Rai Hasan Raza Sher

Rai Hasan Raza Sher Lahore High Court

لاہور ہائیکورٹ اہم دن، 10 نئے ججز نے حلف اٹھا لیالاہور ہائیکورٹ میں 10 نئے ایڈیشنل ججز نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا، جب...
11/08/2026

لاہور ہائیکورٹ اہم دن، 10 نئے ججز نے حلف اٹھا لیا

لاہور ہائیکورٹ میں 10 نئے ایڈیشنل ججز نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا، جبکہ مستقل ہونے والے جج جسٹس طارق محمود باجوہ نے بھی حلف اٹھایا۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے نئے ججز سے حلف لیا۔ حلف برداری کی تقریب لاہور ہائیکورٹ کے ججز کامن روم میں منعقد ہوئی۔

حلف اٹھانے والے نئے ایڈیشنل ججز میں:

جسٹس غلام سرور نہنگ
جسٹس محمد اجمل خان زاہد
جسٹس عامر عجم ملک
جسٹس شیریں عمران
جسٹس اسد علی باجوہ
جسٹس محمد امجد پرویز
جسٹس خالد ابن عزیز
جسٹس منور اقبال دوگل
جسٹس سید فرہاد علی شاہ
جسٹس محمد عثمان غنی راشد چیمہ

شامل ہیں۔

تقریب میں لاہور ہائیکورٹ کے ججز، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفراللہ، پراسیکیوٹر جنرل عرفان صادق تارڑ، نئے ججز کے اہلِ خانہ اور عدالتی عملے نے شرکت کی۔

نئے ججز کے حلف اٹھانے کے بعد لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی مجموعی تعداد 50 ہوگئی ہے۔

⚖️ نئے ججز کے لیے نیک خواہشات — امید ہے وہ انصاف کی فراہمی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

50 کروڑ سے کم کرپشن… نیب کے ہاتھ بند؟  چیئرمین نیبقانون میں ترمیم کر کے ہمارے ہاتھ باندھ دیئے گئے ہیں، میں نے لکھ کر بھی...
08/08/2026

50 کروڑ سے کم کرپشن… نیب کے ہاتھ بند؟ چیئرمین نیب

قانون میں ترمیم کر کے ہمارے ہاتھ باندھ دیئے گئے ہیں، میں نے لکھ کر بھیجا تھا کہ کرپشن کی حد پندرہ یا 20 کروڑ مقرر کریں لیکن حد بڑھا کر 50 کروڑ کر دی گئی، چیئرمین نیب

چیئرمین نیب کی بات کو سمجھنے کے لیے 2022 کی نیب ترامیم کا پس منظر اہم ہے

2022 کی ترمیم میں نیب کو بنیادی طور پر 50 کروڑ روپے سے زائد کے کرپشن کیسز تک محدود کیا گیا تھا۔

“ہمیں کہا گیا کہ بڑے پیمانے کی کرپشن پکڑو، لیکن قانون نے ‘بڑی کرپشن’ کی تعریف اتنی اوپر یعنی 50 کروڑ کردی کہ بہت سے ایسے معاملات جن پر نیب کارروائی کرنا چاہتا ہے، ہمارے قانونی دائرے سے ہی نکل گئے۔ میں نے تجویز دی تھی کہ حد 15 یا 20 کروڑ ہو، مگر اسے 50 کروڑ کردیا گیا-
چئیرمین نیب

کیسز کی تاریخیں بعد میں، پہلے باکو کی تاریخ نوٹ کریں! 💼   ​✨ وکلاء صاحبان کے لیے باکو ٹور ✨مزید معلومات کے لیے رابطہ نمب...
06/08/2026

کیسز کی تاریخیں بعد میں، پہلے باکو کی تاریخ نوٹ کریں! 💼
​✨ وکلاء صاحبان کے لیے باکو ٹور ✨

مزید معلومات کے لیے
رابطہ نمبر چیرمین ٹورزم کمیٹی لاہور ہائی کورٹ

️ سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: صرف رقم کی وصولی کے لیے CNIC بلاک نہیں کیا جا سکتااگر ڈگری صرف Money Decree (رقم کی وصولی)...
06/08/2026

️ سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: صرف رقم کی وصولی کے لیے CNIC بلاک نہیں کیا جا سکتا

اگر ڈگری صرف Money Decree (رقم کی وصولی) سے متعلق ہو تو Executing Court محض رقم کی وصولی کے لیے Judgment Debtor کا CNIC بلاک کرنے کا حکم نہیں دے سکتی۔

عدالت نے قرار دیا کہ:

Section 51, Code of Civil Procedure (CPC)
عدالت کو ایسا اختیار نہیں دیتا کہ وہ محض رقم کی وصولی کے لیے شہری کا CNIC بلاک کرے۔

CNIC
آج کے دور میں ایک بنیادی شناختی دستاویز ہے، جس کے بغیر روزمرہ زندگی، بینکنگ، سفری معاملات، سرکاری و نجی خدمات اور دیگر قانونی امور شدید متاثر ہوتے ہیں۔

اگر CNIC بلاک کرنے کی اجازت دے دی جائے تو پھر اسی منطق کے تحت بجلی، گیس اور پانی جیسی بنیادی سہولیات بھی بند کی جا سکتی ہیں، جو قانون اور بنیادی حقوق کے منافی ہے۔

عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد ضروری ہے، مگر اس کے لیے ایسے اقدامات اختیار نہیں کیے جا سکتے جو شہری کے بنیادی حقوق اور معمول کی زندگی کو غیر ضروری طور پر متاثر کریں۔

📚 Case Citation:
PLD 2026 SC 281
Abid Majeed Khan v. Idrees Ahmed

⚖️ Rai Hassan Raza Sher
Advocate, Lahore High Court
WhatsApp
03006886226

Share for information and awareness:

06/08/2026

جس نے بھی جھنڈا اٹھایا یا عمران خان کانعرہ لگایا ایسے اٹھایا جاتا ۔

دیکھیں ہماری پولیس ہمارے حقوق کی حفاظت کرتے ہوئے ۔

05/08/2026

لاہور وکلا کو اس بات پر پر گرفتار کیا جا رہا کہ آپ لوگ عمران خان کے نعرے کیوں لگاتے ۔ وکلا گرفتاریاں انجوائے کرتے ہوئے ۔

05/08/2026

لاہور ، وکلا اور پولیس میں تصادم ۔ عمران خان کے نعرے کیوں لگاتے !

05/08/2026

وکلا میدان میں نکل آئے ۔ لاہور عمران خان کے نعرے

️ وراثتی انتقال (Inheritance Mutation) کروانے کا مکمل اور آسان طریقہکیا آپ کو معلوم ہے کہ وراثتی انتقال (Inheritance Mut...
04/08/2026

️ وراثتی انتقال (Inheritance Mutation) کروانے کا مکمل اور آسان طریقہ

کیا آپ کو معلوم ہے کہ وراثتی انتقال (Inheritance Mutation) کروانے کے لیے کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے؟

بہت سے لوگ مکمل معلومات نہ ہونے کی وجہ سے مہینوں بلکہ سالوں تک پریشان رہتے ہیں۔ ذیل میں آسان الفاظ میں پورا قانونی طریقہ درج ہے:

✅ مرحلہ نمبر 1

متوفی کا Death Certificate متعلقہ یونین کونسل سے حاصل کریں۔

✅ مرحلہ نمبر 2

نادرا (NADRA) سے FRC (Family Registration Certificate) جاری کروائیں۔

✅ مرحلہ نمبر 3

دو عدد بیاناتِ حلفی تیار کریں:
✔️ ایک کسی وارث کا
✔️ ایک متعلقہ گاؤں کے نمبردار کا
جس میں تمام قانونی زندہ وارثان کا ذکر ہو۔

✅ مرحلہ نمبر 4

قانون کے مطابق اخبار میں اشتہار شائع کروائیں۔

✅ مرحلہ نمبر 5

تمام دستاویزات (ڈیتھ سرٹیفکیٹ، FRC، بیاناتِ حلفی اور اخبار اشتہار) متعلقہ پٹواری کو جمع کروائیں، جو ان کی بنیاد پر شجرہ نسب تیار کرے گا۔

✅ مرحلہ نمبر 6

شجرہ تیار ہونے کے بعد معاملہ تحصیلدار کی عدالت میں پیش ہوگا، جہاں:
✔️ کم از کم ایک وارث
✔️ نمبردار
✔️ ایک گواہ (پٹی دار)

حاضر ہو کر شجرہ کی تصدیق کریں گے۔ بعد ازاں تحصیلدار شرعی حصص کے مطابق فیصلہ جاری کرے گا۔

✅ مرحلہ نمبر 7

پٹواری تحصیلدار کے فیصلے کے مطابق وراثتی انتقال درج کرے گا، زمین کے حصص تقسیم کیے جائیں گے اور انتقال باقاعدہ منظور ہو جائے گا۔

⚠️ اہم نوٹ

بعض اضلاع یا صوبوں میں مقامی قوانین، ریونیو رولز یا عدالتی احکامات کے باعث طریقۂ کار یا مطلوبہ دستاویزات میں معمولی فرق ہو سکتا ہے، اس لیے اپنے علاقے کے متعلقہ ریونیو دفتر یا کسی وکیل سے قانونی رہنمائی ضرور حاصل کریں۔

📞 وراثتی انتقال، تقسیمِ جائیداد، انتقالات، رجسٹری، سول مقدمات اور دیگر قانونی معاملات میں رہنمائی کے لیے رابطہ کریں۔

رائے حسن رضا شیر (ایڈووکیٹ)
لاہور ہائی کورٹ

📱 WhatsApp: 0300-6886226

💬 اگر یہ معلومات مفید لگیں تو Like، Share کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اپنے قانونی حقوق سے آگاہ ہو سکیں۔

️ ڈگری ہولڈرز کے لیے بڑی خوشخبری — سپریم کورٹ نے خودکار اسٹے کی روایت ختم کر دیکیا صرف ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں Appea...
04/08/2026

️ ڈگری ہولڈرز کے لیے بڑی خوشخبری — سپریم کورٹ نے خودکار اسٹے کی روایت ختم کر دی

کیا صرف ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں Appeal یا CPLA دائر کر دینے سے ڈگری پر عملدرآمد (Ex*****on) خود بخود رک جاتا ہے؟

جواب: ہرگز نہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے C.P.L.A. No. 925-L/2018 (Rashid Baig v. Muhammad Mansha) میں قانون کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتے ہوئے یہ اصول طے کیا ہے کہ:

اہم قانونی اصول

✅ 1. No Automatic Stay
صرف اپیل، نظرثانی یا CPLA دائر ہونے سے Ex*****on Proceedings پر خودکار (Automatic) اسٹے نہیں ملتا۔

✅ 2. تحریری Stay Order لازمی
جب تک ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ باقاعدہ تحریری Stay Order جاری نہ کرے، ایگزیکیوشن کورٹ کارروائی جاری رکھنے کی پابند ہے۔

✅ 3. قانون کا غلط استعمال
صرف مقدمہ زیرِ سماعت ہونے کا بہانہ بنا کر کارروائی رکوانے کی کوشش Abuse of Process of Law شمار ہو سکتی ہے۔

✅ 4. نچلی عدالتوں کے لیے واضح ہدایت
بغیر کسی واضح امتناعی حکم کے Ex*****on کو غیر معینہ مدت (Sine Die) تک ملتوی کرنا قانون کے مطابق درست طرزِ عمل نہیں۔

⚖️ اس فیصلے کی اہمیت

یہ فیصلہ خصوصاً Decree Holders کے لیے انتہائی اہم ہے، کیونکہ اس سے برسوں تک غیر ضروری تاخیر اور بلاجواز التواء کی روایت کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے، جبکہ ایگزیکیوشن کورٹس کو بھی اپنے قانونی اختیارات اور ذمہ داریوں کا واضح تعین ملتا ہے۔

📖 حوالہ:
C.P.L.A. No. 925-L/2018
Rashid Baig & others v. Muhammad Mansha & others



رائے حسن رضا شیر، ایڈووکیٹ
Lahore High Court
WhatsApp: 0300-6886226

💬 آپ کی رائے میں کیا صرف اپیل دائر ہونے پر Ex*****on روک دینی چاہیے، یا صرف باقاعدہ Stay Order کی صورت میں؟ اپنی قانونی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔

*****onProceedings

Address

8a Doran Avenue Lurnea
Lahore
2170

Telephone

+923006886226

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rai Hasan Raza Sher posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Rai Hasan Raza Sher:

Shortcuts

Share