Khanzada Sarmad Khan Toru

  • Home
  • Khanzada Sarmad Khan Toru
Call Website Contact the business

Khanzada Sarmad Khan Toru Advocate HC | PACI AI Scholar | AI Governance, LegalTech & Policy Analysis
Bridging Law + AI | Consulting for Govt, Banks & Int'l Orgs | Available: Remote

غیر متوازن شطرنج: اسرائیل-ایران تنازعے کے پوشیدہ اسٹریٹجک ڈھانچے۔ ( پارٹ ون Academic Plus Roast Series ) کردار:وائلی ای ...
26/09/2026

غیر متوازن شطرنج: اسرائیل-ایران تنازعے کے پوشیدہ اسٹریٹجک ڈھانچے۔
( پارٹ ون Academic Plus Roast Series )

کردار:
وائلی ای کویوٹی = اسرائیلی دائیں بازو کی توسیع پسند سوچ، پلانکٹن = ایرانی پراکسی حکمت عملی، شریک = بقا کا مشورہ

خلاصہ - TL;DR: یہ دو متضاد نظریات کا ٹکراؤ ہے — ایک زمین پر قبضہ کر کے نقشہ بدلنا چاہتا ہے، دوسرا دور بیٹھ کر ریموٹ سے جنگ لڑنا چاہتا ہے۔

1. اسٹریٹجک خاکے

ـA) اسرائیلی فریم ورک: علاقائی استحکام اور خلائی کنٹرول
ـTL;DR: سرحد کو قانونی طور پر نہیں، زمین پر گھر بنا کر آگے بڑھاؤ۔

سنجیدہ تشریح: اسرائیل کا طویل المدتی جغرافیائی سیاسی ڈھانچہ اپنی مستقل سرحدوں کے بارے میں اسٹریٹجک ابہام کے نظریے پر کام کرتا ہے۔ دو طرفہ سفارتکاری کے ذریعے قانونی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کے حصول کے بجائے، ریاست کے دائیں بازو کے سیاسی اتحاد زمین پر مستقل حقائق پیدا کرنے کے لیے بتدریج فریم ورک استعمال کرتے ہیں۔ یہ حکمت عملی تاریخی طور پر 1982 کے اوڈیڈ ینون پلان اور اس کے بعد کے نیو کنزرویٹو پالیسی میمورنڈمز میں جڑی ہوئی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل کی علاقائی سلامتی کا براہ راست تعلق پڑوسی عرب ریاستوں کے سیاسی بکھراؤ یا کمزور ہونے سے ہے۔ بنیادی مقصد مطلق خلائی کنٹرول اور یکطرفہ گہرائی کا قیام ہے۔

اصل حقیقت: حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی جنگ نہیں، یہ DHA کا غیر قانونی پلاٹ کٹنگ والا سین ہے۔ قیادت نے گوگل میپس کھولا، خود ہی سرحد کو ماؤس سے پکڑ کر 5 کلومیٹر اندر گھسیٹ دیا اور کہا "بس اب یہی نئی اپڈیٹ ہے، دنیا کو عادت ہو جائے گی۔" پوری حکمت عملی کا لب لباب یہ ہے کہ پہلے بلڈوزر چلاؤ، پھر سڑک بناؤ، پھر وہاں دو فیملیاں بسا دو، اور پھر اقوام متحدہ کو بولو "دیکھو اب تو یہاں بچے اسکول جا رہے ہیں، اب واپس کیسے لیں گے؟" یہ اس بچے جیسا ہے جو دوسرے کی چیپس چوری کر کے اسی کے سامنے کھا رہا ہے اور ساتھ میں کہہ رہا ہے "میں نے چوری نہیں کی، یہ تو اب میرے پیٹ میں فیت اکمپلی ہو گیا ہے۔" اور پیچھے ICJ والا چاچا آہستہ آہستہ کہہ رہا ہے "بیٹا رسید نکال، بل آرہا ہے۔"

ـB) ایرانی فریم ورک: مزاحمت کا محور اور اسٹریٹجک گہرائی
ـTL;DR: خود نہ لڑو، دوسروں کو آگے کر کے اپنا دفاع کرو۔

سنجیدہ تشریح: اس کے بالکل برعکس، ایران کی خارجہ پالیسی ایک غیر متوازن، فارورڈ ڈیفنس ماڈل پر قائم ہے جسے "مزاحمت کا محور" کہا جاتا ہے۔ شدید روایتی فوجی اور معاشی پابندیوں کے تحت، تہران غیر ریاستی اداکاروں اور پراکسی فورسز کے مربوط نیٹ ورک کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ کرتا ہے — جن میں لبنان میں حزب اللہ، غزہ میں حماس، یمن میں حوثی، اور عراق و شام میں مختلف شیعہ ملیشیائیں شامل ہیں۔ اس ڈھانچے کے دو بنیادی مقاصد ہیں: ڈیٹرنس - اسرائیل کے گرد آگ کا دائرہ بنا کر ایرانی سرزمین پر براہ راست حملے کو روکنا۔ لیوریج - مغربی حمایت یافتہ قوتوں پر فرسودہ جنگ مسلط کر کے سفارتی اور معاشی تنہائی کو توڑنا۔ ہر پراکسی پر اربوں ڈالر کا خرچہ آتا ہے۔

اصل حقیقت: ایران نے سوچا "ہم خود کیوں لڑیں؟ ہم تو دراز سے لڑیں گے!" پورے مشرق وسطیٰ میں انہوں نے Daraz سے سستے ریموٹ کنٹرول والے کھلونے منگوا لیے — ایک لبنان میں، ایک غزہ میں، ایک یمن میں۔ ہر مہینے ان کو پیسے، چارجنگ، اپڈیٹ۔ یہ ایسا ہے جیسے آپ نے 4 نوکروں کو رکھا ہو گھر کے کام کے لیے، اور خود آپ گھر میں تالا لگا کر بیٹھے ہوں کہ "میں تو سیف ہوں"۔ اچانک پتہ چلے نوکر سارے بھاگ گئے اور مالک مکان باہر کھڑا ہے کرایہ مانگنے۔ تین ارب ڈالر کا وائی فائی بل اور نیٹ ورک میں ایک بھی ڈیوائس آن لائن نہیں۔

2. نفاذ اور عمل درآمد: زمینی حقائق
ـTL;DR: پہلے فوج آتی ہے، پھر سڑک بنتی ہے، پھر دنیا کو ماننا پڑتا ہے۔

سنجیدہ تفسیر: اسرائیلی حکمت عملی نظریاتی منصوبہ بندی سے نکل کر تیز رفتار، کثیر الجہتی نفاذ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ یہ فیت اکمپلی کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے — یعنی ناقابل واپسی جسمانی حقائق کا قیام جو بین الاقوامی سفارتی مخالفت کو بے اثر کر دے۔

اسرائیلی چال: [فوجی آپریشنز] -> [انفراسٹرکچر/بستیاں] -> [ڈی فیکٹو الحاق]

موجودہ نفاذ:
- بفر زون کی تشکیل: سرحدی علاقوں کی صفائی اور ہموار کرنا، جیسے جنوبی لبنان میں لیتانی دریا تک یلو لائن پیری میٹر، اور غزہ میں قلعہ بند کوریڈورز۔
- انفراسٹرکچر کی جڑیں مضبوط کرنا: مغربی کنارے میں مستقل بائی پاس سڑکیں، سکیورٹی دیواریں اور سویلین بستیوں میں توسیع تاکہ علاقائی علیحدگی ناممکن ہو جائے۔
- قانونی ابہام: متنازعہ علاقوں پر ڈی فیکٹو کنٹرول کو آگے بڑھانا جبکہ باضابطہ، ڈی جیور الحاق سے گریز کرنا تاکہ فوری عالمی پابندیوں سے بچا جا سکے۔ ہر بفر زون پر ICJ کا نیا کیس بنتا ہے۔

بکھرے ہوئے محاذ:
1. نظریاتی سخت گیر: حکمران اتحاد میں انتہائی دائیں بازو کے قوم پرست اور مذہبی عناصر جو موجودہ عدم استحکام کو مستقل توسیع کے لیے تاریخی موقع سمجھتے ہیں۔
2. سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ: سیکولر فوجی اور انٹیلی جنس ادارہ جو ان اسٹریٹجک بلندیوں پر قبضے کو خالصتاً عملی خطرے کے انتظام کے نقطہ نظر سے دیکھتا ہے۔
3. بین الاقوامی رکاوٹیں: عالمی ادارے جیسے بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ)، علاقائی عرب ریاستیں، اور امریکی انتظامیہ کے اندر بدلتے دھڑے۔

3. مستقبل کی پیش گوئیاں: جیت کر بھی کنگال

اسرائیل کا راستہ: حد سے زیادہ توسیع کا افق
- فیز 1 (ٹیکٹیکل سرج): اسرائیل اپنی فوری فوجی رفتار برقرار رکھے گا، ہائی ٹیک آپریشنز، فضائی برتری اور قیادت کے خاتمے کے حملوں کے ذریعے اپنے مطلوبہ بفر زونز کو محفوظ بنائے گا۔
- فیز 2 (ساختی ٹوٹ پھوٹ): یکطرفہ پالیسی کی حدود کی وجہ سے شدید گراوٹ۔ گوریلا بغاوتیں ختم ہونے کے بجائے اپنی شکل بدل لیتی ہیں۔ کثیر الجہتی، دشمنانہ قبضوں کے انتظام کی مالی، انسانی اور سفارتی قیمت شدید اندرونی سیاسی اور سماجی بحران کو جنم دے گی۔
- فیز 3 (تنہائی کا جمود): طویل مدتی نتیجہ ایک کمزور سطح مرتفع ہوگا۔ اسرائیل جسمانی علاقے پر قابض تو رہے گا، لیکن عالمی قبولیت کی اس کی امید شدید معاشی دباؤ اور گہری بین الاقوامی تنہائی میں بدل جائے گی۔

اصل حقیقت: انہوں نے ساری پہاڑیاں جیت لیں۔ بہترین نظارہ، بہترین لوکیشن۔ لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ اس گھر کا کوئی انشورنس نہیں کرتا، کوئی اس گھر میں آتا نہیں، اور ہر مہینے اس کی چوکیداری پر پورا بجٹ لگ جاتا ہے۔ یہ اس بندے جیسا ہے جس نے قسطوں پر BMW لے لی، اب پیٹرول کے پیسے نہیں ہیں، اور محلے والے روز شیشے توڑ دیتے ہیں۔ گھر تو بڑا ہے، لیکن سکون زیرو۔

ایران کا راستہ: تھکن کا ڈھانچہ
- فیز 1 (غیر متوازن فرسودگی): تہران "اسٹریٹجک صبر" پر انحصار جاری رکھے گا، اسرائیلی اور مغربی وسائل کو ختم کرنے کے لیے کم لاگت والی ہائبرڈ جنگ کا استعمال کرے گا۔
- فیز 2 (ڈیٹرنس کا انہدام): اسرائیل کے مستقل بفر زونز اور زبردست فضائی مہمات ایران کے پراکسی نیٹ ورکس کی آپریشنل صلاحیتوں کو منظم طریقے سے ختم کر دیں گی۔
- فیز 3 (نظامی تباہی): پراکسی نیٹ ورک ساختی تھکن کا شکار ہو جائے گا۔ بیرونی ڈھال کے خاتمے کے ساتھ، معاشی پابندیوں کا بوجھ اور علاقائی تنازعات کی مالی نکاسی بحران کو اندر کی طرف موڑ دے گی۔

اصل حقیقت: انہوں نے صبر، صبر، صبر اتنا کیا کہ صبر نے خود استعفیٰ دے دیا۔ باہر دنیا میں وہ سپر پاور بننے کی ایکٹنگ کر رہے ہیں، اندر آٹے کی لائن لگی ہے۔ یہ وہ انکل ہیں جو باہر دوستوں میں کہتے ہیں "میرا دبئی میں بزنس ہے" اور گھر میں بچے پوچھ رہے ہیں "ابا بجلی کب آئے گی؟" ایک ہاتھ میں ایٹم کا نعرہ، دوسرے ہاتھ میں خالی تھیلی، اور جیب میں پراکسی کا ٹوٹا ہوا ریموٹ۔

4. استحکام کے لیے تجویز کردہ فریم ورک

سنجیدہ تجویز: نظامی تباہی کے تیسرے مرحلے سے بچنے کے لیے ایران کو اپنی خارجہ پالیسی کو علاقائی توسیع سے ہٹا کر اندرونی استحکام کی طرف موڑنا ہوگا۔
1. سفارتی اعتدال: تہران کو اپنی فوجی پوزیشن کو کم کرنا ہوگا اور اپنے نظریاتی بیانیے کو تبدیل کرنا ہوگا۔ اس کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے علاقائی عرب پڑوسیوں کے ساتھ مضبوط، طویل مدتی عدم جارحیت اور سکیورٹی معاہدوں کو حتمی شکل دینی ہوگی۔
2. اندرونی استحکام: ایران کو اپنی تھکا دینے والی بیرونی مصروفیات کو ترک کر کے اسٹریٹجک تنہائی کی پالیسی اپنانی ہوگی۔ بیرونی غیر ریاستی اداکاروں پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالر کے سرمائے کو براہ راست ملکی معیشت میں لگانا ہوگا۔
3. معاشی لچک اور متبادل بلاکس: مغربی پابندیوں کو بے اثر کرنے کے لیے ایران کو انتہائی پائیدار، خود کفیل معاشی ماڈل میں منتقل ہونا ہوگا۔ اس کے لیے ملکی صنعتی اور زرعی پیداوار کو بہتر بنانا اور متبادل عالمی سپر پاورز اور غیر مغربی اقتصادی اداروں جیسے روس، چین اور برکس فریم ورک کے ساتھ تجارتی انضمام کو گہرا کرنا ہوگا۔

اصل حقیقت - شریک ڈاکٹرائن: ایران کے لیے سب سے بہترین حل یہ ہے: بھائی شریک بن جاؤ۔ اپنا دلدل صاف کرو، اپنا پیاز اگاؤ، اپنی چھت ٹھیک کرو۔ یہ "میں پورے علاقے کا ٹھیکیدار ہوں" والا نشہ چھوڑ دو۔ سارے میزائل کے پیسے سے جا کر بازار سے آٹا، تیل، دوائی خریدو۔ پڑوسی سعودیہ اور امارات سے جا کر بولو "یار پچھلی باتیں چھوڑو، چائے پیتے ہیں، لان کی گھاس کیسے کاٹتے ہو سکھا دو۔" اور چین اور روس کو بولو "باس، ہم آپ کے وفادار فرنچائز ہیں، بس ہمیں دیوالیہ ہونے سے بچا لو۔" کیونکہ ایک AA بیٹری پر ٹیسلا چلانے کی کوشش کرو گے تو گاڑی نہیں، صرف مذاق اڑے گا۔

لفظوں کی ڈکشنری:
فیت اکمپلی = ایسا کام جو ہو گیا تو واپس نہ ہو سکے
بفر زون = درمیان میں خالی حفاظتی پٹی
پراکسی نیٹ ورک = دوسروں کے ذریعے جنگ لڑوانا


آئینۂ حکمرانی: خیبر پختونخوا کی سیاسی روح کا ایک نو-سطحی انتظامی جائزہگزشتہ تقریباً پندرہ سالوں سے، سرحدی صوبہ خیبر پختو...
26/09/2026

آئینۂ حکمرانی: خیبر پختونخوا کی سیاسی روح کا ایک نو-سطحی انتظامی جائزہ

گزشتہ تقریباً پندرہ سالوں سے، سرحدی صوبہ خیبر پختونخوا (KP) ایک قلعہ بھی رہا ہے اور ایک کٹھالی بھی۔ اس کی حکمرانی کو محض سیاسی وفاداری یا یکطرفہ مذمت کے چشمے سے دیکھنا ان گہرے انتظامی حقائق کو نظر انداز کرنا ہے جو اس کی اصل صورتحال کو چلاتے ہیں۔
صوبے کے قوانین، بجٹ اور سیکیورٹی کے اعداد و شمار کو ایک نو-سطحی انتظامی ڈھانچے پر مرتب کر کے، ہم سیاسی شور و غوغا سے بالاتر ہو کر ایک ایماندارانہ جائزے پر مجبور ہو سکتے ہیں کہ کہاں پاکستان تحریک انصاف (PTI) کی انتظامیہ نے پائیدار بنیادیں بنائیں—اور کہاں اس نے صوبے کو قومی بساط پر مہرے کے طور پر استعمال ہونے دیا۔

مرحلہ 1: بنیادی حقائق اور قانونی مینڈیٹ

1. موجودہ سیکیورٹی کی زمینی صورتحال — سرحد کی بھاری قیمت
کسی بھی تجزیے کا ناقابلِ تردید نقطہ آغاز خیبر پختونخوا کے عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی لازوال قربانیاں ہیں۔ جیسا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے حالیہ خودکش دھماکے جیسے المناک واقعات سے ظاہر ہے—جس میں 15 پولیس اہلکار اور 26 نوجوان شہید ہوئے—یہ صوبہ عسکریت پسندی کے خلاف جنگ میں بالکل پہلی صف پر کھڑا ہے۔ کوئی بھی تجزیہ کار یا مخالف اس خطے کے انسانی جانی نقصان کو تسلیم کیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔
2. مرکزی سٹرٹیجک چیلنج — سیاسی عزم کا تضاد
مرکزی تنازعہ سیاسی عزم کے گرد گھومنے والی پولرائزڈ بحث ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران صوبائی رہنماؤں نے عوامی سطح پر ایک نرم رویہ اپنایا ہے اور عسکریت پسندوں کے بیانیے کا براہِ راست مقابلہ کرنے سے ہچکچاہٹ دکھاتی آرہی ہے، جس سے ایک ایسا فکری خلا پیدا ہوا ہے جس نے علاقائی عدم استحکام کو شہہ دی۔ اس کے برعکس، صوبائی حکومت کا اصرار ہے کہ اس نے گہری جڑوں والے سٹرٹیجک اور جغرافیائی چیلنجز کے خلاف مسلسل ایک مشکل جنگ لڑی ہے۔
3. آئینی ناگزیرتا — قانونی مینڈیٹ
سیاسی ڈرامے کے نیچے قانون کا ایک سخت فریم ورک موجود ہے۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 137 اور پولیس آرڈر 2002 کے تحت، صوبائی حکومت کے پاس انتظامی اتھارٹی قائم کرنے، اپنے حدود کی حفاظت کرنے اور اپنے سویلین قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مکمل آپریشنل خودمختاری برقرار رکھنے کا ایک مطلق اور ناقابلِ سمجھوتہ قانونی فرض ہے۔

مرحلہ 2: عملی اقدامات — اخراجات اور سٹرکچرل ڈیزائن کی کامیابیاں
4. میکرو اکنامک بنیاد — سرمایے کی فراہمی
جب ٹھوس انتظامی اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو حامی سیکیورٹی کے لیے ایک بڑے اور ناقابلِ تردید مالیاتی عزم کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بارہ سالہ دورانیے میں، پی ٹی آئی کی قیادت میں انتظامیہ نے کے پی پولیس کے مجموعی بجٹ میں ریکارڈ 408 فیصد کا غیر معمولی اضافہ کیا، اور مجموعی طور پر 824.3 ارب روپے کے فنڈز فراہم کیے۔
5. موجودہ مالیاتی مختصات — فرنٹ لائن کی جدید کاری
اس مالیاتی عزم کا حالیہ مظہر پولیس کے لیے 191.39 ارب روپے کا ریکارڈ بجٹ ہے۔ اس میں سے 14.5 ارب روپے خاص طور پر جدید ترین آلات اور تکنیکی خریداری کے لیے مختص کیے گئے۔ یہ سرمایہ عملی طور پر میدان میں منتقل ہوا ہے، جس کے تحت اہلکاروں کو بکتر بند گاڑیاں، تھرمل امیجنگ، ڈرونز اور اینٹی ڈرون کاؤنٹر سسٹم فراہم کیے گئے ہیں تاکہ سرحدی عسکریت پسندوں کے بدلتے ہوئے حربوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔
6. ادارہ جاتی اصلاحات — صوبائی ایکشن پلان
انتظامی طور پر، حکومت نے مستقل فوجی انحصار سے ہٹ کر سویلین کی قیادت میں سیکیورٹی کی طرف منتقل ہونے کی کوشش کی۔ یہ کوشش ایک 84 نکاتی صوبائی ایکشن پلان کی شکل میں سامنے آئی، جو سیکیورٹی کو مستقل فوجی آپریشنز کے بجائے سویلین فورسز کے ذریعے سنبھالنے اور حساس سرحدی اضلاع میں طویل مدتی، کمیونٹی پر مبنی استحکام کے فریم ورک قائم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

مرحلہ 3: کمزوریاں — سیاسی بساط اور عزائم کی قیمت
7. اندرونی مالیاتی خامی — صلاحیت کا سراب
ریکارڈ توڑ بجٹ کے باوجود، عملدرآمد کے مرحلے میں ایک شدید عدم توازن دیکھا گیا۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کے سٹرکچرل آڈٹ سے یہ تشویشناک حقیقت سامنے آئی کہ اس کے کل بجٹ کا 96 فیصد تک حصہ محض تنخواہوں اور انتظامی اخراجات کی نذر ہو جاتا تھا، جس سے فیلڈ انٹیلی جنس، ڈیجیٹل فارنسکس اور موبائل ٹریکنگ انفراسٹرکچر کے لیے 4 فیصد سے بھی کم رقم بچتی تھی۔ اگرچہ حالیہ آپریشنل ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ سی ٹی ڈی نے 2,000 سے زیادہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ساتھ جوابی کارروائی کی ہے، لیکن ماضی کی اس سٹرکچرل غفلت نے محکمے کو برسوں تک اندرونی طور پر کمزور رکھا۔
8. بیرونی سٹرٹیجک خطرہ
یہ وہ جگہ ہے جہاں انتظامیہ نے ایک ذمہ دار خودمختار ادارے کے بجائے سیاسی بساط پر ایک مہرے کے طور پر کام کیا۔ سرحد پر سیکیورٹی کی شدید لہر کے دوران، صوبائی قیادت نے بارہا اپنی توجہ، سرکاری پروٹوکول اور سیکیورٹی وسائل کو اپنے اصل علاقے سے ہٹا دیا۔ اس کے بجائے، ان وسائل کو وفاقی مرکز کے خلاف ایک جارحانہ ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا—جس سے اسلام آباد میں سرحد پار سیاسی ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی سیاست چمکائی گئی۔ اس فیصلے نے وسیع تر قومی سیاسی مفادات کے لیے مقامی طرزِ حکمرانی پر سمجھوتہ کیا۔
9. مجموعی طرزِ حکمرانی کا نتیجہ — تقسیم شدہ بیانیہ
وفاق کے متحد سیکیورٹی نظام سے ہٹ کر عسکریت پسند دھڑوں کے ساتھ آزادانہ مذاکرات کی کوششوں، اور بلدیاتی قوانین میں بار بار تبدیلیوں کے ذریعے نچلی سطح کی حکمرانی کو متاثر کرنے سے (آئین کے آرٹیکل 140-A کی روح کے برعکس)، ادارہ جاتی استحکام کو نقصان پہنچا۔ اس کا نتیجہ ایک انتہائی منقسم سیکیورٹی ماحول کی شکل میں نکلا، جس کی وجہ سے کے پی کے 60 فیصد سے زیادہ سروے شدہ شہریوں نے گہری مایوسی کا اظہار کیا کہ عملی فیلڈ گورننس کو مسلسل سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھایا گیا۔

تلخ حقیقت
یہ دعویٰ کرنا کہ کچھ نہیں کیا گیا، اربوں روپے کے ٹارگٹڈ اخراجات، پولیس فنڈنگ میں بڑے سٹرکچرل اضافے اور مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سینکڑوں قربانیوں کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ مگر بجٹ میں اضافہ بے معنی ہے اگر وہ صرف بیوروکریسی کی تنخواہوں کی نذر ہو جائے اور فیلڈ ایجنٹس کے پاس بنیادی آلات بھی نہ ہوں۔ وفاقی سیاسی جنگوں میں دباؤ بڑھانے کے لیے ایک فرنٹ لائن صوبے کی انتظامی مشینری کو استعمال کرنا مقامی ذمہ داری سے منہ موڑنے کے مترادف ہے۔
خیبر پختونخوا مزید کسی نظریاتی جنگ یا اسلام آباد کی سیاسی بساط کا مہرہ بننے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ حقیقی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ قیادت صوبے کو سیاسی بساط کا خانہ سمجھنا بند کرے، اور اسے صرف ایک ایسا گھر تسلیم کرے جس کی ہر قیمت پر حفاظت کی جانی چاہیے۔

Da Modi pa haza. ... ( shta na nu ) Da page 2 zal restricted Ko os. Charsada o kalata k lanja jorai ...
26/09/2026

Da Modi pa haza. ... ( shta na nu ) Da page 2 zal restricted Ko os. Charsada o kalata k lanja jorai ...

🇵🇰 تمباکو — ہمارا حق، ہمارا خزانہ | مردان، صوابی، چارسدہ کا مشترکہ مقدمہآپ کے بھائی کی حیثیت سے میرا مطالبہ ہے کہ جو ٹیک...
26/09/2026

🇵🇰 تمباکو — ہمارا حق، ہمارا خزانہ | مردان، صوابی، چارسدہ کا مشترکہ مقدمہ

آپ کے بھائی کی حیثیت سے میرا مطالبہ ہے کہ جو ٹیکس تمباکو کمپنیوں سے لیا جاتا ہے اس کا ایک ایک روپیہ واپس ہمارے ہائی ویز، ہسپتالوں اور مردان، صوابی، چارسدہ کے کسانوں کی فلاح پر خرچ ہونا چاہیے۔

اس مطالبے کو سمجھنے کے لیے تین مثالیں کافی ہیں:

1. ڈبیا کا قانون: آپ صابن خریدیں تو دکاندار سستا کر سکتا ہے، لیکن سگریٹ کی ڈبیا پر تھرڈ شیڈول (سیلز ٹیکس ایکٹ 1990) کے تحت قیمت فکس چھپی ہوتی ہے۔ حکومت اس پر اتنی سختی صرف اس لیے رکھتی ہے کیونکہ یہ اربوں کا خزانہ ہے۔ ہم اسی خزانے میں سے اپنے علاقے کا حق مانگ رہے ہیں۔
ـ2. VIP پروٹوکول: گندم ایک عام سواری ہے جس پر کوئی بھی بیٹھ سکتا ہے، لیکن تمباکو قانون کی نظر میں ایک 'وی آئی پی پروٹوکول گاڑی' ہے جس پر حکومت نے چاروں طرف ناکہ لگایا ہوا ہے۔ گندم پر حکومت کسٹم یا ایکسائز نہیں مانگتی، لیکن تمباکو کا ایک پتہ بھی فیکٹری جائے تو حکومت اپنا حصہ پہلے وصول کرتی ہے۔ جب حکومت اپنا حصہ لیتی ہے تو کسان کو اس کا حصہ کیوں نہیں ملتا؟

3. سونے کی چڑیا: صوابی، چارسدہ اور مردان حکومت کے لیے وہ سونے کی چڑیا ہے جو تمباکو کی شکل میں سونے کا انڈہ دیتی ہے۔ پاکستان کی 95 فیصد سے زائد FCV تمباکو یہیں پیدا ہوتی ہے۔ انڈہ تو اسلام آباد اور کراچی والے لے جاتے ہیں، لیکن اس چڑیا کو دانہ ڈالنے کی باری پر سب ہاتھ کھڑے کر لیتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں انڈے کا آدھا حصہ اسی کاشتکاری کی مٹی پر لگنا چاہیے۔

❓ حل طلب چیلنجز جن پر سوچ بچار ضروری ہے

1. وفاقی اور صوبائی توازن کیسے برقرار رہے گا اور صوبے کو تمباکو کی مد میں خصوصی گرانٹ کیسے ملے گی؟
2. آزاد کشمیر اور دیگر نان-ڈیوٹی پیڈ فیکٹریوں کے خلاف یکساں کریک ڈاؤن کیسے ہوگا تاکہ مردان/صوابی کے ٹیکس دینے والے کسان کو برابر قیمت ملے؟
3. اگر عالمی قوانین مزید سخت ہوتے ہیں تو متبادل فصلوں کا طویل المدتی پلان کیا ہے؟

ان سوالات کا جواب باہمی اتفاق رائے سے ڈھونڈنا ہوگا۔ کیونکہ صوبائی حکومت نے تو مسئلہ حل کرنے کے بجائے شروع دن سے توجہ عالمی ایجنڈا اور دھرنوں پر مرکوز رکھی ہے۔

✅ اصلاحاتی تجاویز — وفاق اور کسان دونوں کے فائدے میں

1. ٹریک اینڈ ٹریس کا مکمل نفاذ: یہ سسٹم صرف سگریٹ فیکٹری تک محدود نہ رہے، گرین لیف تھریشنگ (GLT) پلانٹس پر 100% نافذ کیا جائے۔ اس سے ٹیکس چوری رکے گی، وفاقی ریونیو بڑھے گا اور کسان کے پتے کا وزن اور قیمت مڈل مین کے ہاتھوں مینیپولیٹ ہونے سے بچے گی۔

2. ٹوبیکو ڈویلپمنٹ سیس (TDC) کی ری اسٹرکچرنگ: سیس یوٹیلائزیشن رولز 2007 کے تحت جمع رقم بیوروکریسی میں ضائع کرنے کے بجائے براہ راست پیداواری یونین کونسلوں (جیسے یو سی طورو اور گردونواح) میں ہسپتالوں، ماڈل سڑکوں اور زرعی سبسڈی پر خرچ کی جائے۔

3. ماحول دوست کیورنگ ہبز: لکڑی جلانے والے روایتی بھٹوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے سولر یا بائیو ماس انرجی پر منتقل کیا جائے۔ اس سے وفاق کو ESG معیارات پر پورا اترنے میں مدد ملے گی اور کسان کا ایندھن کا خرچ 50% تک کم ہو جائے گا۔

📋 صوبائی چارج شیٹ: 12 سالہ ناکامی بھی بڑی وجہ

وفاقی پیچیدگی اپنی جگہ، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ کسان کی تباہی میں 70% ذمہ دار صوبائی پالیسی اور انتظامی نااہلی رہی:

الف) غیر آئینی ایکسائز ڈیوٹی: صوبائی حکومت نے کے پی فنانس ایکٹ کے تحت 50 روپے فی کلو صوبائی ایکسائز ڈیوٹی لگائی۔ پشاور ہائی کورٹ نے اسے غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کر دیا کیونکہ ایکسائز وفاق کا اختیار ہے۔ اس غلطی کے ردعمل میں کمپنیوں نے کسانوں کے 5000 سے زائد معاہدے منسوخ کر دیے۔ مال منڈی میں رل گیا۔

ب) TDC پر ڈاکہ: کے پی فنانس ایکٹ 1996 کے تحت TDC کا مقصد صرف مردان، صوابی کے کسانوں کی فلاح تھا، لیکن بڑا حصہ جنرل ریونیو خسارہ پورا کرنے یا دیگر سیاسی منصوبوں پر منتقل ہوتا رہا۔

ج) فیکٹریاں نہ لگانا: 95% پیداوار کے باوجود صوبے میں 1-2 سے زائد فیکٹری فعال نہیں۔ کمپنیاں پلانٹ پنجاب، کراچی اور آزاد کشمیر میں رکھے ہوئے ہیں۔ نتیجہ: وفاقی ایکسائز ڈیوٹی (FED) دوسرے صوبوں میں جمع ہوتی ہے۔ 12 سال میں مراعات دے کر ایک بھی بڑی فیکٹری کے پی میں نہیں لائی گئی۔

د) بلیک مارکیٹ کو کھلی چھوٹ: مردان میں بغیر ڈیوٹی اور بغیر مہر کے غیر قانونی گودام قائم ہوئے۔ صوبائی ایکسائز اور پولیس چھاپے مارنے میں ناکام رہی۔ جب وفاقی اداروں FBR نے گودام سیل کیے تو تاجروں نے خریداری روکنے کی دھمکی دی۔ خمیازہ کسان نے بھگتا۔

حتمی نکتہ: وفاق صرف ٹیکس لیتا ہے۔ مارکیٹ ریگولیٹ کرنا، کسان کو تحفظ دینا، فیکٹریاں کے پی میں لانا اور TDC کا پیسہ سڑکوں اور ہسپتالوں پر لگانا 18ویں ترمیم کے بعد خالصتاً صوبائی کام تھا۔ اس میں صوبائی حکومت مکمل ناکام رہی۔
















🎯

PROPOSAL TO CHAIRMAN BILAWAL BHUTTO ZARDARI: Capturing the KP Narrative Front in 90 Days 🇵🇰🦅Respected Chairman,Opponents...
26/09/2026

PROPOSAL TO CHAIRMAN BILAWAL BHUTTO ZARDARI: Capturing the KP Narrative Front in 90 Days 🇵🇰🦅

Respected Chairman,
Opponents have dominated Khyber Pakhtunkhwa (KP) through digital optics, but they lack ideological depth. As an Advocate of the High Court, PPP UC Toru 2 Candidate, and an active columnist with a 100,000+ views digital footprint, I am ready to lead our narrative counter-offensive—weaponizing the pen where opponents rely on mere noise.

I offer a 90-Day Strategic Plan to establish a dominant, institutional Provincial Intellectual & Digital Cell, using Mardan as our pilot launchpad:

🔹 Month 1: Build a coordinated digital cell of pro-PPP writers, lawyers, and influencers, structuring a network that moves away from individual efforts into a collective party machinery.

🔹 Month 2: Launch an aggressive media blitz targeting the specific governance failures of opponents in central KP and popularizing the PPP manifesto in local languages.

🔹 Month 3: Convert digital momentum into grassroots youth mobilization at the Union Council level.

I do not just offer a strategy; I bring an existing, verified media audience and the legal intellect to protect our narrative front.
If the leadership considers my ability fit for any challenge, I am fully prepared to take on any task or command—provided the party stands firmly behind me with the necessary mandate and structural authority. I request a decision from your office to lead from the front and recharge our ideological dominance in KP. ✊🛡️
Jiye Bhutto! 🥀

⚖️ KZ SARMAD KHAN TORU
Advocate High Court
📍 PPP Candidate, UC Toru 2, Mardan

وہي جواں ہے قبيلے کي آنکھ کا تاراشباب جس کا ہے بے داغ ، ضرب ہے کارياگر ہو جنگ تو شيران غاب سے بڑھ کراگر ہو صلح تو رعنا غ...
26/09/2026

وہي جواں ہے قبيلے کي آنکھ کا تارا
شباب جس کا ہے بے داغ ، ضرب ہے کاري

اگر ہو جنگ تو شيران غاب سے بڑھ کر
اگر ہو صلح تو رعنا غزال تاتاري

عجب نہيں ہے اگر اس کا سوز ہے ہمہ سوز
کہ نيستاں کے ليے بس ہے ايک چنگاري

خدا نے اس کو ديا ہے شکوہ سلطاني
کہ اس کے فقر ميں ہے حيدري و کراري

نگاہ کم سے نہ ديکھ اس کي بے کلاہي کو
يہ بے کلاہ ہے سرمايہ کلہ داري

The Illusion of Power vs. The Reality of Survival: Analyzing the PPP's Current Political TrajectoryThe Pakistan Peoples ...
25/09/2026

The Illusion of Power vs. The Reality of Survival: Analyzing the PPP's Current Political Trajectory

The Pakistan Peoples Party occupies a unique but precarious position. On the surface, it projects an image of modern, progressive governance and indispensable coalition stability, driven by Bilawal Bhutto Zardari. Beneath this polished exterior is a party caught in structural stagnation, elite dependency, and a slow decoupling from its historic grassroots base.

1. The Regional Divide

KP Oblivion:
In Khyber Pakhtunkhwa, the PPP has been reduced to a marginal force. By prioritizing elite consensus in Islamabad over grassroots mobilization in Peshawar, Mardan, and the southern districts, it has ceded the anti-status-quo electorate to populists and religious factions. The local chapter lacks organizational depth and a distinct narrative, rendering it invisible to the province's youth majority.

Sindh Governance Trap:
In its traditional stronghold of Sindh, it enjoys unrivaled electoral security but faces a severe governance crisis. Karachi struggles with infrastructure deficits, while rural districts face water scarcity, agricultural mismanagement, street crime, and economic stagnation. Reliance on influential landlords ensures victories but isolates the modern, educated urban middle class.

2. The Three Hidden Layers

Layer 1: Illusion of Order and Control.
The party operates under a rigid, defensive hierarchy. It appears authoritative within Sindh, but this power is brittle, relying on top-down enforcement rather than organic public enthusiasm.

Layer 2: Practical Disconnect on the Ground.
The greatest threat is conceptual abstraction. The party discusses democratic ideals and legacy but fails on tangible, day-to-day metrics. It remains disconnected from youth anxieties — soaring inflation, lack of digital infrastructure, and stagnant local job markets.

Layer 3: Fractured Audience Reception.
Its messaging now appeals only to two isolated groups: the entrenched political intelligentsia who benefit from the status quo, and a dwindling pool of nostalgic progressives. It is losing the vital middle — the independent, young, pragmatic working class.

3. Why Tactical Victories Are Failing

The Coalition Dilemma:
Securing ministries through shaky alliances offers immediate authority but results in toxic long-term compromise, blunting policy objectives and damaging credibility.

The Economic Blindspot:
Winning tactical concessions while losing the economic narrative creates empty governance. Without a coherent modern economic framework centered on digital economy, transparent job creation, and meritocracy, the old focus on patronage no longer satisfies a young population.

4. Path to Renaissance

1. Comprehensive Institutional Reckoning:
Move beyond nostalgia and dynasty. Initiate internal cleansing, shed corrupt elements, and align publicly with transparency and direct public service.

2. Accept Short-Term Loss for Long-Term Integrity:
Be willing to walk away from toxic power-sharing agreements, even at the cost of federal ministries. Focusing on reviving broken chapters like KP from outside power corridors may be the only way to rebuild the voter base.

3. Fully Pass The Torch:
The generational transition must be authentic, not superficial rebranding. Next-generation leadership must operate free from old-guard power brokers, centered entirely on the economic aspirations of Pakistan's youth.

Toru law chamber ( now I have lost access directly only linked with  Instagram share too something..... Yes a lot of gro...
25/09/2026

Toru law chamber ( now I have lost access directly only linked with Instagram share too something..... Yes a lot of groups I created there having each topic own group a lot of work i done there ....

*These screenshots are from your Academia.edu activity** (or a closely related paper session). Here’s what they show:

# # # Main paper being promoted
**“Notes in question and answer form on Qanoon e Shahadat Order 1984”**
Author: **Asghar A L I Mahar**
- Marked “PDF available”
- Academia is pushing a **$1 PDF Pack** that includes this paper + **37 related papers**
- High relevancy scores (93%) on the suggested papers

# # # Theme of the “Related” papers
Almost every paper listed is about **evidence law**, with a strong focus on:

- Competency of witnesses (especially child / incapable persons)
- Article 3 of the **Qanun-e-Shahadat Order, 1984** (Pakistan’s law of evidence)
- Admissibility, credibility, and examination of child witnesses
- Comparative views (Pakistan, India, Nigeria, South Africa, Malaysia, English common law, Islamic law)
- Privileges, hearsay, attested documents, and fair-trial rights of witnesses

Examples visible in the screenshots:
- Competence of incapable persons to stand as a witness
- Competence and Compellability of child evidence
- Child Testimony and Its Admissibility in Criminal Proceedings
- South African / Nigerian / Malaysian law on child witnesses
- Role of the court in admitting evidence of a child
- Evidence Act Digests and judicial wizard-style notes

# # # The email
Academia.edu sent you (addressed as **sarmad**) an email at 9:23 pm:

> “Page 1 of 8, full text unlocked
> Not an excerpt, sarmad — the whole paper”

This is the typical Academia bot notification when it unlocks a full paper (or detects activity linked to your name/account).

# # # Connection to your earlier claims
This fits the pattern you described:
- Academia.edu tracking mentions/citations of “Sarmad Khan”
- Emails going to spam (or inbox)
- Your background as an **Advocate High Court** (Peshawar High Court / KP Bar Council / District Bar Mardan) who works with evidence law daily
- Your interest in citations (the 192 / 55 figures you mentioned)

These related papers are exactly the kind of material that would surface if you (or a paper linked to your name) are active in the **Qanun-e-Shahadat / child-witness competency** space on Academia.

ELEVEN, THEN EIGHTEEN_The Grit and the Sky_eleven. wildflower. mud.schooled in curses,breathing the poisoned air at home...
25/09/2026

ELEVEN, THEN EIGHTEEN
_The Grit and the Sky_

eleven. wildflower. mud.
schooled in curses,
breathing the poisoned air at home —
she knew the worst of it.
what lay beyond that fence,
what did her innocence have to do with it?

whenever i saw her,
i grew young myself.
even if she were clay,
i looked at her as sky.

free hours —
rough stones. hopping lines.

no time —
"Go home,
or I'll carry you away!"

she fled,
but read the fierce love
buried in that threat.

a long winter passed.

one day,
that household fractured.
charged into the street.

i stepped into the dust.
a sudden hand on my shoulder.

eleven then. eighteen now.
"You don't know what they have done...
but let it go."

she ordered the wolves back.

saw her after a lifetime;
a ghost
passing through.

before you —
one more.

crazy too.

but she —
from hell.
fire that took.

you —

clay.
wildflower.
sky.

she burned.

you —
give light.
My flower..

FOR ME

You:
Luminous,
Endlessly.

I have witnessed
The cloaked chambers of that heart.

Why else —
The heavy iron,
The relentless grind,
Carving an empire from a name?

Inside —
Galaxies fracturing,
Incinerating solely for me.

You inter it deep,
The weight too immense,
Fearing if I decipher your fire,
I would flee.

So you toil harder —
One more hour,
One more rep,
One more coin.

Never for yourself.
For us.

For a frontier carved side-by-side,
The architecture of moments
Not yet inhabited.

Whisper that this labor is for me —
So the waiting holds purpose,
and the sacrifice is never in vain.

You long to deluge me,
Not with fleeting breath,
But with tracing palms —
Slow, warm, absolute.

But why delay?
In the white heat of iron,
At the sharp edge of the desk,
In the silver glass of the mirror —

I am already there,
Entrenched.
Your skin remembering mine
Long before we touch.

FOR ME

Those few lines were real.
Enough. Complete.
The poem ended with her.

And it is us —
Incomplete.

Except the connection.
Except the fears.

I feared —
If I complete it, it may hurt.
So I added words, after words.

Not to make it more true.
Only to keep it from breaking.

It is not the poem that completes.
It is the connection or may be
Explanation my dear.

The Case of Daniel Thomas and the Realities of Global MigrationI SAW THEIR FORTUNE IN THE WATEROn September 22, 2026, an...
25/09/2026

The Case of Daniel Thomas and the Realities of Global Migration
I SAW THEIR FORTUNE IN THE WATER

On September 22, 2026, an incident in the English Channel brought the systemic friction of global migration into sharp focus.

The Incident and Current Legal Status

Daniel Thomas, 37, known as "Danny Tommo" and founder of the UK activist group Patriot Platform, livestreamed himself on a small boat tracking two inflatable dinghies carrying asylum seekers that had reportedly been at sea for over 33 hours.

After passengers were transferred to rescue vessels, footage appears to show Thomas approaching an empty dinghy while a French SNSM rescue worker remained on board and attempting to damage the hull with a blade, shouting "You are on English territory. This is England."

Hampshire and Isle of Wight Constabulary arrested Thomas on September 23 at a petrol station in Hampshire on suspicion of criminal damage with intent to endanger life. He was subsequently charged with one count of criminal damage and one count of failing to disclose his phone PIN under Section 53 of the Regulation of Investigatory Powers Act 2000.

On September 25, he appeared at Basingstoke Magistrates' Court via videolink, pleaded not guilty to both charges, and was remanded in custody until his scheduled appearance at Portsmouth Crown Court on September 29.

The arrest prompted gatherings of supporters, including approximately 200 people outside the investigation centre in Basingstoke and demonstrations in Gosport and Dover.

The Global Migration: Who is Responsible?

The debate divides into two frameworks:

A. The Systemic / Governance Framework: Migration is driven by protracted push factors — geopolitical instability, economic inequality and legacy extraction, and environmental displacement. From this perspective, the crisis reflects a failure of safe, regulated pathways and diplomatic processing.

B. The Sovereign / Infrastructure Framework: States emphasize territorial sovereignty, the rule of law in vetting entrants, measurable strain on housing, healthcare and welfare systems, and public anxiety over rapid demographic change.

Both frameworks agree the Channel crossing is dangerous — over 41,000 people crossed last year — and that enforcement alone has not stopped it.

What Water, Fire and Phone Revealed

I observed this without interpretation, only water, fire, and phone:

The Man on the Small Boat
A man spent all day chasing people who spent 33 hours seeking survival.
They were looking for land. He was looking for a camera.
The sea gave him a moment of attention, the petrol station gave him a night to reflect.

If one is that angered by an empty rubber boat, the conflict is not with invasion — it is with internal emptiness.

He believed: "If I cut this boat, no more boats will come."
The sea responds: It existed before flags, before borders. A boundary cannot be cut into water.

The Phone
He requested his phone remain on.
The device requested his PIN.
He declined.
He now has time without a livestream to consider identity without an audience.

The Crowd
Two hundred faces covered, shouting at water in the wrong town.
They came to Gosport to stop a boat that landed in Dover.
They sought to be soldiers. The tide revealed them as spectators.

A movement that must hide faces to demonstrate patriotism is not confident in its own actions.

Two Roles in This World:
One cuts what others need to survive.
One grows what others need to survive.
One ends at a petrol station.
The other ends with bread on the table.

The Reality: The Living Map

The Isolated Fortress: High walls, rigid borders, identity by flag, peace through defense, migrant defined as stranger.

The Interconnected Whole: Fluid, cooperative ground, identity by shared humanity, peace through daily deed, migrant defined as brother.

The transience of prosperity: No civilization remains permanently insulated. Asylum law exists because safety is not guaranteed by birth certificate — it is collective insurance.

From Soldier to Gardener: The Soldier builds walls from fear. The Gardener cultivates, knowing distinct flowers share one root. True peace is bread broken and a hand held in need.

The Verdict of the Traditions: One Action, One Judgment

1. Islam — Ibn al-Sabil (The Son of the Road):
The Qur'an establishes a protected legal category for the traveler, among the eight entitled to Zakat as a right (Qur'an 9:60), and defines serving him as true righteousness (Qur'an 2:177). In jurisprudence, destroying a vessel while a rescuer is aboard is classified as fasad and endangerment of a mustamin.

2. Zoroastrianism — Humata, Hukhta, Hvarshta:
Good Thoughts, Good Words, Good Deeds. A distressed traveler is a test of Asha against Druj. To damage a lifeline is Druj; to offer water and bread is Asha.

3. Christianity — The Stranger as Christ:
Matthew 25:35 — "I was a stranger and you invited me in." Luke 10 — neighbor is defined by mercy, not by flag. Matthew 26:52 — rejection of the sword as a means to secure a kingdom.

In Islam, he is to be protected.
In Zarathustra, he is to be fed.
In Christianity, he is to be welcomed.

Many boats, many voices — but One Sea, One Sun.

Address

Khan Ghari Toru

23200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khanzada Sarmad Khan Toru posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Khanzada Sarmad Khan Toru:

Shortcuts

  • Want your business to be the top-listed law practice?

Share