Yaseen Law Associates

Yaseen Law Associates This page administers a legal advocacy to the society people who are trapped in legal cases.

‎*اپنے ریٹرن لیٹ فائل کرنے والے متوجہ ہوں*‎مالی سال 2024/25 کے مطابق اب اگر آپ اپنی ٹیکس ریٹرن بروقت یعنی ہر سال ماہ جول...
16/09/2024

‎*اپنے ریٹرن لیٹ فائل کرنے والے متوجہ ہوں*

‎مالی سال 2024/25 کے مطابق اب اگر آپ اپنی ٹیکس ریٹرن بروقت یعنی ہر سال ماہ جولائی سے ستمبر کے درمیان فائل کریں گے تو آپ فائلر تصور ہوں گے، اگر اسکے بعد فائل کریں گے یا گزشتہ سال کی ریٹرن فائل کر کے سر چارج جمع کروائیں گے تو آپ لیٹ فائلر تصور ہوں گے اور اگر صرف نیشنل ٹیکس نمبر لے کر ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کریں گے تو آپ نان فائلر ہوں گے۔ لٰہذا اب بجٹ کے مطابق جائیداد کی خرید و فروخت پر ایڈوانس ٹیکس تقریباً

Single Tax on *Filers*
Double Tax on *Late Filers*
Tripple or More Tax on *Non Filers*

‎لہٰذا اس سال اپنا انکم ٹیکس ریٹرن 30 ستمبر 2024 تک لازمی جمع کروائیں
Contact +92 325 9475967

Become a filer and save from Extra Taxes ⚖️
13/09/2024

Become a filer and save from Extra Taxes ⚖️

کل پنجاب  بھر کی عدالتوں میں کورٹ فیس میں اضافے کے خلاف ہڑتال ہو گیپنجاب بھر میں دیگر شعبوں کی طرح عدالتوں میں سائلین کے...
25/07/2024

کل پنجاب بھر کی عدالتوں میں کورٹ فیس میں اضافے کے خلاف ہڑتال ہو گی
پنجاب بھر میں دیگر شعبوں کی طرح عدالتوں میں سائلین کے حقوق کو پامال کرنے کے لیے اور انصاف کے راستے میں روڑے اٹکانے کے لیے موجودہ کورٹ فیس میں اضافہ انتہائی ظالمانہ اقدام ہے جس کی بابت وکلا کی اعلی قیادت کو بھرپور عملی اقدامات اٹھانے کی شدید ضرورت ہے اور لاہور ہائی کورٹ پرنسپل سیٹ پر اس ظالمانہ کورٹ فیس کے اضافے کے متعلق رٹ فائل کرنی چاہیے اس اضافے کے ذریعے نہ صرف وکلا کا معاشی استحصال کیا جا رہا ہے بلکہ سائلین کو بھی شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور انصاف کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے کوئی بھی غریب شخص جو اپنے حقوق کے حصول کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا تھا اب اسے وکلا کی بھاری فیسوں کے علاوہ عدالتی ٹکٹوں کی مد میں اور دائری کی مد میں ہزاروں روپے کا نقصان کرنا پڑتا ہے جو عام شخص کے لیے انتہائی مشکل ہے ریاست اپنے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے مگر یہاں پر ریاست اور خاص طور پر پنجاب حکومت بدمعاشی پر اتر ائی ہے اس کے ساتھ ساتھ اعلی وکلا قیادت بھی خواب غفلت کا شکار ہے جس نے اب تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے ہمیں مل جل کر اس ناانصافی کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا

26/03/2024

کچے کا علاقہ پاکستان کے تین بڑے صوبوں کا سرحدی علاقہ ہے جو صوبہ پنجاب کے ضلع راجن پور، سندھ کے ضلع کشمور اور بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی پر مشتمل ہے۔ یہ دریائے سندھ میں قدرتی طور پر بنے دو چھوٹے جزیروں پر مشتمل ہے جن کی مجموعی لمبائی تقریباً 40 سے 60 کلومیٹر اور چوڑائی تقریباً 10 سے 15 کلومیٹر ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق کچے کے علاقے میں تقریباً آٹھ بڑے جبکہ 11 چھوٹے گینگ اور کچھ کالعدم بلوچ تنظیموں کے لوگ پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ان کی پشت پناہی مبینہ طور پر سندھ اور راجن پور کے علاوہ رحیم یار خان کی پولیس اور وڈیرے بھی کرتے آئے ہیں۔

جامعہ کراچی شعبہ کرمنالوجی کی پروفیسر ڈاکٹر نائمہ شہریار نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’کچے کے علاقے شروع سے ہی جرائم پیشہ افراد کے ٹھکانے نہیں تھے لیکن چھوٹے چھوٹے جرائم میں ملوث افراد کو جب بااثر شخصیات کی حمایت حاصل ہونے لگی تو انہوں نے جرائم پیشہ گروہوں کی صورت اختیار کر لی، اور چند ہی برسوں میں یہ طاقت ور جرائم پیشہ گروہوں کے طور پر ابھرے۔ یوں وہ نہ صرف ان علاقوں کے لیے بلکہ ان علاقوں سے گزرنے والوں کے لیے بھی مسائل پیدا کرنے لگے۔ ان جرائم پیشہ افراد کے خلاف کئی بار آپریشنز بھی ہوئے مگر یہ اب بھی کسی نہ کسی طور پر اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

سندھ اور پنجاب کے سرحدی علاقے اوباڑو میں سرگرم عمل سماجی کارکن روبینہ شر کے مطابق پاکستان کے تین بڑے صوبوں کے سنگم پر واقع اس علاقے کے دامن میں تینوں ہی صوبوں کی روایات نظر آتی ہے۔ ان علاقوں میں قبائلی نظام رائج ہے، اور ملک کے دیگر علاقوں کے سرداروں کی طرح یہ یہاں کے بیشتر علاقوں میں بھی کسی قسم کی روک ٹوک کے بغیر سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’گذشتہ کچھ عرصے سے راجن پور، رحیم یار خان اور گردونواح میں موجود قبائل کے درمیان باہمی اتفاق سے ایک فارمولہ طے پا چکا ہے۔ اس علاقے میں موجود سرداری نظام راجن پور کے مزاری قبیلے کی سربراہی میں منظم ہے۔ لیکن اس کے باوجود کئی علاقوں میں آوازیں بلند ہونے لگی ہیں اور لوگ مزاری قبیلے کے خلاف بھی فیصلے کر رہے ہیں۔‘
واضح رہے کہ مزاری قبیلے کے ذیلی قبائل میں سکھانی، بالاچانی، گورچانی، لاٹھانی اور سرگانی قبیلے شامل ہیں اور یوں یہ اس علاقے کا طاقت ور ترین قبیلہ بن چکا ہے۔

سندھ، پنجاب اور بلوچستان سے متصل کچے کے ان علاقوں میں کئی بار پولیس، رینجرز سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے آپریشن کر چکے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان علاقوں میں سکیورٹی اداروں کی جانب سے ایک درجن سے زیادہ چھوٹے بڑے آپریشنز میں کامیابی کا دعویٰ کیا جا چکا ہے لیکن یہ عناصر کبھی ختم نہیں کیے جا سکے جس کی وجہ طاقت ور شخصیات کی ان کی پشت پناہی کرنا ہے۔
کچھ عرصہ قبل سکیورٹی اداروں کی جانب سے پنجاب کے کچے کے علاقے میں بدنام زمانہ چھوٹو گینگ کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا تھا۔
سکیورٹی اداروں کو کئی روز تک جاری رہنے والے اس آپریشن میں بڑی کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ اس آپریشن کے بعد کچے کے علاقوں میں چھوٹے بڑے کریک ڈاؤن بھی کیے گئے اور حالات کو کنڑول کر لیا گیا تھا

تاہم کچھ عرصے سے ایک بار پر ان علاقوں سے ڈاکوؤں کی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں جس کے بعد نومنتخب حکومت ایک بار پھر کچے کے علاقے میں گرینڈ آپریشن کرنے کی حکمت عملی مرتب کر رہی ہے۔

سندھ پولیس کے مطابق ماضی میں جو واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں، ان میں اسلحے کے زور پر لوگوں کو اغوا کیا جاتا تھا۔ اب کچھ عرصے سے کاروباری افراد کو ٹریپ کر کے اغوا کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے پولیس کی جانب سے عوام کی آگاہی کے لیے مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔
سندھ اور پنجاب آنے جانے والی گاڑیوں میں سوار شہریوں سے پولیس اہلکار مخاطب ہو کر یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ اگر کوئی شہری کاروباری لین دین، گاڑی کی خرید و فروخت یا پھر کسی خاتون کے بلانے پر کچے کے علاقے میں جانے کا ارادہ رکھتا ہے تو وہ ایسا کرنے سے خود کو روکے، کیونکہ جرائم پیشہ افراد مختلف طریقوں سے لوگوں کو یرغمال بنانے کے لیے ایسے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ چنانچہ کوئی بھی فرد اگر ایسے کسی عمل کا حصہ بننے جا رہا ہے تو وہ یہ کام نہ کرے۔

پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی ایک عدالت نے ایک معلمہ ( ٹیچر ) کو قتل کرنے کے مقدمے میں دو طالب...
26/03/2024

پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی ایک عدالت نے ایک معلمہ ( ٹیچر ) کو قتل کرنے کے مقدمے میں دو طالبات کو سزائے موت اور 20، 20 لاکھ روپے جرمانہ جبکہ ایک نابالغ طالبہ کو عمر قید کی سزا اور 10 لاکھ روپے جُرمانہ کی سزا سُنا دی ہے۔

خیال رہے کہ مارچ 2022 میں ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے انجم آباد میں تین طالبات نے اپنی معلمہ ( ٹیچر ) کو گلے پر چُھری پھیر کر قتل کر دیا تھا۔

واقعے کی تفتیش کے دوران ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈیرہ اسماعیل خان نے کہا تھا کہ ’ان خواتین سے ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان خواتین کی ایک اور رشتہ دار نے خواب میں دیکھا تھا کہ مقتولہ نے توہین مذہب کی ہے جس کی وجہ سے انھوں نے قتل کیا۔

تقریباً ایک برس چلنے والے اس مقدمے میں استغاثہ کی جانب سے پبلک پراسیکیوٹر تنصیر علی اور حاجی شکیل ایڈووکیٹ جبکہ ملزمات کی طرف سے اسد عزیز ایڈووکیٹ نے پیروی کی۔

مقدمہ ایک سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہا اور عدالت نے گذشتہ روز فیصلہ سُنایا۔
ڈیرہ اسماعیل خان کے مدرسہ جامعہ اسلامیہ فلاح البنات میں یہ قتل کا واقعہ 29 مارچ 2022 کو پیش آیا تھا جس کا مقدمہ مقتولہ کے چچا کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

انھوں نے ابتدائی بیان میں پولیس کا بتایا تھا کہ ’اطلاع ملنے پر میں فوراً مدرسے پہنچا تو بھتیجی کو مدرسے کے گیٹ کے ساتھ خون میں لت پت پایا، اس کا گلہ کٹا ہوا تھا اور اس کی موت ہوچکی تھی۔‘

مقتولہ کے چچا کے مطابق ان کو معلوم ہوا کہ حسب معمول جب ان کی بھتیجی رکشے پر مدرسے پہنچی تو وہاں پہلے سے ہی مدرسے کے یونیفارم میں چند خواتین موجود تھیں جنھوں نے تیز دھار آلے سے حملہ کیا اور ان کی بھتیجی کا گلہ کاٹ دیا۔

پولیس کے مطابق قتل میں ملوث دو خواتین آپس میں بہنیں ہیں جبکہ تیسری خاتون ان ہی کی ایک کزن ہیں۔

پولیس نے تینوں خواتین کو حراست میں لیا تھا اور ان کے پاس موجود چُھری اور لاٹھیاں بھی اپنے قبضے میں لے لی تھیں۔

Election OF Lahore High court Bar Association 2023-24 / 24-FEB /
14/12/2023

Election OF Lahore High court Bar Association 2023-24 / 24-FEB /

اسلحہ لائسنس کی فیس کا شیڈول جاری
03/12/2023

اسلحہ لائسنس کی فیس کا شیڈول جاری

لاہور ہائی کورٹ میں یکم نومبر سے وکلاء کے لیے گاؤن پہننا لازمی قرار دے دیا گیاچیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی منظوری کے بعد ...
01/11/2023

لاہور ہائی کورٹ میں یکم نومبر سے وکلاء کے لیے گاؤن پہننا لازمی قرار دے دیا گیا
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی منظوری کے بعد ڈپٹی رجسٹرار نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق یکم نومبر سے وکلاء گاؤن پہنے بغیر ہائی کورٹ میں پیش نہیں ہوں گے۔


17/10/2023

✅ *2012 PCrLJ 1572 QUETTA-HIGH-COURT*
Ss. 3, 4 & 489-F---Criminal Procedure Code (V of 1898), Ss.188, 154 & 561-A---Dishonestly issuing a cheque---Punishment of offences committed beyond, but which by law may be tried within Pakistan---Extension of Pakistan Penal Code, 1860, to extra-territorial offences---Scope---F.I.R. was registered against the accused (petitioner) for issuing a cheque which had been dishonored by a bank outside Pakistan---Petition for quashment of said F.I.R.---Whether an F.I.R. could be registered against a citizen of Pakistan, accused of an offence under the Pakistan Penal Code, 1860, which was committed beyond the limits of Pakistan---Principles.

عمر وقاص وڑائچ سیکرٹری لاہور بار و دیگر وکلا کے خلاف جھوٹی من گھڑت اور بے بنیاد ایف آئی آر کی بھرپور مذمت کرتا ہوں
05/10/2023

عمر وقاص وڑائچ سیکرٹری لاہور بار و دیگر وکلا کے خلاف جھوٹی من گھڑت اور بے بنیاد ایف آئی آر کی بھرپور مذمت کرتا ہوں

Press Release 04-10-2023
05/10/2023

Press Release 04-10-2023

Address

9 Fane Road, Mozang Chungi, Punjab
Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Yaseen Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share