07/06/2026
عدالت میں واٹس ایپ چیٹ کو بطور ثبوت پیش کرنے کی ایک سادہ ترکیب
اگر آپ واٹس ایپ کی کسی گفتگو کے اسکرین شاٹس لے رہے ہیں اور امکان ہے کہ وہ بعد میں عدالت میں بطور ثبوت استعمال ہوں، تو اسکرین شاٹ لینے سے پہلے متعلقہ شخص کا نمبر عارضی طور پر اَن سیو (Unsave) کر دیں، اس کے بعد اسکرین شاٹ لے لیں اور پھر نمبر دوبارہ سیو کر لیں۔
کیوں؟
اگر نمبر سیو ہوگا تو اسکرین شاٹ میں صرف نام ظاہر ہو سکتا ہے، جیسے "جان"، "چیئرمین" یا "بہترین دوست"۔
مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی شخص کسی بھی فون نمبر کو کسی بھی نام سے سیو کر سکتا ہے۔
اگر معاملہ عدالت تک پہنچ جائے تو دوسرا فریق اعتراض کر سکتا ہے اور یہ مؤقف اختیار کر سکتا ہے کہ اسکرین شاٹ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ پیغامات واقعی اسی شخص نے بھیجے تھے، کیونکہ دکھایا گیا نام تو صرف وہ تھا جو آپ نے اپنے فون میں محفوظ کیا ہوا تھا۔
لیکن جب نمبر اَن سیو ہوتا ہے تو اسکرین شاٹ میں اصل فون نمبر ظاہر ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں گفتگو کو ایک مخصوص نمبر سے منسلک کرنا آسان ہو جاتا ہے اور بھیجنے والے کی شناخت کے بارے میں اعتراضات کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
یقیناً صرف اتنا کرنا ہی ثبوت کو خودکار طور پر قابلِ قبول یا حتمی نہیں بنا دیتا۔ عدالت دیگر امور کو بھی مدنظر رکھتی ہے، جیسے ثبوت کی اصلیت (Authenticity)، ضرورت پڑنے پر سرٹیفکیشن، اور یہ اطمینان کہ پیغامات میں کسی قسم کی ترمیم یا ردوبدل نہیں کیا گیا۔
تاہم، اپنے محفوظ کردہ رابطے کے نام کے بجائے اصل فون نمبر ظاہر کرنا آپ کے ثبوت کو نسبتاً مضبوط بنانے میں مدد دے سکتا ہے اور غیر ضروری اعتراضات سے بچا سکتا ہے۔
بہت سے مقدمات ایسی چھوٹی مگر اہم باتوں کی وجہ سے جیتے یا ہارے جاتے ہیں جنہیں لوگ اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔