Legal Aid , Rights & Laws in Pakistan.

Call Website Contact the business

Legal Aid , Rights & Laws in Pakistan. This page aims to raise public understanding of legal rights in Pakistan, as well as internationally.

24/06/2026

مختار نامہ عام یعنی جنرل پاور آف اٹارنی سے جائیداد اپنے نام نہیں ہو سکتی! لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ ⚖️
2026 MLD 320
پاکستان میں جائیداد کے سب سے بڑے فراڈ میں سے ایک یہ ہے کہ لوگ مختار نامہ عام یعنی جنرل پاور آف اٹارنی کے ذریعے جائیداد اپنے یا اپنے رشتہ داروں کے نام منتقل کر لیتے ہیں — لاہور ہائیکورٹ نے اس پر واضح فیصلہ سنا دیا!
کیس کا پس منظر:
یہ کیس ایک بیوہ کے حق میں آیا جس کے شوہر کی وفات سے پہلے ہی جائیداد جنرل پاور آف اٹارنی کے ذریعے فراڈ سے منتقل کر دی گئی تھی۔ عدالت نے تمام انتقالات کالعدم قرار دیے۔
عدالت کے اہم فیصلے:
✅ جنرل پاور آف اٹارنی ملنے سے یہ اختیار خود بخود نہیں مل جاتا کہ جائیداد اپنے سگے بھائی یا قریبی رشتہ دار کے نام کر لو — اصل مالک کی واضح اور مخصوص اجازت ضروری ہے
✅ اگر پاور آف اٹارنی متنازع ہو تو اس کے اصل گواہان، سب رجسٹرار، پٹواری اور متعلقہ سرکاری افسران کا عدالت میں پیش ہونا لازمی ہے
✅ اگر یہ افراد عدالت میں نہ آئیں تو قانون سمجھتا ہے کہ سچ چھپایا جا رہا ہے
✅ فراڈ پر مبنی پاور آف اٹارنی یا اس کے ذریعے ہونے والی خرید و فروخت اور انتقالات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں
✅ "فراڈ انتہائی مقدس قانونی کارروائی کو بھی ختم کر دیتا ہے" — یہ اصول اب بھی پاکستانی عدالتوں میں لاگو ہے
✅ اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ اگر شواہد پر مبنی ہو تو عموماً ٹرائل کورٹ کے فیصلے پر فوقیت رکھتا ہے
عملی سبق — کن باتوں کا خیال رکھیں:
🔹 کسی کو بھی جنرل پاور آف اٹارنی دیتے وقت حدود واضح لکھیں — کیا کر سکتا ہے، کیا نہیں
🔹 اگر آپ کو شک ہو کہ پاور آف اٹارنی کے ذریعے جائیداد فراڈ سے منتقل ہوئی — فوری قانونی چارہ جوئی کریں
🔹 وارثین اور بیوہ خواتین کے لیے — باپ یا شوہر کی وفات سے پہلے ہونے والے انتقال بھی چیلنج ہو سکتے ہیں
🔹 جائیداد کی تمام دستاویزات ہمیشہ اپنے پاس محفوظ رکھیں
⚠️ یاد رکھیں: پاکستان میں جائیداد کے فراڈ کے زیادہ تر کیسز پاور آف اٹارنی کے غلط استعمال سے جڑے ہیں۔ ابھی اپنی جائیداد کی دستاویزات چیک کریں!

خواتین کی وراثت  کے حق پر چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان کا خواتین کے جائیدادوں میں وراثتی حقوق کے تحفظ کیلئ...
19/06/2026

خواتین کی وراثت کے حق پر چیف جسٹس وفاقی آئینی
عدالت امین الدین خان کا خواتین کے جائیدادوں میں وراثتی حقوق کے تحفظ کیلئے ملکی عدالتی تاریخ کا پہلا اور شاندار فیصلہ۔۔۔۔۔

وفاقی آئینی عدالت نے بی بی امینہ وغیرہ کیس میں خواتین کے وراثتی تنازعات میں راضی نامہ /تحریری مفاہمت کیلئے 13سخت قانونی اصول جاری کر دیئے

آئندہ تمام ملکی عدالتیں، ریونیو حکام خواتین کے وراثتی تنازعات میں درج ذیل اصولوں پر سختی سے عملدرآمد کرینگے

پہلا حکم:تمام عدالتیں اورریونیو حکام خواتین کے وراثتی تنازعات کی دستاویزات پراعلی درجے کی احتیاط اور توجہ دیںگے

دوسرا حکم:کسی تحریری راضی نامہ والی دستاویز کی بنیاد پر انتقال وغیرہ (چاہے تصدیق شدہ ہی کیوں نہ ہو)تب تک درست تصور نہیں کیا جائیگا جب تک اس راضی نامہ کی رضامندی کا آزادانہ ثبوت نہ ہو اور راضی نامہ کے تمام اجزا بارے مکمل آگاہی نہ ہو۔

تیسرا حکم:وراثتی تنازعات میں خواتین کی تحریری مفاہمت /راضی نامہ کے آزادانہ ماحول میں ہونےکو ثابت کرنے کا بوجھ اس فریق پر ہوگا جو اس راضی نامے سے فائندہ لینے والا ہوگا۔

چوتھا حکم: تمام عدالتیں اس بات کو یقینی بنائیںگی کہ کیا ریکارڈ سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ خواتین کے وراثتی تنازعات میں راضی نامہ یا وراثت سے دست برداری کی بابت کو خواتین کو مکمل آگاہی اور علم تھا۔

پانچواں حکم: یہ لازمی ثابت ہونا چاہیےکہ وراثتی تنازعات میں راضی نامہ لکھنے والی یا دستبرداری لکھنے والی خواتین کو تحریر سے قبل وراثتی حقوق اور تحریر کی بابت آزادانہ مکمل قانونی رہنمائی دستیاب تھی ۔

چھٹا حکم:وراثتی تنازعات کی مفاہمت کی جانچ پڑتال ایسے کی جائیگی کہ اس میں کسی قسم کا کوئی دبائو، سماجی برتری، فراڈ، غلط بیانی یا دبائو کا عنصر تو شامل نہیں تھا۔

ساتواں حکم:جہاں کہیں معاوضہ کا عنصر شامل ہو تو اس بات کو یقینی بنایا جائیگا کہ یہ معاوضہ خواتین قانونی طریقے سے واقعی ہی ملا ہے اور معاوضہ مناسب اور حقیقی ہے کہ نہیں۔

آٹھواں حکم:جو بھی دستاویز لکھی جائیگی، اس دستاویز کے تمام عناصر یا اجزا عام فہم زبان بالخصوص اس زبان میں ہوگی جو خواتین کیلئے آسانی سے سمجھ آنے والی ہو۔

نواں حکم:عدالتی اس امر کی تصدیق کرینگی کہ راضی نامہ یا مفاہمت لکھنے والی خواتین کوجلد بازی یا دبائو کے بغیرمشاورت کا مناسب موقع فراہم کیا گیا ہے۔

دسواں حکم :ہر اس ٹرانزیکشن کو سختی سے مسترد کیا جائیگا جو شعوری نہ ہو، غیرمناسب ہو اور خاتون وارث کے حق متاثر کرتی ہے، تاوقت یہ کہ اس کیخلاف ٹھوس شہادت نہ آ جائے۔

گیارہواں حکم:خواتین کے وراثتی تنازع کے اردگرد کے تمام مشکوک حالات و اقعات کو فائدہ لینے والا قابل اطمینان وضاحت کرے گاورنہ وہ مشکوک حالات اور واقعات فائدہ لینے والے کیخلاف پڑھے جائیں گے۔

بارہواں حکم:خواتین کے وراثتی تنازعات میں انہیں وراثتی حقوق سے مفاہت کے ذریعے دستبربرداری کی بابت فیصلہ دینے سے پہلے عدالتیں لازمی طور پر خواتین کی رضامندی اور آگاہ شدہ آگاہی کی بابت اپنی مثبت فائنڈنگ ریکارڈ کرینگی۔

تیرہواں حکم: تمام ریونیو حکم وراثتی انتقالات درج کرنے سے پہلے آئینی عدالت کے ان12احکامات پر عملدرآمد یقینی بنائیں گی۔

16/06/2026

فقہ جعفریہ اور فقہ حنفیہ میں مرحوم کی جائیداد کی تقسیم کے
بارے میں ہائی کورٹ کا فیصلہ
جس میں شیعہ ہونے کا سرٹفکیٹ دیا گیا

پھالیہ، منڈی بہاؤالدین کا علی محمد فوت ہوا تو اسکے ورثاء میں
صرف بیٹیاں تھیں، بیٹا نہ تھا۔ بیٹیوں نے اپنے باپ کو شیعہ/ فقہ جعفریہ کا پیروکار ظاہر کیا اور 30 جنوری کو ساری جائیداد اپنے نام انتقال کروا لی۔ لیکن یہ انتقال 6 فروری کو ریونیو افسر نے اس وجہ سے منسوخ کر دیا کہ بیٹیاں شجرۂ نسب ثابت کرنے میں ناکام رہی تھیں۔

اس کے بعد بیٹیوں نے 26 فروری کو اپنے والد کا ایک ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنوایا جس میں واضح طور پر اپنے والد کا مسلک "فقہ جعفریہ" لکھوایا۔ اس سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر 29 مئی کو فقہ جعفریہ کے مطابق وراثتی انتقال بیٹیوں کے نام ہو گیا، اگرچہ اس موقع پر کچھ افراد نے تصدیق کی کہ مرحوم شیعہ تھے، جبکہ چار افراد نے گواہی دی کہ مرحوم سنی تھے، مگر افسرِ مال نے شیعہ مسلک کو تسلیم کر لیا۔

(واضح رہے کہ اگر متوفی کی صرف بیٹیاں ہوں اور کوئی بیٹا نہ ہو تو فقہ حنفی کے مطابق دو تہائی وراثت بیٹیوں کو اور باقی قریبی رشتہ داروں کو ملتی ہے، جبکہ فقہ جعفریہ کے مطابق ایسی صورت میں تمام جائیداد صرف بیٹیوں کو ہی ملتی ہے۔ رض)

علی محمد کا ایک قریبی رشتہ دار (کزن) خوشی محمد تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ علی محمد سنی / فقہ حنفی کا پیروکار تھا، لہٰذا اسکی وراثت میں سے مجھے بھی میرا حصہ دیا جائے۔ خوشی محمد نے سول کورٹ میں اپنا وراثتی حصہ لینے کیلئے مقدمہ دائر کر دیا۔

خوشی محمد کی طرف سے عدالت میں محلے کے امام مسجد بطور گواہ پیش ہوئے، جنہوں نے گواہی دی کہ مرحوم علی محمد کا جنازہ انہوں نے پڑھایا تھا اور وہ سنی حنفی تھا۔ گاؤں کے یونین ناظم حامد علی، جو خود شیعہ تھے، انہوں نے گواہی دی کہ علی محمد سنی تھا۔ اسی طرح علی محمد کے ایک بھانجے شیر محمد نے بھی اس کے سنی ہونے کی گواہی دی۔

دوسری طرف متوفی علی محمد کی بیٹی 'صاحب بی بی' بطور گواہ پیش ہوئی اور کہا کہ اس کے والد شیعہ تھے۔ جب اس پر جرح ہوئی تو اس نے اقرار کیا کہ اس کے والد فصلوں کی پیداوار میں سے دس فیصد (عشر) غریبوں کو دیتے تھے۔ وہ شیعہ اور سنی اذان میں فرق نہ بتا سکی۔ باغِ فدک بارے سوال ہوا تو اس کے بارے میں بھی نہ بتا سکی۔ مزید اقرار کیا کہ اس کا نکاح منظور احمد نامی سنی مولوی نے پڑھایا تھا۔ کہا کہ والد کا جنازہ نقوی صاحب نے پڑھایا تھا۔ بیٹیوں کے ایک گواہ نے کہا کہ جنازہ مولوی منظور نے پڑھایا اور ایک کے مطابق سید اعجاز نے پڑھایا۔

سول (ٹرائل) کورٹ نے ان شہادتوں کو سامنے رکھتے ہوئے قرار دیا کہ مرحوم سنی المسلک تھا، بیٹیاں باپ کی تمام جائیداد خود لینے کے لیے اسے شیعہ ثابت کرنا چاہ رہی ہیں۔ عدالت نے خوشی محمد کا دعویٰ اس کے حق میں ڈگری کر دیا۔

علی محمد کی بیٹیوں نے ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل کی جو خارج ہوگئی۔ انہوں نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا، جہاں جسٹس احمد ندیم ارشد نے جنوری 2025ء میں سماعت کی اور فیصلہ تحریر کیا۔

ہائیکورٹ نے لکھا کہ سپریم کورٹ "پٹھانا بنام وسائی" کیس (پی ایل ڈی 1965 ایس سی 134) میں یہ قرار دے چکی ہے کہ "برصغیر میں ہر مسلمان کو سنی مسلک کا سمجھا جاتا ہے جب تک کہ اس کے برعکس کوئی ٹھوس ثبوت نہ دیا جائے"۔ یوں مرحوم کو شیعہ ثابت کرنے کی ذمہ داری بیٹیوں کی تھی، جس میں وہ بری طرح ناکام رہیں۔ جبکہ مدعی نے امام مسجد، گاؤں ناظم اور دیگر گواہوں و دستاویزی شہادتوں سے ثابت کیا کہ علی محمد سنی المسلک تھا۔

علی محمد کی بیٹی صاحب بی بی نے دعویٰ کیا کہ وہ 30، 32 برسوں سے مجالس میں شرکت کرتی اور اپنے گھر میں مجلس بھی کراتی ہے۔ پھر بھی وہ قضیہ باغِ فدک سے قطعی ناواقف تھی۔ باغِ فدک وہ اہم تاریخی واقعہ ہے جو حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا اور خلافت کے درمیان باغِ فدک کی ملکیت سے متعلق ہے۔ یہ شیعہ اسلام کا ایک مرکزی موضوع ہے جو ہر مجلس میں بیان ہوتا ہے۔ جو شخص 30 سال سے مجالس میں شامل ہو، اس کا اس موضوع سے قطعی بے خبر ہونا غیر منطقی اور ناقابلِ یقین ہے۔

صاحب بی بی نے تسلیم کیا کہ والد فصل کا دسواں حصہ (عشر) دیتے تھے، جو کہ سنی مسلک کا طریقۂ کار ہے، جبکہ شیعہ مسلک میں عشر نہیں بلکہ سالانہ بچت کا پانچواں حصہ بطور "خمس" سادات کو ادا کیا جاتا ہے۔ صاحب بی بی نے اعتراف کیا کہ اسکا اور اسکے بیٹے کا نکاح سنی مولوی نے پڑھایا۔ بیٹیوں کے گواہان اس بات پر متفق نہ ہو سکے کہ جنازہ کس نے پڑھایا۔ جبکہ مدعی نے خود جنازہ پڑھانے والے امام کو پیش کیا اور اسے جرح میں نہیں توڑا گیا۔ پہلے انتقال کے منسوخ ہونے کے فوراً بعد ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں مرحوم کا مسلک "فقہ جعفریہ" درج کروانا مدعاعلیہم کی ایک سوچی سمجھی چال تھی تاکہ مرحوم کی مکمل جائیداد ہتھیا سکیں۔

ہائیکورٹ نے ماتحت عدالتوں کے مرحوم علی محمد کو سنی المسلک قرار دینے کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے صاحب بی بی وغیرہ کی پٹیشن خارج کر دی۔

سپریم کورٹ نے وزیراعظم شہباز شریف کے ہتک عزت دعویٰ میں بانی پی ٹی آئی کے حق دفاع کی بحالی کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا​عد...
13/06/2026

سپریم کورٹ نے وزیراعظم شہباز شریف کے ہتک عزت دعویٰ میں بانی پی ٹی آئی کے حق دفاع کی بحالی کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا

​عدالتِ عظمیٰ کا یہ اہم تحریری فیصلہ 25 صفحات پر مشتمل ہے

​سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے دو ایک کی اکثریت سے بانی پی ٹی آئی کی نظرثانی درخواست منظور کی

​بینچ کی سربراہی سینیئر ترین جج جسٹس عائشہ اے ملک نے کی

​تین رکنی بینچ میں جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے

​سپریم کورٹ کا یہ اکثریتی فیصلہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریر کیا ہے

​بینچ میں شامل جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے اکثریتی فیصلے کے خلاف اپنا اختلافی نوٹ لکھا

​ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلے قانون کے مطابق تھے، جسٹس ہاشم خان کاکڑ کا اختلافی نوٹ

​مقدمے میں فریق کو جواب دینے کے کافی مواقع ملے لیکن بار بار التوا مانگا گیا، اختلافی نوٹ

​اکثریتی ججز نے ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کے بانی پی ٹی آئی کا حق دفاع ختم کرنے کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے

​کیس کو دوبارہ ٹرائل کورٹ بھیج رہے ہیں تاکہ فریقین کو جواب کا پورا موقع مل سکے، تحریری فیصلہ

​دیوانی مقدمات میں کسی کا دفاع کرنے کا حق بغیر سوچے سمجھے ختم نہیں کیا جا سکتا، سپریم کورٹ

​کسی کا حقِ دفاع ختم کرنا قانونی کارروائی میں موت کی گھنٹی بجانے کے مترادف ہے، عدالت کے ریمارکس

​آئین کے آرٹیکل 10A کے تحت ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل کا بنیادی حق حاصل ہے، سپریم کورٹ

​سیاسی ریلی میں گولی لگنے سے زخمی شخص کے لیے حلف نامہ دینا یا وکیل سے مشورہ کرنا جسمانی طور پر ناممکن تھا، فیصلہ

​قانون کسی بھی انسان کو ایسے کام پر مجبور نہیں کرتا جو وہ کر ہی نہ سکتا ہو، عدالتِ عظمیٰ

​عدالتی احکامات پر عمل نہ ہونے کی صورت میں پہلے کم سزا یا جرمانے کا متبادل دیکھنا چاہیے تھا، فیصلہ

​کیس میں تاخیر جان بوجھ کر کی گئی یا نہیں، اس کا فیصلہ ماضی کے رویے پر نہیں بلکہ اس دن کے حالات پر ہوگا، سپریم کورٹ

​سخت قانونی دفعات کا مقصد سرکش لوگوں کو نظم و ضبط سکھانا ہے، معذوروں کو سزا دینا نہیں، فیصلہ

​مخالف فریق کی باقاعدہ تحریری درخواست کے بغیر عدالت خود سے کسی کا حقِ دفاع ختم نہیں کر سکتی، سپریم کورٹ

​انصاف کا تقاضا ہے کہ مقدمات کا فیصلہ تکنیکی بنیادوں پر نہیں بلکہ میرٹ پر کیا جائے، تحریری فیصلہ

​درخواست گزار بانی پی ٹی آئی کے وکیل محمد حسین چوٹیا نے عدالت میں دلائل دیے

​سیاسی ریلی میں فائرنگ سے زخمی ہونے کی وجہ سے میرا مؤکل جواب جمع نہیں کروا سکا، وکیل محمد حسین چوٹیا

​گولی لگنے کے باعث ہسپتال میں داخل مریض پر جان بوجھ کر نادہندگی کا الزام نہیں لگایا جا سکتا، محمد حسین چوٹیا کے دلائل

​مخالف فریق میاں شہباز شریف کی طرف سے نامور وکیل مصطفیٰ رمدے عدالت میں پیش ہوئے

​مخالف فریق نے عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی کی، وکیل میاں شہباز شریف مصطفیٰ رمدے کا موقف

​بانی پی ٹی آئی کی طرف سے جواب جمع کرانے میں جان بوجھ کر تاخیر کی گئی، وکیل مصطفیٰ رمدے

​ٹرائل کورٹ نے بار بار موقع دینے کے بعد قانون کے مطابق حقِ دفاع ختم کیا تھا، شہباز شریف کے وکیل کا مؤقف

​




کورٹ نے وزیراعظم شہباز شریف کے ہتک عزت دعویٰ میں بانی پی ٹی آئی کے حق دفاع کی بحالی کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا

عدالتِ عظمیٰ کا یہ اہم تحریری فیصلہ 25 صفحات پر مشتمل ہے

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے دو ایک کی اکثریت سے بانی پی ٹی آئی کی نظرثانی درخواست منظور کی

بینچ کی سربراہی سینیئر ترین جج جسٹس عائشہ اے ملک نے کی

تین رکنی بینچ میں جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے

سپریم کورٹ کا یہ اکثریتی فیصلہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریر کیا ہے

بینچ میں شامل جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے اکثریتی فیصلے کے خلاف اپنا اختلافی نوٹ لکھا

ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلے قانون کے مطابق تھے، جسٹس ہاشم خان کاکڑ کا اختلافی نوٹ

مقدمے میں فریق کو جواب دینے کے کافی مواقع ملے لیکن بار بار التوا مانگا گیا، اختلافی نوٹ

اکثریتی ججز نے ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کے بانی پی ٹی آئی کا حق دفاع ختم کرنے کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے

کیس کو دوبارہ ٹرائل کورٹ بھیج رہے ہیں تاکہ فریقین کو جواب کا پورا موقع مل سکے، تحریری فیصلہ

دیوانی مقدمات میں کسی کا دفاع کرنے کا حق بغیر سوچے سمجھے ختم نہیں کیا جا سکتا، سپریم کورٹ

کسی کا حقِ دفاع ختم کرنا قانونی کارروائی میں موت کی گھنٹی بجانے کے مترادف ہے، عدالت کے ریمارکس

آئین کے آرٹیکل 10A کے تحت ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل کا بنیادی حق حاصل ہے، سپریم کورٹ

سیاسی ریلی میں گولی لگنے سے زخمی شخص کے لیے حلف نامہ دینا یا وکیل سے مشورہ کرنا جسمانی طور پر ناممکن تھا، فیصلہ

قانون کسی بھی انسان کو ایسے کام پر مجبور نہیں کرتا جو وہ کر ہی نہ سکتا ہو، عدالتِ عظمیٰ

عدالتی احکامات پر عمل نہ ہونے کی صورت میں پہلے کم سزا یا جرمانے کا متبادل دیکھنا چاہیے تھا، فیصلہ

کیس میں تاخیر جان بوجھ کر کی گئی یا نہیں، اس کا فیصلہ ماضی کے رویے پر نہیں بلکہ اس دن کے حالات پر ہوگا، سپریم کورٹ

سخت قانونی دفعات کا مقصد سرکش لوگوں کو نظم و ضبط سکھانا ہے، معذوروں کو سزا دینا نہیں، فیصلہ

مخالف فریق کی باقاعدہ تحریری درخواست کے بغیر عدالت خود سے کسی کا حقِ دفاع ختم نہیں کر سکتی، سپریم کورٹ

انصاف کا تقاضا ہے کہ مقدمات کا فیصلہ تکنیکی بنیادوں پر نہیں بلکہ میرٹ پر کیا جائے، تحریری فیصلہ

درخواست گزار بانی پی ٹی آئی کے وکیل محمد حسین چوٹیا نے عدالت میں دلائل دیے

سیاسی ریلی میں فائرنگ سے زخمی ہونے کی وجہ سے میرا مؤکل جواب جمع نہیں کروا سکا، وکیل محمد حسین چوٹیا

گولی لگنے کے باعث ہسپتال میں داخل مریض پر جان بوجھ کر نادہندگی کا الزام نہیں لگایا جا سکتا، محمد حسین کے دلائل

مخالف فریق میاں شہباز شریف کی طرف سے نامور وکیل مصطفیٰ رمدے عدالت میں پیش ہوئے

مخالف فریق نے عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی کی، وکیل میاں شہباز شریف مصطفیٰ رمدے کا موقف

بانی پی ٹی آئی کی طرف سے جواب جمع کرانے میں جان بوجھ کر تاخیر کی گئی، وکیل مصطفیٰ رمدے

ٹرائل کورٹ نے بار بار موقع دینے کے بعد قانون کے مطابق حقِ دفاع ختم کیا تھا، شہباز شریف کے وکیل کا م

06/06/2026

عدالت میں واٹس ایپ چیٹ کو بطور ثبوت پیش کرنے کی ایک سادہ ترکیب

اگر آپ واٹس ایپ کی کسی گفتگو کے اسکرین شاٹس لے رہے ہیں اور امکان ہے کہ وہ بعد میں عدالت میں بطور ثبوت استعمال ہوں، تو اسکرین شاٹ لینے سے پہلے متعلقہ شخص کا نمبر عارضی طور پر اَن سیو (Unsave) کر دیں، اس کے بعد اسکرین شاٹ لے لیں اور پھر نمبر دوبارہ سیو کر لیں۔

کیوں؟

اگر نمبر سیو ہوگا تو اسکرین شاٹ میں صرف نام ظاہر ہو سکتا ہے، جیسے "جان"، "چیئرمین" یا "بہترین دوست"۔

مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی شخص کسی بھی فون نمبر کو کسی بھی نام سے سیو کر سکتا ہے۔

اگر معاملہ عدالت تک پہنچ جائے تو دوسرا فریق اعتراض کر سکتا ہے اور یہ مؤقف اختیار کر سکتا ہے کہ اسکرین شاٹ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ پیغامات واقعی اسی شخص نے بھیجے تھے، کیونکہ دکھایا گیا نام تو صرف وہ تھا جو آپ نے اپنے فون میں محفوظ کیا ہوا تھا۔

لیکن جب نمبر اَن سیو ہوتا ہے تو اسکرین شاٹ میں اصل فون نمبر ظاہر ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں گفتگو کو ایک مخصوص نمبر سے منسلک کرنا آسان ہو جاتا ہے اور بھیجنے والے کی شناخت کے بارے میں اعتراضات کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

یقیناً صرف اتنا کرنا ہی ثبوت کو خودکار طور پر قابلِ قبول یا حتمی نہیں بنا دیتا۔ عدالت دیگر امور کو بھی مدنظر رکھتی ہے، جیسے ثبوت کی اصلیت (Authenticity)، ضرورت پڑنے پر سرٹیفکیشن، اور یہ اطمینان کہ پیغامات میں کسی قسم کی ترمیم یا ردوبدل نہیں کیا گیا۔

تاہم، اپنے محفوظ کردہ رابطے کے نام کے بجائے اصل فون نمبر ظاہر کرنا آپ کے ثبوت کو نسبتاً مضبوط بنانے میں مدد دے سکتا ہے اور غیر ضروری اعتراضات سے بچا سکتا ہے۔

بہت سے مقدمات ایسی چھوٹی مگر اہم باتوں کی وجہ سے جیتے یا ہارے جاتے ہیں جنہیں لوگ اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
فرانزک تجزیہ کے بعد ہی عدالتیں ایسے ثبوت پر غور کرتی ہیں،ہاں آپس کے معاملات میں کسی کو خراب کرنے کے لیے یہ ٹیکنیک زبردست ہے

29/05/2026

ائیرپورٹ پر کسی بھی مسافر کو FIA بغیر کسی وجہ
آف لوڈنگ کے اقدام کو عدالت نے آف لوڈنگ کو غیر قانونی، من مانا اور آئین کی خلاف ورزی قرار دیا
محمد عباس، جو اپنے دل میں #روشن مستقبل کے #خواب سجائے 31 جنوری 2026 کی ایک سرد صبح سیالکوٹ انٹرنیشنل #ایئرپورٹ پہنچا۔ اس کے پاس نائجیریا کا #جائز ـویزا، #واپسی کا #کنفرم-ٹکٹ اور تمام سفری دستاویزات موجود تھیں۔ ایئرلائن کے کاؤنٹر سے اسے بورڈنگ کارڈ جاری ہو چکا تھا اور یہاں تک کہ امیگریشن کے عملے نے بھی اس کے پاسپورٹ پر روانگی کی مہر ثبت کر دی تھی
محمد عباس کے قدم جیسے ہی جہاز کی طرف بڑھے، اسے لگا کہ اب وہ اپنے بہنوئی ناصر فاروق سے ملنے نائجیریا پہنچ جائے گا، جو وہاں ہوٹل اور باربر شاپس کا کاروبار کرتے تھے اور جن کی دستاویزات عباس نے اپنے ساتھ رکھی ہوئی تھیں۔وہ پرامید تھا کہ اپنوں کے پاس جا کر وہ اپنی زندگی کو ایک نئی سمت دے گا، لیکن وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھا کہ وہ مایوس ہونے والا ہے۔
امیگریشن ڈپارٹمنٹ کا شفٹ انچارج اچانک سامنے آیا اور اس نے محمد عباس کو روک لیا۔ بغیر کسی واضح وجہ کے، عباس کو جہاز پر سوار ہونے سے روک کر آف لوڈ کر دیا گیا۔اس پر یہ مبہم سا الزام لگایا گیا کہ وہ نائجیریا جانے کے بہانے دبئی میں ہی رک جائے گا اور پاکستان واپس نہیں آئے گا۔اس کے بعد اس کے ہاتھ میں ایک آف لوڈنگ پروفارما تھما دیا گیا جس پر صرف دو لکیریں لکھی تھیں: "ناپائیدار مالی حالات" اور "سفر کا غیر واضح مقصد"۔ عباس نے گڑگڑا کر کہا کہ اس کا بہنوئی وہاں موجود ہے، وہ اس کی کفالت کا ذمہ دار ہے، لیکن امیگریشن حکام نے اس کی ایک نہ سنی۔وہ کروڑوں روپے کے مالی نقصان، ذہنی اذیت اور مسافروں کے سامنے ہونے والی اس شدید ذلت کے ساتھ ایئرپورٹ سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ معاملہ صرف ایک مسافر کے رکنے کا نہیں تھا، بلکہ یہ ریاست کے ایک طاقتور ادارے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کے اس لامحدود اور بے لگام اختیار کا سوال تھا جو وہ ایئرپورٹس پر استعمال کرتا ہے۔ محمد عباس نے اس ناانصافی کے خلاف ہتھیار ڈالنے کے بجائے قانون کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا اور اپنے وکیل کے ذریعے لاہور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن نمبر 27534/2026 دائر کر دی۔عدالت عالیہ کے سامنے جب یہ کیس سماعت کے لیے آیا، تو قانون اور انتظامی طاقت کے درمیان ایک بڑا معرکہ شروع ہو گیا۔
عدالت کے کمرے میں سسپنس اس وقت بڑھ گیا جب وفاق کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے FIA کا دفاع کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ امیگریشن حکام کے پاس یہ قانونی حق ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت اور ویزے کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کسی بھی مسافر کی مالی حیثیت اور سفری مقصد کی جانچ پڑتال کریں ، انہوں نے دلیل دی کہ عباس کے پاس خاطر خواہ رقم نہیں تھی، اس لیے اسے روکنا قانون کے دائرے میں تھا۔
دوسری طرف، عباس کے وکیل نے آئین پاکستان کے آرٹیکلز 4، 9، 10-A اور 15 کا حوالہ دیتے ہوئے گرجدار آواز میں کہا کہ ملک کے کسی بھی شہری کو قانون کے بغیر اس کے سفر کے بنیادی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ نہ تو عباس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں تھا، نہ ہی پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (PCL) میں، اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی مجرمانہ انکوائری زیر التوا تھی، تو پھر کس قانون کے تحت ایک شہری کی آزادی کو سلب کیا گیا؟
جسٹس راحیل کامران نے دونوں فریقین کے دلائل کو انتہائی غور سے سنا اور ریکارڈ کا معائنہ کیا۔ جج نے جب ریمارکس دیے تو FIA کے حکام کے پسینے چھوٹ گئے۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ "ناپائیدار مالی حالات" کا فیصلہ کس ترازو میں کیا گیا؟ کیا حکومت نے نائجیریا جانے کے لیے کسی رقم کی حد مقرر کر رکھی ہے؟ اگر نہیں، تو امیگریشن افسر نے اپنی ذاتی پسند ناپسند پر ایک شہری کو کیسے روک دیا؟ جج نے واضح کیا کہ قانون کی نظر میں صوابدیدی اختیارات کوئی جادوئی چھڑی نہیں ہیں کہ جسے جب چاہا، جیسے چاہا گھما دیا، بلکہ جنرل کلازز ایکٹ 1897 کی دفعہ 24-A کے تحت ہر سرکاری افسر کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے فیصلے کی ٹھوس اور معقول وجوہات تحریر کرے۔
عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں محمد عباس کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے FIA کے اس اقدام کو مکمل طور پر غیر قانونی، من مانا اور آئین کی خلاف ورزی قرار دے دیا۔ عدالت نے نہ صرف عباس کو مستقبل میں تمام قانونی تقاضے پورے کر کے دوبارہ سفر کرنے کی اجازت دی، بلکہ اسے یہ حق بھی دیا کہ وہ اپنی اس ذلت اور مالی نقصان کے خلاف دیوانی عدالت سے ہرجانے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ اس کیس میں جسٹس راحیل کامران نے مستقبل کے لیے ایک تاریخی گائیڈ لائن جاری کر دی، جس کے تحت اب ایئرپورٹ پر کسی بھی مسافر کو آف لوڈ کرنے سے پہلے افسر کو تمام سوال و جواب تحریری یا الیکٹرانک شکل میں محفوظ کرنے ہوں گے، ٹھوس وجوہات لکھنی ہوں گی اور اس کی ایک کاپی فوری طور پر مسافر کو فراہم کرنی ہوگی تاکہ آئندہ کوئی بھی افسر کسی دوسرے محمد عباس کے خوابوں کو ایئرپورٹ کے لاؤنج میں پامال نہ کر سکے۔

میٹر اگر اہستہ ہے تو دو ما ہ سے زیادہ ڈیٹیکشن بل نہی عائد کیا جا سکتا In this judgment settled that no detection bill fo...
14/05/2026

میٹر اگر اہستہ ہے تو دو ما ہ سے زیادہ ڈیٹیکشن بل نہی عائد کیا جا سکتا
In this judgment settled that no detection bill for more than 2 months will be imposed on the basis of slowness of the meter.

09/05/2026

خواتین کا باپ کی جائداد میں حق کا تاریخی فیصلہ

سپریم کورٹ کے اس مشہور
فیصلے (2014 SCMR 801) کی مکمل تفصیل، جس کا عنوان "مسمات گوہر خانم بنام مسمات جمیلہ جان" ہے، درج ذیل ہے:
۔ کیس کا پس منظر (Facts of the Case)

یہ کیس ایک جائیداد کی تقسیم سے متعلق تھا جس میں بھائیوں نے اپنی بہن کو وراثت سے محروم رکھا ہوا تھا۔
بھائیوں کا موقف یہ تھا کہ بہن کو جائیداد کی اس منتقلی (Mutation) کا پچاس سال سے علم تھا، لیکن اس نے کبھی چیلنج نہیں کیا، اس لیے اب "قانونِ میعاد" (Limitation Act) کے تحت یہ دعویٰ خارج ہونا چاہیے۔
بھائیوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس جائیداد پر گھر تعمیر کر لیے ہیں، لہٰذا اب بہن کا حق ختم ہو چکا ہے۔

۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ (Supreme Court Ruling)
عدالتِ عظمیٰ نے بھائیوں کے تمام اعتراضات مسترد کر دیے اور درج ذیل اصول واضح کیے2]

وراثت کا خود بخود انتقال: جائیداد کے مالک کی وفات کے فوراً بعد، وراثت تمام وارثوں میں شرعی حصوں کے مطابق خود بخود تقسیم ہو جاتی ہے۔ کسی سرکاری ریکارڈ یا "انتقال" (Mutation) کے اندراج کی قانونی طور پر ضرورت نہیں ہوتی۔
میعاد کا قانون لاگو نہیں ہوتا: وراثت کے مقدمات میں وقت کی کوئی حد (Limitation) نہیں ہے۔ اگر کوئی وارث دہائیوں بعد بھی اپنا حق مانگے، تو اسے محض اس بنیاد پر منع نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے دیر کر دی ہے۔
مشترکہ قبضہ: بھائی کا جائیداد پر قبضہ قانوناً "تمام وارثوں کا قبضہ" تصور کیا جاتا ہے۔ بھائی اس قبضے کی بنیاد پر اکیلا مالک نہیں بن سکتا۔
برائے نام دستبرداری: اگر بھائی یہ دعویٰ کرے کہ بہن نے اپنا حصہ چھوڑ دیا ہے، تو اسے عدالت میں ٹھوس دستاویزی ثبوت پیش کرنا ہوں گے۔ محض زبانی دعویٰ یا بہن کی خاموشی "حق سے دستبرداری" تصور نہیں ہوگی, ,

# ۔ بچوں کے حق کی صورتحال
اس فیصلے کی روشنی میں، اگر آپ کی والدہ کو ان کا شرعی حصہ نہیں ملا تھا، تو ان کے انتقال کے بعد آپ (بچے) اپنی والدہ کے وارث کے طور پر ان کا حق طلب کرنے کے لیے قانونی کارروائی کر سکتے ہیں۔ قانون آپ کی والدہ کو اس جائیداد کا "شریک مالک" (Co-owner) تسلیم کرتا ہے۔
ضروری تنبیہ
سپریم کورٹ کے 2021 کے ایک حالیہ فیصلے (PLD 2021 SC 715) میں کچھ سختی لائی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی خاتون نے اپنی زندگی میں کبھی بھی اپنا حق طلب نہیں کیا اور نہ ہی اسے طلب کرنے سے روکا گیا، تو اس کے بچے بعد میں وراثت کا مطالبہ نہیں ک سکتے۔ , 10]
مشورہ: اگر آپ یہ ثابت کر سکیں کہ آپ کی والدہ کو دھوکے یا دباؤ کے ذریعے محروم رکھا گیا تھا، تو 2014 SCMR 801 کا حوالہ آپ کے کیس کو بہت مضبوط بنا سکتا ہے۔

Few pictures of my professional life
06/05/2026

Few pictures of my professional life

Address

10-A Turner Road
Lahore
54770

Telephone

923004000192

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Aid , Rights & Laws in Pakistan. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Legal Aid , Rights & Laws in Pakistan.:

Shortcuts

Share