Chishti Law Chamber

Chishti Law Chamber This page is about all Legal Services, to promote Rule of Law & for Welfare of general Public.

📢 پاکستان سے نیدرلینڈز وزٹ ویزا اپلائی کرنے کا مکمل طریقہ (2026) 🇳🇱✈️1️⃣ پاسپورٹ چیک کریں (کم از کم 6 ماہ ویلیڈ ہو)2️⃣ S...
07/06/2026

📢 پاکستان سے نیدرلینڈز وزٹ ویزا اپلائی کرنے کا مکمل طریقہ (2026) 🇳🇱✈️

1️⃣ پاسپورٹ چیک کریں (کم از کم 6 ماہ ویلیڈ ہو)

2️⃣ Schengen Visa کا آن لائن فارم فل کریں

3️⃣ 3 سے 6 ماہ کی بینک اسٹیٹمنٹ تیار کریں
💰 بہتر ہے کہ اکاؤنٹ میں مضبوط فنڈز موجود ہوں۔ 20 لاکھ روپے یا اس سے زیادہ کلوزنگ بیلنس فائل کو مضبوط بنا سکتا ہے۔

4️⃣ جاب لیٹر، کاروبار یا آمدنی کا ثبوت شامل کریں

5️⃣ ہوٹل بکنگ یا انویٹیشن لیٹر کا انتظام کریں

6️⃣ فلائٹ ریزرویشن کروائیں

7️⃣ Schengen Travel Insurance خریدیں
🔗 انشورنس: Europ Assistance Schengen Insurance⁠

8️⃣ اپنا مکمل Travel Plan (Itinerary) تیار کریں
📍 کب جانا ہے
📍 کہاں رہنا ہے
📍 کن شہروں کی سیر کرنی ہے
📍 واپسی کب ہے

9️⃣ VFS Global سے اپائنٹمنٹ بک کریں
🔗 اپائنٹمنٹ: VFS Global Netherlands Pakistan⁠

🔟 VFS سینٹر (اسلام آباد، لاہور یا کراچی) میں تمام ڈاکیومنٹس جمع کروائیں اور بایومیٹرک دیں۔

1️⃣1️⃣ ویزا فیس جمع کروائیں
💶 بالغ افراد کے لیے Schengen Visa Fee تقریباً 90 یورو ہے۔ اس کے علاوہ VFS کی سروس فیس الگ ہوتی ہے۔

1️⃣2️⃣ اپنی درخواست ٹریک کریں اور فیصلے کا انتظار کریں

1️⃣3️⃣ ویزا ملنے پر یورپ کے سفر کی تیاری شروع کریں 🇳🇱✈️

⚠️ یاد رکھیں: مضبوط بینک اسٹیٹمنٹ، واضح ٹریول پلان، ٹریول انشورنس اور مکمل ڈاکیومنٹس ویزا منظوری کے امکانات بڑھا دیتے ہیں۔

🇳🇱✈️🇪🇺

29/05/2026

ائیرپورٹ پر کسی بھی مسافر کو FIA حکام بغیر کسی وجہ کے آف لوڈنگ کے اقدام کو عدالت نے آف لوڈنگ کو غیر قانونی، من مانا اور آئین کی خلاف ورزی قرار دیا
محمد عباس، جو اپنے دل میں #روشن مستقبل کے #خواب سجائے 31 جنوری 2026 کی ایک سرد صبح سیالکوٹ انٹرنیشنل #ایئرپورٹ پہنچا۔ اس کے پاس نائجیریا کا #جائز ـویزا، #واپسی کا #کنفرم-ٹکٹ اور تمام سفری دستاویزات موجود تھیں۔ ایئرلائن کے کاؤنٹر سے اسے بورڈنگ کارڈ جاری ہو چکا تھا اور یہاں تک کہ امیگریشن کے عملے نے بھی اس کے پاسپورٹ پر روانگی کی مہر ثبت کر دی تھی
محمد عباس کے قدم جیسے ہی جہاز کی طرف بڑھے، اسے لگا کہ اب وہ اپنے بہنوئی ناصر فاروق سے ملنے نائجیریا پہنچ جائے گا، جو وہاں ہوٹل اور باربر شاپس کا کاروبار کرتے تھے اور جن کی دستاویزات عباس نے اپنے ساتھ رکھی ہوئی تھیں۔وہ پرامید تھا کہ اپنوں کے پاس جا کر وہ اپنی زندگی کو ایک نئی سمت دے گا، لیکن وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھا کہ وہ مایوس ہونے والا ہے۔
امیگریشن ڈپارٹمنٹ کا شفٹ انچارج اچانک سامنے آیا اور اس نے محمد عباس کو روک لیا۔ بغیر کسی واضح وجہ کے، عباس کو جہاز پر سوار ہونے سے روک کر آف لوڈ کر دیا گیا۔اس پر یہ مبہم سا الزام لگایا گیا کہ وہ نائجیریا جانے کے بہانے دبئی میں ہی رک جائے گا اور پاکستان واپس نہیں آئے گا۔اس کے بعد اس کے ہاتھ میں ایک آف لوڈنگ پروفارما تھما دیا گیا جس پر صرف دو لکیریں لکھی تھیں: "ناپائیدار مالی حالات" اور "سفر کا غیر واضح مقصد"۔ عباس نے گڑگڑا کر کہا کہ اس کا بہنوئی وہاں موجود ہے، وہ اس کی کفالت کا ذمہ دار ہے، لیکن امیگریشن حکام نے اس کی ایک نہ سنی۔وہ کروڑوں روپے کے مالی نقصان، ذہنی اذیت اور مسافروں کے سامنے ہونے والی اس شدید ذلت کے ساتھ ایئرپورٹ سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ معاملہ صرف ایک مسافر کے رکنے کا نہیں تھا، بلکہ یہ ریاست کے ایک طاقتور ادارے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کے اس لامحدود اور بے لگام اختیار کا سوال تھا جو وہ ایئرپورٹس پر استعمال کرتا ہے۔ محمد عباس نے اس ناانصافی کے خلاف ہتھیار ڈالنے کے بجائے قانون کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا اور اپنے وکیل کے ذریعے لاہور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن نمبر 27534/2026 دائر کر دی۔عدالت عالیہ کے سامنے جب یہ کیس سماعت کے لیے آیا، تو قانون اور انتظامی طاقت کے درمیان ایک بڑا معرکہ شروع ہو گیا۔
عدالت کے کمرے میں سسپنس اس وقت بڑھ گیا جب وفاق کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے FIA کا دفاع کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ امیگریشن حکام کے پاس یہ قانونی حق ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت اور ویزے کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کسی بھی مسافر کی مالی حیثیت اور سفری مقصد کی جانچ پڑتال کریں ، انہوں نے دلیل دی کہ عباس کے پاس خاطر خواہ رقم نہیں تھی، اس لیے اسے روکنا قانون کے دائرے میں تھا۔
دوسری طرف، عباس کے وکیل نے آئین پاکستان کے آرٹیکلز 4، 9، 10-A اور 15 کا حوالہ دیتے ہوئے گرجدار آواز میں کہا کہ ملک کے کسی بھی شہری کو قانون کے بغیر اس کے سفر کے بنیادی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ نہ تو عباس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں تھا، نہ ہی پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (PCL) میں، اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی مجرمانہ انکوائری زیر التوا تھی، تو پھر کس قانون کے تحت ایک شہری کی آزادی کو سلب کیا گیا؟
جسٹس راحیل کامران نے دونوں فریقین کے دلائل کو انتہائی غور سے سنا اور ریکارڈ کا معائنہ کیا۔ جج نے جب ریمارکس دیے تو FIA کے حکام کے پسینے چھوٹ گئے۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ "ناپائیدار مالی حالات" کا فیصلہ کس ترازو میں کیا گیا؟ کیا حکومت نے نائجیریا جانے کے لیے کسی رقم کی حد مقرر کر رکھی ہے؟ اگر نہیں، تو امیگریشن افسر نے اپنی ذاتی پسند ناپسند پر ایک شہری کو کیسے روک دیا؟ جج نے واضح کیا کہ قانون کی نظر میں صوابدیدی اختیارات کوئی جادوئی چھڑی نہیں ہیں کہ جسے جب چاہا، جیسے چاہا گھما دیا، بلکہ جنرل کلازز ایکٹ 1897 کی دفعہ 24-A کے تحت ہر سرکاری افسر کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے فیصلے کی ٹھوس اور معقول وجوہات تحریر کرے۔
عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں محمد عباس کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے FIA کے اس اقدام کو مکمل طور پر غیر قانونی، من مانا اور آئین کی خلاف ورزی قرار دے دیا۔ عدالت نے نہ صرف عباس کو مستقبل میں تمام قانونی تقاضے پورے کر کے دوبارہ سفر کرنے کی اجازت دی، بلکہ اسے یہ حق بھی دیا کہ وہ اپنی اس ذلت اور مالی نقصان کے خلاف دیوانی عدالت سے ہرجانے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ اس کیس میں جسٹس راحیل کامران نے مستقبل کے لیے ایک تاریخی گائیڈ لائن جاری کر دی، جس کے تحت اب ایئرپورٹ پر کسی بھی مسافر کو آف لوڈ کرنے سے پہلے افسر کو تمام سوال و جواب تحریری یا الیکٹرانک شکل میں محفوظ کرنے ہوں گے، ٹھوس وجوہات لکھنی ہوں گی اور اس کی ایک کاپی فوری طور پر مسافر کو فراہم کرنی ہوگی تاکہ آئندہ کوئی بھی افسر کسی دوسرے محمد عباس کے خوابوں کو ایئرپورٹ کے لاؤنج میں پامال نہ کر سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

28/05/2026

‏*کہا جاتا ہے کہ منگول کمانڈر نایان ایک بار کسی شہر کو فتح کرنے کے بعد وہاں کی گلیوں بازاروں سے گزر رہا تھا۔*

* وہ کچھ مقامی لوگوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیتا اور کچھ کو معاف کر دیتا،

منگول فوجی لوگوں کی گردنیں دبوچ کر نایان کے سامنے لاتے۔ وہ اپنے مشہور انداز میں ان کے جسموں میں خنجر گھونپتا اور آگے بڑھ جاتا۔*

*اچانک وہاں 1 آدمی نایان کے قدموں میں گر کر چیخنے لگا۔ سپاہیوں کے اٹھانے پر وہ شخص نایان سے بولا،*

*"حضور میرے جرائم اتنے زیادہ ہیں کہ آپ چاہتے ہوئے بھی معاف نہیں کر سکتے میں نے لوگوں کو لوٹا، ستایا، برباد کیا ہے۔ آپ تلوار سے میری گردن کاٹ دیں“*

*نایان ایک منٹ کے لیے رُکا، آنکھیں بند کی اور کچھ سوچنے لگا۔ پھر اچانک اس نے تلوار آدمی کی گردن پر رکھتے ہوئے کہا،*

*”سپاہیوں کیا دنیا میں ایسی کوئی جگہ ہے جہاں اس مجرم کو معافی مل سکے ؟

سپاہی بلند آواز میں بولے جی ہاں حضور ایک جگہ ہے۔*

*نایان نے حیرانگی سے دریافت کیا کہ وہ کونسی جگہ ہے ؟*

*سپاہی بولے؛ " حضور جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان

وہاں پر ایسے جرائم پیشہ لوگوں کو نہ صرف معافی ملتی ہے بلکہ اسکے ساتھ ساتھ وزارتیں بھی دی جاتی ہیں

جتنا بڑا مجرم ہوگا اتنا بڑا عہدہ۔
.....

🙂😆

🥱🙄

ذرا ایک منٹ کے لیے رکیں اور سوچیں... کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کے بغیر کیمرےکے سامنے آئے، آپ کا اپنا ہوبہو "ڈیجیٹل رو...
22/05/2026

ذرا ایک منٹ کے لیے رکیں اور سوچیں... کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کے بغیر کیمرے
کے سامنے آئے، آپ کا اپنا ہوبہو "ڈیجیٹل روپ" آپ کی ہی آواز میں ویڈیوز بنا سکتا
ہے؟

شاید آپ کو لگتا ہوگا کہ فیس لیس ویڈیوز بنانے کے لیے کسی اور کا چہرہ یا
کمپیوٹرائزڈ آواز استعمال کرنی پڑتی ہے۔ لیکن گوگل جیمینائی اومنی نے
ٹیکنالوجی کی تاریخ کا سب سے بڑا دھماکہ کر دیا ہے۔ اب یہ آپ کا چہرہ اور آپ کی
آواز کا ایک ایسا "AI Avatar" تیار کر سکتا ہے جو آپ کی جگہ دنیا کی کسی بھی زبان
میں بالکل نیچرل انداز میں ویڈیوز بولے گا اور بنائے گا۔

یہ صرف ایک فیچر نہیں ہے، یہ آپ کی ڈیجیٹل شناخت کا نیا جنم ہے۔ اس جادو کو کیسے
ایکٹیویٹ کرنا ہے؟ ذرا اس کے مراحل دیکھیں... 👇

1. اوتار کی تخلیق (The Face & Voice Capture): سب سے پہلے جیمینائی میں پلس (+)
آئیکن پر جائیں، "More Uploads" میں آپ کو "Avatar" کا آپشن ملے گا۔ یہاں موبائل
سے ایک کیو آر کوڈ (QR Code) اسکین کرنا ہوگا۔ اب کیمرے کے سامنے اپنا چہرہ لائیں
اور اسکرین پر لکھے ہوئے نمبرز بولیں۔ یہ عمل صرف 2 منٹ میں آپ کے چہرے کے تاثرات
اور آپ کی اصل آواز کو نچوڑ کر محفوظ کر لے گا۔

2. آپ کا ڈیجیٹل ہمزاد تیار ہے (The Clone Machine): جیسے ہی پروسیسنگ مکمل ہوگی،
جیمینائی میں آپ کا اپنا اوتار شو ہونے لگے گا۔ اب جیمینائی کے اندر @ لکھ کر
اپنے اوتار کا نام لکھیں، اور "Create Video" پر کلک کریں۔ یہاں مختلف ٹیمپلیٹس
موجود ہیں جنہیں آپ سیکنڈز میں اپنی مرضی کے پس منظر (Background) کے ساتھ رن کر
سکتے ہیں۔

3. زبانوں کی دیوار ختم (Multilingual Translate): اس اوتار کا سب سے بڑا کمال یہ
ہے کہ اگر آپ نے اپنی آواز انگلش میں ریکارڈ کی ہے، تو آپ اسے صرف ایک کمانڈ دے
کر ہندی، اردو یا کسی بھی دوسری زبان میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ یہ آپ کی اپنی آواز
کے سر اور لہر کو برقرار رکھتے ہوئے دوسری زبان میں اتنی صفائی سے بولے گا کہ کوئی
بھی اسے کمپیوٹرائزڈ نہیں کہہ پائے گا۔

4. اپنی مرضی کا بیک گراؤنڈ اور سکرپٹ: آپ اپنی کوئی بھی تصویر اپلوڈ کر سکتے ہیں
جس کا بیک گراؤنڈ آپ کو پسند ہو۔ جیمینائی کو بس ایک پراپمٹ (Prompt) دیں کہ آپ
کا اوتار اس مخصوص بیک گراؤنڈ کے ساتھ کیا جملہ بولے۔ یہ آپ کی سوچ کو حقیقت کا
روپ دے کر ایک مکمل ہائی کوالٹی ویڈیو تیار کر کے ڈاؤن لوڈ کے لیے پیش کر دے گا۔

سبق؟ ٹیکنالوجی اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں سچ اور جھوٹ، اصلی اور نقلی کا فرق
مٹتا جا رہا ہے۔ اب آپ کو اسمارٹ بننا ہوگا کیونکہ جو چیز آج ایک "سہولت" لگ رہی
ہے، آنے والے وقت میں وہی آپ کی پوری شناخت کا کنٹرول سنبھال سکتی ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ اپنا اے آئی کلون (AI Clone) بنانے کے لیے تیار ہیں؟ کیا
آپ کو لگتا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال انسانوں کے لیے ایک نیا خطرہ بن سکتا
ہے؟

اپنی رائے نیچے کمنٹ میں دیں اور اس پوسٹ کو ان لوگوں کے ساتھ SHARE کریں جو فیس
لیس ویڈیوز بنا کر انٹرنیٹ پر چھانا چاہتے ہیں! 👇🏼


𝗧𝗼𝗽 10 𝗖𝗼𝘂𝗻𝘁𝗿𝗶𝗲𝘀 𝗪𝗶𝘁𝗵 the Best 𝗝𝘂𝘀𝘁𝗶𝗰𝗲 𝗦𝘆𝘀𝘁𝗲𝗺 in 2026 🌍⚖️ This list highlights countries often recognized for strong jus...
21/05/2026

𝗧𝗼𝗽 10 𝗖𝗼𝘂𝗻𝘁𝗿𝗶𝗲𝘀 𝗪𝗶𝘁𝗵 the Best 𝗝𝘂𝘀𝘁𝗶𝗰𝗲 𝗦𝘆𝘀𝘁𝗲𝗺 in 2026 🌍⚖️

This list highlights countries often recognized for strong justice systems based on rule of law, judicial independence, transparency, public trust, and low corruption levels in 2026.

🇩🇰 Denmark
Known for transparency, fairness, and strong rule of law.
🇫🇮 Finland
Highly trusted judiciary and low corruption system.
🇳🇴 Norway
Strong human rights protections and fair legal system.
🇸🇪 Sweden
Independent courts and high public confidence in justice.
🇨🇭 Switzerland
Stable legal framework and efficient judicial institutions.
🇳🇱 Netherlands
Respected internationally for legal fairness and civil rights.
🇳🇿 New Zealand
Transparent governance and trusted law enforcement.
🇩🇪 Germany
Strong constitutional system and judicial efficiency.
🇨🇦 Canada
Well-developed legal system focused on rights and equality.
🇸🇬 Singapore
Strict law enforcement with efficient judicial processes.

𝗗𝗶𝘀𝗰𝗹𝗮𝗶𝗺𝗲𝗿⚠
This content is for informational purposes only.
Rankings are based on international rule-of-law reports, governance indicators, judicial transparency, and public perception in 2026. Different organizations may rank countries differently.




20/05/2026

اپنی کمپنی S.E.C.P اور F.B.R سے رجسٹرڈ کرائیں اور اپنے کاروبار کو قانونی تحفظ دیں
اس کے علاوہ انکم ٹیکس ریٹرن،سیلزٹیکس ریٹرن ، لوگو اینڈ برانڈ رجسٹریشن کی رہنمائی۔

✅ NTN Registration
✅ Income Tax Return
✅ Sole Proprietorship Registration
✅ SECP Company Compliances
✅ Private Limited Company
✅ Single Member Company
✅ LLP Registration
✅ GST Registration
✅ Trade Mark Registration
✅ Chamber of Commerce Registration
✅ PRA Registration

Our expert team provides comprehensive tax services in Pakistan. Let handle it for you!

جرمنی یا آسٹریلیا؟ بیرونِ ملک تعلیم کے لیے کون سا ملک بہتر ہے؟کبھی کبھی زندگی میں ایسے موڑ آتے ہیں جہاں دل دو راستوں کے ...
17/05/2026

جرمنی یا آسٹریلیا؟ بیرونِ ملک تعلیم کے لیے کون سا ملک بہتر ہے؟
کبھی کبھی زندگی میں ایسے موڑ آتے ہیں جہاں دل دو راستوں کے درمیان کھڑا رہ جاتا ہے۔ ایک طرف جرمنی جیسا خوبصورت، پُرسکون اور کم خرچ ملک… اور دوسری طرف آسٹریلیا جیسا جدید، رنگین اور مواقع سے بھرا ہوا ملک بلکہ براعظم بھی ہے۔

ہر اُس طالبِ علم کے دل میں یہ سوال ضرور آتا ہے کہ آخر تعلیم کے لیے کون سا ملک زیادہ بہتر ہے؟

اگر آپ بھی اپنے خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے بیرونِ ملک تعلیم کا سوچ رہے ہیں، تو یہ تفصیلی موازنہ آپ کے لیے ہے۔ میں نے کوشش کی ہے کہ آپ وہ سب بتا سکوں تاکہ آپ جان سکیں کہ جرمنی اور آسٹریلیا میں سے کون سا ملک آپ کے لئے بہتر ہے۔

جرمنی بمقابلہ آسٹریلیا — اہم فرق

جرمنی
1. جرمنی میں آپ کو پبلک یونیورسٹیوں میں فیس کی ٹینشن نہیں ہوتی یعنی آپ کو پبلک یونیورسٹیوں میں کوئی فیس نہیں دینی ہوتی اور آپ کی تعلیم مفت ہوتی ہے۔ البتہ سالانہ آپ کو 500 یورو تک رجسٹریشن فیس دینی ہوتی ہے۔
پرائیوٹ یونیورسٹیاں کافی مہنگی ہیں جس وجہ سے بہت کم لوگ ان یونیورسٹیوں میں داخلہ لیتے ہیں۔ زیادہ تر وہ لوگ جو کہیں اور جا نہیں پاتے تو یہی کوشش کرتے ہیں کیونکہ پراویڈنٹ میں داخلہ ملنا کافی آسان ہے۔

2. جرمنی میں آپ کو بینک اسٹیٹمنٹ کی جگہ بلاک اماؤنٹ کی مانگ کرتے ہیں یعنی آپ کو سالانہ خرچوں کے لئے وہاں کے بینک میں 12٫000 یورو رکھنے ہوتے ہیں جو وہاں پہنچ کر آپ کو ماہانہ قسطوں میں واپسی ملتے ہیں۔ یاد رہے کہ کبھی کبھی ایمبسی بینک اسٹیٹمنٹ کی بھی مانگ کرتی یے۔

3. جرمنی میں آپ دوران تعلیم ہفتہ 20 گھنٹے کام کر سکتے ہیں اور گھنٹے کا کام آپ کو 10-18 یورو ملتے ہیں۔ اب یہ کام کی نوعیت اور آپ کے باس پر منحصر ہے کہ وہ آپ کو کتنا دیتے ہیں۔ اپنے وطن والے کم دیتے ہیں اور لوکل کام کی بہترین اجرت دیتے ہیں۔ چھٹیوں کے دوران آپ جتنا چاہیں کام کر سکتے ہیں۔ سال کے 125 دن آپ جتنا چاہیں کام کریں اور 240 دن آپ کو ایک شاگرد کے حیثیت سے 20 گھنٹے ہفتہ کام کرنے کی اجازت ہے۔

4. ڈگری مکمل کرنے کے بعد آپ کو جرمنی میں 18 مہینے کا پوسٹ ورک پرمٹ مل جاتا ہے تاکہ آپ خود کے لئے کام ڈھونڈ سکیں۔ اگر آپ کو کام مل جاتا ہے تو آپ کو مزید کمپنی کی ویزا توسیع مل جائے گی اور اس طرح آپ اپنے سال مکمل کرکے جرمنی شہریت کے لئے اہل ہو جائیں گے۔

5. جرمنی میں ان ڈگری کی بہت مانگ ہے انجینئرز اور IT، ہیلتھ، اور بزنس میں زیادہ مواقع موجود ہیں۔

6. جرمنی کا موسم سال بھر معتدل (Temperate) رہتا ہے، جہاں چاروں موسم (بہار، گرمی، خزاں، اور سردی) واضح طور پر محسوس کیے جاتے ہیں۔

1۔ موسمِ بہار (Spring: مارچ تا مئی)
• درجہ حرارت: 5°C سے 20°C
• ماحول: برف پگھلتی ہے اور ہر طرف ہریالی اور پھول کھلتے ہیں۔
• خصوصیت: موسم تیزی سے بدلتا ہے؛ کبھی اچانک دھوپ نکلتی ہے تو کبھی ہلکی بارش شروع ہو جاتی ہے۔

2۔ موسمِ گرما (Summer: جون تا اگست)
• درجہ حرارت: 20°C سے 30°C (کبھی کبھار ہیٹ ویو میں 35°C+ بھی ہو جاتا ہے)۔
• ماحول: یہ سال کا سب سے گرم اور طویل ترین دنوں والا وقت ہوتا ہے۔
• خصوصیت: جولائی اور اگست میں گرمی کے ساتھ شدید بارشیں اور گرج چمک (Thunderstorms) عام ہیں۔

3۔ موسمِ خزاں (Autumn: ستمبر تا نومبر)

• درجہ حرارت: 5°C سے 15°C
• ماحول: درختوں کے پتے سنہری اور سرخ ہو کر گرتے ہیں، جو بہت خوبصورت منظر پیش کرتا ہے۔
• خصوصیت: اکتوبر اور نومبر میں موسم تیزی سے سرد، دھندلا اور طوفانی ہواؤں والا ہو جاتا ہے۔

4۔ موسمِ سرما (Winter: دسمبر تا فروری)
• درجہ حرارت: -5°C سے 5°C (پہاڑی علاقوں میں درجہ حرارت مزید گر جاتا ہے)۔
• ماحول: دن بہت چھوٹے اور راتیں لمبی ہوتی ہیں۔ پگھلتی ہوئی برف اور دھند عام ہے۔
• خصوصیت: میدانی علاقوں میں ہلکی برف باری جبکہ الپس (Alps) کے پہاڑی علاقوں میں شدید برف باری ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ جرمنی میں بارش کا کوئی طے شدہ مہینہ نہیں جرمنی میں بارہ مہینے کسی بھی وقت بارش ہو سکتی ہے، اس لیے یہاں کے لوگ ہمیشہ چھتری ساتھ رکھتے ہیں۔

جرمنی کا تعلیمی نظام

جرمنی اپنی تحقیق، ٹیکنالوجی اور عملی تعلیم کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔
یہاں کی یونیورسٹیاں طالب علم کو صرف کتابی علم نہیں دیتیں بلکہ عملی تجربہ بھی فراہم کرتی ہیں۔

جرمنی کی خاص باتیں

الف۔ Fachhochschulen

ایسی یونیورسٹیاں جہاں عملی تعلیم پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔

ب۔ ریسرچ یونیورسٹیز
سائنس، انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی میں دنیا بھر میں مشہور۔

دوہری تعلیمی نظام Dual Education System
تعلیم کے ساتھ ساتھ جاب ٹریننگ بھی۔

اگر آپ انجینئرنگ، IT یا آٹوموبائل فیلڈ میں دلچسپی رکھتے ہیں تو جرمنی آپ کے لیے ایک خواب جیسا ملک ہو سکتا ہے۔

جرمنی کی بہترین یونیورسٹیاں

• Technical University of Munich
• Ludwig Maximilian University Munich
• Heidelberg University
• Freie Universität Berlin
• Karlsruhe Institute of Technology

اسکالرشپس
جرمنی

• DAAD Scholarship
• Heinrich Böll Foundation Scholarship
• Goethe Goes Global Scholarship

آسٹریلیا
1. آسٹریلیا میں یونیورسٹی فیس جرمنی کے مقابلے میں کافی زیادہ ہوتی ہے۔ یہاں زیادہ تر یونیورسٹیوں میں سالانہ فیس تقریباً 15,000 سے 35,000 آسٹریلین ڈالر تک ہوتی ہے، جبکہ کچھ پروفیشنل ڈگریوں جیسے میڈیکل یا انجینئرنگ میں اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔ البتہ آسٹریلیا میں مختلف اسکالرشپس موجود ہیں جن سے آپ اپنی فیس کم کروا سکتے ہیں۔

2. آسٹریلیا میں اسٹوڈنٹ ویزا کے لئے آپ کو بینک اسٹیٹمنٹ دکھانی پڑتی ہے تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ آپ اپنی تعلیم اور رہائش کے اخراجات برداشت کر سکتے ہیں۔ اس میں ٹیوشن فیس، رہائش، اور روزمرہ اخراجات شامل ہوتے ہیں۔ یہ حساب آپ اپنے فیس اور جس شہر میں یونیورسٹی ہے اس شہر میں دیگر خرچہ تقریباً معلوم کرنے انداز لگا سکتے ہیں۔

3۔ آسٹریلیا میں دوران تعلیم آپ کو دو ہفتوں میں 48 گھنٹے کام کرنے کی اجازت ہوتی ہے جبکہ چھٹیوں کے دوران آپ فل ٹائم کام کر سکتے ہیں۔ آسٹریلیا میں گھنٹے کی اجرت کافی بہتر سمجھی جاتی ہے اور عام طور پر 20 سے 35 آسٹریلین ڈالر فی گھنٹہ تک مل سکتی ہے۔ یہ کام کی نوعیت، شہر، اور کمپنی پر منحصر ہوتا ہے۔ لوگ ٹیکسی Uber چلا کر اپنے فیس، خرچے آرام سے نکال لیتے ہیں۔

4. ڈگری مکمل کرنے کے بعد آسٹریلیا میں آپ کو Temporary Graduate Visa (Subclass 485) کے ذریعے پوسٹ اسٹڈی ورک پرمٹ مل سکتا ہے۔ اس ویزا کی مدت آپ کی ڈگری اور شہر کے حساب سے 2 سے 4 سال تک ہوسکتی ہے۔ اگر آپ کو اچھی جاب مل جائے تو بعد میں آپ Permanent Residency یعنی PR کے لئے بھی اپلائی کر سکتے ہیں۔

5. آسٹریلیا میں IT، نرسنگ، انجینئرنگ، اکاؤنٹنگ، کنسٹرکشن، اور ہیلتھ سیکٹر میں کافی مواقع موجود ہیں۔ خاص طور پر اسکلڈ افراد کے لئے آسٹریلیا ایک بہترین آپشن سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہاں مختلف شعبوں میں ورک فورس کی کمی پائی جاتی ہے۔

6. آسٹریلیا کا موسم جرمنی کے بالکل الٹ ہے کیونکہ یہ جنوبی نصف کرہ (Southern Hemisphere) میں واقع ہے۔ جب جرمنی میں سردی ہوتی ہے، تو آسٹریلیا میں گرمی ہوتی ہے۔

1۔ موسمِ گرما (Summer: دسمبر تا فروری)
• درجہ حرارت: 20°C سے 35°C (اندرونی صحرائی علاقوں میں یہ 40°C+ تک جا سکتا ہے)۔
• ماحول: شدید گرمی، تیز دھوپ اور ساحلی علاقوں (Beaches) پر ہجوم کا وقت ہوتا ہے۔
• خصوصیت: شمالی آسٹریلیا میں یہ وقت شدید بارشوں اور طوفان (Monsoon) کا ہوتا ہے۔

2۔ موسمِ خزاں (Autumn: مارچ تا مئی)

• درجہ حرارت: 15°C سے 25°C
• ماحول: موسم بتدریج ٹھنڈا اور خوشگوار ہوتا ہے۔ پتے سنہری رنگ بدلتے ہیں۔
• خصوصیت: یہ پورے ملک میں سفر کرنے کے لیے بہترین معتدل موسم مانا جاتا ہے۔

3۔ موسمِ سرما (Winter: جون تا اگست)

• درجہ حرارت: 5°C سے 15°C (شمالی حصوں میں سردیاں بھی 20°C تک گرم ہوتی ہیں)۔
• ماحول: سڈنی اور میلبورن جیسے شہروں میں سردی اور ہلکی بارش ہوتی ہے۔ راتیں کافی ٹھنڈی ہوتی ہیں۔
• خصوصیت: آسٹریلیا کے پہاڑی علاقوں (Snowy Mountains) میں شدید برف باری ہوتی ہے جہاں لوگ اسکیئنگ (Skiing) کے لیے جاتے ہیں۔

4۔ موسمِ بہار (Spring: ستمبر تا نومبر)

• درجہ حرارت: 11°C سے 24°C
• ماحول: ہر طرف نئے پھول کھلتے ہیں اور دن بڑے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
• خصوصیت: موسم میں نہ زیادہ گرمی ہوتی ہے اور نہ سردی، ستمبر اور اکتوبر میں جنگلی پھول (Wildflowers) پورے جوبن پر ہوتے ہیں۔

•موسم کا الٹ ہونا: آسٹریلیا میں کرسمس (25 دسمبر) سخت گرمی اور دھوپ میں ساحلِ سمندر پر منایا جاتا ہے۔
• علاقائی تضاد: آسٹریلیا اتنا بڑا ہے کہ اس کا شمالی حصہ مستقل گرم اور استوائی (Tropical) ہے، درمیانی حصہ خشک صحرا (Outback) ہے، اور جنوبی حصہ معتدل ہے جہاں چاروں موسم بدلتے ہیں۔

آسٹریلیا کا تعلیمی نظام

آسٹریلیا جدید تعلیم، دوستانہ ماحول اور بہترین لائف اسٹائل کے لیے جانا جاتا ہے۔
یہاں کی یونیورسٹیاں دنیا بھر میں اپنی کوالٹی اور انوویشن کی وجہ سے مشہور ہیں۔

آسٹریلیا کی خاص باتیں

عالمی معیار کی یونیورسٹیاں
• Practical Skills اور Industry Experience
• International Students کے لیے مضبوط سپورٹ سسٹم
• Healthcare، Business اور Science میں شاندار مواقع

اگر آپ ایسی تعلیم چاہتے ہیں جہاں پڑھائی کے ساتھ ایک خوبصورت لائف اسٹائل بھی ہو، تو آسٹریلیا یقیناً دل جیت لیتا ہے۔

آسٹریلیا کی بہترین یونیورسٹیاں

* University of Melbourne
* UNSW Sydney
* University of Sydney
* Australian National University
* Monash University

اسکالرشپس
آسٹریلیا

• Australia Awards Scholarship
• Destination Australia Scholarship
• RTP Scholarship

موازنہ
تعلیم پر آنے والے اخراجات

جرمنی

• سالانہ فیس: €500 سے €30,000
• رہائش: €300 سے €800 ماہانہ

آسٹریلیا

• سالانہ فیس: AU $20,000 سے $60,000
• رہائش: AU $1,500 سے $3,000 ماہانہ

جرمنی نسبتاً سستا ہے جبکہ آسٹریلیا مہنگا ضرور ہے، لیکن وہاں لائف اسٹائل اور کمائی کے مواقع بھی زیادہ ہیں۔

داخلے کی شرائط

جرمنی
• کم از کم 70% نمبر
• بعض کورسز کے لیے جرمن زبان ضروری
• اور IELTS/TOEFL (انگلش پروگرامز کے لیے)

آسٹریلیا

• کم از کم 60% نمبر
•اور IELTS یا TOEFL لازمی
• یہ SOP، LORs اور مالی ثبوت ضروری

تعلیم کے بعد نوکری کے مواقع

جرمنی

• 18 ماہ کا Post Study Work Visa
• انجینئرنگ، IT اور Healthcare میں زیادہ مواقع
• اوسط تنخواہ: €60,000 - €90,000 سالانہ

آسٹریلیا

• 2 سے 4 سال کا Post Study Work Visa
•۔ یہاں Healthcare، IT اور بزنس میں شاندار مواقع
• اوسط تنخواہ: AU $70,000 - $150,000 سالانہ

Permanent Residency (PR)

جرمنی

یہاں PR حاصل کرنا ممکن تو ہے، لیکن اس کے لیے وقت، زبان اور مستقل جاب ضروری ہوتی ہے۔

آسٹریلیا

آسٹریلیا کا PR سسٹم زیادہ آسان اور Points Based ہے، اسی لیے زیادہ تر طلبہ اسے پسند کرتے ہیں۔

آخر میں… جرمنی یا آسٹریلیا؟

اگر آپ کم خرچ، تحقیق پر مبنی اور اعلیٰ معیار کی تعلیم چاہتے ہیں، تو جرمنی ایک بہترین انتخاب ہے۔
لیکن اگر آپ جدید لائف اسٹائل، زیادہ جاب مواقع اور آسان PR چاہتے ہیں، تو آسٹریلیا شاید آپ کے دل کے زیادہ قریب ہو۔

IBI ٹیکس میں 150٪ تک اضافہ — نئی شق نافذسپین میں رہائشی بحران اور کرایوں کی بڑھتی قیمتوں کے باعث حکومت نے خالی گھروں کے ...
14/05/2026

IBI ٹیکس میں 150٪ تک اضافہ — نئی شق نافذ
سپین میں رہائشی بحران اور کرایوں کی بڑھتی قیمتوں کے باعث حکومت نے خالی گھروں کے خلاف سخت اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

2023 میں منظور ہونے والے Housing Law (Ley de Vivienda) کی ایک اہم شق اب 10 مئی 2026 سے عملی طور پر نافذ ہو چکی ہے۔

📌 قانون کیا کہتا ہے؟
اگر کوئی فلیٹ یا گھر 2 سال سے زیادہ عرصے تک خالی رکھا جاتا ہے، تو متعلقہ میونسپلٹی (Ayuntamiento) اس پراپرٹی کے سالانہ IBI ٹیکس میں اضافہ کر سکتی ہے۔
IBI یعنی:
Impuesto sobre Bienes Inmuebles
یہ سپین میں جائیداد پر لگنے والا سالانہ میونسپل ٹیکس ہے۔
⚠️ جرمانہ کتنا ہو سکتا ہے؟
قانون کے مطابق میونسپلٹی درج ذیل اضافے لگا سکتی ہے:
✅ خالی گھر پر IBI میں 50٪ تک اضافہ
✅ اگر گھر 3 سال سے زیادہ خالی رہے تو اضافہ 100٪ تک جا سکتا ہے
✅ اور اگر ایک مالک کے پاس کئی خالی پراپرٹیز ہوں تو جرمانہ 150٪ تک بڑھایا جا سکتا ہے
🏘️ حکومت یہ قانون کیوں لا رہی ہے؟
سپین کے کئی شہروں میں:
کرائے بہت مہنگے ہو چکے ہیں
لوگوں کو گھر ملنا مشکل ہو رہا ہے
ہزاروں فلیٹس سرمایہ کاری کے طور پر بند پڑے ہیں
اسی لیے حکومت چاہتی ہے کہ: ✔ خالی گھر مارکیٹ میں آئیں
✔ کرایوں کی سپلائی بڑھے
✔ ہاؤسنگ بحران کم ہو
📍کیا پورے سپین میں یہ قانون خودکار طور پر لاگو ہوگا؟
نہیں۔
یہ اختیار ہر میونسپل کمیٹی / Ayuntamiento کے پاس ہے۔
یعنی ہر شہر خود فیصلہ کرے گا کہ:
جرمانہ لگانا ہے یا نہیں
کتنے فیصد لگانا ہے
کن گھروں کو “خالی” تصور کیا جائے گا
اسی لیے کچھ شہروں میں سختی زیادہ جبکہ کچھ میں کم ہو سکتی ہے۔
❓خالی گھر کیسے چیک ہوگا؟
عام طور پر میونسپلٹی درج ذیل چیزیں دیکھ سکتی ہے:
بجلی یا پانی کا کم استعمال
کوئی رجسٹرڈ رہائشی نہ ہونا
مسلسل بند رہنے کے شواہد
🚫 کن لوگوں کو استثنیٰ مل سکتا ہے؟
بعض صورتوں میں جرمانہ نہیں لگے گا، مثلاً:
گھر مرمت میں ہو
قانونی تنازع چل رہا ہو
مالک کسی خاص مجبوری یا ملازمت کی وجہ سے باہر ہو
پراپرٹی فروخت یا کرائے کے عمل میں ہو
یہ شرائط ہر علاقے کے حساب سے مختلف ہو سکتی ہیں۔
📌 مختصر یہ کہ سپین حکومت اب خالی گھروں کو مارکیٹ میں لانے کے لیے دباؤ بڑھا رہی ہے تاکہ رہائشی بحران کم کیا جا سکے۔

چیک کے ایسے کیسز جن میں دفعہ 489-F لاگو نہیں ہوتیایسے پانچ حالات ہیں جن میں چیک جاری ہونے اور ڈس آنر (باؤنس) ہونے کے باو...
06/05/2026

چیک کے ایسے کیسز جن میں دفعہ 489-F لاگو نہیں ہوتی

ایسے پانچ حالات ہیں جن میں چیک جاری ہونے اور ڈس آنر (باؤنس) ہونے کے باوجود دفعہ 489-F کی کارروائی نہیں بنتی:

گارنٹی چیک (Guarantee Cheque):
اگر چیک بطور ضمانت (سیکیورٹی) دیا گیا ہو، نہ کہ کسی واجب الادا رقم کی ادائیگی کے لیے، تو 489-F لاگو نہیں ہوتی۔

سیلف چیک (Self Cheque):
اگر چیک "سیلف" کے نام پر ہو (یعنی خود نکلوایا جانے والا چیک)، تو اس پر 489-F کی کارروائی نہیں ہو سکتی۔

مدت گزر جانے والا چیک (Out of Date Cheque):
ایسا چیک جس کی میعاد ختم ہو چکی ہو (اسٹیل ہو گیا ہو)، اس کے باؤنس ہونے پر 489-F لاگو نہیں ہوتی۔
مالیاتی اداروں کے معاملات:

اگر معاملہ بینک یا مالیاتی ادارے کا ہو اور اس پر فنانشل انسٹی ٹیوشنز (ریکوری آف فنانسز) آرڈیننس 2001 لاگو ہوتا ہو، تو عام طور پر 489-F کی کارروائی نہیں کی جاتی۔

بینک لون کی گارنٹی کے طور پر دیا گیا چیک:
اگر کسی شخص نے بینک کے قرض کی ادائیگی کی ضمانت کے طور پر چیک دیا ہو، تو اس کے باؤنس ہونے پر بھی دفعہ 489-F لاگو نہیں ہوتی۔

اگر کوئی پولیس آفیسر کسی شہری کو بلیک میل کرے، ہراساں کرے یا ناجائز دباؤ ڈالے تو متاثرہ شخص مکمل قانونی حق رکھتا ہے کہ ا...
06/05/2026

اگر کوئی پولیس آفیسر کسی شہری کو بلیک میل کرے، ہراساں کرے یا ناجائز دباؤ ڈالے تو متاثرہ شخص مکمل قانونی حق رکھتا ہے کہ اس کے خلاف کارروائی کرے۔ پاکستان کے قانون میں اس حوالے سے واضح راستے موجود ہیں:
1. اعلیٰ پولیس افسران کو شکایت سب سے پہلے متعلقہ تھانے کے SHO، پھر DSP، SP یا DPO کو تحریری درخواست دیں۔ سینئر افسران کے پاس اپنے ماتحت اہلکار کے خلاف کارروائی کا اختیار ہوتا ہے۔
2. پولیس کمپلینٹ اتھارٹی متعلقہ صوبے میں قائم Police Complaint Authority یا Public Safety Commission میں شکایت درج کروائی جا سکتی ہے، جہاں پولیس کے خلاف آزادانہ انکوائری ہوتی ہے۔
3. ایف آئی آر کا اندراج اگر بلیک میلنگ، دھمکی یا ہراسانی ثابت ہو تو متعلقہ پولیس آفیسر کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کے تحت ایف آئی آر درج کروائی جا سکتی ہے (مثلاً دھمکی، اختیارات کا ناجائز استعمال وغیرہ)۔
4. عدالت سے رجوع متاثرہ شخص:
سیشن کورٹ یا ہائی کورٹ میں درخواست دے سکتا ہے
آئینی درخواست (Writ Petition) دائر کر سکتا ہے اگر بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہوں
5. اینٹی کرپشن یا نیب اگر معاملہ رشوت، اختیارات کے غلط استعمال یا مالی فائدے سے متعلق ہو تو Anti-Corruption Establishment یا NAB سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔
6. ثبوت محفوظ رکھیں
کال ریکارڈنگ
میسجز / واٹس ایپ
گواہان
یہ سب بعد میں کیس مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
اہم نکتہ:
کوئی بھی پولیس آفیسر قانون سے بالاتر نہیں۔ اگر وہ اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرے تو اس کے خلاف نہ صرف محکمانہ بلکہ فوجداری کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔

Address

Office B2, Tahreem Building, Near Punjab Bar Council
Lahore
54000

Telephone

+923227907300

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chishti Law Chamber posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Chishti Law Chamber:

Share