Najam ud Din Arbkan

Najam ud Din Arbkan صدا کا قحط پڑے گا تو ہم ہی بولیں گے
A young Lawyer and Content Creator
Learn Law -Fight for Justice
(2)

26/06/2026

⚖️ ہر کالا کوٹ وکیل نہیں ہوتا!

قانونی مشورہ لینے یا کیس سونپنے سے پہلے صرف چند سیکنڈ نکالیں اور پنجاب بار کونسل کے آفیشل ویری فکیشن پورٹل پر وکیل کی تصدیق کریں۔

✅ CNIC نمبر سے ویری فائی کریں
✅ موبائل نمبر سے ویری فائی کریں
✅ صرف رجسٹرڈ اور لائسنس یافتہ وکیل پر اعتماد کریں

🔗 ویری فکیشن پورٹل: https://portal.pbbarcouncil.com/pbc-lawyers

جعلی وکلاء، کلرک اور ٹاؤٹس سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی آگاہ کریں۔

26/06/2026

کربلا صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ حق، صبر، وفا اور قربانی کا ایسا پیغام ہے جو ہر دور کے انسان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ سچ کا ساتھ دینے، صبر اختیار کرنے اور انصاف پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🖤 یومِ عاشورہ

منتہا کیس کی مکمل تفتیش پڑھیں۔چیز اوپر پڑی ہے تم چلو میں آرہا ہوں ۔۔۔۔۔ سرگودہا کی منتہا کے ساتھ درندگی اور بیہمانہ ق۔تل...
24/06/2026

منتہا کیس کی مکمل تفتیش پڑھیں۔
چیز اوپر پڑی ہے تم چلو میں آرہا ہوں ۔۔۔۔۔ سرگودہا کی منتہا کے ساتھ درندگی اور بیہمانہ ق۔تل ۔۔۔ بی بی سی کی رپورٹ میں پولیس حکام نے ان سنے حقائق بتا دیے ۔۔۔۔ 11 بج کر پندرہ منٹ پر کوئی چیز لینے گھر سے چند قدموں کے فاصلے پر ایک کریانہ سٹور پر جانے والی منتہا کو دکان کی بالائی منزل پر زیا۔دتی کے بعد ق۔تل کردیا گیا تھا ۔ اس حوالے سے ڈی پی او سرگودھا صہیب اشرف نے بی بی سی کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے چار نامزد ملزمان کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ڈی پی او کے مطابق جب والدین کو بچی نہیں ملی تو انھوں نے 12.45 بجے پولیس سے پہلا رابطہ کیا اور گمشدگی کی اطلاع دی۔انھوں نے مزید کہا کہ ’جہاں منتہا کا گھر ہے، اُس گلی میں صرف ایک کیمرہ لگا ہوا تھا۔ پولیس نے فوری طور پر اس کیمرے کی فوٹیج حاصل کی جس میں نظر آیا کہ بچی گھر کے قریب واقع دکان کے اندر تو گئی لیکن وہ اُس دکان سے باہر نہیں آئی۔‘’فوٹیج میں ایک جگہ پر منتہا کی عمر کی ایک بچی کو ایک خاتون کے ہمراہ دکان سے نکلتے دیکھا گیا، لیکن یہ ویڈیو زیادہ کلیئر نہیں تھی جس پر یہ شک بھی ہوا کہ کہیں بچی اسی خاتون کے ساتھ تو نہیں چلی گئی۔‘ اس موقع پر پولیس نے دکان اور گراؤنڈ فلور کی تلاشی کے بعد اُوپر والی منزل کی تلاشی بھی لینا شروع کر دی۔’پہلی منزل کو چیک کرنے کے بعد جب ایس ایچ او بمعہ اہلکار دوسری منزل پر پہنچے تو وہاں خون کے دو، تین قطرے پڑے نظر آئے۔ اِسی منزل پر ایک واش روم تھا اور جب اس کو کھولا گیا تو وہاں مزید خون کے نشانات تھے جبکہ ساتھ موجود گٹر پر ایک چھری پڑی ہوئی تھی اور وہاں قریب ہی پچاس روپے بھی پڑے ہوئے تھے جو غالبا بچی گھر سے لے کر چیز لینے آئی تھی۔‘ڈی پی او کے مطابق اس منزل پر ایک سیڑھی موجود تھی جو چھت پر جاتی ہے بتایا گیا کہ چھت کی چابی دکان پر کام کرنے والے ایک لڑکے کے پاس ہوتی ہے۔’وہ لڑکا اس وقت دکان پر موجود نہیں تھا، مگر ہماری ٹیم نے طریقے سے اسے ٹریپ کر کے دکان پر بلایا اور جب وہ وہاں آ گیا تو پولیس اسے ساتھ لے کر اوپر گئی۔‘’جب پولیس چھت پر گئی تو یہ ایک کُھلی چھت تھی جس کے ایک طرف چھوٹا سا شیڈ بنا ہوا تھا جہاں بوریاں اور کاٹھ کباڑ موجود تھا، جب پولیس نے وہ بوریاں ہٹائیں تو اس کے پیچھے سے بچی کی لا۔ش برآمد ہوئی۔‘ڈی پی او نے دعویٰ کیا کہ دکان کے ملازم، جس کے پاس چھت کی چابی موجود تھی، کی چپل پر بھی خون کے معمولی قطرے موجود تھے اور اس کو وہیں موقع پر گرفتار کر لیا گیا۔ڈی پی او سرگودھا صہیب اشرف نے اس کیس کی ابتدائی تفتیش سے متعلق بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مرکزی ملزم نے بتایا ہے کہ ’بچی چیز لینے آئی تو میں اُسے کہا اگر تم نے چیز لینی ہے تو اُوپر پڑی ہے، میں نے اسے اُوپر بھیج دیا۔ جب وہ اُوپر چلی گئی تو وہاں میں نے ر۔یپ کی کوشش کی لیکن اس دوران بچی نے شور مچا دیا جس پر میں نے چھری سے اس کا گلا کا۔ٹ دیا۔‘انھوں نے مزید بتایا کہ ملزم کا ارادہ تھا کہ جب رات کو دکان بند ہو گی تو وہ لا۔ش کو وہاں سے نکال کر کہیں دور لے جاکر پھینک دے گا۔ڈی پی او صہیب اشرف کے مطابق ’بچی کا پوسٹ۔ مارٹم ہو چکا ہے اور ڈی این اے سیمپلز پنجاب فرانزک لیب بھیجوا دیے گئے ہیں۔‘ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی کے ساتھ زیا۔دتی کے زخم پائے گئے ہیں ۔ تاہم اس کا حتمی تعین ڈی این اے رپورٹس کی بنیاد پر ہو گا۔انھوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیق کے بعد یہ کیس اب سی سی ڈی کے حوالے کر دیا ہے اور وہی مزید تفتیش کریں گے اور ملزمان کا ریمانڈ لیں گے۔
بشکریہ : بی بی سی اردو

24/06/2026
24/06/2026

👶 بچے کا خرچہ صرف اخلاقی نہیں، قانونی ذمہ داری بھی ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ قانون کے مطابق والد اپنے بچوں کی خوراک، تعلیم، لباس، رہائش اور دیگر ضروری اخراجات پورے کرنے کا پابند ہے؟

اگر والد بچے کا خرچہ ادا نہیں کرتا تو متاثرہ فریق قانونی کارروائی کے ذریعے نان و نفقہ (Child Maintenance) حاصل کر سکتا ہے۔

اپنے حقوق جانیں، قانون کو سمجھیں، اور دوسروں تک بھی یہ معلومات پہنچائیں۔

⚖️ قانونی آگاہی | Child Maintenance Rights

24/06/2026

⚠️ والدین کے نام ایک اہم پیغام

منتہا جیسے واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ آج کے دور میں بچوں کی حفاظت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہے۔ براہِ کرم اپنے کم عمر بچوں کو اکیلے بازار، دکان یا سنسان مقامات پر نہ بھیجیں، چاہے فاصلہ کتنا ہی کم کیوں نہ ہو۔ اگر کسی مجبوری کے تحت بچے کو باہر جانا پڑے تو کسی بڑے فرد کو اس کے ساتھ ضرور بھیجیں۔

اپنے بچوں کو یہ سکھائیں کہ وہ کسی اجنبی شخص سے بات نہ کریں، کسی کی دی ہوئی چیز قبول نہ کریں اور کسی کے ساتھ کہیں نہ جائیں، چاہے وہ شخص خود کو جاننے والا یا مددگار ظاہر کرے۔ بچوں کو گھر کا پتہ، والدین کا فون نمبر اور ہنگامی صورتحال میں مدد مانگنے کا طریقہ ضرور سکھائیں۔

یاد رکھیں، چند منٹ کی احتیاط ایک پوری زندگی کو محفوظ بنا سکتی ہے۔ بچوں کی حفاظت صرف والدین کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اللہ تعالیٰ تمام بچوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور ہر والدین کو ایسے ناقابلِ بیان دکھ سے محفوظ رکھے۔ آم

24/06/2026

ہمارا جوڈیشل نظام اس حد تک عوامی اعتماد کھو چکا ہے کہ آج بہت سے لوگ کھلے عام ماورائے عدالت سزاؤں اور قتل کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔ سرگودھا میں ننھی منتہا کے افسوسناک قتل کے بعد ملزم کو گرفتار کیا گیا، عدالت میں پیش کیا گیا اور قانونی کارروائی کے تحت ریمانڈ بھی حاصل کیا گیا۔ لیکن عوامی جذبات اس قدر شدید تھے کہ اکثر لوگوں کی خواہش یہی تھی کہ اس درندہ صفت شخص کو فوری اور عبرتناک سزا ملے۔

جب بعد ازاں ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا تو بہت سے لوگوں نے اسے انصاف قرار دیا، کیونکہ ایسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کے لیے عوام کے دلوں میں کوئی ہمدردی نہیں ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ننھے بچوں کے قاتل معاشرے کے بدترین مجرم ہوتے ہیں اور ان کے لیے سخت ترین سزا کا مطالبہ ایک فطری انسانی ردِعمل ہے۔

مگر اس واقعے نے ایک اور اہم سوال بھی کھڑا کر دیا ہے: اگر عوام کا اعتماد عدالتوں اور قانونی نظام پر مکمل ہوتا تو کیا لوگ ماورائے عدالت کارروائیوں کو انصاف سمجھتے؟ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ جب مقدمات سالہا سال چلتے رہیں، فیصلوں میں تاخیر ہو، اور مجرموں کے بچ نکلنے کا تاثر پیدا ہو جائے تو لوگ قانون سے مایوس ہو کر فوری نتائج کے خواہاں ہو جاتے ہیں۔

ایک مہذب معاشرے میں جذبات اپنی جگہ، لیکن انصاف کا اصل راستہ مضبوط اور مؤثر عدالتی نظام ہی ہے۔ ایسے درندوں کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا ملنی چاہیے، مگر ساتھ ہی ہمارے عدالتی نظام میں ایسی اصلاحات بھی ناگزیر ہیں جو عوام کا کھویا ہوا اعتماد بحال کر سکیں۔ کیونکہ اگر لوگ عدالتوں پر یقین کھو دیں تو یہ کسی بھی ریاست کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

23/06/2026

Right of meeting non-custodial parent!

23/06/2026

⚖️💍 Shaadi ke moqay par sirf rasmein nahi… qanooni hifazat bhi zaroori hai

Dowry list ko properly document karein aur dono parties ke signatures lena na bhoolain — taa ke mustaqbil mein kisi bhi misunderstanding se bacha ja sake.

🎬 Legal awareness by .arbkan9

📌 “Documentation today = Protection tomorrow”

22/06/2026

سات سالہ منتہا دروازے پر کھڑے چند نوٹ پکـــــڑے ہوئے تھے جو اس کی ماں نے ابھی اسے دیے تھے۔۔ اس کی ماں نے کہا کہ "کریانے کی دکان پر جاؤ اور چائے کے لیے چینی لے آؤ"۔ جیسے لاتعـداد بچے ہر روز کرتے ہیں منتہا نے پیسے لیے اور قریبی دکان کی طرف روانہ ہوئی خاندان میں کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ یہ عام کام جلد ہی ہر والدین کے بدترین خواب میں بدل جائے گا۔ منٹ گزرے، پھر ایک گھنٹہ، پھر دو گھنٹے لیکن منتہا گھر واپس نہ آئی،،،،،،، تو پریشانی تیزی سے گھبراہٹ میں بدل گئی۔ اس کے اہل خانہ نے تلاش شروع کی، رشتہ داروں کو بلایا، پڑوسیوں کے دروازے کھٹکھٹائے، دوکان میں دیکھا لیکن منتہا کا کوئی پتا نہیں چلا۔ پورا محلہ تلاش میں شامل ہو گیا اس امید پر کہ چھوٹی بچی بس اپنا راستہ کھوچکی تھی۔
جیسے جیسے گھنٹے گزر گئے،،،،،، پولیس نے قریبی کاروباری اداروں سے CCTV فوٹیج کی جانچ شروع کر دی،،،،،، پھر ایک پریشان کن انکشاف ہوا۔۔۔ کیمروں نے منتہا کو گروسری اسٹور میں داخل ہوتے ہوئے دکھایا،لیکن اسکے وہاں سے نکلنے کی کوئی فوٹیج نہیں تھی۔ تفتیش کاروں نے فوراً اپنی توجہ عــــــــــمارت پر مرکوز کر دی جو ابتدائی طور پر ایک معمـــــول کے مطابق لاپتہ ہونے والی بچی کی معاملہ دکھائی دیتا تھا،،،،،،، وہ اچانک اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہو گیا۔ پولیس نے ہر کمرے، ہر کونے اور ہر مـــــــنزل کی تلاشی لی۔ ماحول کشیدہ ہو گیا،،،،، کیونکہ ہر کسی کو کسی معجزے کی امید کے ساتھ بدترین خوف تھا۔

تلاشی کے دوران حکام نے مبینہ طور پر عـمارت کی بالائی منزل پر ایک بوری کے اندر چھپائی ہوئی منتہا کی لاشش دریافت کی۔ شہر ہکا بکا رہ گیا ایک شخص اتنا گھٹیا کیسے ہوسکتا ہے کہ سات سال کی بچی کو مار ڈالا ؟ کیا یہ لوگ قیامت دن سے نہیں ڈرتے قبر کی اندھیروں سے نہیں ڈرتے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتے ؟ کوئی اتنا گھٹیا کیسے ہوسکتا ہے ؟

باقی تو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے، کیونکہ ہر طرف جانور گھوم رہے ہیں البتہ آپ لوگوں سے ایک درخواسـت ہے کہ اپنے بچوں کا خاص خیال رکھیں۔ بچوں کے معاملے میں کسی پر بھی اعتبار نہ کریں۔۔!

#

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Najam ud Din Arbkan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Najam ud Din Arbkan:

Share