، کمپنیوں اور AOPs کی آمدنی عام ٹیکس قوانین کے تحت قابلِ ٹیکس ہو جائے گی۔

اسی طرح حصہ چہارم کی شقوں (109A) اور (110) کے تحت ودہولڈنگ ٹیکس سے حاصل استثنا بھی اسی تاریخ کو ختم ہو جائے گا۔ نتیجتاً سابقہ قبائلی اضلاع میں ٹیکس کی کٹوتی اور وصولی کے قوانین معمول کے مطابق نافذ ہو جائیں گے۔ اس طرح ضم شدہ اضلاع کو وفاقی ٹیکس نظام میں مرحلہ وار شامل کرنے کا آٹھ سالہ عبوری دور اختتام پذیر ہو جائے گا۔

ٹیکس سسٹمز اپڈیٹنیا انکم ٹیکس ریٹرن فارم برائے سال 2026ایف۔بی۔آر نے رواں سال کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کیلئے ایس۔آر۔ا...
11/05/2026

ٹیکس سسٹمز اپڈیٹ
نیا انکم ٹیکس ریٹرن فارم برائے سال 2026

ایف۔بی۔آر نے رواں سال کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کیلئے ایس۔آر۔او 2026 (1) 835 کے تحت نیا ٹیکس فارم جاری کر دیا ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو سات دن کے اندر اپنے اعتراضات، تجاویز اور ردعمل جمع کرانے کی مہلت دی گئی ہے۔

اس فارم میں جو درج ذیل تبدیلیاں کی گئی ہیں ان کے تحت اب آپ کو اپنی ہر قسم کی مالی سرگرمیوں کی مکمل سمری بھی فراہم کرنی پڑے گی۔

1)۔
تنخواہ دار طبقے کو اپنے ایمپلائر کا نام، اس کا رجسٹریشن نمبر اور ٹیکس کٹوتی کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔

2)۔
پراپرٹی کا کرایہ پہلے سمپلی ایک اینٹری میں ڈال دیتے تھے لیکن اب الگ الگ ہر پراپرٹی کو مینشن کرکے بتانا پڑے گا کہ کس جگہ سے کتنا کرایہ آیا ہے اور اس کے ڈیڈکٹیبل اخراجات کیا ہیں۔

3)۔
ادر انکم میں بھی پہلے سب لوگ ایک سادہ سی اینٹری ڈال دیتے تھے اب اس کی بھی انسٹیٹیوشن وائز تفصیلات دینی ہوں گی۔

4)۔
اسی طرح زرعی انکم میں بھی ایک اینٹری ڈال دی جاتی تھی لیکن اب زرعی زمین کی تفصیلات بھی کھیت نمبر وغیرہ کیساتھ یعنی زمین کی لوکیشن بھی ساتھ میں فراہم کرنی پڑے گی۔

5)۔
ٹیکس ڈیڈکشنز کا بھی سارا نظام انٹیگریٹڈ ہے، آپ بتائیں گے فلاں نے پیسے کاٹے ہیں تو اس کا ہاں یا نہ کا ریفرینس خود بخود اپڈیٹ ہوجائے گا۔

6)۔
بزنس میں کتنی رقم پیمنٹ کی ہے یا وصول کی ہے اور اس پر دونوں طرف سے کتنا کتنا ٹیکس کاٹا گیا ہے یہ بھی بتانا پڑے گا۔

اس کا نقصان یہ ہوگا کہ اب ٹیکس ڈیڈکشن جہاں نہیں ہوئی ہوگی وہاں فوراً سیکشن 161 کے تحت سوال کھڑا ہوجائے گا جو کافی تکلیف دہ ہوسکتا ہے۔

یعنی جو بزنس ودہولڈنگ ایجنٹ بنتے ہیں ان سے یہ رقم وصول کر لی جائے گی۔

مثال کے طور پر بیشمار کمپنیاں ایسی ہیں جو ملازموں سے ٹیکس نہیں کاٹتیں، اب ایک ملازم بتاتا ہے کہ فلاں کمپنی سے میں لاکھ روپیہ مہینہ لیتا ہوں تو انٹیگریٹڈ سسٹم اب ٹیکس آفیسر کو خود بتائے گا کہ فلاں کمپنی کے دس ایمپلائیز نے بتایا ہے کہ وہ اتنی اتنی تنخواہ لیتے ہیں لیکن ایمپلائر نے کسی ایک کا بھی ٹیکس نہیں کاٹا۔

اب اس کیس میں جتنا ٹیکس ایمپلائر نے کاٹنا تھا اور نہیں کاٹا تو وہ اس ایمپلائر سے وصول کر لیا جائے گا۔

اس کے بعد ایمپلائر ملازموں سے کہے گا کہ پچھلے سال کا بل آگیا ہے مجھے لہذا یہ ٹیکس کٹواؤ اور ملازم کہیں گے صاحب ہم نے تو ریٹرن کیساتھ اپنی جیب سے ٹیکس جمع کرا دیا تھا اسلئے اب ہم آپ کو کیوں دیں لہذا وہ لائبلٹی ایمپلائر کے سر ہی پڑے گی۔

علی ہذا القیاس جو لوگ بزنس پیمنٹس پر بھی ڈیو ٹیکس نہیں کاٹتے ان کو بھی یہی پرابلم فیس کرنی پڑے گی۔

7)۔
ایک اچھی بات جو اس نئے فارم میں نظر آرہی ہے وہ یہ ہے کہ ریفنڈ کیلئے آپ کا ایک مین بینک اکاؤنٹ اس میں انٹیگریٹ ہو جائے گا اور ودہولڈنگ کے سارے ثبوت اپلوڈ ہو جانے کے بعد آپ کو آٹومیٹک طریقے سے ریفنڈ مل جایا کرے گا، اس کی منظوری کیلئے آئیندہ آپ کو ٹیکس آفس نہیں جانا پڑے گا۔

مجوزہ فارم کی قانونی حیثیت:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ فارم ابھی تجویز کیا گیا ہے اور اطلاع عام کیلئے سات دن کی قانونی مہلت کے بعد بزنس چیمبرز اور ٹیکس بارز سے حاصل ہونے والے ردعمل کے تحت تھوڑا بہت تبدیل بھی ہو سکتا ہے، پھر یہ بجٹ کیساتھ ہی منظور ہو کے نافذ العمل ہو جائے گا۔

احتیاط برائے سال 2026:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تنخواہ دار طبقہ جن کی تنخواہ ٹیکس ایبل ہے لیکن ایمپلائر ٹیکس نہیں کاٹتا وہ اپنا ریٹرن ایمپلائر کیساتھ مشورہ کرکے جمع کرائیں ورنہ جب اس کو نوٹس آئے گا تب وہ آپ سے ٹیکس مانگے گا اور آپ جیب سے ٹیکس ادا کر چکے ہوں گے۔

اس کا بہترین حل یہ ہے کہ آپ کا ایمپلائر جون میں آپ کا سال بھر کا ٹیکس جمع کرا دے، اس سے دونوں کی بچت ہو جائے گی، ممکن ہے لیٹ ٹیکس جمع کرانے پر اس کو پانچ چھ فیصد جرمانہ ہوجائے لیکن یہ اس سے بہتر ہے کہ لاکھوں روپے کا بل اس کو آجائے اور پھر وہ آپ سے کاٹنے بیٹھ جائے۔

گزشتہ سال میں نے ہر پارٹی کا ریٹرن ان کے بینک اکاؤنٹس کو بہت تفصیل کیساتھ سمرائز کرکے بنایا تھا تاکہ ان کو کوئی ٹکر نہ لگے، اس وجہ سے میرے کافی ریٹرن لیٹ ہوگئے تھے لیکن میں نے کوالٹی پر کمپرومائز نہیں کیا۔

اندریں حالات آپ کو بھی یہی کرنا چاہئے کہ اپنا ٹیکس ریٹرن کسی ایسے بندے سے جمع کرائیں جسے قانون اور مالیاتی امور پر یکساں عبور حاصل ہو تاکہ وہ بینک کو سمرائز کرکے نان بزنس ٹرانزیکشنز کو الگ کرے پھر انکم اسٹیٹمنٹ اور الاؤ۔ایبل اخراجات کو ڈیفائن کرکے آپ کا ریٹرن سیف زون میں لاکے فائنل کرے۔

گورنمنٹ نے اس سال تاریخ میں پہلی بار مئی میں فارم جاری کیا ہے ورنہ یہ مڈجولائی میں ہی آیا کرتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ گورنمنٹ ٹیکس فائلنگ کو پہلی جولائی سے شروع کرانا چاہتی ہے تاکہ کنسلٹینٹس کو نوے دن کا پورا فائلنگ ٹائم مل جائے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس بار ٹیکس ریٹرن بنانے میں کنسلٹینٹ کا دو گنا ٹائم لگے گا جو ریوینیو بورڈ کو بھی نظر آرہا ہے لہذا ایک تو تیس جون کے فوراً بعد اپنا ڈیٹا کنسلٹینٹ کو لازمی فراہم کر دیں۔

دوسرا، کنسلٹینٹ اگر فیس میں اضافے کا تقاضا کرے تو اس کی یہ بات بھی ماننی چاہئے کیونکہ پروفیشنل کنسلٹینٹ کبھی بھی کوالٹی پر کمپرومائز نہیں کرتے لہذا اضافی وقت دینے کیلئے اضافی فیس بھی ان کو ملنی چاہئے۔

It's a Tax Year 2026
04/05/2026

It's a Tax Year 2026

Feel free to contact
04/05/2026

Feel free to contact

04/05/2026

غیر معیاری اور سستی ٹیکس فائلنگ سے بچیں!
پاکستان میں پراپرٹی رجسٹریشن دفاتر میں روزانہ ہزاروں افراد کو فائلر بنایا جاتا ہے، مگر ان فائلنگز کی حقیقت کیا ہے؟ ٹیکس پروفائلز کی تیاری میں ہونے والی لاپروائی نہ صرف آپ کے مالی معاملات کو پیچیدہ بنا سکتی ہے بلکہ مستقبل میں شدید مشکلات کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
جب پراپرٹی رجسٹریشن دفاتر میں ٹیکس فائلرز بنائے جاتے ہیں، تو ان کی مالی حالت اور اصل ٹیکس معاملات کو اس فائلنگ کے ساتھ ہم آہنگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، اکثر فائلرز کے پاس ان کے ٹیکس پروفائل کا پاسورڈ بھی نہیں ہوتا، جو بعد میں مزید مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔
مشورہ: پراپرٹی رجسٹریشن سے پہلے کسی ماہر ٹیکس کنسلٹنٹ سے رابطہ کریں تاکہ غیر معیاری فائلنگ اور اس کے سنگین نتائج سے بچ سکیں۔ ٹیکس پروفائل کو معمولی نہ سمجھیں؛ یہ ایک حساس معاملہ ہے جو کسی بھی وقت آپ کے لیے بڑے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ اگر ٹیکس ریٹرن درست طریقے سے نہیں بھرا گیا، تو مستقبل میں اس کی جانچ پڑتال آپ کے لیے ایک طویل اور پریشان کن عمل بن سکتا ہے۔
اپنی مالی سلامتی کے لیے پروفیشنل مشورہ لیں اور غیر معیاری فائلنگ سے دور رہیں۔

Address

Khyber Pukhtoonkhwa
Mardan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Apex Tax consultant posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share