16/09/2026
*حرمین شریفین کا تحفظ پوری امتِ مسلمہ کی مشترکہ ذمہ داری*
حرمین شریفین محض سعودی عرب کی سرزمین نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی عقیدت، محبت اور روحانی وابستگی کا مرکز ہیں۔ خانۂ کعبہ کی حرمت اور مسجدِ نبوی ﷺ کا تقدس ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔ ان مقدس مقامات کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والی کوئی بھی کارروائی پوری امتِ مسلمہ کے جذبات کو مجروح کرتی ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَمَن يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍۢ بِظُلْمٍۢ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ
ترجمہ: اور جو شخص مسجدِ حرام میں ظلم کے ساتھ کج روی کا ارادہ کرے، ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے۔
(سورۃ الحج: 25)
یمن کا موجودہ تنازع 2015 سے مسلسل خطے کے امن کو متاثر کر رہا ہے۔ اس دوران سعودی عرب کے مختلف شہروں، ہوائی اڈوں، شہری آبادیوں اور تنصیبات کی طرف متعدد میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔ جولائی 2017 میں سعودی حکام نے مکہ مکرمہ کے قریب ایک بیلسٹک میزائل روکنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ حوثیوں نے اس کا ہدف طائف میں واقع فوجی اڈہ قرار دیا تھا۔
اب ستمبر 2026 میں سعودی حکام نے ایک مرتبہ پھر مکہ مکرمہ کی جانب آنے والے ڈرون کو شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اگرچہ حوثی قیادت نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کے الزام کی تردید کی ہے، لیکن حرمین شریفین کے قرب و جوار میں کسی بھی قسم کی مسلح کارروائی، ڈرون پرواز یا میزائل حملے کا امکان انتہائی تشویش ناک اور ناقابلِ قبول ہے۔
ہم حرمین شریفین کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والی ہر کوشش کی پُرزور مذمت کرتے ہیں۔ مقدس مقامات کو جنگ، سیاست اور علاقائی کشیدگی سے مکمل طور پر محفوظ رکھا جانا چاہیے۔ اختلافات خواہ کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں، ان کا حل مذاکرات، سفارت کاری اور پُرامن ذرائع سے تلاش کیا جانا چاہیے۔
ہم سعودی عرب کی قیادت، عوام اور حرمین شریفین کے محافظ اداروں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، سعودی عرب اور پوری امتِ مسلمہ کو ہر فتنے، فساد اور دشمنی سے محفوظ فرمائے۔
حرمین شریفین کا تقدس ہماری ریڈ لائن ہے۔
*محمد عمران باری*
ڈائریکٹر
دی ارقم سکولز باری کیمپس شکرگڑھ