17/05/2026
Very informative Judgment of Supreme Court
:::::::::::::::;:;::::::;:::::::::::::::::;;;;::::::::;;::::;:;::::
*“مؤکل کی وفات کے بعد وکیل کا اختیار، قانونی ورثاء کی لازمی شمولیت، اور منصفانہ ٹرائل کے آئینی تقاضے — آرڈر III رول 4 اور آرڈر XXII CPC کی تشریح کی روشنی میں سپریم کورٹ کا تجزیاتی جائزہ”*
*“Termination of Advocate’s Authority upon Client’s Death, Impleadment of Legal Heirs, and the Constitutional Imperative of Fair Trial — An Analytical Study under Order III Rule 4 and Order XXII CPC”*
2026 SCP 125
جسٹس محمد علی مظاہر ۔۔۔
(1) وکیل اور اس کے مؤکل کے درمیان تعلق “اصیل اور ایجنٹ” (Principal and Agent) کا ہوتا ہے۔
(2) مؤکل کے انتقال کے ساتھ ہی وکیل کا اختیار ختم ہو جاتا ہے۔
(3) وکیل کا پیشہ ورانہ فرض ہے کہ وہ فوراً عدالت کو مؤکل کی وفات سے آگاہ کرے۔
(4) مؤکل کی وفات کو مخفی رکھنا پیشہ ورانہ آداب اور اخلاقیات کے خلاف ہے۔
(5) متوفی کے قانونی ورثاء کی باقاعدہ اجازت کے بغیر وکیل مزید کارروائی جاری نہیں رکھ سکتا۔
(6) اگر وکیل کی وضاحت غیر معقول پائی جائے تو عدالت متعلقہ بار کونسل کو معاملہ بھیج سکتی ہے تاکہ اس کے خلاف پیشہ ورانہ بدانتظامی (Misconduct) کی کارروائی شروع کی جا سکے۔
2026 SCP 125
تفصیلی فیصلہ ۔۔۔۔۔۔
محترم جسٹس Muhammad Ali Mazhar نے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ سب سے پہلے ضابطۂ دیوانی (CPC) کے آرڈر III رول 4 کا جائزہ لینا ضروری ہے، جو “Recognized Agents & Pleaders” یعنی تسلیم شدہ نمائندوں اور وکلاء سے متعلق ہے۔ اس قانون کے مطابق کوئی وکیل کسی شخص کی طرف سے عدالت میں اس وقت تک پیش نہیں ہو سکتا جب تک اسے تحریری وکالت نامہ کے ذریعے مقرر نہ کیا گیا ہو۔ یہ وکالت نامہ عدالت میں جمع کروایا جاتا ہے اور اس وقت تک مؤثر رہتا ہے جب تک عدالت کی اجازت سے ختم نہ کیا جائے، یا مؤکل یا وکیل کی وفات نہ ہو جائے، یا مقدمہ مکمل نہ ہو جائے۔
عدالت نے قرار دیا کہ اس مقدمہ میں یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت تھی کہ درخواست گزار/جواب دہندہ نمبر 1 کا انتقال 04-11-2024 کو ہو چکا تھا، مگر اس کی وفات سے عدالتِ عالیہ کو آگاہ نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً 26-05-2025 کو ایک ایسا حکم جاری ہوا جس میں ایک فوت شدہ شخص کو رینٹ مقدمات میں فریق بنانے کا حکم دے دیا گیا، حالانکہ اس کے قانونی ورثاء کو شامل ہی نہیں کیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ وکیل پر لازم تھا کہ وہ فوراً عدالت کو اپنے مؤکل کی وفات سے مطلع کرتا، مگر اس نے خاموشی اختیار کی اور مقدمہ ورثاء کی موجودگی کے بغیر فیصلہ کر دیا گیا۔
عدالت نے واضح کیا کہ وکیل اور مؤکل کا تعلق اصولاً “اصیل اور ایجنٹ” (Principal and Agent) کا ہوتا ہے۔ جب مؤکل وکالت نامہ پر دستخط کرتا ہے تو وہ وکیل کے اقدامات کا پابند ہو جاتا ہے، مگر مؤکل کی وفات کے ساتھ ہی وکیل کی حیثیت بطور ایجنٹ فوراً ختم ہو جاتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے پاور آف اٹارنی مالک کی وفات کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ مؤکل کی وفات کے بعد وکیل بغیر ہدایات کے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں جاری نہیں رکھ سکتا، اس لیے ہر وکیل کا پیشہ ورانہ فرض ہے کہ وہ فوراً عدالت کو مؤکل کی موت سے آگاہ کرے تاکہ قانونی ورثاء کو مقدمہ میں شامل کیا جا سکے۔ ورثاء چاہیں تو نیا وکالت نامہ دے کر اسی وکیل کو مقرر کریں یا اپنی پسند کا نیا وکیل مقرر کریں۔ وکیل بغیر مناسب اختیار کے مقدمہ جاری نہیں رکھ سکتا۔
عدالت نے قانونی اصول “nullus commodum capere potest de injuria sua proprio” یعنی “کوئی شخص اپنی غلطی سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی وکیل کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اپنے مؤکل کی وفات چھپا کر فائدہ حاصل کرے۔ فوت شدہ مؤکل کے وکالت نامہ یا پاور آف اٹارنی کے استعمال کے نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی نتائج بھی ہوتے ہیں۔ مؤکل کی وفات کو چھپانا نہ صرف حقائق کو مخفی رکھنے کے مترادف ہے بلکہ وکالت کے اخلاقی اصولوں اور پیشہ ورانہ آداب کے بھی خلاف ہے۔ اگر وکیل کی وضاحت غیر معقول پائی جائے تو عدالت متعلقہ بار کونسل کو بھی معاملہ بھیج سکتی ہے تاکہ وکیل کے خلاف پیشہ ورانہ بدانتظامی (Misconduct) کی کارروائی شروع کی جا سکے۔
عدالت نے بھارتی ضابطۂ دیوانی کے آرڈر XXII رول 10-A کا حوالہ بھی دیا جس کے مطابق اگر کسی وکیل کو اپنے مؤکل کی وفات کا علم ہو جائے تو وہ عدالت کو آگاہ کرنے کا پابند ہے، تاکہ قانونی ورثاء کو شامل کیا جا سکے اور مقدمہ مناسب نمائندگی کے بغیر ختم نہ ہو۔
عدالت نے کہا کہ اگر متوفی مدعی یا درخواست گزار کا حق دعویٰ باقی ہو اور “Right to Sue Survives” یعنی دعویٰ کا حق موت کے بعد بھی قائم رہے، تو اس کی وفات کے بعد مقدمہ جاری رکھنے کا حق اس کے قانونی ورثاء کو منتقل ہو جاتا ہے۔ قانونی ورثاء اسی مرحلہ سے مقدمہ آگے بڑھا سکتے ہیں جہاں تک مقدمہ پہنچ چکا ہو۔ اس کا مقصد متوفی کے حقوق اور ذمہ داریوں کا تحفظ اور منصفانہ ٹرائل کے تقاضوں کو پورا کرنا ہے۔
عدالت نے آرڈر VII رول 26 اور آرڈر VIII رول 13 CPC کا بھی حوالہ دیا، جن کے مطابق مدعی اور مدعا علیہ کو پہلے ہی ان افراد کے نام اور پتے فراہم کرنا ہوتے ہیں جو ان کی وفات کی صورت میں بطور قانونی نمائندہ شامل کیے جا سکیں۔
عدالت نے لمیٹیشن ایکٹ 1908 کے آرٹیکل 176 اور 177 کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قانونی ورثاء کو فریق بنانے کے لیے 90 دن کی مدت مقرر ہے، مگر اگر تاخیر ہو جائے تو یہ کوئی سخت اور قطعی اصول نہیں کہ ورثاء ہمیشہ کے لیے محروم ہو جائیں۔ عدالت انصاف کے تقاضوں کے مطابق تاخیر کو معاف کر سکتی ہے کیونکہ وراثتی حقوق محض تکنیکی بنیادوں پر ختم نہیں کیے جا سکتے۔
عدالت نے آرڈر XXII CPC کی مختلف دفعات کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اگر “حقِ دعویٰ” باقی رہے تو مدعی یا مدعا علیہ کی وفات سے مقدمہ ختم نہیں ہوتا۔ 1972 کی قانونی اصلاحات کے بعد اب یہ اصول موجود ہے کہ اگر مقررہ وقت میں قانونی ورثاء کو شامل نہ بھی کیا جائے تو عدالت مقدمہ جاری رکھ سکتی ہے اور فیصلہ مؤثر رہے گا، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وکیل اپنے مؤکل کی وفات چھپا کر فوت شدہ وکالت نامہ کے ذریعے مقدمہ چلاتا رہے۔ اگر ایسا تصور قبول کر لیا جائے تو آرڈر XXII کے تحت قانونی ورثاء کو شامل کرنے کا پورا نظام بے معنی ہو جائے گا۔
عدالت نے کہا کہ اگر عدالت کو موت کی اطلاع ہی نہ دی جائے تو عدالت خود بخود اس حقیقت سے کیسے آگاہ ہو سکتی ہے؟ اگر فریق بذاتِ خود پیش ہو رہا ہو تو ورثاء عدالت کو آگاہ کر سکتے ہیں، لیکن جب فریق وکیل کے ذریعے پیش ہو رہا ہو تو یہ وکیل کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے کہ وہ عدالت کو فوراً اطلاع دے، کیونکہ مؤکل کی وفات کے ساتھ ہی وکالت نامہ ختم ہو جاتا ہے۔
آخر میں عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ وکیل نے مؤکل کی وفات کے باوجود عدالت میں پیش ہو کر مقدمہ جاری رکھا اور اسی بنیاد پر ہائی کورٹ نے متوفی کے حق میں فیصلہ دیا، اس لیے یہ فیصلہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ چنانچہ سپریم کورٹ نے سول پٹیشنز کو اپیلوں میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کیا، ہائی کورٹ کا 26-05-2025 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا، اور معاملہ واپس ہائی کورٹ کو بھجوا دیا تاکہ متوفی کے قانونی ورثاء کو فریق بنا کر تمام آئینی درخواستوں کا ازسرِنو قانون کے مطابق فیصلہ کیا جا سکے۔
قانونی تجزیاتی جائزہ
یہ فیصلہ پاکستانی دیوانی قانون، وکالت کے پیشہ ورانہ اصولوں، قدرتی انصاف، اور منصفانہ ٹرائل کے آئینی تقاضوں کے تناظر میں نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے اس مقدمہ میں واضح کیا کہ مؤکل کی وفات کے بعد وکیل کا اختیار فوراً ختم ہو جاتا ہے اور وکیل پر لازم ہے کہ وہ عدالت کو اس حقیقت سے فوری آگاہ کرے۔
یہ فیصلہ صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ:
وکیل کی اخلاقی ذمہ داری؛
عدالتی شفافیت؛
منصفانہ ٹرائل؛
ورثاء کے حقِ سماعت؛
اور عدالتی نظام کے تقدس
سے براہِ راست متعلق ہے۔
1۔ وکیل اور مؤکل کا تعلق — Principle & Agent
عدالت نے قرار دیا کہ:
وکیل اور مؤکل کا تعلق “Principal and Agent” کا ہے۔
یہ اصول بنیادی طور پر قانونِ معاہدات (Law of Agency) سے اخذ شدہ ہے۔
متعلقہ قانونی دفعات
Contract Act, 1872
Sections 182–201
خصوصاً:
Section 201 Contract Act
Agency ختم ہو جاتی ہے:
principal کی موت سے؛
insanity سے؛
authority revocation سے۔
یعنی:
مؤکل کی وفات کے بعد وکیل کا اختیار از خود ختم ہو جاتا ہے۔
2۔ Order III Rule 4 CPC کی قانونی تشریح
Order III Rule 4 CPC
یہ دفعہ وکیل کی تقرری اور اختیار سے متعلق ہے۔
اہم نکات:
وکیل صرف تحریری وکالت نامہ پر کارروائی کر سکتا ہے۔
وکالت نامہ عدالت میں فائل ہونا ضروری ہے۔
وکالت نامہ ختم ہوتا ہے:
(a)
مؤکل کی وفات پر
(b)
وکیل کی وفات پر
(c)
مقدمہ ختم ہونے پر
سپریم کورٹ نے یہی قرار دیا:
“Authority of advocate ceases immediately upon death of client.”
3۔ مؤکل کی وفات چھپانا — قانونی اور اخلاقی بددیانتی
عدالت نے انتہائی سخت الفاظ استعمال کیے:
“Concealment of death is against professional etiquettes.”
یہ صرف procedural irregularity نہیں بلکہ:
Misconduct
Abuse of process
Fraud upon Court
کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
4۔ وکیل کی پیشہ ورانہ ذمہ داری
Legal Profession & Ethics
Pakistan Bar Council
Canons of Professional Conduct and Etiquette
وکیل پر لازم ہے کہ:
عدالت سے سچ نہ چھپائے؛
misrepresentation نہ کرے؛
عدالت کو mislead نہ کرے۔
اگر وکیل جان بوجھ کر مؤکل کی وفات چھپائے تو یہ:
Professional Misconduct
ہو گا۔
5۔ بار کونسل کارروائی — مجوزہ قانونی اثرات
عدالت نے قرار دیا:
معاملہ متعلقہ بار کونسل کو بھیجا جا سکتا ہے۔
متعلقہ قانون
Legal Practitioners and Bar Councils Act, 1973
Section 41
Professional misconduct inquiry
ممکنہ سزائیں:
reprimand
suspension
cancellation of license
6۔ قانونی ورثاء کی شمولیت — بنیادی قانونی تقاضا
Order XXII CPC
یہ پورا Order وفات کے بعد مقدمات کی
continuation
سے متعلق ہے۔
7۔ “Right to Sue Survives” کی تشریح
یہ مقدمہ کا مرکزی اصول ہے۔
مفہوم:
اگر دعویٰ ذاتی نوعیت کا نہ ہو تو:
مقدمہ مرنے سے ختم نہیں ہوتا۔
بلکہ:
قانونی ورثاء مقدمہ جاری رکھ سکتے ہیں۔
8۔ Latin Maxim
عدالت نے دو اہم اصول بیان کیے:
(1)
Nullus Commodum Capere Potest De Injuria Sua Propria
کوئی شخص اپنی غلطی سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔
یعنی:
وکیل موت چھپا کر فائدہ حاصل نہیں کر سکتا۔
(2)
Actio Personalis Moritur Cum Persona
ذاتی دعویٰ شخص کی موت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔
مگر:
ہر دعویٰ اس اصول کے تحت ختم نہیں ہوتا۔
مثلاً:
property disputes
tenancy disputes
inheritance disputes
ورثاء کو منتقل ہوتے ہیں۔
9۔ Order XXII Rule 3 CPC
مدعی کی وفات
اگر:
مدعی فوت ہو جائے؛
حقِ دعویٰ باقی ہو؛
تو:
عدالت قانونی ورثاء کو شامل کرے گی۔
10۔ Order XXII Rule 4 CPC
مدعا علیہ کی وفات
اگر defendant فوت ہو جائے:
تو legal heirs کو implead کرنا لازم ہے۔
11۔ Law Reforms Ordinance 1972 کی اہمیت
1972 سے پہلے:
مقدمہ خود بخود abate ہو جاتا تھا۔
اصلاحات کے بعد:
عدالت مقدمہ جاری رکھ سکتی ہے۔
مگر:
اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ:
وکیل موت چھپا کر کارروائی جاری رکھے۔
سپریم کورٹ نے یہی اصول واضح کیا۔
12۔ Order VII Rule 26 CPC
مدعی کو پہلے سے legal heirs کی تفصیلات دینا ہوں گی۔
یہ ایک اہم procedural safeguard ہے۔
13۔ Order VIII Rule 13 CPC
Defendant
کی possible legal representatives کی معلومات بھی ضروری ہیں۔
14۔ Limitation Act 1908
Article 176
Deceased plaintiff/appellant
Article 177
Deceased defendant/respondent
مدت:
90 دن
15۔ کیا تاخیر ناقابلِ معافی ہے؟
عدالت نے کہا:
نہیں۔
اگر sufficient cause ہو تو:
delay condone ہو سکتی ہے۔
16۔ آئینی پہلو
یہ فیصلہ براہِ راست منسلک ہے:
Article 10-A Constitution of Pakistan
Fair Trial & Due Process
اگر legal heirs کو سنے بغیر فیصلہ ہو:
تو:
natural justice violate
ہوتی ہے؛
fair hearing
متاثر ہوتی ہے۔
17۔ Principles of Natural Justice
Audi Alteram Partem
دوسرے فریق کو بھی سنا جائے۔
ورثاء کو سنے بغیر فیصلہ:
اس اصول کی خلاف ورزی ہے۔
18۔ عدالت کی ذمہ داری
عدالت نے واضح کیا:
اگر موت کی اطلاع ہی نہ دی جائے تو:
عدالت خود کیسے جان سکے گی؟
اس لیے:
وکیل پر heightened duty عائد ہوتی ہے۔
19۔ Ex Parte فائدہ اٹھانے کی ممانعت
عدالت نے دراصل یہ اصول قائم کیا:
وکیل procedural manipulation نہیں کر سکتا۔
20۔ مجوزہ قانونی اصلاحات
یہ فیصلہ پاکستان میں procedural reforms کی ضرورت بھی ظاہر کرتا ہے۔
مجوزہ ترامیم
(1) Mandatory Death Disclosure Rule
CPC
میں نئی دفعہ شامل ہو
وکیل 7 دن کے اندر موت رپورٹ کرے۔
(2) Digital NADRA Verification
عدالتی نظام کو NADRA سے link کیا جائے۔
(3) Automatic Suspension of Proceedings
موت کی اطلاع پر:
کارروائی خودکار طور پر معطل ہو۔
(4) Penal Consequences
جان بوجھ کر concealment پر:
contempt
misconduct
costs
لاگو ہوں۔
21۔ بین الاقوامی قانونی اصول
India
Order XXII Rule 10-A CPC
وکیل پر mandatory duty۔
United Kingdom
Solicitors Regulation Authority (SRA):
duty of candor
duty to court
United States
ABA Model Rules:
Rule 3.3
Candor Toward Tribunal
22۔ اس فیصلہ کے عملی اثرات
یہ فیصلہ مستقبل میں:
fake representation؛
expired vakalatnama؛
fraudulent litigation
کو روکنے میں بنیادی نظیر بنے گا۔
23۔ اہم قانونی اصول جو اس فیصلہ سے اخذ ہوئے
Established Principles
(1)
مؤکل کی وفات سے وکالت نامہ ختم۔
(2)
وکیل فوراً عدالت کو آگاہ کرے۔
(3)
ورثاء کو شامل کرنا لازم۔
(4)
وفات چھپانا misconduct۔
(5)
fair trial ورثاء کی سماعت کے بغیر ممکن نہیں۔
(6)
عدالت procedural technicalities کے بجائے substantive justice کو ترجیح دے گی۔
نتیجہ
یہ فیصلہ پاکستانی عدالتی نظام میں:
وکیل کی امانت داری؛
عدالت کے ساتھ دیانت؛
قانونی ورثاء کے حقوق؛
اور fair trial
کے اصولوں کو مضبوط بناتا ہے۔
سپریم کورٹ نے واضح کر دیا کہ:
عدالتیں محض تکنیکی کارروائی نہیں بلکہ انصاف کے ادارے ہیں، اور انصاف تبھی ممکن ہے جب ہر متاثرہ فریق کو سنا جائے اور وکیل اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری دیانت داری سے مقدمہ کو چلانے میں عدالتوں کی معاونت کرے.......