AQIB javeed Advocate

AQIB javeed Advocate Share and take any idea or information about legal points. At any time you want to take legal advice simple text me
(2)

ٹیکس کی دنیا میں بڑا دھماکہ: پنجاب حکومت کا راتوں رات نیا قانون نافذ! کاروباری طبقے اور عوام کے لیے بڑی خبر! پنجاب حکومت...
23/05/2026

ٹیکس کی دنیا میں بڑا دھماکہ: پنجاب حکومت کا راتوں رات نیا قانون نافذ! کاروباری طبقے اور عوام کے لیے بڑی خبر!

پنجاب حکومت نے ٹیکس کے نظام کو آسان اور بہتر
بنانے کے لیے ایک نیا قانون پاس کیا ہے، جسے **"دی پنجاب سیلز ٹیکس آن سروسز (امینڈمنٹ) ایکٹ 2026"** کا نام دیا گیا ہے۔ یہ قانون 14 مئی 2026 سے پورے پنجاب میں لاگو ہو چکا ہے۔ اس کا مقصد پرانے ٹیکس قانون (2012) میں تبدیلیاں کر کے اسے وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہے۔
سب سے پہلی بڑی تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ پنجاب ریونیو اتھارٹی (PRA) کو اب نئے ضوابط اور رولز بنانے کے زیادہ قانونی اختیارات دے دیے گئے ہیں، تاکہ وہ ٹیکس کے معاملات کو زیادہ اچھے طریقے سے چلا سکے۔
اس نئے قانون میں مختلف سروسز (خدمات) پر ٹیکس کی حد کو بالکل واضح کر دیا گیا ہے:
* **فون اور انٹرنیٹ (ٹیلی کمیونیکیشن) سروسز:** ان پر ٹیکس کی حد **ساڑھے انیس فیصد (19.5%)** رکھی گئی ہے۔
* **سامان کی ترسیل (ٹرانسپورٹ):** ریل یا سڑک کے ذریعے سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنے کی سروس پر ٹیکس کی حد **پندرہ فیصد (15%)** ہوگی۔
* **باقی تمام سروسز:** ان دونوں کے علاوہ جتنی بھی سروسز ہیں، ان پر ٹیکس کی حد **سولہ فیصد (16%)** مقرر کی گئی ہے۔
قانون کو زیادہ سخت اور فعال بنانے کے لیے محکمہ جاتی عہدوں میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ اب پرانے عہدے "اسسٹنٹ کمشنر" کی جگہ **"انفورسمنٹ آفیسر یا آڈٹ آفیسر"** کام کریں گے، جن کا کام ٹیکس کی وصولی اور حساب کتاب کی کڑی نگرانی کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ، انفرادی افسران کے بجائے اب زیادہ تر بڑے اختیارات براہِ راست "اتھارٹی" کے پاس ہوں گے۔
اس قانون کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اب پنجاب ریونیو اتھارٹی کو زیادہ خود مختاری دے دی گئی ہے۔ نئے رولز بنانے یا ٹیکس کے نظام کو بہتر کرنے کے لیے اب اتھارٹی کو بار بار حکومت سے منظوری لینے کے طویل طریقہ کار کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا، بلکہ وہ خود فوری فیصلے کر سکے گی۔ یہ تمام ترامیم سیکرٹری جنرل چوہدری عامر حبیب کے دستخطوں کے ساتھ جاری کی گئی ہیں تاکہ صوبے میں ٹیکس کا نظام تیز رفتار اور شفاف ہو سکے۔

انفارمیشن اچھی لگے تو لائک ضرور کریں

section 173 of the criminal procedure code of Pakistan.    ゚
21/05/2026

section 173 of the criminal procedure code of Pakistan.

Article 6 constitution of Pakistan 1973.Es article un logon ke khilaf hai jo Constitution ko todte, suspend karte, ya fo...
20/05/2026

Article 6 constitution of Pakistan 1973.
Es article un logon ke khilaf hai jo Constitution ko todte, suspend karte, ya force se hata dete hain.

Article 6 states that:
Any person who:
abrogates (ends) the Constitution,
suspends the Constitution,
holds it in abeyance,
attempts or conspires to do so,
or helps/supports such actions,
through force or unconstitutional means, commits High Treason.
If someone tries to remove or stop the Constitution illegally especially by force, martial law, or military takeover that person is guilty of High Treason.
Suppose a military general removes the elected government and announces:
“The Constitution is no longer active. I will rule the country.”
This action would fall under Article 6 because the Constitution was suspended illegally.
Also, people who help or support that illegal action can also be punished under Article 6.
آرٹیکل 6 کے مطابق:
اگر کوئی شخص:
آئین کو ختم کرے،
معطل کرے،
غیر فعال بنائے،
یا ایسا کرنے کی کوشش یا سازش کرے،
یا اس کام میں کسی کی مدد کرے،
تو وہ سنگین غداری (High Treason) کا مجرم ہوگا۔
اگر کوئی طاقت کے زور پر یا غیر آئینی طریقے سے حکومت پر قبضہ کرے اور آئین کو معطل کر دے، تو یہ آرٹیکل 6 کے تحت جرم ہے۔
فرض کریں ایک فوجی جنرل حکومت ہٹا کر اعلان کرے:
“اب ملک آئین کے تحت نہیں چلے گا، بلکہ میرے حکم سے چلے گا۔”
تو یہ عمل آرٹیکل 6 کے تحت سنگین غداری شمار ہوگا۔
اور جو لوگ اس کام میں اس کی مدد کریں گے، وہ بھی سزا کے مستحق ہو سکتے ہیں۔
Article 6 ko specially is liye banaya gaya tha taa ke koi bhi person ya institution Constitution ko illegal tareeqe se suspend na kar sake.
Famous Historical Reference
Pervez Musharraf par Article 6 ke tehat High Treason ka case chalaya gaya tha because unhon ne emergency laga kar Constitution ko suspend kiya tha.
AQIB javeed Advocate Following
Any person who abrogates or subverts or suspends or holds in abeyance, or attempts or conspires to abrogate or subvert or suspend or hold in abeyance, the Constitution by use of force or show of force or by any other unconstitutional means shall be guilty of high treason.
Any person aiding or abetting or collaborating the acts mentioned in clause shall likewise be guilty of high treason.
An act of high treason mentioned in clause
(1) or clause
(2) shall not be validated by any court including the Supreme Court and a High Court.
(3) Majlis-e-Shoora (Parliament) may by law provide for the punishment of persons found guilty of high treason.

Article 6 is one of the most important protective provisions of the Constitution of Pakistan. It declares that any attempt to overthrow, suspend, or tamper with the Constitution through illegal or forceful means is High Treason the most serious crime against the state.
Any person whether civilian or military officer who tries to cancel, suspend, or paralyze the Constitution by using force or unconstitutional methods.
What actions are covered?
Abrogate (completely cancelled)
Subvert (undermine or destroy)
Suspend
Hold in abeyance (put on hold)
Even making an attempt or conspiracy to do any of the above.
Not only the main person, but anyone who helps, supports, or collaborates with such an act is also guilty of high treason.
No Court Validation (Clause 2A):
No court, including the Supreme Court or High Courts, can give legal validity or protection to any act of high treason. This clause was added through the 18th Amendment to stop future courts from justifying unconstitutional actions.
Parliament has prescribed the punishment of the death penalty or life imprisonment for high treason. The person may also be disqualified for life from holding any public office.
This Article was designed to protect the Constitution from military coups, dictatorships, and unconstitutional takeovers. It sends a strong message that the Constitution is supreme and no one is above it..

نکاح نامہ کا کالم نمبر 17 خود ایک رجسٹری ہے؛ اس میں درج جائیداد مکمل طور پر بیوی کی ہے جس کے لیے الگ سے رجسٹری کروانے کی...
19/05/2026

نکاح نامہ کا کالم نمبر 17 خود ایک رجسٹری ہے؛ اس میں درج جائیداد مکمل طور پر بیوی کی ہے جس کے لیے الگ سے رجسٹری کروانے کی ضرورت نہیں ہوتی، اور بیوی کی مرضی کے بغیر کوئی دوسرا شخص جائیداد فروخت یا منتقل نہیں کر سکتا
2024 SCMR 1078

ڈراپ سائٹ کی سٹوری اب تک 10 میلین لوگ دیکھ چکے ہیں!!پوری دنیا میں ایک کہرام مچ گیا ہے!!وقت نے ایک بار پھر ثابت کردیا!خان...
19/05/2026

ڈراپ سائٹ کی سٹوری اب تک 10 میلین لوگ دیکھ چکے ہیں!!
پوری دنیا میں ایک کہرام مچ گیا ہے!!
وقت نے ایک بار پھر ثابت کردیا!

خان سچا تھا، سازش بھی ہوئی تھی، مداخلت بھی ہوئی تھی۔..!!

وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے 62 سال پرانے ضابطۂ اخلاق کی جگہ نیا ’’سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026‘‘ نافذ کر دیا ہے، ...
17/05/2026

وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے 62 سال پرانے ضابطۂ اخلاق کی جگہ نیا ’’سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026‘‘ نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت مالی شفافیت، اثاثوں کی تفصیلات، مفادات کے ٹکراؤ اور سوشل میڈیا سرگرمیوں سے متعلق سخت قوانین متعارف کرائے گئے ہیں۔

نئے قواعد کے مطابق گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کو ہر سال 30 اکتوبر تک اپنے اثاثوں کی مکمل تفصیلات ڈیجیٹل طریقے سے جمع کرانا ہوں گی۔ ان اثاثوں کی معلومات عوامی سطح پر بھی جاری کی جائیں گی، تاہم حساس ذاتی معلومات کو خفیہ رکھا جائے گا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ان گوشواروں کی جانچ پڑتال بھی کرے گا۔

پہلی مرتبہ سرکاری ملازمین کے لیے کرپٹو کرنسی، بینک اکاؤنٹس، شیئرز، سیکیورٹیز، انشورنس پالیسیوں اور 50 لاکھ روپے یا اس سے زائد مالیت کے زیورات ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

نئے ضابطے میں مفادات کے ٹکراؤ سے بچاؤ کے لیے جامع نظام بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت افسران کو اپنے ذاتی یا خاندانی مفادات ظاہر کرنا ہوں گے تاکہ سرکاری فیصلوں پر غیر ضروری اثر و رسوخ روکا جا سکے۔

سوشل میڈیا اور آن لائن سرگرمیوں پر بھی نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ سرکاری ملازمین پیشگی اجازت کے بغیر ویب سائٹس، بلاگز، پوڈکاسٹس یا یوٹیوب چینلز نہیں چلا سکیں گے، جبکہ سرکاری وسائل یا عہدے کو ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کرنا بھی ممنوع ہوگا۔

حکومت نے تحائف اور مہمان نوازی سے متعلق قوانین مزید سخت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سرکاری ملازمین اور ان کے اہلخانہ غیر متعلقہ افراد، کمپنیوں یا غیر ملکی نمائندوں سے تحائف وصول نہیں کر سکیں گے، سوائے ان صورتوں کے جو توشہ خانہ قوانین کے تحت جائز ہوں۔

مزید برآں افسران کو اپنی آمدن سے بڑھ کر اخراجات کرنے سے بھی روکا گیا ہے، جبکہ شادیوں اور دیگر تقریبات پر غیر معمولی اخراجات کی وضاحت طلب کی جا سکے گی۔

نئے قواعد کے مطابق اگر کوئی سرکاری ملازم غیر معمولی رخصت کے دوران نجی شعبے میں ملازمت کرتا ہے تو اسے پیشگی اجازت لینا ہوگی، اور واپس آنے کے بعد 3 سال تک اپنے سابقہ نجی ادارے سے متعلق کسی سرکاری معاملے میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ان قواعد کی خلاف ورزی کو بدانتظامی تصور کیا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والے افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی

میری زندگی کا تقاضہ ہے ۔ میرا دشمن کم ظرف نہ ہو۔۔                  ゚
17/05/2026

میری زندگی کا تقاضہ ہے ۔
میرا دشمن کم ظرف نہ ہو۔۔

         ゚
16/05/2026

کمسن لڑکی کو زیادتی کے بعد آگ لگا کر قتل کرنے کے سنگین مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے مجرم عبدالقیوم کو سزائے موت سنا دی۔ ملز...
14/05/2026

کمسن لڑکی کو زیادتی کے بعد آگ لگا کر قتل کرنے کے سنگین مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے مجرم عبدالقیوم کو سزائے موت سنا دی۔ ملزم کو ورثاء کو 5 لاکھ روپے ادا کرنے کی بھی احکامات جاری، عدم ادائیگی پر 6 ماہ مزید قید بھگتنا ہوگی
عدالتی کارروائی کے دوران جرم ثابت ہونے پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ظفر اقبال تارڑ نے اپنا فیصلہ جاری کیا جس کے مطابق سفاک ملزم عبدالقیوم کو وحشیانہ فعل پر سخت ترین سزا کا مستحق قرار دیا گیا۔

یہ افسوسناک واقعہ 2022 میں پیش آیا تھا جب ملزم عبدالقیوم نے 14 سالہ عریشہ مائی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اس پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی تھی۔ عریشہ مائی کو شدید جھلسی ہوئی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ ایک ماہ تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی تھی۔

اس ہولناک واقعہ کا مقدمہ تھانہ 18 ہزاری پولیس نے درج کیا تھا اور چالان عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے تمام شواہد اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں ملزم کو عریشہ
مائی کے قتل کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سزا سنائی۔

゚ **e **es

پاکستان میں وفاقی وزیر اور وزیرِ مملکت دونوں وفاقی حکومت کا حصہ ہوتے ہیں، مگر اختیارات، حیثیت اور انتظامی طاقت میں واضح ...
13/05/2026

پاکستان میں وفاقی وزیر اور وزیرِ مملکت دونوں وفاقی حکومت کا حصہ ہوتے ہیں، مگر اختیارات، حیثیت اور انتظامی طاقت میں واضح فرق ہوتا ہے۔

1۔ وفاقی وزیر (Federal Minister)

یہ کسی وزارت کا اصل سربراہ ہوتا ہے۔

اختیارات:

* اپنی وزارت کا مکمل انتظامی کنٹرول
* پالیسی سازی میں مرکزی کردار
* سمریاں، فائلیں اور اہم فیصلے approve کرنا
* وزارت کے سیکریٹری اور اداروں پر براہِ راست اختیار
* کابینہ میں مکمل اور بااثر رکن
* بجٹ، منصوبے، تقرریاں اور بین الوزارتی معاملات میں فیصلہ سازی

قانونی حیثیت:

* آئین کے تحت وفاقی کابینہ کا بنیادی رکن
* وزارت کا اصل ذمہ دار اور جوابدہ فرد

مثلاً:
وفاقی وزیر داخلہ، وفاقی وزیر خزانہ وغیرہ۔

2۔ وزیرِ مملکت (Minister of State)

یہ عموماً وفاقی وزیر کا معاون ،اسسٹنٹ یا junior minister ہوتا ہے۔

اختیارات:

* وہی اختیارات استعمال کرتا ہے جو:
* وزیراعظم
* یا متعلقہ وفاقی وزیر
اسے تفویض کرتے ہیں
اہم بات:

* وزیرِ مملکت کے پاس خودکار طور پر مکمل وزارتی اختیار نہیں ہوتا۔
وفاقی وزیر “مالکِ وزارت” سمجھا جاتا ہے، جبکہ وزیرِ مملکت عموماً معاون ،اسسٹنٹ یا دی گئی ذمہ داری کو سرانجام دیتا ہے۔
چنکہ وزیر مملکت کا عہدہ صوبے میں نہیں ہوتا اس لیئے"وفاقی وزیر مملکت" لکھنا ضروری نہیں،صرف "وزیر مملکت" نام کافی ہوتا ہے

                                 ゚
12/05/2026

Address

High Court Lahore
Lahore
66000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AQIB javeed Advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to AQIB javeed Advocate:

Share