23/05/2026
اہم فیصلہ — لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ
لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ نے ایک اہم Habeas Corpus Petition میں قرار دیا ہے کہ اگر 15 سال سے زائد عمر کا بچہ/بچی اپنی مرضی سے کسی محفوظ جگہ یا اپنی پسند کے فرد کے ساتھ رہ رہا/رہی ہو، تو اسے زبردستی والدین یا کسی شیلٹر ہوم بھیجنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، جب تک معاملہ باقاعدہ طور پر گارڈین کورٹ میں طے نہ ہو۔
عدالت نے واضح کیا کہ ہر شہری کو آزادی اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا بنیادی حق حاصل ہے، اور خاندانی یا معاشرتی دباؤ کے ذریعے کسی کی آزادی سلب نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ والدین کا کردار جبر نہیں بلکہ رہنمائی، تحفظ اور معاونت فراہم کرنا ہے۔
عدالت نے مزید آبزرو کیا کہ بالغ یا سمجھ بوجھ رکھنے والے بچوں کی مرضی، عزتِ نفس اور ذہنی سکون کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور ایسے معاملات میں اصل فورم گارڈین کورٹ ہے جہاں بچے کی فلاح و بہبود کو مدِنظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔
Criminal Misc. No. 2897-H of 2026
Muhammad Mustafa Vs. DPO etc.
Lahore High Court, Multan Bench
Decided on: 13.05.2026
By: Mr. Justice Muhammad Amjad Rafiq