25/03/2024
ریمانڈ کیا ہے؟👇
ریمانڈ کی تین قسمیں ہیں۔
👈*1- فزیکل (جسمانی) ریمانڈ*
👈*2- جوڈیشل (عدالتی) ریمانڈ*
👈*3- ٹرانزٹ (سفری) ریمانڈ*
👈1- فزیکل (جسمانی) ریمانڈ کیا ہے؟
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 154 کے تحت ایف آئی آر کے اندارج کے بعد کریمنل پروسیجر کوڈ کی شق 61 کے تحت تفتیشی افسر (انویسٹی گیشن افسر،آئی او) کی ذمہ داری ہے کہ ملزم کو 24 گھنٹے کے اندر متعلقہ علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرے۔ان24 گھنٹے کے اندر ملزم سے تفتیش مکمل نہ ہوئی ہو تو آئی او مجسٹریٹ کو وجوہات بتائے گا کہ تفتیش اور جرم سے متعلق ثبوت اکٹھے کرنے کیلئے ملزم کا ابھی پولیس حراست میں رہنا ضروری ہے۔عدالت جرم کی نوعیت وغیرہ دیکھتے ہوئے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 167 کے تحت ملزم کو کچھ دن کیلئے پولیس کی حراست میں دے دے گی۔اسے فزیکل ریمانڈ کہتے ہیں۔
👈فزیکل ریمانڈ کتنے دن کا ہوگا؟
قانون کے مطابق مجسٹریٹ ملزم کو زیادہ سے زیادہ15دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرسکتا ہے۔تاہم غیر معمولی نوعیت کے کیسوں میں جسمانی ریمانڈ 15 دن سے زیادہ بھی دیا جاسکتاہے۔(تاہم ایسا بہت کم ہوتا ہے)لیکن مجسٹریٹ ایک دفعہ پیشی پر15 دن سے زیادہ کا جسمانی ریمانڈ نہیں دے سکتا۔
نیب قانون میں ملزم کو 3 مہینے(90 دن) کیلئے جسمانی ریمانڈ پر نیب افسران کے حوالے کیا جاسکتا ہے۔
جسمانی ریمانڈ سے متعلق ایک غلط فہمی یہ عام ہے کہ شاید اس عرصے میں پولیس جرم قبول کروانے کیلئے ملزم پر تشدد وغیرہ کر سکتی ہے۔تو اس غلط فہمی کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔کسی بھی قانون کے تحت پولیس ملزم پر تشدد نہیں کرسکتی،اگر وہ ایسا کرے گی تو مجرم ہو گی۔جسمانی ریمانڈ کا مقصد صرف ملزم کو اپنے پاس رکھ کر اس سے تفتیش کرنا اور جرم سے متعلقہ ثبوت اکٹھے کرنا ہے۔ثبوت ملزم اور مدعی دونوں طرف سے اکٹھے کیے جا سکتے ہیں۔
اگر ملزم خاتون ہے اور جرم قتل یا ڈکیتی نہیں ہے تو آئی او کو اس ملزمہ کی کسٹڈی نہیں دی جائے گی۔ضابطہ فوجداری کی شق 167(5) کے تحت وہ اس سے جیل میں ہی تفتیش کرے گا۔اس موقع پرجیل افسر اور کسی خاتون پولیس اہلکار کا بھی پاس موجود ہونا ضروری ہے۔
👈2- جوڈیشل ریمانڈ کیا ہے؟
ملزم کی گرفتاری کے بعد ضابطہ فوجداری کی دفعہ173 کے تحت آئی او کو 14 دن جس میں 3 مزید دن شامل کیے جا سکتے ہیں عدالت کے سامنے چالان (مکمل یا نامکمل) پیش کرنا ہوتا ہے۔ چالان میں کیس کی تفصیلات اور ملزم سے تفتیش