Rai Nadeem Riaz Advocate

Rai Nadeem Riaz Advocate Professional in criminal, civil matters and other different categories
Office 6, 2nd floor SAF centre, 8-fane road, Lahore

اب CRO کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے۔ پولیس کریکٹر سرٹیفیکیٹ حاصل کرتے وقت جن افراد کو مشکلات کا سامنا تھا جو عدالت سے بری ہو ...
09/08/2025

اب CRO کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے۔ پولیس کریکٹر سرٹیفیکیٹ حاصل کرتے وقت جن افراد کو مشکلات کا سامنا تھا جو عدالت سے بری ہو چکے تھے مگر پولیس کریکٹر سرٹیفیکیٹ پر اس کیس کا حوالہ موجود ہوتا اس وجہ سے بیرونِ ملک جانے روزگار تلاش کرنے اور تعلیم کے حصول کے لیے جانے والوں کو کافی مسائل پیش آتے تھے۔

ان مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس عبر گل صاحبہ نے فیصلہ سنایا کہ اگر کوئی شخص عدالت سے بری ہو چکا ہے تو اس کے کریکٹر سرٹیفیکیٹ میں اس کیس کا کوئی ذکر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ لوگوں کی عزتِ نفس کو مجروح کرتا ہے اور آئین کے آرٹیکل 14 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

عدالت نے اسپیشل آرڈر کے ذریعے پولیس کو حکم دیا کہ 15 دن کے اندر سائل کو کلین کریکٹر سرٹیفیکیٹ جاری کیا جائے۔ اس فیصلے کی کاپی آئی جی پنجاب کو بھی بھجوا دی گئی ہے۔ یہ لاہور ہائی کورٹ میں ایک بڑے مسئلے کا حل ہے۔
LAW's Information

2025 SCMR 624درخواست گزار کو اپنی شہادت پیش کرنے کے لیے متعدد مواقع فراہم کیے گئے، تاہم، انتباہ کے باوجود اس نے ان مواقع...
09/07/2025

2025 SCMR 624
درخواست گزار کو اپنی شہادت پیش کرنے کے لیے متعدد مواقع فراہم کیے گئے، تاہم، انتباہ کے باوجود اس نے ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کی زحمت نہ کی۔ اس قسم کے سست اور لاپرواہ شخص کو عدالت کے طریقہ کار سے کھیلنے اور معاملے کو بلاجواز التواء میں رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،
ریکارڈ سے واضح ہے کہ عدالتی احکامات میں صراحت کے ساتھ درخواست گزار کو آخری اور حتمی مواقع فراہم کیے گئے تھے تاکہ وہ اپنی شہادت پیش کر سکے، اور اسے واضح انتباہ بھی دیا گیا، لیکن اس کے باوجود اس نے ٹرائل کورٹ کے احکامات اور ہدایات کو نظرانداز کیا۔ درخواست گزار کا یہ طرزِ عمل اس کے عدالتی احکامات کے خلاف ہٹ دھرمی اور غیرسنجیدہ رویے کو ظاہر کرتا ہے۔

More than sufficient opportunities have been granted to the petitioner for producing his evidence and despite putting him under warning he did not bother to avail the same. Such like indolent person(s) cannot be allowed to play with the process of the Court and linger on the matter on one pretext or the other, that too, without any plausible and valid reason. It is evident from record that through speaking order(s) the petitioner was granted with absolute last and final opportunities for production of his evidence with clear cut warnings, the petitioner did not pay any heed to the orders and direction of the trial Court, which shows his adamant attitude towards the orders of the trial Court. The above picture of affairs makes it crystal clear that how the petitioner pursued his case and showed his disobedience and indifferent demeanour towards the orders of the Court; thus, such like indolent person cannot seek favour of law, because law favours the vigilant and not the indolent.

C.P.L.A.277-Q/2024
Muhammad Asim v. Dr. Abdul Hamid Jan and others

بینک اسٹیٹمنٹ آمدن کا ثبوت نہیں – سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ!اس کیس میں ایف بی آر نے صرف بینک اسٹیٹمنٹس کی بنیاد پر انکم...
06/07/2025

بینک اسٹیٹمنٹ آمدن کا ثبوت نہیں – سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ!

اس کیس میں ایف بی آر نے صرف بینک اسٹیٹمنٹس کی بنیاد پر انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 122(5A) کے تحت ازسرنو اسیسمنٹ کی کارروائی شروع کی۔ ایف بی آر کا مؤقف تھا کہ ٹیکس دہندہ کے بینک اکاؤنٹ میں موجود کریڈٹ انٹریز "Undisclosed Income" ہیں، لہٰذا انہیں نوٹس جاری کیا گیا۔
لیکن ٹیکس دہندہ نے مؤقف اختیار کیا کہ بینک اسٹیٹمنٹس بذات خود "Definite Information" نہیں ہوتیں کیونکہ یہ صرف لین دین کا ریکارڈ ہیں، ان سے براہ راست یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ آمدن ہے، یا یہ کسی مخصوص ٹیکس ایئر کی آمدن سے متعلق ہے۔
ماتحت عدالت نے ٹیکس دہندہ کے حق میں فیصلہ دیا جسے ہائی کورٹ اور بالآخر سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔
عدالتی فیصلہ:
بینک اسٹیٹمنٹس صرف ایک لین دین کا ریکارڈ ہیں، یہ خود بخود "Definite Information" نہیں بنتیں جب تک یہ مخصوص اور قابل تصدیق شواہد کے ساتھ کسی آمدنی سے واضح تعلق ظاہر نہ کریں۔
عدالت نے مزید کہا کہ "سیکشن 122(5A) کے تحت کوئی بھی کارروائی صرف اسی وقت ہو سکتی ہے جب معلومات واضح، مخصوص اور قابلِ تصدیق ہوں، محض قیاس یا شبہ کی بنیاد پر کارروائی نہیں ہو سکتی۔
اہم نکات: بینک اسٹیٹمنٹ بذاتِ خود "Definite Information" نہیں ہے۔
معلومات کا ٹیکس ایبل آمدنی سے براہِ راست تعلق ہونا ضروری ہے۔
صرف قیاسی یا عمومی معلومات کی بنیاد پر سیکشن 122(5A) کے تحت نوٹس غیرقانونی ہوگا۔
عدالت نے ایف بی آر کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے ٹیکس دہندہ کو ریلیف دیا۔.

29/06/2025

وکالت نامہ دستخط کرنے سے تمام اختیارات بشمول مقدمہ واپس لینے یا کوئی قدم اٹھانے اور کارروائی کرنے کے اختیارات وکیل کو تفویض ہو جاتے ہیں۔
2025 SCMR 558

اگر ملزم کی غیر حاضری کی بنا پر ٹرائل کورٹ اسکے قابل ضمانت/ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتی ہے یا اسکو اشتہاری قرار ...
24/06/2025

اگر ملزم کی غیر حاضری کی بنا پر ٹرائل کورٹ اسکے قابل ضمانت/ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتی ہے یا اسکو اشتہاری قرار دیتی ہے تو ملزم اسی ٹرائل کورٹ میں حاضر ہو کر ان احکامات کو recall کرنے کی درخواست دے سکتا ہے اور عدالت کو وارنٹ منسوخ کرنے اور ملزم کو اشتہاری قرار دینے کا حکم واپس لینے کا قانونی اختیار حاصل ہے
2025 PCr.LJ 915
PLJ 2025 Cr.C. 22

2024 SCMR 142... فاضل سپریم کورٹ نےقرار دیا کہ حق مہر کی رقم شادی کے قائم رہنے کے دوران میں بیوی اپنے خاوند سے مانگ سکتی...
09/06/2025

2024 SCMR 142... فاضل سپریم کورٹ نےقرار دیا کہ حق مہر کی رقم شادی کے قائم رہنے کے دوران میں بیوی اپنے خاوند سے مانگ سکتی ہے اور وصول کر سکتی ہے اور اگر نکاح نامہ میں یہ نہ لکھا ہو کہ یہ کس قسم کا حق مہر ہے تو اس کو دونوں صورتوں میں آن ڈیمانڈ /عند الطلب ہی سمجھا جائے گا اور اسی پر عمل کیا جائے گا... مزید یہ کہ خاوند نے حق مہر کی رقم دینے میں عدالتی وقت بھی ضائع کیا اور حق مہر وقت پر ادا نہ کیا گیا اس لیے اس کو علیحدہ سے باقاعدہ دیری کے ساتھ حق مہر دلواتے ہوئے خاوند کو ایک لاکھ روپیہ جرمانہ بھی ڈال دیا...

متوفی کی نیم کھلی آنکھیں اور منہ پوسٹ مارٹم کے وقت اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ مقتول کی لاش وقوعہ کے مقام پر غیر دھیان م...
27/04/2025

متوفی کی نیم کھلی آنکھیں اور منہ پوسٹ مارٹم کے وقت اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ مقتول کی لاش وقوعہ کے مقام پر غیر دھیان میں پڑی رہی۔ اگر مدعی وقوعہ کے وقت موقع پر موجود ہوتا تو وہ لازمی طور پر اپنے بیٹے کی لاش کی آنکھیں اور منہ بند کر دیتا۔

ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر۔

پوسٹ مارٹم میں تاخیر۔

بد نیتی پر مبنی قید۔

مدعی نے جرم کی رپورٹ میں کسی قدرتی (مثلاً چاندنی) یا مصنوعی (جیسے برقی بلب وغیرہ) روشنی کے موجود ہونے کا کوئی ذکر نہیں کیا جس کی مدد سے اس نے اندھیرے میں ملزم کو شناخت کیا ہو۔ مدعی کے بیان کے مطابق وقوعہ رات کے اندھیرے میں پیش آیا تھا۔ تفتیشی افسر نے بھی کوئی بلب وغیرہ موقع سے قبضہ میں نہیں لیا اور نہ ہی استغاثہ یہ ثابت کر سکا کہ وقوعہ کے وقت کوئی برقی روشنی موجود تھی۔ اس تناظر میں اندھیرے میں ملزم کی شناخت انتہائی مشکوک ہو جاتی ہے۔

علاوہ ازیں، مدعی کا طرزِ عمل بھی غیر فطری معلوم ہوتا ہے کیونکہ وہ خوف کے باعث موقع پر خاموش تماشائی بنا رہا اور اپنے پوتے سے اپنے بیٹے کو بچانے کی کوئی کوشش نہ کی۔ ایک باپ یا دادا سے ایسے غیر معمولی طرز عمل کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ یہ صورتحال مدعی کی موقع پر موجودگی پر سنجیدہ شکوک پیدا کرتی ہے۔

موقع کا نقشہ بھی مدعی کے بیان کی تردید کرتا ہے۔ تفتیشی افسر نے مقتول کے بستر کے نیچے سے خون کے نشانات اکٹھے کیے، تاہم اس نے بستر سے لے کر اس مقام تک جہاں مقتول کی لاش پھینکی گئی، خون کے نشانات کا کوئی سراغ نہیں دکھایا۔ مدعی کے بیان کے مطابق ملزم نے مقتول کی لاش کو تقریباً ایک ایکڑ کے فاصلے تک گھسیٹا، لیکن ایکڑ بھر کے علاقے سے بھی کوئی خون کے نشانات برآمد نہیں کیے گئے۔ مزید برآں، پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر نے مقتول کے جسم پر کسی قسم کی خراش، رگڑ یا چوٹ کا ذکر نہیں کیا جو کہ مدعی کے لاش گھسیٹے جانے کے دعوے کی تصدیق کر سکے۔

Semi open eyes and mouth of the deceased at the time of the postmortem reflects that the dead body of the deceased remained unattended at the spot. Had the complainant been present at the spot, he would have managed to close the mouth and eyes of his deceased son.

Delay in lodging FIR.

Delay in Post Mortem.

Dishonest Imprisonments.

Complainant has not stated a single word in crime report about availability of any source of light either natural such as moon or artificial such as electric bulb etc in which he identified the petitioner at the spot. As per version of the complainant, the occurrence took place at the dark hours of night . No source of light i.e bulb has been taken into possession by the I.O. nor has any source of electricity been established by the prosecution in order to imply that the bulb was lit at the time of the occurrence. In this view of the matter, identification of the assailant(s) in the dark hours is highly doubtful.

Even otherwise, the conduct of the complainant appears to be unnatural as he kept mum at the spot due to fear like a silent spectator and did not react to rescue his son from his grandson. A father or grandfather cannot be expected to react in such a way as demonstrated by the complainant. This circumstance cast serious doubt about the presence of the complainant at the spot.

The site plan also belies the version of the complainant. The Investigating Officer has secured blood from beneath the bed/Cot of the deceased, however, he did not reflect any trail of blood from the place of Cot of the deceased till the place where the dead body of the deceased was thrown in a field. According to statement of complainant when the dead body of the deceased was thrown in the field, the petitioner dragged his dead body for a distance of one acre. No blood has also been shown in the site plan or recovered by the 1.0. from the said area of one acre. No scratch, bruise and abrasion have been noted by Dr. who conducted autopsy on the dead body of the deceased so as to substantiate the version of complainant in respect of dragging the dead body of the deceased.
JAIL PETITION NO.539 OF 2017
Waqas Ahmad vs The State
09-04-2025


والدہ نے بغیر اجازت کے بچہ کو بیرون ملک لے گئی باپ نے گارڈین کورٹ سے والدہ کا کارڈ بلاک کروا دیا ماں نے اپیل کی ہائی کور...
21/04/2025

والدہ نے بغیر اجازت کے بچہ کو بیرون ملک لے گئی باپ نے گارڈین کورٹ سے والدہ کا کارڈ بلاک کروا دیا
ماں نے اپیل کی ہائی کورٹ سندھ نے اپیل خارج کر دی اور حکم صادر فرمایا کہ ٹرائل کورٹ میں شناختی کارڈ کے ان بلاکنگ کے لیے و بچہ کو بیرون ملک لے جانے کے لئے رجوع کرے وہ بھی بچہ کے فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت فیصلہ کرے گی
2025 CLC 544
والدہ کو ہائی کورٹ نے درخواست گزار کو نابالغ کو تعلیمی مقاصد کے لیے امریکہ لے جانے کی اجازت دینا مناسب سمجھا- آئینی درخواست کی اجازت دی گئی، حالات میں، درخواست گزار کو اس ہدایت کے ساتھ کہ وہ وکیل کے طور پر حاضر ہونے کے لیے ماتحت عدالت میں پیش ہوں اور گارڈین کورٹ سے اجازت نامہ لے کر باہر جا سکتے ہے
2025 CLC 478

PLD 2023 ISLAMABAD 124کسی دستاویز کو بطور ثبوت عدالت میں پیش کرنا اور اسے "نمائش" (Exhibit) کے طور پر نشان زد کرنا، دوسر...
20/04/2025

PLD 2023 ISLAMABAD 124

کسی دستاویز کو بطور ثبوت عدالت میں پیش کرنا اور اسے "نمائش" (Exhibit) کے طور پر نشان زد کرنا، دوسری فریق کو اس کی قبولیت (admissibility) کو چیلنج کرنے سے نہیں روکتا۔

کسی دستاویز کو بعد میں چیلنج کیا جا سکتا ہے — اسی طرح، محض کسی دستاویز کو بطور "نمائش" پیش کرنا، اسے ثابت کرنے کی ذمہ داری (onus of proof) سے بری نہیں کرتا۔

کسی دستاویز کو بطور ثبوت قبول کرنا نہ تو اس کی شہادتی (evidentiary) حیثیت کو طے کرتا ہے اور نہ ہی اس کی قبولیت کو حتمی قرار دیتا ہے؛ یہ عمل صرف اسے عدالتی ریکارڈ کا حصہ بناتا ہے اور ایک "نمائش" کے طور پر نشان زد کرتا ہے۔

کسی دستاویز کو بطور ثبوت پیش کرنا اور اسے نمائش کے طور پر عدالت میں جمع کروانا بذاتِ خود اس دستاویز کو ثابت نہیں کرتا؛ اسے قانونِ شہادت 1984 (Qanun-e-Shahadat, 1984) کے تحت باقاعدہ طور پر ثابت کیا جانا ضروری ہے۔

وکیل وکالت نامہ ملنے کے بعد کلائنٹ کی طرف سے بیان دینے/  قلم بند کرانے کا اختیار رکھتا ہے اگر وکالت نامہ میں بیان دینے س...
13/04/2025

وکیل وکالت نامہ ملنے کے بعد کلائنٹ کی طرف سے بیان دینے/ قلم بند کرانے کا اختیار رکھتا ہے
اگر وکالت نامہ میں بیان دینے سے سے منع کر دیا گیا ہو تب وکیل ایسا اختیار نہیں رکھے گا ۔۔۔
2025 scmr 558

VVVVI. MUST READ JUDGEMENT اگر گولی گھٹنے سے نیچے ماری جائے تو دفعہ 324 ت پ(اقدام قتل) کا اطلاق مزید تحقیق طلب  ہوگا۔لیک...
18/03/2025

VVVVI. MUST READ JUDGEMENT
اگر گولی گھٹنے سے نیچے ماری جائے تو دفعہ 324 ت پ(اقدام قتل) کا اطلاق مزید تحقیق طلب ہوگا۔لیکن اگر گولی گھٹنے سے اوپر ران میں ماری جائے تو دفعہ 324 ت پ لاگو ہوگا کیونکہ ران میں خون اور آکسیجن سپلائی کرنے والی شریان ہوتی ہے جسکو نقصان پہنچنے کی صورت میں زیادہ خون بہہ جانے سے موت بھی ہوسکتی ہے یا ٹانگ کٹنے کا سبب بھی بن سکتی ہے
If injury has been caused below knee, then applicability of Section 324 PPC requires further probe/inquiry within the purview of sub-section 2 of Section 497 Cr.P.C., however, if injury has been caused above knee on the (naeem)leg at thigh, then situation is otherwise because femoral artery, which is major blood vessel, is located in thigh starting from groin coming to the back of knee and it supplies oxygen-rich blood to the lower parts of the body. So, femoral artery if damaged can cause lower limb ischemia leading to amputation of limb, compartment syndrome as well as death (naeem)due to severe blood loss from a major artery in the leg, hence if firearm injury has been caused at thigh, then prima facie section 324 PPC is attracted.
Bail refused.
Crl. Misc.1584/25
Nasrullah alias Nasru Vs The State etc.
Mr. Justice Farooq Haider
13-03-2025
2025 LHC 822

03/03/2025

PLD 2019 Supreme Court 461
سپریم کورٹ آف پاکستان کے سات (7)اراکین پر مشتمل لارجر بنج نے قرار دیا ھےکہ بوقت راضی نامہ مقتول کے زندہ حیات شرعی و قانونی ورثا ہی ملزمان سے راضی نامہ کرنے کے مجاز ہیں اگرمقتول کی وفات کے بعد اسکے ورثا میں سے کوئی وفات پا جائے تو راضی نامہ کا حق اس وفات پا جانے وارث مقتول کے ورثا کو منتقل نہ ھوگا۔بلکہ صرف بقیہ ماندہ زندہ حیات وارثان مقتول ہی راضی نامہ کا اختیار رکھتے ہیں۔اگر وہ زندہ حیات وارثان قاتل سے راضی نامہ کرلیں اور اس وفات پا جانے والے وارٹ مقتول کے ورثا راضی نامہ پر رضامند نہ بھی ھوں تب بھی ایسا راضی نامہ قابل قبول ھوگا

In a case of Tazir the capacity to compound possessed by an heir of the victim at the time of murder of the victim stood exhausted upon the subsequent death of that heir--Being the father and an heir of the victim, the father had a capacity to compound the relevant offence but he had not compounded the offence during his own lifetime and upon his death his capacity to compound stood exhausted and the same was not heritable as father's heirs were not heirs of the victim because they did not, and could not, inherit from him--After father's death his heirs could not be treated as heirs of the victim and the only heirs of victim left in the field at such stage were those surviving heirs of victim who could inherit directly from him and they could compound the offence throughout their lifetime irrespective of timing of the father's death.

Address

Mian Law Associates Teh. Courts Chunian. . M. Bilal Khan & Associates Office 6, 2nd Floor SAF Centre, 8 Fane Road, Near High Court
Lahore

Telephone

+923044414614

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rai Nadeem Riaz Advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Rai Nadeem Riaz Advocate:

Share