Muneeb & Co. Lawyer Constellation

Muneeb & Co. Lawyer Constellation Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Muneeb & Co. Lawyer Constellation, Legal, 3-Fane Road, New York.
(1)

Forward-thinking law firm delivering smart, practical legal solutions and guiding individuals and businesses with clarity, confidence, and results.
آپ کا مقدمہ، ہماری ذمہ داری
Civil | Family | Corporate | Tax Matters
📞 WhatsApp: 0370 0766098

ٹیکس سسٹمز اپڈیٹنیا انکم ٹیکس ریٹرن فارم برائے سال 2026عزیزو!ایف۔بی۔آر نے رواں سال کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کیلئے ای...
12/05/2026

ٹیکس سسٹمز اپڈیٹ
نیا انکم ٹیکس ریٹرن فارم برائے سال 2026

عزیزو!

ایف۔بی۔آر نے رواں سال کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کیلئے ایس۔آر۔او 2026 (1) 835 کے تحت نیا ٹیکس فارم جاری کر دیا ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو سات دن کے اندر اپنے اعتراضات، تجاویز اور ردعمل جمع کرانے کی مہلت دی گئی ہے۔

اس فارم میں جو درج ذیل تبدیلیاں کی گئی ہیں ان کے تحت اب آپ کو اپنی ہر قسم کی مالی سرگرمیوں کی مکمل سمری بھی فراہم کرنی پڑے گی۔

1)۔
تنخواہ دار طبقے کو اپنے ایمپلائر کا نام، اس کا رجسٹریشن نمبر اور ٹیکس کٹوتی کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔

2)۔
پراپرٹی کا کرایہ پہلے سمپلی ایک اینٹری میں ڈال دیتے تھے لیکن اب الگ الگ ہر پراپرٹی کو مینشن کرکے بتانا پڑے گا کہ کس جگہ سے کتنا کرایہ آیا ہے اور اس کے ڈیڈکٹیبل اخراجات کیا ہیں۔

3)۔
ادر انکم میں بھی پہلے سب لوگ ایک سادہ سی اینٹری ڈال دیتے تھے اب اس کی بھی انسٹیٹیوشن وائز تفصیلات دینی ہوں گی۔

4)۔
اسی طرح زرعی انکم میں بھی ایک اینٹری ڈال دی جاتی تھی لیکن اب زرعی زمین کی تفصیلات بھی کھیت نمبر وغیرہ کیساتھ یعنی زمین کی لوکیشن بھی ساتھ میں فراہم کرنی پڑے گی۔

5)۔
ٹیکس ڈیڈکشنز کا بھی سارا نظام انٹیگریٹڈ ہے، آپ بتائیں گے فلاں نے پیسے کاٹے ہیں تو اس کا ہاں یا نہ کا ریفرینس خود بخود اپڈیٹ ہوجائے گا۔

6)۔
بزنس میں کتنی رقم پیمنٹ کی ہے یا وصول کی ہے اور اس پر دونوں طرف سے کتنا کتنا ٹیکس کاٹا گیا ہے یہ بھی بتانا پڑے گا۔

اس کا نقصان یہ ہوگا کہ اب ٹیکس ڈیڈکشن جہاں نہیں ہوئی ہوگی وہاں فوراً سیکشن 161 کے تحت سوال کھڑا ہوجائے گا جو کافی تکلیف دہ ہوسکتا ہے۔

یعنی جو بزنس ودہولڈنگ ایجنٹ بنتے ہیں ان سے یہ رقم وصول کر لی جائے گی۔

مثال کے طور پر بیشمار کمپنیاں ایسی ہیں جو ملازموں سے ٹیکس نہیں کاٹتیں، اب ایک ملازم بتاتا ہے کہ فلاں کمپنی سے میں لاکھ روپیہ مہینہ لیتا ہوں تو انٹیگریٹڈ سسٹم اب ٹیکس آفیسر کو خود بتائے گا کہ فلاں کمپنی کے دس ایمپلائیز نے بتایا ہے کہ وہ اتنی اتنی تنخواہ لیتے ہیں لیکن ایمپلائر نے کسی ایک کا بھی ٹیکس نہیں کاٹا۔

اب اس کیس میں جتنا ٹیکس ایمپلائر نے کاٹنا تھا اور نہیں کاٹا تو وہ اس ایمپلائر سے وصول کر لیا جائے گا۔

اس کے بعد ایمپلائر ملازموں سے کہے گا کہ پچھلے سال کا بل آگیا ہے مجھے لہذا یہ ٹیکس کٹواؤ اور ملازم کہیں گے صاحب ہم نے تو ریٹرن کیساتھ اپنی جیب سے ٹیکس جمع کرا دیا تھا اسلئے اب ہم آپ کو کیوں دیں لہذا وہ لائبلٹی ایمپلائر کے سر ہی پڑے گی۔

علی ہذا القیاس جو لوگ بزنس پیمنٹس پر بھی ڈیو ٹیکس نہیں کاٹتے ان کو بھی یہی پرابلم فیس کرنی پڑے گی۔

7)۔
ایک اچھی بات جو اس نئے فارم میں نظر آرہی ہے وہ یہ ہے کہ ریفنڈ کیلئے آپ کا ایک مین بینک اکاؤنٹ اس میں انٹیگریٹ ہو جائے گا اور ودہولڈنگ کے سارے ثبوت اپلوڈ ہو جانے کے بعد آپ کو آٹومیٹک طریقے سے ریفنڈ مل جایا کرے گا، اس کی منظوری کیلئے آئیندہ آپ کو ٹیکس آفس نہیں جانا پڑے گا۔

مجوزہ فارم کی قانونی حیثیت:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ فارم ابھی تجویز کیا گیا ہے اور اطلاع عام کیلئے سات دن کی قانونی مہلت کے بعد بزنس چیمبرز اور ٹیکس بارز سے حاصل ہونے والے ردعمل کے تحت تھوڑا بہت تبدیل بھی ہو سکتا ہے، پھر یہ بجٹ کیساتھ ہی منظور ہو کے نافذ العمل ہو جائے گا۔

احتیاط برائے سال 2026:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تنخواہ دار طبقہ جن کی تنخواہ ٹیکس ایبل ہے لیکن ایمپلائر ٹیکس نہیں کاٹتا وہ اپنا ریٹرن ایمپلائر کیساتھ مشورہ کرکے جمع کرائیں ورنہ جب اس کو نوٹس آئے گا تب وہ آپ سے ٹیکس مانگے گا اور آپ جیب سے ٹیکس ادا کر چکے ہوں گے۔

اس کا بہترین حل یہ ہے کہ آپ کا ایمپلائر جون میں آپ کا سال بھر کا ٹیکس جمع کرا دے، اس سے دونوں کی بچت ہو جائے گی، ممکن ہے لیٹ ٹیکس جمع کرانے پر اس کو پانچ چھ فیصد جرمانہ ہوجائے لیکن یہ اس سے بہتر ہے کہ لاکھوں روپے کا بل اس کو آجائے اور پھر وہ آپ سے کاٹنے بیٹھ جائے۔

گزشتہ سال میں نے ہر پارٹی کا ریٹرن ان کے بینک اکاؤنٹس کو بہت تفصیل کیساتھ سمرائز کرکے بنایا تھا تاکہ ان کو کوئی ٹکر نہ لگے، اس وجہ سے میرے کافی ریٹرن لیٹ ہوگئے تھے لیکن میں نے کوالٹی پر کمپرومائز نہیں کیا۔

اندریں حالات آپ کو بھی یہی کرنا چاہئے کہ اپنا ٹیکس ریٹرن کسی ایسے بندے سے جمع کرائیں جسے قانون اور مالیاتی امور پر یکساں عبور حاصل ہو تاکہ وہ بینک کو سمرائز کرکے نان بزنس ٹرانزیکشنز کو الگ کرے پھر انکم اسٹیٹمنٹ اور الاؤ۔ایبل اخراجات کو ڈیفائن کرکے آپ کا ریٹرن سیف زون میں لاکے فائنل کرے۔

گورنمنٹ نے اس سال تاریخ میں پہلی بار مئی میں فارم جاری کیا ہے ورنہ یہ مڈجولائی میں ہی آیا کرتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ گورنمنٹ ٹیکس فائلنگ کو پہلی جولائی سے شروع کرانا چاہتی ہے تاکہ کنسلٹینٹس کو نوے دن کا پورا فائلنگ ٹائم مل جائے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس بار ٹیکس ریٹرن بنانے میں کنسلٹینٹ کا دو گنا ٹائم لگے گا جو ریوینیو بورڈ کو بھی نظر آرہا ہے لہذا ایک تو تیس جون کے فوراً بعد اپنا ڈیٹا کنسلٹینٹ کو لازمی فراہم کر دیں۔
For professional Services
Contact Us
0370 0766098

ٹیکس کے رنگ ڈیجیٹل معیشت کے سنگ صرف آن لائن پیمنٹ ہوٹل ریسٹورنٹ اور بیوٹی سیلون کے لیے اب ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ 14...
16/03/2026

ٹیکس کے رنگ
ڈیجیٹل معیشت کے سنگ
صرف آن لائن پیمنٹ
ہوٹل ریسٹورنٹ اور بیوٹی سیلون کے لیے اب ضروری قرار دیا
گیا ہے کہ وہ 14 دن کے اندر اندر کیو آر کوڈ QR Code کو نمایاں جگہ پر آویزاں کریں اور اس سے وصولیاں کریں ۔

16/03/2026

پنجاب حکومت کا بڑا اقدام : روایتی سیکیورٹی اسٹامپ پیپر کا استعمال ختم اب اسٹامپ پیپر سفید کاغذ پر ڈاون لوڈ ہو سکے گا۔ تمام اقسام کی مالیت کے سٹامپ پیپر شہری خود آنلائن پورٹل سے حاصِل کر سکتے ہیں ۔ اسٹامپ فروش بھی معمول کے مطابق ۳۰۰ روپے سے کم مالیت کے اسٹامپ پیپر کا اجرا جاری رکھ سکتے ہیں۔
تفصیلات کے لیے پوسٹ ملاحظہ کریں۔

www.punjab-zameen.gov.pk
https://lis.pulse.gop.pk
https://pulse.gop.pk

09/02/2026

2023 P L C (C.S.) 103
[Islamabad High Court
محض وقت گزرنے سے حکمِ امتناعی ختم نہیں ہو جاتا، بلکہ اسے ختم کرنے کے لیے عدالت کا واضح حکم یا کیس کا حتمی منطقی انجام تک پہنچنا ضروری ہے

09/02/2026

۔ PLD 2024 SC 291
​حقِ مہر ایک مسلمہ حق: مہر کوئی خیرات یا تحفہ نہیں بلکہ اسلام کا دیا ہوا وہ حق ہے جو بیوی کی سماجی اور قانونی حیثیت (Status) سے جڑا ہوا ہے۔
​بیوی کی مکمل ملکیت: مہر پر صرف اور صرف بیوی کا حق ہے۔ وہ اس کی واحد اور مطلق (Absolute) مالک ہے، اور اس رقم یا جائیداد پر شوہر یا کسی اور کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
​اقرار نامہ یا معاہدے کی قانونی حیثیت: عدالت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر کوئی ایسا اقرار نامہ، سمجھوتہ یا ایگریمنٹ تیار کیا جاتا ہے جس کے ذریعے بیوی سے اس کا حقِ مہر چھڑوایا جائے (Waive کرایا جائے)، تو ایسا دستاویز کالعدم (Void) تصور ہو گ

2025 CLC 196 (Lahore) فیصلے کے اہم نکات​1. مالی حیثیت کا ثبوت (Proof of Capacity)​عدالت کے مطابق مدعی (پلانٹف) یہ ثابت ک...
09/02/2026

2025 CLC 196 (Lahore)
فیصلے کے اہم نکات
​1. مالی حیثیت کا ثبوت (Proof of Capacity)
​عدالت کے مطابق مدعی (پلانٹف) یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ اس کے پاس بقایا رقم ادا کرنے کے لیے فنڈز موجود تھے۔ محض یہ کہہ دینا کہ "میرے پاس پیسے ہیں" کافی نہیں ہے؛ عدالت بینک اسٹیٹمنٹ یا دیگر مالی دستاویزات کا مطالبہ کرتی ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کیا معاہدے کے وقت سے لے کر مقدمے کے فیصلے تک مدعی کے پاس مطلوبہ رقم موجود تھی یا نہیں۔
​2. رقم کی پیشکش (Tender of Consideration)
​مدعی نے مدعا علیہ (بیچنے والے) کو بقایا رقم کی باقاعدہ پیشکش نہیں کی تھی۔ قانون کی نظر میں، خریدار کو یہ دکھانا پڑتا ہے کہ اس نے اپنی طرف سے واجب الادا رقم ادا کرنے کی سنجیدہ کوشش کی تھی۔
​3. عدالت میں رقم جمع نہ کروانا
​اس کیس کا سب سے کمزور پہلو یہ تھا کہ مدعی نے مقدمے کی سماعت کے دوران بقایا رقم عدالت میں جمع کروانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔
​قانونی منطق: اگر آپ چاہتے ہیں کہ عدالت کسی کو جائیداد بیچنے پر مجبور کرے، تو آپ کو اپنی نیک نیتی ثابت کرنے کے لیے بقایا رقم عدالت کے سپرد کرنی چاہیے تاکہ یہ ظاہر ہو کہ آپ سودا مکمل کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔
​قانونی سبق: "تیاری اور آمادگی" (Ready and Willing)
​معاہدہِ بیع (Sale Agreement) میں عدالت یہ دیکھتی ہے کہ کیا خریدار درج ذیل تین شرائط پر پورا اترتا ہے:
​آمادگی (Willingness): کیا وہ ذہنی طور پر تیار ہے؟
​تیاری (Readiness): کیا اس نے ضروری قانونی کارروائی (جیسے نوٹس بھیجنا) مکمل کی ہے؟
​استطاعت (Capacity): کیا اس کی جیب میں اتنے پیسے ہیں کہ وہ سودا مکمل کر سکے؟
​اگر ان میں سے ایک بھی چیز (خاص طور پر مالی استطاعت) ثابت نہ ہو، تو عدالت "مخصوص تعمیل" کی ڈگری جاری نہیں کرتی کیونکہ یہ ایک امتیازی ریلیف (Discretionary Relief) ہے جو صرف اس کو ملتا ہے جس کے ہاتھ صاف ہوں اور جو اپنا وعدہ پورا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہو

30/01/2026
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبریپنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی، بورڈ آف ریونیو نے سمندر پار پاکستانیوں کے لیےسعو...
29/01/2026

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری

پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی، بورڈ آف ریونیو نے سمندر پار پاکستانیوں کے لیے

سعودی عرب | متحدہ عرب امارات | قطر | بحرین امریکہ | اٹلی | اسپین | برطانیہ

کے اندر پنجاب سے متعلقہ اراضی کی سہولیات فراہم کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔ جس کی ابتدا لندن سے کر دی گئی ہے۔ اب پاکستان سے باہر رہائش پذیر پاکستانی لندن کے اندر واقع پاکستانی قونصلیٹ میں جا کر صوبہ پنجاب میں موجود اپنی اراضی کی:

فرد برائے ریکارڈ

فرد برائے فروخت/لین دین

منظور شدہ میوٹیشن (انتقال) کی نقل

گردوری کی نقل

ای-رجسٹری

رجسٹری برائے خریدار

رجسٹری برائے فروخت کنندہ

جیسی خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔

پنجاب حکومت کے اس اقدام سے بیرون ملک مقیم پاکستانی:

وطن واپس آئے بغیر زمینوں کے ریکارڈ اور جائیداد کی رجسٹریشن کی سہولیات تک براہ راست رسائی۔

سفر کے اخراجات اور کام یا کاروبار سے دوری کے وقت میں نمایاں کمی۔

محفوظ اور سرکاری خدمات کے مراکز کے ذریعے دھوکہ دہی کے خطرے میں کمی۔

پی ایل آر اے (PLRA) کے مرکزی ڈیجیٹل سینٹرز کے ذریعے تیز اور زیادہ مؤثر کارکردگی جیسی سہولیات سے مستفید ہو سکیں گے۔

پنجاب میں جائیداد کی رجسٹری اور انتقال کا مکمل قانونی طریقہ کارپاکستان (بالخصوص پنجاب) میں جائیداد کی رجسٹری اور اس کے ب...
29/01/2026

پنجاب میں جائیداد کی رجسٹری اور انتقال کا مکمل قانونی طریقہ کار

پاکستان (بالخصوص پنجاب) میں جائیداد کی رجسٹری اور اس کے بعد انتقال (میوٹیشن) ایک نہایت اہم قانونی عمل ہے۔
رجسٹری قانونی ملکیت کا ثبوت ہوتی ہے، جبکہ انتقال سرکاری ریکارڈ (جمعبندی/فرد) میں نام کی تبدیلی کے لیے کیا جاتا ہے۔

رجسٹری اور انتقال (میوٹیشن) کا مکمل طریقہ کار (مرحلہ وار):

1۔ فرد کا حصول (جائیداد کی تصدیق):
سب سے پہلے اراضی ریکارڈ سنٹر (PLRA) یا ای۔خدمت مرکز سے جائیداد کی فرد حاصل کریں تاکہ یہ تصدیق ہو سکے کہ فروخت کرنے والا ہی اصل مالک ہے۔

2۔ اسٹامپ ڈیوٹی اور ای۔اسٹامپ پیپر:
جائیداد کی مالیت کے مطابق اسٹامپ ڈیوٹی، کیپیٹل ویلیو ٹیکس (CVT) اور رجسٹریشن فیس کا ای۔اسٹامپ چالان جنریٹ کروائیں اور بینک آف پنجاب میں جمع کروائیں۔

3۔ رجسٹری (بیع نامہ) کی تیاری:
جائیداد کا بیع نامہ (Sale Deed) تیار کروائیں، جس میں خریدار، فروخت کنندہ اور گواہوں کے دستخط اور بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہوتی ہے۔

4۔ سب رجسٹرار آفس میں رجسٹری:
تمام ضروری دستاویزات (فرد، ای۔اسٹامپ، شناختی کارڈ کی نقول) کے ساتھ سب رجسٹرار کے دفتر حاضر ہوں۔
خریدار، فروخت کنندہ اور گواہوں کی موجودگی میں رجسٹری مکمل کی جاتی ہے۔
بعد ازاں سب رجسٹرار رجسٹرڈ بیع نامہ جاری کرتا ہے۔

5۔ انتقال (میوٹیشن) کی درخواست:
رجسٹری کے فوراً بعد انتقال کے لیے اراضی ریکارڈ سنٹر یا متعلقہ پٹواری سے رجوع کریں۔
اس مقصد کے لیے انتقال کی درخواست، رجسٹرڈ بیع نامہ اور شناختی کارڈ کی نقول جمع کروائیں۔

6۔ انتقال کی تصدیق:
اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ (ADLR) یا ریونیو آفیسر رجسٹری کی تصدیق کرتا ہے۔
تصدیق کے بعد آپ کا نام سرکاری لینڈ ریکارڈ میں درج ہو جاتا ہے اور آپ قانونی طور پر نئے مالک بن جاتے ہیں۔

ضروری دستاویزات:

خریدار اور فروخت کنندہ کے شناختی کارڈ

اصل فرد

رجسٹرڈ بیع نامہ

ای۔اسٹامپ پیپر / فیس چالان

اہم نکات:

رجسٹری کے بعد انتقال کروانا نہایت ضروری ہے، بصورتِ دیگر ملکیتی حقوق مکمل نہیں ہوتے۔

انتقال کی فیس جائیداد کی نوعیت اور رقبے کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے (تقریباً 1,100 روپے سے 9,700 روپے تک)۔

ڈسٹری بیوٹرز پر منیمم ٹیکس سے متعلق اہم عدالتی فیصلہلاہور ہائی کورٹ نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 113 کے تحت ڈسٹری ...
23/01/2026

ڈسٹری بیوٹرز پر منیمم ٹیکس سے متعلق اہم عدالتی فیصلہ

لاہور ہائی کورٹ نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 113 کے تحت ڈسٹری بیوٹرز پر منیمم ٹیکس کے اطلاق کے حوالے سے ایک نہایت اہم، وضاحتی اور دور رس اثرات کا حامل فیصلہ جاری کیا ہے۔ یہ فیصلہ Commissioner of Income Tax بنام M/s Allied Marketing (Pvt.) Ltd (ITR No. 377/2015) میں سنایا گیا، جس نے ڈسٹری بیوشن سیکٹر کے لیے قانونی ابہام کو واضح کر دیا ہے۔

عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا ڈسٹری بیوٹر پر منیمم ٹیکس اس کی کل گراس سیلز پر عائد ہوگا یا صرف اس اصل مارجن / کمیشن پر جو وہ کمپنی کے لیے خدمات انجام دینے کے عوض کماتا ہے۔

ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کا مؤقف تھا کہ چونکہ ڈسٹری بیوٹر کے ذریعے اشیاء فروخت ہوتی ہیں، اس لیے پوری سیلز ویلیو کو اس کا ٹرن اوور تصور کرتے ہوئے اسی بنیاد پر منیمم ٹیکس وصول کیا جانا چاہیے۔ اس کے برعکس، ٹیکس پیئر نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اشیاء کا مالک نہیں بنتا بلکہ کمپنی کی جانب سے مقررہ فکسڈ مارجن پر صرف ڈسٹری بیوشن سروس فراہم کرتا ہے، لہٰذا اس کی آمدن صرف کمیشن تک محدود ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے تفصیلی سماعت کے بعد ٹیکس پیئر کے مؤقف کو درست قرار دیتے ہوئے فیصلہ دیا کہ ڈسٹری بیوٹر کی گراس رسیٹس سے مراد اس کا وہ متعین مارجن یا کمیشن ہے جو وہ خدمات کے عوض حاصل کرتا ہے، نہ کہ پوری سیلز ویلیو۔ عدالت نے واضح کیا کہ چونکہ ڈسٹری بیوٹر اشیاء کی ملکیت حاصل نہیں کرتا، اس لیے کل فروخت کو اس کا ٹرن اوور قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ٹیکس ڈیپارٹمنٹ ماضی میں اسی نوعیت کے معاملات میں یہی طریقہ کار تسلیم کرتا رہا ہے، اس لیے Consistency کے اصول کے تحت بھی محکمے کو اپنے سابقہ طرزِ عمل سے انحراف کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ڈسٹری بیوشن سیکٹر کے لیے ایک مضبوط قانونی نظیر ہے، جو ٹیکس نظام میں انصاف اور معاشی حقیقت کے اصولوں کی توثیق کرتا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ڈسٹری بیوٹرز پر منیمم ٹیکس اصل کمائی یعنی مارجن تک محدود رہے گا، اور فرضی یا کاغذی ٹرن اوور پر ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکے گا۔

Lahore High Court Judgment, Commissioner of Income Tax v. M/s Allied Marketing (Pvt.) Ltd, ITR No. 377/2015 (Section 113, Income Tax Ordinance, 2001).

Address

3-Fane Road
New York
54000

Telephone

+923220799700

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muneeb & Co. Lawyer Constellation posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Muneeb & Co. Lawyer Constellation:

Share