Rasheed & Associates

Call Contact the business

Rasheed & Associates Rasheed & Associates | M. Call/WhatsApp: +92 300 4553477

Rasheed Bhatti, Advocate High Court Lahore
Practice areas: Criminal, Narcotics, Civil, Corporate, PEMRA, Service, Family, Banking, PECA, Tax, Trademark, and Company Registration.

20/09/2026

ائیرپورٹ پر “آف لوڈ” یا ٹریول ریجیکشن ہونے والوں کیلئے اہم معلومات

ایئرپورٹ پر آف لوڈ؟ لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کا راستہ موجود ہے

پاکستان میں بہت سے شہریوں کو بغیر واضح وجہ کے ائیرپورٹ پر روک دیا جاتا ہے۔
اکثر لوگوں کو صرف یہ کہا جاتا ہے کہ:
“آپ کا نام Stop List / Black List میں ہے”
آپ سفر نہیں کر سکتے”

لیکن حقیقت یہ ہے کہ کئی کیسز میں متعلقہ اداروں کے پاس مضبوط قانونی وجہ موجود نہیں ہوتی۔ اسی لیے ہائی کورٹ سے فوری ریلیف (ایک دن میں )مل جاتا ہے۔

اگر کسی شخص کو بلاوجہ آف لوڈ کیا جائے تو وہ:
ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتا ہے
ایک ہی دن میں آرڈر حاصل کر سکتا ہے
عدالت متعلقہ ادارے کو درخواست قانون کے مطابق سننے کا حکم دے سکتی ہے یا جواب طلب کر سکتی ہے مزید ڈائریکشن جاری کر سکتی ہے کہ اس شخص کو ایئرپورٹ پر بلا وجہ نہ روکا جائے

عملی طور پر میرے متعدد کلائنٹس کو ائیرپورٹ پر روکا گیا، لیکن ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کے بعد:
ان کے معاملات سنے گئے ،غیر ضروری رکاوٹیں ختم ہوئیں
وہ دوبارہ آسانی سے بیرونِ ملک سفر کرنے میں کامیاب ہوئے اور دوبارہ آف لوڈ نہیں کیے گئے۔

یاد رکھیں:
ہر آف لوڈنگ قانونی نہیں ہوتی۔ ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ: اسے وجہ بتائی جائے ،اس کا مؤقف سنا جائے ،اور قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے

اگر آپ یا آپ کے کسی جاننے والے کو ائیرپورٹ پر روکا گیا ہو تو قانونی کارروائی یا راہنمائی کے لیے Rasheed & associates
03004553477پر رابط کریں

Share for information and awareness:

18/09/2026

⚖️ لاہور ہائیکورٹ سے اہم ریلیف — شہری کے حقِ سفر کا تحفظ
ایک شہری جو ملائیشیا (Malaysia) سفر کر رہا تھا، اس کے پاس درست پاسپورٹ، ویزا، ٹکٹ اور دیگر تمام مطلوبہ سفری دستاویزات موجود تھیں، مگر اسے Allama Iqbal International Airport, Lahore پر بغیر کسی واضح اور تحریری وجہ کے Offload کر دیا گیا۔
متاثرہ شہری کی جانب سے اس غیر قانونی اقدام کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا۔
معزز عدالت نے معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ 3 دن کے اندر اندر باقاعدہ Speaking Order جاری کیا جائے اور اگر شہری کو بیرونِ ملک سفر سے روکنے کی کوئی قانونی اور معقول وجہ موجود نہیں تو اسے محض بلاجواز نہ روکا جائے۔
📌 حالیہ عدالتی نظائر
لاہور ہائیکورٹ نے حالیہ فیصلوں میں واضح کیا ہے کہ محض مبہم شبہات یا غیر واضح خدشات کی بنیاد پر کسی شہری کو بیرونِ ملک سفر سے نہیں روکا جا سکتا۔
Muhammad Soban v. Federation of Pakistan — 2026 PLD 480
اس مقدمہ میں درخواست گزاروں کو Allama Iqbal International Airport, Lahore سے Kuala Lumpur جانے والی پرواز سے Offload کیا گیا تھا، حالانکہ ان کے پاس valid passports، visas، return tickets اور hotel bookings موجود تھیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ Offloading جیسے اقدام کے لیے تحریری وجوہات، شفافیت اور قانونی اختیار ضروری ہیں۔
اسی طرح Muhammad Abbas v. Federation of Pakistan, W.P. No.27534/2026 میں بھی لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ valid visa، ticket اور دیگر سفری دستاویزات رکھنے والے مسافر کو محض vague suspicion یا غیر مصدقہ apprehension کی بنیاد پر سفر سے نہیں روکا جا سکتا۔
عدالت نے مزید ہدایت کی کہ Offloading کی صورت میں متعلقہ افسر:
🔹 objective material کی بنیاد پر فیصلہ کرے؛
🔹 مختصر مگر meaningful reasons تحریری طور پر record کرے؛
🔹 مسافر سے پوچھے گئے سوالات اور اس کے جوابات کا ریکارڈ رکھے؛
🔹 جہاں ممکن ہو interview/interaction کو preserve کرے؛ اور
🔹 Offloading order/proforma کی copy مسافر کو فراہم کرے۔
⚖️ قانونی اصول
حقِ سفر (Right to Travel) شہری کی آزادیِ نقل و حرکت سے متعلق ایک اہم آئینی حق ہے۔ ریاستی ادارے قانون کے مطابق مناسب scrutiny کر سکتے ہیں، لیکن اس اختیار کا استعمال من مانی، غیر شفاف یا محض قیاس و شبہ کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے۔
اس کیس میں بھی معزز لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے Speaking Order کی ہدایت اس اصول کی عکاسی کرتی ہے کہ کسی شہری کو اس کے بنیادی حقِ سفر سے محروم کرتے وقت متعلقہ اتھارٹی کو قانونی بنیاد اور قابلِ فہم وجہ ظاہر کرنا ہوگی۔
⚖️ Justice through Law — Protection of Fundamental Right

11/09/2026

2026 SCMR 1215
سپریم کورٹ نے منشیات مقدمہ میں موٹر سائیکل ڈرائیور کو 12 کلو چرس ث میں سزا کالعدم کرتے ہوئے بری کر دیا گیا ہے
Tariq Sajjad Khan v. The State |
اینٹی نارکوٹکس فورس نے 06.08.2017 کو ملزم سے موٹر سائیکل پر *12 کلو چرس* برآمدگی کا دعویٰ کیا۔
ٹرائل کورٹ نے 12 سال 6 ماہ قید کی سزا سنائی۔ لاہور ہائی کورٹ نے سزا کم کر کے "مدت جو گزار چکے" کر دی۔
سپریم کورٹ میں اپیل دائر ہوئی۔
سپریم کورٹ نے کیا کہا؟ اور ملزم کیوں #بری ہوا؟
سپریم کورٹ نے اور دونوں #ختم کر کے ملزم کو بری کرتے ہوئے قرار دیا ہےکہ گواہان کے بیانات میں سنگین تضادات Benefit of Doubt
وزن کا فرق: FIR میں ہر پیکٹ 1200 گرام لکھا تھا = 12 کلو۔ لیکن عدالت میں کھول کر تولنے پر 10 پیکٹ کا کل وزن 9.930 کلو* نکلا۔ انفرادی وزن بھی 912 گرام سے 1096 گرام تک تھا۔
رنگ کا #فرق گواہ نے کہا برآمد شدہ چرس کا رنگ " #بھورا" تھا۔ لیکن عدالت میں #کھولنے پر وہ " #کالا" نکلا۔
Roznamcha میں اندراج نہیں مالِ مقدمہ پولیس اسٹیشن پہنچا لیکن روزنامچے میں چرس کی کوئی تفصیل نہیں لکھی گئی۔ صرف موٹر سائیکل کا ذکر تھا۔
منشیات مقدمات میں CNS ایکٹ میں Proof کا Standard سب سے بلند ہے*
Control of Narcotic Substances Act, 1997 ایک سخت قانون ہے۔ اس لیے اس کے تحت جرم ثابت کرنے کے لیے شہادت کا معیار بھی سب سے اعلیٰ ہونا چاہیے، جس میں شک کی کوئی گنجائش نہ
لیکن استغاثہ اس معیار پر پورا نہ اتر سکا۔
CCTV فوٹیج نہ دینا شک پیدا ہونا
ملزم نے شروع سے کہا تھا کہ یہ جھوٹا مقدمہ ہے۔ اس نے پولیس اسٹیشن کی CCTV فوٹیج مانگی تاکہ ثابت کرے کہ برآمدگی پلانٹ کی گئی۔
تفتیشی افسر نے تسلیم کیا کہ کیمرے لگے تھے لیکن فوٹیج قبضے میں نہیں لی گئی اور نہ عدالت میں پیش کی گئی۔
سپریم کورٹ نے کہا اگر CCTV فوٹیج پیش کی جاتی تو یہ فیصلہ کن طور پر ملزم کی بے گناہی یا جرم ثابت کر سکتی تھی۔
بونس قانونی نکتہ: Sec 423 CrPC
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اپیلٹ کورٹ کا فرض صرف رسمی نہیں ہے۔ Sec 423 CrPC کے تحت اپیلٹ کورٹ کو ریکارڈ پرکھ کر میرٹ پر فیصلہ کرنا لازمی ہے، چاہے وکیل صرف سزا کم کرنے کی استدعا ہی کیوں نہ کرے۔
اپیل منظور۔ سزا ختم۔ ملزم بری
Narcotics کیس میں وزن، رنگ، اور سیزنگ کی کارروائی میں ایک گرام کا فرق بھی کیس ختم کروا سکتا ہے۔
CCTV, Roznamcha جیسے ثبوت نہ دینا استغاثہ کے لیے مہنگا پڑتا ہے۔
اپیل میں صرف سزا کم مانگنے سے بھی کورٹ conviction کو خود پرکھنے کی پابند ہے۔
قانون کا اصول شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو جائے گا"

اگر FIA اسلام آباد ایئرپورٹ پر کسی شہری کو بیرونِ ملک جانے سے روکے، تو کیا لاہور کا رہائشی ہونے کی بناء پر لاہور ہائی کو...
08/09/2026

اگر FIA اسلام آباد ایئرپورٹ پر کسی شہری کو بیرونِ ملک جانے سے روکے، تو کیا لاہور کا رہائشی ہونے کی بناء پر لاہور ہائی کورٹ میں کیس کیا جا سکتا ہے؟

کیس کا پس منظر
* پٹیشنر (درخواست گزار): محمد اویس
* موقف: درخواست گزار کا کہنا تھا کہ 17 جولائی 2026ء کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایف آئی اے (FIA) کے حکام نے انہیں بغیر کسی تحریری حکم یا قانونی وجہ کے بیرونِ ملک جانے سے روک دیا (آف لوڈ کر دیا)۔
* درخواست دہندہ کا موقف:
* آف لوڈ کرنے کا اقدام غیر قانونی اور آئین کے آرٹیکل 4، 10-A اور 15 کے تحت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
* چونکہ ایف آئی اے وفاقی ادارہ ہے اور پٹیشنر پنجاب کا رہائشی ہے، اس لیے لاہور ہائی کورٹ کو اس کیس کی سماعت کا اختیار حاصل ہے۔
* اس ضمن میں انہوں نے سپریم کورٹ کے مشہور کیس "ایان علی" (2017 SCMR 1179) کا حوالہ دیا۔
سائل/سرکاری وکیل کا اعتراض
* اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کا موقف:
* عدالت کا "علاقائی دائرہ اختیار" (Territorial Jurisdiction) نہیں بنتا۔
* آف لوڈ کرنے کا تمام تر واقعہ اور کارروائی اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہوئی۔
* علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور کے FIA حکام (رسپونڈنٹ نمبر 4 اور 5) کو بلاوجہ کیس میں شامل کیا گیا ہے تاکہ لاہور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار بنایا جا سکے، جبکہ ان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
عدالت کے اہم نکات اور فیصلہ
* بنیادی سوال:
عدالت نے سب سے پہلے اس بات کا تعین کیا کہ کیا لاہور ہائی کورٹ کے پاس اسلام آباد ایئرپورٹ پر ہوئے آف لوڈنگ کے اقدام کا جائزہ لینے کا علاقائی دائرہ اختیار (Territorial Jurisdiction) موجود ہے یا نہیں؟
* آئین کا آرٹیکل 199:
آئین کا آرٹیکل 199 ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار کو حدود و قیود کا پابند بناتا ہے۔ محض اس وجہ سے کہ کوئی ادارہ وفاقی (Federal) ہے، ملک کی کسی بھی ہائی کورٹ کو اس کے ہر اقدام کے خلاف سماعت کا اختیار حاصل نہیں ہو جاتا۔
* حقیقی تنازعہ کا اصول (Dominant Object Test):
عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلوں (توفیق آصف کیس اور ڈی جی خان سیمنٹ کیس) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کیس کا علاقائی دائرہ اختیار اس بات سے طے ہوتا ہے کہ اصل واقعہ کہاں پیش آیا اور مرکزی شکایت کیا ہے۔ اس کیس میں مرکزی شکایت اسلام آباد ایئرپورٹ پر کی گئی آف لوڈنگ تھی۔
* ایان علی کیس سے فرق:
عدالت نے وضاحت کی کہ "ایان علی کیس" مختلف تھا کیونکہ اس میں وفاقی حکومت کا ایک ایسا نوٹیفکیشن چیلنج تھا جس کے اثرات کراچی میں بھی نافذ العمل تھے۔ جبکہ محمد اویس کے کیس میں ایسا کوئی مسلسل نوٹیفکیشن يا ای سی ایل (ECL) آرڈر چیلنج نہیں کیا گیا، بلکہ صرف ایک بار اسلام آباد ایئرپورٹ پر آف لوڈ کرنے کے عمل کو چیلنج کیا گیا ہے۔
* رہائش کا اصول:
پٹیشنر کا محض صوبہ پنجاب کا رہائشی ہونا یا لاہور کے FIA افسران کو کیس میں فریق بنانا لاہور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار پیدا نہیں کرتا۔
حتمی نتیجہ (Decision)
* پٹیشن خارج: لاہور ہائی کورٹ نے علاقائی دائرہ اختیار (Territorial Jurisdiction) نہ ہونے کی بناء پر درخواست خارج کر دی۔
* حق محفوظ: عدالت نے واضح کیا کہ انہوں نے آف لوڈنگ کے قانونی یا غیر قانونی ہونے (Merits) پر کوئی رائے نہیں دی۔ درخواست گزار کے پاس یہ حق محفوظ ہے کہ وہ متعلقہ بااختیار عدالت (اسلام آباد ہائی کورٹ) سے رجوع کرے۔

04/09/2026
04/09/2026

نکاح نامہ میں شوھر پر بیوی کو طلاق دینے کی صورت میں ہرجانہ کی ادائیگی کی شرط غیر شرعی اور غیر قانونی ھے۔ اور عدالت طلاق دینے کی صورت میں نکاح نامہ میں درج معاوضہ طلاق شوہر کے خلاف ڈگری نہ کرسکتی ھے
PLJ 2021 Lahore 485

Conditions mentioned in Column No. 16 of Nikahnama--Claim of recovery of Rs.500,000/- by the respondent/plaintiff from the petitioner/defendant on the ground of second marriage--it was mentioned in the Clause 19--Allah Almighty in Holy Qur’an has delegated uncovenanted powers to the husband to pronounce Talaq to his wife in order to avoid any transgression of Islamic bounds--A husband has an absolute right to divorce his wife and in this regard no condition is described in the Sharia as well as in the codified
law--The husband has a right to divorce his wife from his free will and no condition can be imposed in this regard--The judgments of the learned Courts below to the extent of Issue No. 4 suffer from patent illegality and are liable to be set aside--

Our law firm is here to guide you in drug cases.
02/09/2026

Our law firm is here to guide you in drug cases.

شیڈول مالی سال 2026/2027 کے لیے صوبہ پنجاب میں انتقال فیس کی نئی شرحیں
03/07/2026

شیڈول مالی سال 2026/2027 کے لیے صوبہ پنجاب میں انتقال فیس کی نئی شرحیں

After appearing in Lahore High Court Lahore today
22/06/2026

After appearing in Lahore High Court Lahore today

ہر قسم کے قانونی مسائل کے حل کے لیے ہماری خدمات سے فائدہ اٹھائیں، رابطہ نمبر 03004553477
20/06/2026

ہر قسم کے قانونی مسائل کے حل کے لیے ہماری خدمات سے فائدہ اٹھائیں، رابطہ نمبر 03004553477

Address

Lahore

Telephone

+923004553477

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rasheed & Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Rasheed & Associates:

Shortcuts

Share