07/12/2025
*پنجاب میں جاری جعلی پولیس مقابلوں کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج*
میاں دائود ایڈووکیٹ سمیت متعدد وکلاء نے جعلی پولیس مقابلوں کیخلاف آئینی درخواست دائر کر دی
درخواست میں پنجاب حکومت، پنجاب پولیس، سی سی ڈی، ایف آئی اے، وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے
جنوری 2025 سے پنجاب میں جعلی پولیس مقابلوں میں شہریوں کو قتل کیا جا رہا ہے، درخواستگزار وکلاء
شہریوں کو جعلی اور نامعلوم مقدمات میں نامزد کرکے ریکارڈ بنا کر قتل کیا جا رہا ہے، درخواستگزار وکلاء
میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک 1100 کے قریب شہریوں کو پولیس مقابلوں میں قتل کیا جا چکا ہے، درخواستگزار وکلاء
اعلی عدلیہ متعدد فیصلوں میں جعلی پولیس مقابلے آئین و قانون کیخلاف قرار دے چکی ہے، درخواستگزار وکلاء
جعلی پولیس مقابلوں کو کریمنل جسٹس سسٹم کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، درخواستگزار
وہاڑی میں ذیشان ڈھڈی ایڈووکیٹ کا قتل جعلی پولیس مقابلے کی شرمناک مثال ہے، درخواستگزار وکلاء
جعلی پولیس مقابلوں کیخلاف انسداد حراست ہلاکت ایکٹ 2022 کا قانون نافذ کیا گیا، درخواستگزار گزار وکلاء
قانون کے تحت ایف آئی اے زیر حراست ہر ہلاکت کی 30 دن میں انکوائری کرنے کی پابند ہے، درخواستگزار وکلاء
لاہور ہائیکورٹ نے وزیر اعلی پنجاب، وفاقی حکومت کو 2022 کے قانون پر عملدرآمد کا حکم دیا، درخواستگزار وکلاء
لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود پنجاب میں شہریوں کو ملزم قرار دے کر قتل کیا جا رہا ہے، درخواستگزار وکلاء
قانون کے نفاذ اور عدالتی فیصلوں کے باوجود ایف آئی اے نے آج تک کسی ہلاکت کی انکوائری نہیں کی، درخواستگزار وکلاء
لاہور ہائیکورٹ پنجاب میں فوری طور پر پولیس مقابلے روکنے کا حکم جاری کرے، استدعا
عدالت ایف آئی اے کو جنوری 2025 سے لیکر آج تک تمام پولیس مقابلوں کی انکوائری کا حکم دے، درخواست میں استدعا
لاہور ہائیکورٹ انسداد حراست ہلاکت ایکٹ 2022 پر سختی سے عملدرآمد کا حکم دے، استدعا