25/05/2026
بھائی۔۔
اُس دن ایک ساتویں جماعت کے لڑکے نے پرنسپل کو واش روم میں بند کر دیا… مگر جب اُس نے وجہ بتائی، تو سزا دینے والی خاتون خود خاموش ہو گئیں۔ 🥀
پرنسپل انامیکا نے آخری فائل بند کی، شوہر سے مختصر سی بات کی اور موبائل میز پر رکھ کر واش روم میں چلی گئیں۔
چند منٹ بعد جب واپس آنے لگیں تو دروازہ نہیں کھلا۔
انہوں نے زور لگایا، بار بار کنڈی گھمائی، آوازیں دیں… مگر دروازہ باہر سے بند تھا۔
آدھا گھنٹہ گزر گیا۔
آخرکار چپڑاسی نے آواز سنی، دفتر میں آیا اور باہر سے دروازہ کھولا۔
انامیکا باہر آئیں تو سانس پھول رہی تھی۔
پانی پیا، خود کو سنبھالا، پھر فوراً سی سی ٹی وی فوٹیج کھولی۔
ویڈیو میں ایک دبلا پتلا سا لڑکا دبے پاؤں اُن کے دفتر میں داخل ہوا… اِدھر اُدھر دیکھا… اور باہر سے واش روم کی کنڈی لگا کر بھاگ گیا۔
لڑکے کی تصویر نکلوائی گئی۔
چپڑاسی چند منٹ میں اُسے ڈھونڈ لایا۔
ساتویں جماعت کا طالب علم… راج۔
انامیکا نے سب کو باہر بھیج دیا۔
پھر اُس کے سامنے فوٹیج چلا کر پوچھا:
“یہ تم نے کیا تھا؟”
راج خاموش کھڑا رہا۔
سر جھکا ہوا۔
ہاتھ کانپ رہے تھے۔
انامیکا نے کمپیوٹر میں اُس کا ریکارڈ کھولا تاکہ والدین کو بلایا جا سکے۔
پھر اچانک اُن کی نظریں ایک نام پر رک گئیں۔
“پری… کلاس فور بی…”
انہوں نے آہستہ سے پوچھا:
“وہ تمہاری بہن ہے؟”
راج نے پہلی بار سر اٹھایا۔
اور بہت معصومیت سے ہلکا سا مسکرا دیا۔
بس اُسی لمحے انامیکا سب سمجھ گئیں۔
صبح اسمبلی میں انہوں نے پوری اسکول کے سامنے پری کو ڈانٹا تھا۔
صرف اس لیے کہ اُس سے پانی کی بوتل گر گئی تھی۔
چھوٹی سی بچی سب کے سامنے روتی رہی تھی۔
اور شاید اُس کے بڑے بھائی نے پہلی بار اپنی بہن کی بے بسی دیکھی تھی۔
اُس کے پاس طاقت نہیں تھی…
صرف غصہ تھا۔
اور بچوں کا غصہ اکثر عجیب راستے چنتا ہے۔
انامیکا کافی دیر خاموش رہیں۔
پھر انہوں نے فوٹیج بند کی، راج کی طرف دیکھا اور نرم لہجے میں بولیں:
“جاؤ… کلاس اٹینڈ کرو۔”
راج حیران رہ گیا۔
“آپ… سزا نہیں دیں گی؟”
انامیکا کے لبوں پر بہت ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
“نہیں۔ مگر آئندہ اپنی بہن کے لیے لڑنا… تو صحیح طریقے سے لڑنا۔”
اُس رات راج گھر آیا تو پری خاموش بیٹھی تھی۔
وہ اُس کے پاس گیا اور بولا:
“اب ڈرنا مت… پرنسپل آپ کو دوبارہ کبھی سب کے سامنے نہیں ڈانٹیں گی۔”
پری نے کوئی سوال نہیں پوچھا۔
صرف مسکرا دی۔
کیونکہ چھوٹی بہنیں اکثر اپنے بھائیوں پر اندھا یقین کرتی ہیں۔
اور اُس رات پرنسپل انامیکا دیر تک چھت کو دیکھتی رہیں۔
انہیں اپنا بڑا بھائی یاد آ رہا تھا…
جو بچپن میں محلے کے لڑکوں سے لڑ پڑتا تھا اگر کوئی اُنہیں رُلا دیتا۔
تب انہیں پہلی بار احساس ہوا:
کچھ رشتے قانون سے نہیں چلتے…
صرف محبت سے چلتے ہیں۔