Pakistan Legal Alliance

Pakistan Legal Alliance Trusted legal ally. Expert advice, tailored solutions. Serving justice, protecting rights.
(25)

2026 CLC 12 Lahore Case: Saba Gul v. Additional District Judge, Faisalabadاہم نکاتپنجاب فیملی کورٹس (ترمیمی) ایکٹ 2015 ک...
24/07/2026

2026 CLC 12 Lahore

Case: Saba Gul v. Additional District Judge, Faisalabad
اہم نکات

پنجاب فیملی کورٹس (ترمیمی) ایکٹ 2015 کے تحت Section 17-A کے مطابق عدالت کی طرف سے مقرر کیا گیا نان نفقہ ہر سال خودکار طور پر 10% بڑھتا ہے۔
یہ 10% اضافہ صرف اصل رقم پر نہیں بلکہ پچھلے سال کی بڑھی ہوئی رقم سمیت (compound basis) شمار کیا جائے گا۔
اگر نان نفقہ 20,000 روپے ماہانہ مقرر ہوا تھا تو:

پہلے سال: 22,000
دوسرے سال: 24,200
تیسرے سال: 26,620

ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ یہ اضافہ ڈگری کا لازمی حصہ ہے، اس کے لیے ہر سال نئی درخواست دائر کرنے کی ضرورت نہیں۔
یہ اضافہ صرف زیرِ عمل (pending ex*****on) ڈگریوں پر لاگو ہوگا، ماضی کے مکمل اور حتمی (closed) مقدمات پر نہیں۔

آئینی پہلو

عدالت نے قرار دیا کہ:
نان نفقہ کا حق آرٹیکل 4 اور آرٹیکل 9 (حقِ زندگی) سے جڑا ہوا ہے۔
مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے سالانہ اضافہ قانون کا مقصد ہے تاکہ بیوی اور بچوں کی ضروریات پوری ہو سکیں۔
یہ فیصلہ نان نفقہ کے مقدمات میں سالانہ 10% اضافے کے طریقہ کار کی اہم تشریح کرتا ہے اور فیملی کورٹس و ایگزیکیوشن کورٹس کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
Pakistan Legal Alliance

پہلی پیشی پر Interim Maintenance لازمی مقرر ہوگی۔14 تاریخ تک ادائیگی نہ ہونے پر Defence Strike Off ہو سکتا ہے۔عدالت دعوی...
09/07/2026

پہلی پیشی پر Interim Maintenance لازمی مقرر ہوگی۔
14 تاریخ تک ادائیگی نہ ہونے پر Defence Strike Off ہو سکتا ہے۔
عدالت دعویٰ میں مانگی گئی رقم سے زیادہ Maintenance بھی مقرر کر سکتی ہے۔
عدالت سالانہ اضافہ مقرر کر سکتی ہے۔
اگر عدالت اضافہ مقرر نہ کرے تو 10% سالانہ اضافہ خودکار (Automatic) ہوگا۔
عدالت مدعا علیہ کی آمدن معلوم کرنے کے لیے کسی بھی ادارے سے ریکارڈ طلب کر سکتی ہے۔




























26/06/2026

🚨 "سوئی گیس چوری" کا الزام لگا... لیکن لاہور ہائیکورٹ نے ضمانت کیوں دے دی؟ 🤯

کیا صرف FIR درج ہو جانا کسی شخص کو مجرم ثابت کر دیتا ہے؟
جواب ہے: ❌ نہیں!

⚖️ لاہور ہائیکورٹ نے ایک نہایت اہم فیصلہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ صرف الزام یا FIR کسی شخص کی آزادی چھیننے کے لیے کافی نہیں۔

📖 2026 YLR 1141 | Muhammad Hanif v. The State & Another

🔍 کیس کا خلاصہ

سوئی گیس حکام نے الزام لگایا کہ ملزم نے جعلی گیس سروس لگا کر گیس استعمال کی، مگر عدالت کے سامنے جب ریکارڈ پیش کیا گیا تو کئی اہم خامیاں سامنے آئیں۔

⚠️ عدالت نے کن نکات کو اہم قرار دیا؟

❌ موقع سے کوئی گیس میٹر برآمد نہیں ہوا۔
❌ محکمہ کی مناسب Assessment Report موجود نہیں تھی۔
❌ FIR میں یہ بھی واضح نہیں تھا کہ کس پائپ لائن یا سسٹم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی۔
✅ تفتیش تقریباً مکمل ہو چکی تھی اور ملزم مزید تفتیش کے لیے مطلوب نہیں تھا۔

⚖️ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ

"صرف الزام کسی شہری کی آزادی چھیننے کے لیے کافی نہیں۔ مضبوط، واضح اور قابلِ اعتماد شواہد ضروری ہیں۔"

اسی بنیاد پر عدالت نے بعد از گرفتاری ضمانت (Post-Arrest Bail) منظور کر لی۔

📚 قانونی حوالہ

✔️ Section 462-C, Pakistan Penal Code
✔️ Section 497, Criminal Procedure Code
✔️ 2026 YLR 1141 (Lahore High Court)

📢 اہم سبق:
ہر FIR صحیح نہیں ہوتی، ہر الزام ثابت شدہ جرم نہیں ہوتا، اور ہر گرفتار شخص مجرم نہیں ہوتا۔ قانون ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل اور آزادی کا حق دیتا ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

⚖️ Pakistan Legal Alliance

📞 0327-0808310

فوجداری مقدمات | ضمانت | ہائیکورٹ | سیشن کورٹ | قانونی مشاورت

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

💬 اگر آپ جج ہوتے، تو کیا صرف الزام کی بنیاد پر کسی کو جیل میں رکھتے؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں، اور یہ معلومات دوسروں تک پہنچانے کے لیے پوسٹ شیئر کریں۔

26/06/2026

"شوہر بیرونِ ملک ہر ماہ نان نفقہ دیتا رہا... لیکن پاکستان میں دوبارہ نان نفقہ مانگ لیا گیا! پھر ہائی کورٹ نے ایسا فیصلہ دیا جس نے اہم قانونی اصول طے کر دیے۔" ⚖️
ایک پاکستانی شوہر بیرونِ ملک عدالت کے حکم کے مطابق اپنی بیوی اور بچے کا نان نفقہ باقاعدگی سے ادا کر رہا تھا۔ اس کے باوجود پاکستان میں اسی مدت کے لیے دوبارہ نان نفقہ کا مقدمہ دائر کر دیا گیا، اور عدم پیشی پر اس کا دفاع بھی ختم (Strike Off) کر دیا گیا۔
مگر اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا:
"قانون کسی شخص سے ایک ہی مدت کے لیے دو مرتبہ نان نفقہ وصول کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔"
عدالت نے قرار دیا کہ:
✅ بیرونِ ملک عدالت کے احکامات اور وہاں کی ادائیگیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
✅ Section 17-A کے تحت دفاع ختم کرنا خودکار کارروائی نہیں، بلکہ پہلے عدالت کو تمام ریکارڈ، ادائیگیوں اور حقائق کا جائزہ لینا ہوگا۔
✅ ایک ہی مدت کے لیے Double Recovery اور Parallel Proceedings انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں۔
بالآخر اسلام آباد ہائی کورٹ نے دفاع ختم کرنے کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے مقدمہ دوبارہ میرٹ پر سننے کا حکم دیا۔
⚖️ سبق: اگر بیرونِ ملک عدالت کے حکم کے مطابق نان نفقہ ادا ہو رہا ہو تو پاکستان میں اسی مدت کے لیے دوبارہ دعویٰ خودکار طور پر قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ ہر کیس کا فیصلہ اس کے حقائق اور شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔
📚 2026 YLR 1121
Muhammad Muneeb Arshad v. Mst. Ammara Mahroof & Others

Pakistan Legal Alliance
📞 0327-0808310

25/06/2026

ذرا سوچیں… اگر آپ ایک مقدمہ ہار جائیں، پھر دوسرا بھی ہار جائیں، تو کیا تیسرا مقدمہ دائر کرکے وہی تنازع دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے؟
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے تازہ فیصلے 2026 SCMR 994 میں واضح کر دیا کہ قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ اگر ایک فریق پہلے ہی ایک فورم منتخب کر چکا ہو اور وہاں مقدمہ انجام تک پہنچ جائے، تو وہ بعد میں اسی معاملے پر کسی دوسرے فورم سے دوبارہ قسمت آزمانے کا حق نہیں رکھتا۔ اسے Doctrine of Election کہا جاتا ہے۔
اس فیصلے میں عدالت نے Order XXIII Rule 1 CPC اور Article 114 of the Qanun-e-Shahadat Order, 1984 کے اصولوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے واضح کیا کہ ایک ہی تنازع پر بار بار مقدمات دائر کرنا قانون کے خلاف ہے۔
📌 سبق: مقدمہ دائر کرنے سے پہلے درست قانونی حکمتِ عملی اختیار کریں، کیونکہ ایک غلط انتخاب آپ کے مستقبل کے قانونی حقوق کو متاثر کر سکتا ہے۔
Pakistan Legal Alliance
📞 0327-0808310

25/06/2026

مدعی نے ملزم کو تقریباً 44 لاکھ روپے 200 کارٹن سگریٹ کی فراہمی کے لیے ادا کیے۔ سامان فراہم نہ ہونے پر ملزم نے 44 لاکھ روپے کا چیک دیا جو بعد میں ڈس آنر ہوگیا، جس پر دفعہ 489-F PPC کے تحت مقدمہ درج ہوا۔
ٹرائل کورٹ نے ملزم کو بری کر دیا۔
ہائی کورٹ نے بریت ختم کرتے ہوئے کیس واپس ٹرائل کورٹ بھیج دیا تاکہ:
مزید گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں۔
دستخطوں اور انگوٹھے کے نشان کی ایکسپرٹ رائے حاصل کی جائے۔
دوبارہ فیصلہ کیا جائے۔
سپریم کورٹ نے کیا کہا؟
سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا کہ:
✅ بریت کے خلاف اپیل میں مداخلت کا دائرہ بہت محدود ہے۔
✅ ریمانڈ کا مقصد استغاثہ کو اپنی کمزوریاں دور کرنے یا دوسرا موقع دینا نہیں ہو سکتا۔
✅ عدالت صرف غیر معمولی حالات میں ہی مزید شہادت طلب کر سکتی ہے۔
✅ اگر استغاثہ اپنی غفلت سے ثبوت پیش نہ کرے تو بعد میں اسے دوسرا موقع نہیں دیا جا سکتا۔
قانونی اصول
دفعہ 489-F PPC
آرٹیکل 59 اور 84 قانون شہادت، 1984
سیکشن 423، 428 اور 540 Cr.P.C.
سپریم کورٹ کا فیصلہ
سپریم کورٹ نے:
ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا۔
ٹرائل کورٹ کی بریت بحال کر دی۔
واضح کیا کہ عدالتیں استغاثہ کی غفلت پوری کرنے کے لیے ریمانڈ نہیں دے سکتیں۔
⚖️ عملی سبق
بریت کے بعد اپیل میں صرف اس بنیاد پر کیس دوبارہ نہیں بھیجا جا سکتا کہ پراسیکیوشن مزید ثبوت اکٹھے کرنا چاہتی ہے یا اپنی خامیاں پوری کرنا چاہتی ہے۔
2026 SCMR 987

22/06/2026






























17/06/2026

🏡 "زمین واپس لینے چلا تھا... لیکن ایک گواہ نہ لا سکا، اور پورا کیس ہار گیا!"

سوچیے...

آپ کو پتہ چلتا ہے کہ آپ کے پڑوس یا مشترکہ زمین کا حصہ کسی اور کو فروخت کر دیا گیا ہے۔

آپ کہتے ہیں:

"مجھے فلاں شخص نے بتایا تھا، اسی وقت میں نے اپنا حقِ شفعہ استعمال کرنے کا اعلان بھی کر دیا تھا۔"

مقدمہ عدالت پہنچ گیا۔

مدعی نے دعویٰ کیا کہ جیسے ہی اسے زمین کی فروخت کا علم ہوا، اس نے قانون کے مطابق Talb-i-Muwathibat (فوری مطالبۂ شفعہ) کر دیا تھا۔

لیکن ایک مسئلہ تھا...

❗ جس شخص نے اسے فروخت کی خبر دی تھی، اسے عدالت میں بطور گواہ پیش ہی نہیں کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ:

حقِ شفعہ صرف دعویٰ کرنے سے ثابت نہیں ہوتا، بلکہ قانون کے مطابق فوری مطالبہ اور اس کا ناقابلِ تردید ثبوت بھی ضروری ہے۔

عدالت نے کہا کہ:

✅ اطلاع دینے والے شخص (Informer) کی گواہی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
✅ اگر وہ گواہ پیش نہ ہو تو دعویٰ کمزور ہو جاتا ہے۔
✅ صرف حمایتی گواہوں سے یہ کمی پوری نہیں ہو سکتی۔
✅ حقِ شفعہ کے تقاضے محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ قانون کی لازمی شرائط ہیں۔

سپریم کورٹ نے مزید واضح کیا کہ اگر نچلی عدالتیں کسی اہم ثبوت کو نظرانداز کر دیں تو ہائی کورٹ اپنے Revisional Jurisdiction کے تحت مداخلت کر سکتی ہے۔

📚 قانونی نظائر:

⚖️ Abdul Rehman v. Haji Ghazan Khan (2007 SCMR 1491)

⚖️ Subhanuddin and others v. Pir Ghulam (PLD 2015 SC 69)

⚖️ Abdul Sattar Khan v. Umar Ayar (2026 SCMR 812)

قانونی سبق:

"عدالت میں صرف سچ ہونا کافی نہیں، سچ کو قانون کے مطابق ثابت کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔"

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

Pakistan Legal Alliance
📞 0327-0808310

Address

Office # 126, First Floor, Daud Atif Center, Farid Court Road
Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Legal Alliance posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Pakistan Legal Alliance:

Shortcuts

Share

Category