M Shahzad Hussain Adv

M Shahzad Hussain Adv struggling against corrupt system ,Legal services are free for deserving persons.923467198311

08/06/2026

25 مئ 2019 کو ایک شہری، عبد الخالق، موٹروے پر پشاور سے لاہور جا رہا تھا۔ نیلا پولیس اسٹیشن، ضلع چکوال کی حدود میں ایک نجی کار نے اس کا راستہ روکا۔ گاڑی سے پولیس وردی میں ملبوس اہلکار منذر عباس ASI اور ڈرائیور کانسٹیبل فرحان اترے اور تلاشی کے دوران عبد الخالق کی کار کے ڈیش بورڈ سے دو لاکھ روپے نکال لیے۔ اس اچانک واردات نے عبد الخالق کو حیران و پریشان کر دیا اور اس نے فوری طور پر موٹروے پولیس کو مطلع کیا، جس کے بعد ایک سنسنی خیز تعاقب شروع ہوا۔ موٹروے پولیس نے اس نجی گاڑی کو ڈھونڈ نکالا، وہ رقم برآمد کر کے مالک کو واپس کی اور دونوں اہلکاروں کو موقع پر ہی دھر لیا۔ اس واقعے کے بعد دونوں پنجاب پولیس اہلکاران کے خلاف ڈکیتی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی دفعات کے تحت ایک مجرمانہ مقدمہ درج ہوا اور ساتھ ہی محکمانہ تادیبی کارروائی کا آغاز بھی کر دیا گیا۔
جب چالان کیس چلا تو عدالت نے ان دونوں اہلکاروں کو ثبوتوں کی کمی یا تکنیکی بنیادوں پر فوجداری مقدمے سے بری کر دیا، لیکن دوسری طرف محکمہ پولیس نے انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا۔ پنجاب سروس ٹربیونل نے بھی ان کی برطرفی کے فیصلے کو برقرار رکھا، جس کے بعد یہ معاملہ انصاف کے سب سے بڑے ایوان، یعنی سپریم کورٹ آف پاکستان تک پہنچ گیا۔ سپریم کورٹ کے تین ججوں کے سامنے یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور الجھا ہوا قانونی معمہ تھا، جہاں انصاف کی دو مختلف راہیں آپس میں ٹکرا رہی تھیں۔
جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل اکثریتی بینچ کا رخ اس کہانی میں قانون کے سخت گیر اور اصول پسند چہرے کو بے نقاب کرتا ہے۔ ان کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ کیا ایک مجرمانہ مقدمے میں بریت محکمانہ کارروائی کو ختم کر دیتی ہے؟ عدالت نے ماضی کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ فوجداری بریت کسی بھی طرح محکمانہ کارروائی کے آڑے نہیں آتی۔ دونوں کارروائیاں بیک وقت چل سکتی ہیں اور ایک کا نتیجہ دوسرے پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ جب ججوں نے ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو سسپنس کے پردے چاک ہونے لگے۔ اہلکاروں کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ تو کوٹ مومن کے قریب موٹروے پولیس کے ہاتھوں روکے گئے تھے، لیکن دستاویزی شواہد نے ان کے اس جھوٹ کو بے نقاب کر دیا۔ حقیقت یہ تھی کہ وہ بغیر کسی اجازت کے، نجی گاڑی میں، پولیس وردی کا رعب جماتے ہوئے ایک دور دراز علاقے میں کارروائی کر رہے تھے، جو کہ ان کے عہدے اور محکمے کی ساکھ پر ایک گہرا داغ تھا۔ اکثریتی فیصلے میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ان کا یہ غیر قانونی سفر اور اختیارات کا غلط استعمال سراسر سنگین بدعنوانی ہے، جس کی سزا صرف اور صرف برطرفی ہی ہو سکتی ہے، تاکہ پولیس فورس کی ساکھ کو بچایا جا سکے۔ اس طرح دو ججوں نے ان کی اپیلیں خارج کر دیں۔
لیکن سب سے بڑا سسپنس اور ڈرامائی موڑ جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کے اختلافی نوٹ سے سامنے آیا، جنہوں نے تصویر کا ایک بالکل دوسرا اور ہولناک رخ پیش کیا۔ ان کے قلم نے اس پورے واقعے کو ایک مبینہ گہری سازش کے روپ میں دیکھا۔ برطرف اہلکاروں کا موقف تھا کہ جس شہری عبد الخالق اور گواہ اصغر خان نے ان پر پیسے چھیننے کا الزام لگایا تھا، وہ دراصل عام شہری نہیں بلکہ منشیات کے بین الاقوامی اسمگلر تھے، جنہیں ماضی میں بھی منشیات کے مقدمات میں سزائیں ہو چکی تھیں۔ اہلکاروں کے مطابق، اس واقعے سے چند دن پہلے ہی انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ پکڑی تھی، جس کی وجہ سے منشیات فروشوں کے اس گروہ نے پولیس کے اعلیٰ افسران کو گمراہ کر کے اور ہمدردیاں حاصل کر کے ان کے خلاف یہ جھوٹی کہانی گھڑی تاکہ ان کا راستہ صاف ہو سکے۔
جسٹس نقوی نے انکشاف کیا کہ محکمانہ انکوائری افسر نے اس سنگین دفاعی موقف کی جانچ کرنے کی زحمت ہی نہیں کی، نہ تو منشیات فروش گواہوں کو انکوائری میں شامل کیا گیا اور نہ ہی ملزم اہلکاروں کو ان پر جرح کا کوئی موقع دیا گیا۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ کسی سول سرونٹ کو اس طرح سرسری اور غیر منصفانہ طریقے سے نوکری سے نکال دینا نہ صرف اس کے پورے خاندان کو برباد کر دیتا ہے بلکہ اس کے ماتھے پر عمر بھر کے لیے بدنامی کا ایک ایسا داغ لگا دیتا ہے جو موت تک نہیں دھلتا۔ ان کا ماننا تھا کہ معاشرے کے مجرم اور منشیات کے سوداگر اتنے بااثر ہو چکے ہیں کہ وہ قانون کے رکھوالوں کو ہی قانون کے جال میں پھنسا رہے ہیں۔ اس تشویشناک صورتحال کو دیکھتے ہوئے انہوں نے ان اہلکاروں کی برطرفی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی بحالی کا فیصلہ دیا۔ تاہم، عدالت کے دو ایک کے اکثریتی فیصلے کے باعث قانون کی آہنی گرفت برقرار رہی اور دونوں اہلکاروں کی برطرفی کا فیصلہ حتمی ٹھہرا۔
______________________

08/06/2026

لاہور ہائی کورٹ نے کریمنل جسٹس سسٹم میں مجسٹریٹس کی جانب سےاینٹی ریپ ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت متاثرہ کا بیانات ریکارڈ کرنے کے روایتی انداز پر اہم ریمارکس دیے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگر دفعہ 164 کا بیان مروجہ طریقہ کار (ویڈیو ریکارڈنگ اور جرح کے موقع) کے بغیر ریکارڈ کیا جائے تو اس کی قانونی حیثیت کیا ہوگی۔
لاہور ہائی کورٹ (ملتان بینچ) کا یہ فیصلہ ایک ملزم، **سونارا خان عرف سونہارا خان**، کی بعد از گرفتاری ضمانت (Post-arrest Bail) کی منظوری سے متعلق ہے، جس پر ایک نابالغ لڑکی سے جنسی بدسلوکی (سیکشن 377-B تعزیراتِ پاکستان - PPC) کا الزام تھا۔
جسٹس طارق سلیم شیخ نے اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے درج ذیل اہم نکات اور قانونی اصولوں کی وضاحت کی ہے:
# # # 1۔ کیس کا پس منظر اور الزامات
* **ایف آئی آر (FIR) کا موقف:** متاثرہ لڑکی کی ماں (شکایت کنندہ) کے مطابق، 12 جولائی 2025ء کو اس کی 14/15 سالہ بیٹی (K.B.) گنے کے کھیت میں چارہ کاٹ رہی تھی کہ ملزم سونارا خان اور اس کے ساتھی طاہر نے اسے اکیلا پا کر نازیبا اشارے کیے، ہراساں کیا اور اس کے نازک اعضاء کو ہاتھ لگایا۔ لڑکی کے شور مچانے پر جب گھر والے پہنچے تو ملزم فرار ہو گئے۔
* **سیکشن 161 کا بیان:** پولیس تفتیش کے دوران لڑکی اور گواہان نے پہلے اسی کہانی کی تصدیق کی۔
# # # 2۔ ملزم کے وکیل کا مؤقف اور تضاد
ملزم کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ملزم بے گناہ ہے اور اسے جھوٹا پھنسایا گیا ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ جب مجسٹریٹ کے سامنے لڑکی کا **دفعہ 164 ضابطہ فوجداری (Cr.P.C) کے تحت بیان** ریکارڈ کیا گیا، تو اس نے بالکل الگ کہانی سنائی۔
> **لڑکی کا دفعہ 164 کا بیان:** لڑکی نے مجسٹریٹ کو بتایا کہ ملزم نے صرف اس کی کلائی پکڑی تھی اور اسے پیسے دکھائے تھے، جس پر اس نے شور مچا دیا۔ اس بیان میں نازک اعضاء کو چھونے یا جنسی بدسلوکی کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
>
# # # 3۔ عدالت کی قانونی تشریحات (دفعہ 164 اور اینٹی ریپ ایکٹ 2021)
عدالت نے دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے جانے والے بیانات کی قانونی حیثیت پر تفصیلی روشنی ڈالی:
* **بغیر جرح کے بیان کی حیثیت:** اگر دفعہ 164 کا بیان ملزم کی غیر موجودگی میں ریکارڈ کیا جائے اور ملزم کے وکیل کو جرح (Cross-examination) کا موقع نہ ملے، تو اسے ٹرائل کے دوران بنیادی ثبوت (Substantive Evidence) کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، اسے تفتیشی ریکارڈ کا حصہ مانا جائے گا اور ضمانت کے مرحلے پر تضاد پرکھنے کے لیے دیکھا جا سکتا ہے۔
* **اینٹی ریپ ایکٹ 2021 کی خلاف ورزی:** عدالت نے نوٹ کیا کہ اینٹی ریپ ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت متاثرہ کا بیان لازمی طور پر **ویڈیو ریکارڈ** ہونا چاہیے اور ملزم کے وکیل کو **جرح کا موقع** ملنا چاہیے، لیکن اس کیس میں مجسٹریٹ نے ان دونوں قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا۔
# # # 4۔ عدالت کا فیصلہ اور ضمانت کی وجہ
عدالت نے پایا کہ ایف آئی آر اور لڑکی کے دفعہ 164 کے بیان میں **شدید تضاد** ہے۔
* سیکشن 377-B (جنسی بدسلوکی) صرف تب لاگو ہوتا ہے جب چھونا، ٹٹولنا یا کوئی فحش حرکت ثابت ہو۔ جبکہ لڑکی کے اپنے بیان کے مطابق ملزم نے صرف ہاتھ پکڑا، جو کہ دفعہ 354 PPC (عورت کی حیا پر حملہ) کے زمرے میں آ سکتا ہے اور یہ ایک قابلِ ضمانت (Bailable) جرم ہے۔
* اس تضاد کی وجہ سے عدالت نے قرار دیا کہ کیس مزید انکوائری/تفتیش کا محتاج ہے (**Further Inquiry** تحت دفعہ 497(2) Cr.P.C)۔ چنانچہ عدالت نے ملزم کی ضمانت **2 لاکھ روپے** کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی۔
# # # 5۔ مجسٹریٹوں کے لیے اہم ہدایات
جسٹس طارق سلیم شیخ نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ پنجاب میں مجسٹریٹ دفعہ 164 کے بیانات روایتی اور لاپرواہی کے انداز میں ریکارڈ کرتے ہیں۔ عدالت نے پنجاب کے تمام سیشن ججز کو درج ذیل احکامات جاری کیے:
1. مجسٹریٹ بیانات کو گواہ یا متاثرہ کے اپنے الفاظ میں لکھیں، نہ کہ لکھی لکھائی قانونی زبان میں۔
2. اینٹی ریپ ایکٹ 2021 کے تحت بیانات کی ویڈیو ریکارڈنگ اور ملزم کے وکیل کو جرح کا موقع دینے کے قانون پر سختی سے عمل کرایا جائے۔
3. سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق، ریپ یا جنسی زیادتی کی متاثرہ خواتین کے بیانات ترجیحی طور پر **خاتون مجسٹریٹ** کے سامنے ہی ریکارڈ کیے جائیں۔

01/06/2026

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: مقدمے میں نئی دفعات لگنے پر کیا پولیس ملزم کو فوراً گرفتار کر سکتی ہے؟
لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بینچ کا ایک اہم قانونی فیصلہ سامنے آیا ہے، جس میں ضمانتِ قبل از گرفتاری (Pre-arrest Bail) اور پولیس کے اختیارات کے حوالے سے اہم اصول طے کیے گئے ہیں۔ اگر کسی ملزم کی ضمانت ہو چکی ہو اور بعد میں تفتیش کے دوران پولیس نئی یا سنگین دفعات کا اضافہ کر دے، تو قانون کیا کہتا ہے؟
کیس کا پس منظر:
محمد افضل نامی ایک مینیجر (منشی) پر اپنے مالک کے پٹرول پمپ کے بینک اکاؤنٹس سے ۲ کروڑ ۱۴ لاکھ روپے کا غبن کرنے اور چیک بک چوری کر کے جعلی دستخطوں سے رقم نکالنے کا الزام تھا۔ پولیس نے پہلے معمولی دفعہ (چوری) کے تحت پرچہ درج کیا، جس میں ملزم کو ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی۔ بعد میں تفتیش بدلنے پر پولیس نے دھوکہ دہی، امانت میں خیانت اور جلعسازی (408, 420, 468, 471 PPC) کی سنگین دفعات شامل کر دیں۔
سیشن کورٹ نے یہ کہہ کر ملزم کی دوبارہ ضمانت کی درخواست خارج کر دی تھی کہ "پہلے ہائی کورٹ ضمانت دے چکی ہے، ہم اس میں تبدیلی نہیں کر سکتے۔" معاملہ دوبارہ ہائی کورٹ پہنچا، جہاں معزز جج طارق سلیم شیخ نے درج ذیل اہم قانونی اصول (Ratio Decidendi) واضح کیے:
**فیصلے کے اہم قانونی نکات:**
1. **نئی دفعات پر پرانی ضمانت کا خاتمہ:** عدالت نے واضح کیا کہ ضمانت ہمیشہ انھی دفعات (Sections) کے لیے ہوتی ہے جو ضمانت لیتے وقت مقدمے میں موجود ہوں۔ اگر پولیس بعد میں کوئی نئی یا زیادہ سنگین دفعہ شامل کرتی ہے، تو پرانی ضمانت کا تحفظ خودبخود نئی دفعات پر لاگو نہیں ہوتا۔
2. **پولیس فوراً گرفتار نہیں کر سکتی:** عدالت نے پولیس کے اختیارات کو لگام دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پرانی ضمانت نئی دفعات پر اثر انداز نہیں ہوتی، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پولیس اپنی مرضی سے ملزم کو فوراً گرفتار کر لے۔ اگر پولیس گرفتاری چاہتی ہے تو اسے پہلے عدالت سے رجوع کر کے ضمانت خارج کروانے کی اجازت لینا ہوگی۔ پولیس کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ بار بار نئی دفعات لگا کر عدالتی احکامات کا مذاق اڑائے۔
3. **دوبارہ ضمانت کی درخواست سیشن کورٹ میں قابلِ سماعت ہے:**
اگر مقدمے میں نئی دفعات شامل ہوں، تو ملزم ان نئی دفعات کے خلاف دوبارہ ضمانتِ قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کر سکتا ہے، اور سیشن کورٹ کا یہ کہنا غلط تھا کہ ان کے پاس اختیارِ سماعت نہیں ہے۔
4. **موجودہ کیس کا فیصلہ:** جہاں تک محمد افضل (ملزم) کے اپنے کیس کا تعلق تھا، عدالت نے اس کی ضمانت کی درخواست **خارج** کر دی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ملزم پر بھروسے کا فائدہ اٹھا کر کروڑوں روپے کے بڑے مالیاتی غبن اور چیکوں میں جعل سازی کا سنگین الزام ہے، جس کی تفتیش اور برآمدگی کے لیے پولیس کو ملزم کی حراست درکار ہے، اور ملزم کے خلاف پولیس کی کوئی بدنیتی ثابت نہیں ہوئی۔

24/05/2026

@لودھراں کی 90 سالہ رحیم خاتون ایک اَن پڑھ، بے اولاد اور بیوہ عورت تھی۔ البتہ جس گھر میں رہائش پذیر تھی، وہ اس کے نام پر تھا۔ ایک دن اس کے قریبی رشتہ دار یاسین وغیرہ اسے زکوٰۃ دلوانے کے بہانے سے ایک اسٹامپ فروش کے پاس لے گئے، گھر فروخت کرنے کیلئے دھوکے سے اسٹامپ پیپر جاری کروایا اور پھر رجسٹرار آفس میں لے جا کر اپنے نام رجسٹری مکمل کروا لی۔

کچھ عرصہ بعد رحیم خاتون کو علم ہوا کہ گھر تو اس نے یاسین وغیرہ کو فروخت کر دیا ہے اور 'رجسٹری' بھی مکمل ہوگئی ہے۔ بزرگ خاتون نے سول کورٹ میں اس جعلی رجسٹری کی منسوخی کیلئے کیس دائر کر دیا۔ اس نے کہا کہ وہ ایک اَن پڑھ، عمر رسیدہ، بے اولاد بیوہ ہے۔ اس کے قریبی رشتہ داروں نے اس کی کمزوری کا فائدہ اٹھایا اور زکوٰۃ کے کاغذات کا جھانسہ دے کر دھوکے سے اس کے مکان کی رجسٹری اپنے نام کروا لی، اور مکان کی کوئی قیمت بھی ادا نہیں کی گئی۔ جواب میں یاسین وغیرہ نے کہا کہ رجسٹری بالکل درست ہے۔ بینک کے ذریعے تمام قیمت ادا کی گئی ہے۔

سول کورٹ نے یاسین وغیرہ کا موقف مسترد کرتے ہوئے رحیم خاتون کا دعویٰ ڈگری کر دیا۔ یاسین وغیرہ نے ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل کی جو خارج ہوگئی۔ انہوں نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا۔ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ قانون کے تحت فراڈ اور جعلسازی کو ثابت کرنے کی ذمہ داری مدعیہ (رحیم خاتون) پر تھی، جسے وہ ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس لیے اس رجسٹری (بیع نامہ) کو درست تسلیم کیا جائے گا۔ ہائیکورٹ نے ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے رحیم خاتون کا دعویٰ خارج کر دیا۔

اس دوران رحیم خاتون اور یاسین دونوں انتقال کر گئے۔ رحیم کے ورثاء نے ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔

سپریم کورٹ میں رحیم خاتون کے ورثاء کی طرف سے دلائل دیے گئے کہ رحیم خاتون ایک انتہائی ضعیف اور اَن پڑھ خاتون تھی۔ قانون کے مطابق جب ایک اَن پڑھ خاتون فراڈ کا الزام لگائے تو یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری کہ لین دین بالکل شفاف تھا، ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جنہیں اس کا فائدہ پہنچ رہا ہے (یعنی یاسین وغیرہ)۔ ہائیکورٹ نے بارِ ثبوت غلط طور پر مدعیہ پر ڈال دیا ہے۔

یاسین کے ورثاء کے دلائل تھے کہ چونکہ بیع نامہ ایک رجسٹرڈ پبلک دستاویز ہے، اس لیے اسے سچا تصور کیا جانا چاہیے۔ رقم کی ادائیگی بینک کے ذریعے کی گئی۔ ہائیکورٹ کا فیصلہ بالکل درست ہے۔

سپریم کورٹ میں دو رکنی بنچ نے مارچ 2025ء میں اپیل کی سماعت کی اور جسٹس ملک شہزاد احمد نے فیصلہ تحریر کیا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ "مصباح خانم کیس" میں یہ اصول طے ہو چکا ہے کہ اگر عمر رسیدہ اور اَن پڑھ اصل مالک فراڈ کا الزام لگائے تو لین دین کو درست ثابت کرنے کی ذمہ داری بیع سے فائدہ اٹھانے والے (بینی فشری) پر ہوتی ہے۔ یعنی اس صورت میں بارِ ثبوت مدعاعلیہ پر ہوتا ہے۔ مدعاعلیہ یاسین نے اپنے حق میں رجسٹرار (جس نے یہ رجسٹری پاس کی تھی) کو عدالت میں پیش نہیں کیا۔ مکان کی رقم بذریعہ بینک ٹرانسفر ہونے کا بینک اسٹیٹمنٹ وغیرہ کوئی ثبوت نہیں دیا گیا، یوں رقم کی ادائیگی بھی ثابت نہ ہوسکی۔ لین دین کے وقت اس ضعیف اور اَن پڑھ خاتون کے ہمراہ اسکا کوئی اپنا رشتہ دار یا خیر خواہ موجود نہیں تھا۔ ہائیکورٹ کا فیصلہ ملکی طے شدہ قانون کے بالکل خلاف ہے۔

سپریم کورٹ نے رحیم خاتون کے ورثاء کی اپیل منظور کرتے ہوئے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم اور ماتحت عدالتوں کے فیصلے بحال کرتے ہوئے، یاسین وغیرہ کے نام ہوئی رجسٹری (بیع نامہ) منسوخ کر دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
☆ یاسین وغیرہ ممکنہ طور پر بزرگ خاتون کے مرحوم شوہر کے بھائی یا بھتیجے ہوسکتے ہیں، جنہوں نے سوچا کہ بڑھیا اسی حالت میں مر گئی تو مکان اس کے بھائی بہنوں کے نام چلا جائے گا، اور پھر یہ فراڈ کیا۔ لیکن ابھی کیس عدالت میں ہی تھا کہ اسی فراڈ پر قائم رہتے ہوئے موت آگئی۔

23/05/2026

@بڑی خبر: اب ریونیو عدالتوں میں دستی کارروائی ختم، ڈیجیٹل سسٹم (RCMS) لازمی قرار!
حوالہ: نوٹیفکیشن نمبر 07A-2026/PA/Registrar، مورخہ 21 مئی 2026، بورڈ آف ریونیو، حکومت پنجاب۔
عدالتی فیصلہ / حکومتی ہدایت
پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 میں حالیہ ترامیم کے بعد، اب تمام ریونیو کیسز کا اندراج "ریونیو کورٹ مینجمنٹ سسٹم" (RCMS) کے ذریعے کرنا لازمی ہوگا۔ بورڈ آف ریونیو نے واضح کیا ہے کہ 16 مئی 2026 سے 15 جون 2026 تک دستی (Manual) اور ڈیجیٹل سسٹم ساتھ ساتھ چلیں گے تاکہ منتقلی کا عمل مکمل ہو سکے، جس کے بعد مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام نافذ العمل ہوگا۔
اہم قانونی نکات (آسان الفاظ میں)
لازمی اندراج: تمام ریونیو افسران اور عدالتیں پابند ہیں کہ وہ تمام کیسز کا فیصلہ اور پراسیس صرف RCMS کے ذریعے ہی کریں گے۔
اہداف کا تعین: ڈپٹی کمشنرز کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ اپنے عملے اور وکلاء برادری کو اس نئے سسٹم کی تربیت دیں۔
مانیٹرنگ: تمام اضلاع کے کلکٹرز اور ڈی سیز کی کارکردگی کا جائزہ اس بات سے لیا جائے گا کہ انہوں نے ڈیجیٹل سسٹم کو کتنی کامیابی سے لاگو کیا۔
شفافیت: اس ڈیجیٹل سسٹم کا مقصد عدالتی نظام میں تیزی لانا اور عام آدمی کے لیے انصاف کے حصول کو شفاف بنانا ہے۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ اقدام پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 میں ہونے والی حالیہ ترامیم اور بورڈ آف ریونیو کے سابقہ مراسلہ نمبر 07-2026/PA/SEC/REV/BOR (مورخہ 7 اپریل 2026) کے تسلسل میں اٹھایا گیا ہے۔

ایسے تمام فریقین جو پرانے دستی نظام کی سستی کا شکار تھے، ان کے لیے ریلیف یہ ہے کہ اب تمام کیسز کا ریکارڈ آن لائن ہوگا جس سے فائلیں غائب ہونے یا کارروائی میں غیر ضروری تاخیر کا خدشہ ختم ہو جائے گا۔ یہ نظام انتظامیہ کو پابند کرتا ہے کہ وہ شہریوں کو سسٹم کی تبدیلی کے دوران مکمل سہولت فراہم کریں۔

23/05/2026

@لاہور ہائیکورٹ نے فیکٹریوں کے سامان پر ٹیکس چھوٹ سے متعلق اہم ترین تحریری فیصلہ جاری کر دیا

اسپیشل اکنامک زون میں فیکٹری لگانے پر ہر چیز پر خودبخود ٹیکس کی چھوٹ نہیں مل سکتی۔فیصلہ

ٹیکس معافی اور چھوٹ کا قانون کوئی عام رعایت نہیں، اس پر ہمیشہ سختی سے عمل ہونا چاہیے۔فیصلہ

مشینیں اور فیکٹری سامان کس زمرے میں آتا ہے، یہ طے کرنا عدالتوں کا نہیں بلکہ متعلقہ ماہرین کا کام ہے، فیصلہ

عدالتیں سرکاری محکموں اور ٹیکنیکل کمیٹیوں کے ماہرین کے فیصلوں میں بلاوجہ مداخلت نہیں کرتیں۔فیصلہ

کسی ٹیکس قانون میں ابہام یا شک ہونےکا فائدہ ہمیشہ سرکاری خزانے اور ٹیکس محکمے کو دیا جائے گا۔فیصلہ

ٹیکس سے بچنے یا چھوٹ کا دعویٰ کرنے والے پر ہی خود کو قانوناً حقدار ثابت کرنے کا بوجھ ہوتا ہے۔فیصلہ

ایف بی آر کی طرف سے جاری کردہ ہدایات اور وضاحتیں پورے ٹیکس نظام اور محکمے پر لازم ہوتی ہیں، فیصلہ

باہر سے منگوائے گئے فیکٹری کے بنے بنائے لوہے کے شیڈ اور کمروں پر کسٹمز ٹیکس معاف نہیں ہوگا۔ فیصلہ

بنے بنائے لوہے کے شیڈ اور کمرے فیکٹری کی مینوفیکچرنگ مشینری کا حصہ نہیں کہلا سکتے۔فیصلہ

لوہے کے ان بنے بنائے شیڈز کا فیکٹری کی مشینوں کے چلنے یا پروڈکشن سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔فیصلہ

جسٹس خالد اسحاق اور جسٹس حسن نواز مخدوم پر مشتمل ڈویژن بینچ نےفیصلہ جاری کیا

عدالت کا تحریری فیصلہ 17 صفحات پر مشتمل ہے

عدالت عالیہ نے نجی کمپنی کی ٹیکس معافی کی درخواست خارج کر دی

درخواست گزار کمپنی نے ایف بی آر اور کسٹمز کے ٹیکس لگانے کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا

اسپیشل اکنامک زون میں فیکٹری لگانے پر انہیں ہر چیز پر ٹیکس کی چھوٹ ملنی چاہیے۔وکیل درخواست گزار












23/05/2026

@لاہور ہائیکورٹ کا عدالتی تاریخ کا منفرد فیصلہ

رقم کی قدر برقرار رکھنے کے لیے بیوی کو روپے کے بجائے سونے یا امریکی ڈالر کے حساب سے وصولی کا تاریخی اختیار دے دیا۔

۱۔ کیس کے حقائق (Facts of the Case)

شادی اور تنازع:
صنم شہزادی (سائلہ/Petitioner) کی شادی ۱۷ ستمبر ۲۰۰۹ کو محمد انور (مسئول علیہ/Respondent) سے ہوئی۔ ان کا ایک بیٹا "محمد نور اللہ" پیدا ہوا۔ محمد انور نے ایک اور خاتون (عصمت طاہرہ) سے دوسری شادی کر رکھی تھی، جس کی وجہ سے میاں بیوی کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے اور صنم شہزادی کو گھر سے نکال دیا گیا، جس کے بعد وہ اپنے والدین کے گھر رہنے لگی۔

راضی نامہ/معاہدہ (07.10.2010):
دونوں خاندانوں کے بڑوں اور معززین نے مداخلت کر کے میاں بیوی میں صلح کروائی۔ اس صلح کے نتیجے میں ۷ اکتوبر ۲۰۱۰ کو ایک تحریری راضی نامہ (معاہدہ نمبر 979) طے پایا، جس میں شوہر (محمد انور) نے درج ذیل ذمہ داریاں اٹھائیں:
بیوی کو ۲,۰۰۰ روپے ماہانہ جیب خرچ دے گا۔
بیٹے نور اللہ کے نام ۵ مرلہ زمین منتقل کرے گا (جو شوہر کے والد نے گفٹ کے ذریعے منتقل کر بھی دی تھی)۔
اس ۵ مرلہ زمین پر ۳ ماہ کے اندر کم از کم ۱۳ لاکھ روپے کی لاگت سے بیوی کے لیے گھر تعمیر کر کے دے گا۔
بیوی کو علیحدہ اور خوش رکھے گا۔

خلاف ورزی کی صورت میں:
اگر شوہر نے اس معاہدے کی کسی بھی شرط کی خلاف ورزی کی، تو وہ بیوی کو ۲۵ لاکھ روپے بطور ہرجانہ/جرمانہ ادا کرنے کا پابند ہوگا۔

مقدمات کا آغاز:
صنم شہزادی نے الزام لگایا کہ شوہر نے معاہدے کی خلاف ورزی کی (گھر تعمیر نہیں کیا اور نہ علیحدہ رہائش دی)، لہٰذا اس نے ۲۵ لاکھ روپے ہرجانے کی وصولی کا دعویٰ دائر کر دیا۔
جواب میں شوہر (محمد انور) نے اس معاہدے کو منسوخ کرانے کے لیے ایک الگ دعویٰ دائر کر دیا۔ شوہر کا موقف تھا کہ اس سے یہ معاہدہ "ناجائز دباؤ" (Undue Influence) کے تحت زبردستی سائن کروایا گیا تھا اور اصل مقصد بیوی کا گھر آباد کرنا تھا، لیکن بیوی واپس نہیں آئی۔

۲۔ سول/ٹرائل کورٹ کا فیصلہ اور وجوہات (Trial Court Decision & Reasons)
ٹرائل کورٹ نے دونوں مقدمات کو یکجا (Consolidate) کیا اور گواہان کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد ۱۹ جنوری ۲۰۱۶ کو بیوی (صنم شہزادی) کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے اس کا دعویٰ ڈگری کر دیا اور شوہر کا معاہدہ منسوخی کا دعویٰ خارج کر دیا۔

ٹرائل کورٹ کے فیصلے کی وجوہات:
شوہر نے یہ تسلیم کیا تھا کہ صلح کے لیے اسٹامپ پیپر اس نے خود خریدا تھا اور دستخط بھی اس کے اپنے تھے۔
شوہر یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ اس پر کوئی ناجائز دباؤ (Undue Influence) ڈالا گیا تھا۔
شوہر نے خود اعتراف کیا کہ اس نے معاہدے کے تحت ۳ ماہ میں گھر تعمیر نہیں کیا، جس سے معاہدے کی خلاف ورزی ثابت ہوئی۔

۳۔ اپیلٹ کورٹ (ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج) کا فیصلہ اور وجوہات

شوہر نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج سیالکوٹ نے ۲۰ مارچ ۲۰۱۷ کو ٹرائل کورٹ کا فیصلہ الٹ دیا، بیوی کا دعویٰ خارج کر دیا اور شوہر کے حق میں فیصلہ دے دیا۔

اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کی وجوہات:
عدالت نے اس بات کو بنیاد بنایا کہ راضی نامے کے وقت بیوی خود اس پنچایت یا مجلس میں موجود نہیں تھی، اس لیے یہ معاہدہ یکطرفہ معلوم ہوتا ہے۔

عدالت کا موقف تھا کہ معاہدے کا اصل مقصد میاں بیوی کا اکٹھے رہنا (Cohabitation) تھا، اور چونکہ بیوی مستقل طور پر شوہر کے گھر آ کر نہیں رہی، اس لیے معاہدہ ختم ہو گیا اور شوہر ہرجانہ دینے کا پابند نہیں۔

۴۔ لاہور ہائی کورٹ کا حتمی فیصلہ اور وجوہات

بیوی نے اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں سول ریوائزن (Civil Revision) دائر کی۔ ہائی کورٹ کے جج جسٹس راحیل کامران نے اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ سائیڈ پر رکھ کر ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا اور بیوی کے حق میں ڈگری جاری کر دی۔

ہائی کورٹ کے فیصلے کی وجوہات

ناجائز دباؤ (Undue Influence) کا غیر ثابت ہونا: ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ محض یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ دباؤ تھا۔ شوہر ایک بالغ مرد تھا، اس نے یکم اکتوبر کو اسٹامپ خریدا اور ۷ اکتوبر کو معاہدہ لکھا گیا۔ اس ۷ دن کے وقفے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کوئی اچانک یا زبردستی کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ سوچا سمجھا معاہدہ تھا۔

جزوی عمل درآمد (Partial Performance):
معاہدے پر لکھنے سے پہلے ہی شوہر کے والد نے پوتے کے نام ۵ مرلہ زمین گفٹ کر دی تھی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شوہر کا خاندان اس صلح سے پوری طرح واقف تھا اور یہ ایک حقیقی خاندانی تصفیہ (Family Settlement) تھا۔

شرطِ اول کیا تھی؟: ہائی کورٹ نے اپیلٹ کورٹ کے اس نقطے کو مسترد کر دیا کہ بیوی پہلے آ کر رہتی۔ عدالت نے کہا کہ کشیدہ تعلقات اور دوسری بیوی کی موجودگی کی وجہ سے شوہر نے ۳ ماہ میں علیحدہ گھر بنا کر دینے کا وعدہ کیا تھا۔ شوہر خود اپنی شرط (گھر کی تعمیر) پوری کرنے میں ناکام رہا، اس لیے وہ سارا ملبہ بیوی پر نہیں ڈال سکتا۔ بیوی تو معاہدے کے بعد ایک دن کے لیے آئی بھی تھی، جس سے اس کی نیت صاف ظاہر ہوتی ہے۔

مجلس میں بیوی کی غیر موجودگی:
ہمارے معاشرتی پس منظر میں میاں بیوی کی صلح کے معاملات میں خاتون کے بزرگ (والد یا چچا) اس کی طرف سے بات چیت کرتے ہیں۔ اس لیے بیوی کا دستخط نہ کرنا یا وہاں جسمانی طور پر موجود نہ ہونا معاہدے کو غیر قانونی نہیں بناتا، خصوصاً جب وہ خود اس معاہدے کو تسلیم کر رہی ہو۔

۵۔ زرِ تلافی کی قدر برقرار رکھنے کا خصوصی حکم (Moulding of Relief)
عدالت نے ایک انتہائی اہم قانونی نکتہ اٹھایا۔ چونکہ یہ معاہدہ ۲۰۱۰ کا تھا اور ہرجانے کی رقم ۲۵ لاکھ روپے طے ہوئی تھی، اور اب (۲۰۲۶ میں) طویل عرصہ گزرنے کی وجہ سے روپے کی قدر (Value of Money) بہت کم ہو چکی ہے۔
عدالت نے سائلہ (بیوی) کو یہ اختیار دیا کہ وہ ۲۵ لاکھ روپے کی وصولی کے لیے دو میں سے کسی ایک طریقے کا انتخاب کر سکتی ہے تاکہ رقم کی اصل قوتِ خرید برقرار رہے:
یا تو وہ ادائیگی کے وقت کے امریکی ڈالر (US Dollar) کے ایکسچینج ریٹ کے حساب سے اتنی رقم وصول کرے۔
یا پھر وہ ادائیگی کے وقت مارکیٹ میں سونے (Gold) کی قیمت کے حساب سے اس رقم کے برابر سونا یا رقم وصول کرے۔
Civil Revision 24335/17
(Sanam Shahzadi Vs Muhammad Anwar)

22/05/2026

ریویو کے اختیار کی حد — سی ڈی اے کیس میں ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ
◉ مقدمہ کس بارے میں تھا؟
✦ شجاع شریف کی پراپرٹی پر Capital Development Authority نے الزام لگایا کہ جائیداد کو رہائشی کے بجائے غیر مجاز کمرشل مقصد کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔
✦ اس بنیاد پر جرمانہ عائد کیا گیا۔
◉ جرمانہ کس نے کیا؟
✦ ڈپٹی کمشنر نے بطور Commissioner اختیارات استعمال کرتے ہوئے پراپرٹی مالک کے خلاف آرڈر جاری کیا اور جرمانہ کیا۔
◉ بعد میں کیا ہوا؟
✦ پراپرٹی مالک نے اسی فیصلے کے خلاف Review دائر کیا۔
✦ پھر اسی ڈپٹی کمشنر نے اپنے پہلے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لیا اور جرمانہ ختم کر دیا۔
◉ ہائیکورٹ میں تنازع کیا بنا؟
✦ Capital Development Authority نے مؤقف اختیار کیا کہ Review میں پورا مقدمہ دوبارہ نہیں سنا جا سکتا۔
✦ سی ڈی اے نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر نے اختیار سے تجاوز کیا ہے۔
◉ ہائیکورٹ نے کیا فیصلہ دیا؟
✦ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ Review صرف واضح قانونی یا حسابی غلطی درست کرنے کیلئے ہوتا ہے۔
✦ عدالت نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر نے پورے مقدمہ کا دوبارہ جائزہ لے کر نیا فیصلہ دیا جو غیر قانونی تھا۔
✦ اسی بنیاد پر Review Order کالعدم قرار دے دیا گیا۔
◉ اہم قانونی اصول
✦ Review اپیل نہیں ہوتا۔
✦ Review Authority نیا فیصلہ نہیں دے سکتی۔
✦ صرف ظاہری یا clerical غلطی درست کی جا سکتی ہے۔
✦ پہلے سے طے شدہ حقائق دوبارہ جانچنا اختیار سے تجاوز شمار ہوتا ہے۔
◉ نتیجہ
✦ ہائیکورٹ نے Review Order ختم کر کے معاملہ دوبارہ فیصلہ کیلئے واپس بھیج دیا۔

22/05/2026

علاقہ مجسٹریٹ کی سزا کے خلاف اپیل کا طریقہ کار
جب بھی کسی فوجداری مقدمے میں سرکار (State) کی طرف سے نامزد کردہ ملزم کو علاقہ مجسٹریٹ (Illaqa Magistrate) سزا سناتا ہے، تو قانونِ پاکستان کے تحت اس سزا کے خلاف اپیل کا طریقہ کار درج ذیل ہے:
1۔ اپیل کہاں دائر ہوگی؟ (Forum of Appeal)
فورم: علاقہ مجسٹریٹ (خواہ وہ سیکشن 30 کا مجسٹریٹ ہو یا فرسٹ کلاس مجسٹریٹ) کی سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل سیشن کورٹ (Sessions Court) میں دائر کی جاتی ہے۔
قانونی دفعہ: یہ اپیل ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 408 (Section 408 CrPC) کے تحت سیشن جج یا ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں دائر ہوتی ہے۔
2۔ اپیل کتنے دنوں میں دائر کرنی ہوتی ہے؟ (Limitation Period)
میعادِ سماعت: علاقہ مجسٹریٹ کے فیصلے کے خلاف سیشن کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی قانونی مدت 30 دن ہے۔
قانونی حوالہ: قانونِ میعاد سماع (Limitation Act, 1908) کا آرٹیکل 154۔
وضاحت: یہ 30 دن اس تاریخ سے شروع ہوتے ہیں جس دن مجسٹریٹ نے فیصلہ سنایا ہو۔ فیصلے کی تصدیق شدہ نقل (Certified Copy) حاصل کرنے میں جو دن لگتے ہیں، وہ اس وقت میں سے نکال (Minus کر) دیے جاتے ہیں۔
3۔ اہم عدالتی نظائر (Relevant Judgements)
اپیل کے حق پر اصول (PLD 2018 Supreme Court 332):
اس فیصلے کے تحت اپیلٹ عدالت (سیشن کورٹ) پابند ہے کہ وہ مجسٹریٹ کی عدالت کے پورے ریکارڈ اور گواہوں کے بیانات کا دوبارہ تفصیلی جائزہ لے۔
دورانِ اپیل سزا کی معطلی اور ضمانت (2021 SCMR 445):
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 426 (Section 426 CrPC) کے تحت سیشن کورٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپیل کا حتمی فیصلہ ہونے تک مجسٹریٹ کی سزا کو معطل کر کے ملزم کو ضمانت پر رہا کر دے۔
4۔ اپیل کے لیے ضروری دستاویزات (Checklist)
میمو آف اپیل (Memo of Appeal): جس میں مجسٹریٹ کے فیصلے کے قانونی نقائص اور گواہوں کے بیانات کے تضادات کو چیلنج کیا جاتا ہے۔
فیصلے کی مصدقہ نقل (Certified Copy of Judgement): علاقہ مجسٹریٹ کے اصل فیصلے کی نقلِ مطابقِ اصل۔
وکالت نامہ: کونسل/وکیل صاحب کا دستخط شدہ فارم۔
درخواست زیر دفعہ 426 CrPC: دورانِ اپیل سزا معطلی اور رہائی کے لیے۔

17/05/2026

Very informative Judgment of Supreme Court
:::::::::::::::;:;::::::;:::::::::::::::::;;;;::::::::;;::::;:;::::

*“مؤکل کی وفات کے بعد وکیل کا اختیار، قانونی ورثاء کی لازمی شمولیت، اور منصفانہ ٹرائل کے آئینی تقاضے — آرڈر III رول 4 اور آرڈر XXII CPC کی تشریح کی روشنی میں سپریم کورٹ کا تجزیاتی جائزہ”*

*“Termination of Advocate’s Authority upon Client’s Death, Impleadment of Legal Heirs, and the Constitutional Imperative of Fair Trial — An Analytical Study under Order III Rule 4 and Order XXII CPC”*

2026 SCP 125
جسٹس محمد علی مظاہر ۔۔۔
(1) وکیل اور اس کے مؤکل کے درمیان تعلق “اصیل اور ایجنٹ” (Principal and Agent) کا ہوتا ہے۔

(2) مؤکل کے انتقال کے ساتھ ہی وکیل کا اختیار ختم ہو جاتا ہے۔

(3) وکیل کا پیشہ ورانہ فرض ہے کہ وہ فوراً عدالت کو مؤکل کی وفات سے آگاہ کرے۔

(4) مؤکل کی وفات کو مخفی رکھنا پیشہ ورانہ آداب اور اخلاقیات کے خلاف ہے۔

(5) متوفی کے قانونی ورثاء کی باقاعدہ اجازت کے بغیر وکیل مزید کارروائی جاری نہیں رکھ سکتا۔

(6) اگر وکیل کی وضاحت غیر معقول پائی جائے تو عدالت متعلقہ بار کونسل کو معاملہ بھیج سکتی ہے تاکہ اس کے خلاف پیشہ ورانہ بدانتظامی (Misconduct) کی کارروائی شروع کی جا سکے۔
2026 SCP 125
تفصیلی فیصلہ ۔۔۔۔۔۔
محترم جسٹس Muhammad Ali Mazhar نے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ سب سے پہلے ضابطۂ دیوانی (CPC) کے آرڈر III رول 4 کا جائزہ لینا ضروری ہے، جو “Recognized Agents & Pleaders” یعنی تسلیم شدہ نمائندوں اور وکلاء سے متعلق ہے۔ اس قانون کے مطابق کوئی وکیل کسی شخص کی طرف سے عدالت میں اس وقت تک پیش نہیں ہو سکتا جب تک اسے تحریری وکالت نامہ کے ذریعے مقرر نہ کیا گیا ہو۔ یہ وکالت نامہ عدالت میں جمع کروایا جاتا ہے اور اس وقت تک مؤثر رہتا ہے جب تک عدالت کی اجازت سے ختم نہ کیا جائے، یا مؤکل یا وکیل کی وفات نہ ہو جائے، یا مقدمہ مکمل نہ ہو جائے۔

عدالت نے قرار دیا کہ اس مقدمہ میں یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت تھی کہ درخواست گزار/جواب دہندہ نمبر 1 کا انتقال 04-11-2024 کو ہو چکا تھا، مگر اس کی وفات سے عدالتِ عالیہ کو آگاہ نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً 26-05-2025 کو ایک ایسا حکم جاری ہوا جس میں ایک فوت شدہ شخص کو رینٹ مقدمات میں فریق بنانے کا حکم دے دیا گیا، حالانکہ اس کے قانونی ورثاء کو شامل ہی نہیں کیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ وکیل پر لازم تھا کہ وہ فوراً عدالت کو اپنے مؤکل کی وفات سے مطلع کرتا، مگر اس نے خاموشی اختیار کی اور مقدمہ ورثاء کی موجودگی کے بغیر فیصلہ کر دیا گیا۔

عدالت نے واضح کیا کہ وکیل اور مؤکل کا تعلق اصولاً “اصیل اور ایجنٹ” (Principal and Agent) کا ہوتا ہے۔ جب مؤکل وکالت نامہ پر دستخط کرتا ہے تو وہ وکیل کے اقدامات کا پابند ہو جاتا ہے، مگر مؤکل کی وفات کے ساتھ ہی وکیل کی حیثیت بطور ایجنٹ فوراً ختم ہو جاتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے پاور آف اٹارنی مالک کی وفات کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ مؤکل کی وفات کے بعد وکیل بغیر ہدایات کے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں جاری نہیں رکھ سکتا، اس لیے ہر وکیل کا پیشہ ورانہ فرض ہے کہ وہ فوراً عدالت کو مؤکل کی موت سے آگاہ کرے تاکہ قانونی ورثاء کو مقدمہ میں شامل کیا جا سکے۔ ورثاء چاہیں تو نیا وکالت نامہ دے کر اسی وکیل کو مقرر کریں یا اپنی پسند کا نیا وکیل مقرر کریں۔ وکیل بغیر مناسب اختیار کے مقدمہ جاری نہیں رکھ سکتا۔

عدالت نے قانونی اصول “nullus commodum capere potest de injuria sua proprio” یعنی “کوئی شخص اپنی غلطی سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی وکیل کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اپنے مؤکل کی وفات چھپا کر فائدہ حاصل کرے۔ فوت شدہ مؤکل کے وکالت نامہ یا پاور آف اٹارنی کے استعمال کے نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی نتائج بھی ہوتے ہیں۔ مؤکل کی وفات کو چھپانا نہ صرف حقائق کو مخفی رکھنے کے مترادف ہے بلکہ وکالت کے اخلاقی اصولوں اور پیشہ ورانہ آداب کے بھی خلاف ہے۔ اگر وکیل کی وضاحت غیر معقول پائی جائے تو عدالت متعلقہ بار کونسل کو بھی معاملہ بھیج سکتی ہے تاکہ وکیل کے خلاف پیشہ ورانہ بدانتظامی (Misconduct) کی کارروائی شروع کی جا سکے۔

عدالت نے بھارتی ضابطۂ دیوانی کے آرڈر XXII رول 10-A کا حوالہ بھی دیا جس کے مطابق اگر کسی وکیل کو اپنے مؤکل کی وفات کا علم ہو جائے تو وہ عدالت کو آگاہ کرنے کا پابند ہے، تاکہ قانونی ورثاء کو شامل کیا جا سکے اور مقدمہ مناسب نمائندگی کے بغیر ختم نہ ہو۔

عدالت نے کہا کہ اگر متوفی مدعی یا درخواست گزار کا حق دعویٰ باقی ہو اور “Right to Sue Survives” یعنی دعویٰ کا حق موت کے بعد بھی قائم رہے، تو اس کی وفات کے بعد مقدمہ جاری رکھنے کا حق اس کے قانونی ورثاء کو منتقل ہو جاتا ہے۔ قانونی ورثاء اسی مرحلہ سے مقدمہ آگے بڑھا سکتے ہیں جہاں تک مقدمہ پہنچ چکا ہو۔ اس کا مقصد متوفی کے حقوق اور ذمہ داریوں کا تحفظ اور منصفانہ ٹرائل کے تقاضوں کو پورا کرنا ہے۔

عدالت نے آرڈر VII رول 26 اور آرڈر VIII رول 13 CPC کا بھی حوالہ دیا، جن کے مطابق مدعی اور مدعا علیہ کو پہلے ہی ان افراد کے نام اور پتے فراہم کرنا ہوتے ہیں جو ان کی وفات کی صورت میں بطور قانونی نمائندہ شامل کیے جا سکیں۔

عدالت نے لمیٹیشن ایکٹ 1908 کے آرٹیکل 176 اور 177 کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قانونی ورثاء کو فریق بنانے کے لیے 90 دن کی مدت مقرر ہے، مگر اگر تاخیر ہو جائے تو یہ کوئی سخت اور قطعی اصول نہیں کہ ورثاء ہمیشہ کے لیے محروم ہو جائیں۔ عدالت انصاف کے تقاضوں کے مطابق تاخیر کو معاف کر سکتی ہے کیونکہ وراثتی حقوق محض تکنیکی بنیادوں پر ختم نہیں کیے جا سکتے۔

عدالت نے آرڈر XXII CPC کی مختلف دفعات کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اگر “حقِ دعویٰ” باقی رہے تو مدعی یا مدعا علیہ کی وفات سے مقدمہ ختم نہیں ہوتا۔ 1972 کی قانونی اصلاحات کے بعد اب یہ اصول موجود ہے کہ اگر مقررہ وقت میں قانونی ورثاء کو شامل نہ بھی کیا جائے تو عدالت مقدمہ جاری رکھ سکتی ہے اور فیصلہ مؤثر رہے گا، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وکیل اپنے مؤکل کی وفات چھپا کر فوت شدہ وکالت نامہ کے ذریعے مقدمہ چلاتا رہے۔ اگر ایسا تصور قبول کر لیا جائے تو آرڈر XXII کے تحت قانونی ورثاء کو شامل کرنے کا پورا نظام بے معنی ہو جائے گا۔

عدالت نے کہا کہ اگر عدالت کو موت کی اطلاع ہی نہ دی جائے تو عدالت خود بخود اس حقیقت سے کیسے آگاہ ہو سکتی ہے؟ اگر فریق بذاتِ خود پیش ہو رہا ہو تو ورثاء عدالت کو آگاہ کر سکتے ہیں، لیکن جب فریق وکیل کے ذریعے پیش ہو رہا ہو تو یہ وکیل کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے کہ وہ عدالت کو فوراً اطلاع دے، کیونکہ مؤکل کی وفات کے ساتھ ہی وکالت نامہ ختم ہو جاتا ہے۔

آخر میں عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ وکیل نے مؤکل کی وفات کے باوجود عدالت میں پیش ہو کر مقدمہ جاری رکھا اور اسی بنیاد پر ہائی کورٹ نے متوفی کے حق میں فیصلہ دیا، اس لیے یہ فیصلہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ چنانچہ سپریم کورٹ نے سول پٹیشنز کو اپیلوں میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کیا، ہائی کورٹ کا 26-05-2025 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا، اور معاملہ واپس ہائی کورٹ کو بھجوا دیا تاکہ متوفی کے قانونی ورثاء کو فریق بنا کر تمام آئینی درخواستوں کا ازسرِنو قانون کے مطابق فیصلہ کیا جا سکے۔
قانونی تجزیاتی جائزہ
یہ فیصلہ پاکستانی دیوانی قانون، وکالت کے پیشہ ورانہ اصولوں، قدرتی انصاف، اور منصفانہ ٹرائل کے آئینی تقاضوں کے تناظر میں نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے اس مقدمہ میں واضح کیا کہ مؤکل کی وفات کے بعد وکیل کا اختیار فوراً ختم ہو جاتا ہے اور وکیل پر لازم ہے کہ وہ عدالت کو اس حقیقت سے فوری آگاہ کرے۔

یہ فیصلہ صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ:

وکیل کی اخلاقی ذمہ داری؛

عدالتی شفافیت؛

منصفانہ ٹرائل؛

ورثاء کے حقِ سماعت؛

اور عدالتی نظام کے تقدس

سے براہِ راست متعلق ہے۔

1۔ وکیل اور مؤکل کا تعلق — Principle & Agent
عدالت نے قرار دیا کہ:

وکیل اور مؤکل کا تعلق “Principal and Agent” کا ہے۔

یہ اصول بنیادی طور پر قانونِ معاہدات (Law of Agency) سے اخذ شدہ ہے۔

متعلقہ قانونی دفعات
Contract Act, 1872
Sections 182–201
خصوصاً:

Section 201 Contract Act
Agency ختم ہو جاتی ہے:

principal کی موت سے؛

insanity سے؛

authority revocation سے۔

یعنی:

مؤکل کی وفات کے بعد وکیل کا اختیار از خود ختم ہو جاتا ہے۔

2۔ Order III Rule 4 CPC کی قانونی تشریح
Order III Rule 4 CPC
یہ دفعہ وکیل کی تقرری اور اختیار سے متعلق ہے۔

اہم نکات:
وکیل صرف تحریری وکالت نامہ پر کارروائی کر سکتا ہے۔

وکالت نامہ عدالت میں فائل ہونا ضروری ہے۔

وکالت نامہ ختم ہوتا ہے:

(a)
مؤکل کی وفات پر

(b)
وکیل کی وفات پر

(c)
مقدمہ ختم ہونے پر

سپریم کورٹ نے یہی قرار دیا:

“Authority of advocate ceases immediately upon death of client.”

3۔ مؤکل کی وفات چھپانا — قانونی اور اخلاقی بددیانتی
عدالت نے انتہائی سخت الفاظ استعمال کیے:

“Concealment of death is against professional etiquettes.”

یہ صرف procedural irregularity نہیں بلکہ:

Misconduct

Abuse of process

Fraud upon Court

کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

4۔ وکیل کی پیشہ ورانہ ذمہ داری
Legal Profession & Ethics
Pakistan Bar Council
Canons of Professional Conduct and Etiquette
وکیل پر لازم ہے کہ:

عدالت سے سچ نہ چھپائے؛

misrepresentation نہ کرے؛

عدالت کو mislead نہ کرے۔

اگر وکیل جان بوجھ کر مؤکل کی وفات چھپائے تو یہ:

Professional Misconduct
ہو گا۔

5۔ بار کونسل کارروائی — مجوزہ قانونی اثرات
عدالت نے قرار دیا:

معاملہ متعلقہ بار کونسل کو بھیجا جا سکتا ہے۔

متعلقہ قانون
Legal Practitioners and Bar Councils Act, 1973
Section 41
Professional misconduct inquiry

ممکنہ سزائیں:
reprimand

suspension

cancellation of license

6۔ قانونی ورثاء کی شمولیت — بنیادی قانونی تقاضا
Order XXII CPC
یہ پورا Order وفات کے بعد مقدمات کی
continuation
سے متعلق ہے۔

7۔ “Right to Sue Survives” کی تشریح
یہ مقدمہ کا مرکزی اصول ہے۔

مفہوم:
اگر دعویٰ ذاتی نوعیت کا نہ ہو تو:

مقدمہ مرنے سے ختم نہیں ہوتا۔

بلکہ:

قانونی ورثاء مقدمہ جاری رکھ سکتے ہیں۔

8۔ Latin Maxim
عدالت نے دو اہم اصول بیان کیے:

(1)
Nullus Commodum Capere Potest De Injuria Sua Propria
کوئی شخص اپنی غلطی سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔

یعنی:

وکیل موت چھپا کر فائدہ حاصل نہیں کر سکتا۔

(2)
Actio Personalis Moritur Cum Persona
ذاتی دعویٰ شخص کی موت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔

مگر:

ہر دعویٰ اس اصول کے تحت ختم نہیں ہوتا۔

مثلاً:

property disputes

tenancy disputes

inheritance disputes

ورثاء کو منتقل ہوتے ہیں۔

9۔ Order XXII Rule 3 CPC
مدعی کی وفات
اگر:

مدعی فوت ہو جائے؛

حقِ دعویٰ باقی ہو؛

تو:

عدالت قانونی ورثاء کو شامل کرے گی۔

10۔ Order XXII Rule 4 CPC
مدعا علیہ کی وفات
اگر defendant فوت ہو جائے:

تو legal heirs کو implead کرنا لازم ہے۔

11۔ Law Reforms Ordinance 1972 کی اہمیت
1972 سے پہلے:

مقدمہ خود بخود abate ہو جاتا تھا۔

اصلاحات کے بعد:

عدالت مقدمہ جاری رکھ سکتی ہے۔

مگر:

اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ:

وکیل موت چھپا کر کارروائی جاری رکھے۔

سپریم کورٹ نے یہی اصول واضح کیا۔

12۔ Order VII Rule 26 CPC
مدعی کو پہلے سے legal heirs کی تفصیلات دینا ہوں گی۔

یہ ایک اہم procedural safeguard ہے۔

13۔ Order VIII Rule 13 CPC
Defendant
کی possible legal representatives کی معلومات بھی ضروری ہیں۔

14۔ Limitation Act 1908
Article 176
Deceased plaintiff/appellant

Article 177
Deceased defendant/respondent

مدت:
90 دن

15۔ کیا تاخیر ناقابلِ معافی ہے؟
عدالت نے کہا:

نہیں۔

اگر sufficient cause ہو تو:

delay condone ہو سکتی ہے۔

16۔ آئینی پہلو
یہ فیصلہ براہِ راست منسلک ہے:

Article 10-A Constitution of Pakistan
Fair Trial & Due Process
اگر legal heirs کو سنے بغیر فیصلہ ہو:

تو:

natural justice violate
ہوتی ہے؛

fair hearing
متاثر ہوتی ہے۔

17۔ Principles of Natural Justice
Audi Alteram Partem
دوسرے فریق کو بھی سنا جائے۔

ورثاء کو سنے بغیر فیصلہ:

اس اصول کی خلاف ورزی ہے۔

18۔ عدالت کی ذمہ داری
عدالت نے واضح کیا:

اگر موت کی اطلاع ہی نہ دی جائے تو:

عدالت خود کیسے جان سکے گی؟

اس لیے:

وکیل پر heightened duty عائد ہوتی ہے۔

19۔ Ex Parte فائدہ اٹھانے کی ممانعت
عدالت نے دراصل یہ اصول قائم کیا:

وکیل procedural manipulation نہیں کر سکتا۔

20۔ مجوزہ قانونی اصلاحات
یہ فیصلہ پاکستان میں procedural reforms کی ضرورت بھی ظاہر کرتا ہے۔

مجوزہ ترامیم
(1) Mandatory Death Disclosure Rule
CPC
میں نئی دفعہ شامل ہو

وکیل 7 دن کے اندر موت رپورٹ کرے۔

(2) Digital NADRA Verification
عدالتی نظام کو NADRA سے link کیا جائے۔

(3) Automatic Suspension of Proceedings
موت کی اطلاع پر:

کارروائی خودکار طور پر معطل ہو۔

(4) Penal Consequences
جان بوجھ کر concealment پر:

contempt

misconduct

costs

لاگو ہوں۔

21۔ بین الاقوامی قانونی اصول
India
Order XXII Rule 10-A CPC

وکیل پر mandatory duty۔

United Kingdom
Solicitors Regulation Authority (SRA):

duty of candor

duty to court

United States
ABA Model Rules:

Rule 3.3
Candor Toward Tribunal

22۔ اس فیصلہ کے عملی اثرات
یہ فیصلہ مستقبل میں:

fake representation؛

expired vakalatnama؛

fraudulent litigation

کو روکنے میں بنیادی نظیر بنے گا۔

23۔ اہم قانونی اصول جو اس فیصلہ سے اخذ ہوئے
Established Principles
(1)
مؤکل کی وفات سے وکالت نامہ ختم۔

(2)
وکیل فوراً عدالت کو آگاہ کرے۔

(3)
ورثاء کو شامل کرنا لازم۔

(4)
وفات چھپانا misconduct۔

(5)
fair trial ورثاء کی سماعت کے بغیر ممکن نہیں۔

(6)
عدالت procedural technicalities کے بجائے substantive justice کو ترجیح دے گی۔

نتیجہ
یہ فیصلہ پاکستانی عدالتی نظام میں:

وکیل کی امانت داری؛

عدالت کے ساتھ دیانت؛

قانونی ورثاء کے حقوق؛

اور fair trial

کے اصولوں کو مضبوط بناتا ہے۔

سپریم کورٹ نے واضح کر دیا کہ:

عدالتیں محض تکنیکی کارروائی نہیں بلکہ انصاف کے ادارے ہیں، اور انصاف تبھی ممکن ہے جب ہر متاثرہ فریق کو سنا جائے اور وکیل اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری دیانت داری سے مقدمہ کو چلانے میں عدالتوں کی معاونت کرے.......

Address

Farid Court Road Lahore
Lahore
54000

Telephone

+923467198311

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M Shahzad Hussain Adv posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to M Shahzad Hussain Adv:

Share

Category