03/03/2026
عدالتی نکاح، کورٹ میرج، آن لائن نکاح یا شرعی زبانی نکاح کے بعد اکثر لڑکی کو عدالت میں پیش ہو کر دفعہ 164 ض ف (Section 164 CrPC) کے تحت بیان دینا پڑتا ہے تاکہ عدالت اس بات کی تصدیق کرے کہ نکاح اس کی اپنی آزاد مرضی سے ہوا ہے اور اس پر کسی قسم کا دباؤ، جبر یا اغوا کا الزام نہیں۔ یہ بیان مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ ہوتا ہے جسے عام طور پر کورٹ پریس یا عدالتی کارروائی کہا جاتا ہے، جہاں جج لڑکی سے الگ کمرہ یا کھلی عدالت میں سوال کرتے ہیں کہ کیا وہ اپنی رضا سے نکاح کر چکی ہے اور کیا وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ اگر لڑکی کو گھر والوں سے جان کا خطرہ ہو تو وہ بیان دیتی ہے کہ اسے اپنی فیملی سے دھمکیاں مل رہی ہیں، اس لیے اسے تحفظ فراہم کیا جائے اور پولیس سکیورٹی دی جائے۔ اس بیان کے بعد پولیس کو ہدایت دی جاتی ہے کہ لڑکی کو ہراساں نہ کیا جائے اور اگر ضرورت ہو تو پروٹیکشن فراہم کی جائے۔ دفعہ 164 کا بیان بعد میں کسی بھی فوجداری مقدمہ مثلاً اغوا یا زبردستی کے کیس میں مضبوط قانونی ثبوت سمجھا جاتا ہے اور میاں بیوی کے نکاح کو قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔
After court marriage, online nikah, or verbal Shariah nikah, the girl is often required to appear before a Magistrate to record her statement under Section 164 CrPC in order to confirm that the marriage was performed with her free will and without any coercion, pressure, or abduction. This statement is recorded formally in court proceedings where the Magistrate directly questions the girl to verify her consent and intention to live with her husband. If there is a threat from her family, she clearly states that she fears harm, harassment, or violence from her relatives and requests police protection. Once recorded, the 164 statement becomes strong legal evidence in cases involving allegations such as kidnapping or forced marriage and provides legal protection to the couple. The court may also direct the police to ensure the girl’s safety and prevent unlawful interference by family members.