24/06/2026
منتہا کیس کی مکمل تفتیش پڑھیں۔
چیز اوپر پڑی ہے تم چلو میں آرہا ہوں ۔۔۔۔۔ سرگودہا کی منتہا کے ساتھ درندگی اور بیہمانہ ق۔تل ۔۔۔ بی بی سی کی رپورٹ میں پولیس حکام نے ان سنے حقائق بتا دیے ۔۔۔۔ 11 بج کر پندرہ منٹ پر کوئی چیز لینے گھر سے چند قدموں کے فاصلے پر ایک کریانہ سٹور پر جانے والی منتہا کو دکان کی بالائی منزل پر زیا۔دتی کے بعد ق۔تل کردیا گیا تھا ۔ اس حوالے سے ڈی پی او سرگودھا صہیب اشرف نے بی بی سی کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے چار نامزد ملزمان کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ڈی پی او کے مطابق جب والدین کو بچی نہیں ملی تو انھوں نے 12.45 بجے پولیس سے پہلا رابطہ کیا اور گمشدگی کی اطلاع دی۔انھوں نے مزید کہا کہ ’جہاں منتہا کا گھر ہے، اُس گلی میں صرف ایک کیمرہ لگا ہوا تھا۔ پولیس نے فوری طور پر اس کیمرے کی فوٹیج حاصل کی جس میں نظر آیا کہ بچی گھر کے قریب واقع دکان کے اندر تو گئی لیکن وہ اُس دکان سے باہر نہیں آئی۔‘’فوٹیج میں ایک جگہ پر منتہا کی عمر کی ایک بچی کو ایک خاتون کے ہمراہ دکان سے نکلتے دیکھا گیا، لیکن یہ ویڈیو زیادہ کلیئر نہیں تھی جس پر یہ شک بھی ہوا کہ کہیں بچی اسی خاتون کے ساتھ تو نہیں چلی گئی۔‘ اس موقع پر پولیس نے دکان اور گراؤنڈ فلور کی تلاشی کے بعد اُوپر والی منزل کی تلاشی بھی لینا شروع کر دی۔’پہلی منزل کو چیک کرنے کے بعد جب ایس ایچ او بمعہ اہلکار دوسری منزل پر پہنچے تو وہاں خون کے دو، تین قطرے پڑے نظر آئے۔ اِسی منزل پر ایک واش روم تھا اور جب اس کو کھولا گیا تو وہاں مزید خون کے نشانات تھے جبکہ ساتھ موجود گٹر پر ایک چھری پڑی ہوئی تھی اور وہاں قریب ہی پچاس روپے بھی پڑے ہوئے تھے جو غالبا بچی گھر سے لے کر چیز لینے آئی تھی۔‘ڈی پی او کے مطابق اس منزل پر ایک سیڑھی موجود تھی جو چھت پر جاتی ہے بتایا گیا کہ چھت کی چابی دکان پر کام کرنے والے ایک لڑکے کے پاس ہوتی ہے۔’وہ لڑکا اس وقت دکان پر موجود نہیں تھا، مگر ہماری ٹیم نے طریقے سے اسے ٹریپ کر کے دکان پر بلایا اور جب وہ وہاں آ گیا تو پولیس اسے ساتھ لے کر اوپر گئی۔‘’جب پولیس چھت پر گئی تو یہ ایک کُھلی چھت تھی جس کے ایک طرف چھوٹا سا شیڈ بنا ہوا تھا جہاں بوریاں اور کاٹھ کباڑ موجود تھا، جب پولیس نے وہ بوریاں ہٹائیں تو اس کے پیچھے سے بچی کی لا۔ش برآمد ہوئی۔‘ڈی پی او نے دعویٰ کیا کہ دکان کے ملازم، جس کے پاس چھت کی چابی موجود تھی، کی چپل پر بھی خون کے معمولی قطرے موجود تھے اور اس کو وہیں موقع پر گرفتار کر لیا گیا۔ڈی پی او سرگودھا صہیب اشرف نے اس کیس کی ابتدائی تفتیش سے متعلق بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مرکزی ملزم نے بتایا ہے کہ ’بچی چیز لینے آئی تو میں اُسے کہا اگر تم نے چیز لینی ہے تو اُوپر پڑی ہے، میں نے اسے اُوپر بھیج دیا۔ جب وہ اُوپر چلی گئی تو وہاں میں نے ر۔یپ کی کوشش کی لیکن اس دوران بچی نے شور مچا دیا جس پر میں نے چھری سے اس کا گلا کا۔ٹ دیا۔‘انھوں نے مزید بتایا کہ ملزم کا ارادہ تھا کہ جب رات کو دکان بند ہو گی تو وہ لا۔ش کو وہاں سے نکال کر کہیں دور لے جاکر پھینک دے گا۔ڈی پی او صہیب اشرف کے مطابق ’بچی کا پوسٹ۔ مارٹم ہو چکا ہے اور ڈی این اے سیمپلز پنجاب فرانزک لیب بھیجوا دیے گئے ہیں۔‘ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی کے ساتھ زیا۔دتی کے زخم پائے گئے ہیں ۔ تاہم اس کا حتمی تعین ڈی این اے رپورٹس کی بنیاد پر ہو گا۔انھوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیق کے بعد یہ کیس اب سی سی ڈی کے حوالے کر دیا ہے اور وہی مزید تفتیش کریں گے اور ملزمان کا ریمانڈ لیں گے۔
بشکریہ : بی بی سی اردو