Siddiqui law associates

Siddiqui law associates civil criminal court marriage services availably amytime court marriages civil criminal cased

18/11/2025

مدعاعلیہ بیرون ملک میں تھا ٹرائل کورٹ کی طرف سے کوئی نوٹس بذریعہ سفارت خانے سے نہیں بھجا گیا اور نا ہی کوئی اخبار اشتہار جاری ہوا
لہذا ٹرائل کورٹ کی ڈگری منسوخ کر دی گئی 12(2) سول
2023 MLD 39

14/11/2025

والدین بیٹے کیخلاف خرچہ ناں ونفقہ کا دعوٰی کرسکتے ہیں۔
A claim of maintenance by dependent parents against their sons, being a family dispute rooted in familial obligations, squarely falls within the domain of "family affairs" and is therefore well within the jurisdiction of the Family Court. To read Entry No.3 as confined only to wife and child would be to read into the statute a restriction that the legislature consciously omitted.
WP. 58342/25
Azhar Ijaz Khawaja Vs Additional District Judge etc
Mr. Justice Raheel Kamran
27-10-2025
2025 LHC 6358
Sadia Siddiqui advocate
03224309350

05/11/2025

لے پالک (Adopted) بچے کی قانونی حیثیت قانونی گود لینا
پاکستان میں کوئی باقاعدہ قانونی "Adoption Law" موجود نہیں۔ اس لیے لے پالک بچے کو اصلی بیٹا یا بیٹی کی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہوتی جیسا کہ مغربی ممالک میں ہوتا ہے۔ Guardians and Wards Act 1890:
اگر کوئی جوڑا یا فرد بچے کی سرپرستی (Guardianship) حاصل کرنا چاہے تو اسے عدالت میں درخواست دینی ہوتی ہے۔
یہ وراثتی حق نہیں دیتا، صرف پرورش کا حق دیتا ہے۔
وراثت (Inheritance):
لے پالک بچہ شرعی و قانونی وارث نہیں ہوتا۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ وہ بچہ آپ کی جائیداد سے حصہ پائے تو:۔
نادرہ قوانین کے مطابق، بچے کا باپ کے خانے میں اصلی والد کا نام درج کیا جانا ضروری ہوتا ہے۔
لے پالک بچہ قانونی طور پر آپ کے نام سے شناختی دستاویزات حاصل نہیں کر سکتا، جب تک کہ قانونی گارڈین شپ نہ ہو
(سورہ احزاب کی آیات 4 اور 5)
کسی آدمی کے سینے میں اللہ تعالٰی نے دو دل نہیں رکھے اور اپنی جن بیویوں کو تم ماں کہہ بیٹھتے ہو انہیں اللہ نے تمہاری ( سچ مچ کی ) مائیں نہیں بنایا ، اور نہ تمہارے لے پالک لڑکوں کو ( واقعی ) تمہارے بیٹے بنایا ہے یہ تو تمہارے اپنے منہ کی باتیں ہیں اللہ تعالٰی حق بات فرماتا ہے اور وہ ( سیدھی ) راہ سجھاتا ہے کے مطابق کوئی بچہ گود لے سکتا ہے، لیکن کوئی اپنا ولدیت تبدیل نہیں کر سکتا، گود لینے والے بچے کو اس کے حقیقی باپ کے نام سے مخاطب کرنا ضروری ہے اور اگر کسی کو گود لینے والے بچے کے والد کا نام معلوم نہ ہو، تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا کہ اسلام میں ان کے ساتھ بھائیوں جیسا سلوک کیا جائے۔
2023 PLD FC 1

لے پالک بیٹا اور بیٹی متوفی کے شرعی وارث نہ ہیں مگر نان و نفقہ کے حقدار ہیں
PLJ 2023 LAHORE(NOTE) 111
2018 MLD 407
2010 ylr 1327 lahore

اسلام میں گود لینے (adoption) کا کوئی تصور نہیں ہے۔ لے پالک اولاد وراثت میں حصہ دار نہ ہے۔
2020 YLR 2317

لے پالک (گود لیے گئے) بچے کی شرعی و قانونی حیثیت کے بارے لاہور ہائیکورٹ کا نہایت معلوماتی رہنما فیصلہ
2024 YLR 1073
اپنے الفاظ کا وزن پہچانیں، لے پالک کو اپنی بیٹی یا بیٹا قرار دینے کے بعد انکار کی گنجائش نہیں!
📖 قانون آپ کے الفاظ کو گواہی سمجھتا ہے!
📚 PLJ 2005 SC 785

گود لیا گیا بچہ دو سال سے کم عمر کا ہو، اور اسے گود لینے والی ماں کی طرف سے کم از کم ایک دن رات براہ راست دودھ پلایا جاتا تھا جس سے رضاعی "رجائی" تعلق پیدا ہوتا تھا اور اس طرح بچہ محرم اور خاندان کے لیے کسی نئے بچے کی ضرورت نہیں تھا۔ گود لینے والے والدین کی حقیقی اولاد--- وراثت کی صورت میں، تاہم، ایک رضائی بچے کو بھی گود لینے والے والدین کی جائیداد پر کوئی حق نہیں تھا، حالانکہ گود لینے والے والدین اپنی جائیداد کا ایک تہائی حصہ اپنے گود لینے والے بچے کے لیے لکھ سکتے ہیں۔
2015 pld 336 lahore
مدعا علیہ خاتون اس کی حقیقی بہن نہیں تھی بلکہ اسے اس کے والدین نے گود لیا تھا-قانون شہادت کی دفعہ 128، 1984 --- آرٹیکل 128 میں دیے گئے وقت کے اندر صرف ایک قابل باپ ہی بچے کی ولدیت کو چیلنج کر سکتا ہے--- فریقین کے والد نے کبھی مدعاعلیہ کی ولدیت کو چیلنج نہیں کیا تھا--- قانون شہادت کی دفعہ 128 کے مطابق ایک بہن نے اپنے بھائی کو چیلنج نہیں کیا۔ ولدیت--- مدعی کی طرف سے دائر مقدمہ سپریم کورٹ نے خارج کر دیا تھا۔
2019 PLD 449 SC
غیر مسلم معاشرہ میں گود لینے کے تمام حقوق موجود ہیں،
گود لینے والے والدین کو، معاشرے میں سرکاری اور نجی سماجی تنظیموں نے بھی قبول کیا اور ایسی سماجی تنظیموں اور کلبوں وغیرہ میں حقوق اور مراعات کو تسلیم کیا، جس میں تنظیم یا کلب کی رکنیت بھی شامل ہے، جیسا کہ معاملہ ہو سکتا ہے ایک گود لیا ہوا بچہ اپنے گود لینے والے والدین کی جائیداد بھی حاصل کر سکتا ہے۔
2015 GBLR 38 SUPREME-
متوفی کی بہنیں ہونے کے ناطے اس نے گود لینے والے بیٹے کے ڈی این اے ٹیسٹ کے مواد کے ساتھ درخواست دائر کی تھی۔ اور وراثت کا حقدار نہیں تھا-ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کی پٹیشن اور اعتراضات کو خارج کر دیا گیا تھا اور درخواست گزاروں کے حق میں جانشینی کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیا گیا تھا---درخواست گزاروں کی جانب سے پیش کیے گئے دستاویزات سرکاری تھے جن سے جواب دہندگان نے اختلاف نہیں کیا تھا- جواب دہندگان کو رائے کی موت کے بعد ان قانونی دستاویزات کا اعلان اور منسوخی کا مطالبہ کرنا چاہیے تھا۔ ماں---بچے کی قانونی حیثیت یا متوفی کے بیٹے کے طور پر اس کی حیثیت کو کسی زبانی ثبوت سے غلط ثابت نہیں کیا جا سکتا
گود لینے والا بچہ وراثت کا حقدار ٹھہرایا گیا
2020 Clc 1670
نابالغ عیسائی تھی اور اس کے والدین نے اجازت دی تھی- ہائی کورٹ نے درخواست گزار کو نابالغ کو امریکہ لے جانے کی اجازت دی تھی اور اسے گود لینے کے لیے سرکنڈیشن کی اجازت دی گئی تھی۔ امریکہ جا کر بچی کا نام وہاں کے قوانین کے مطابق درج کروا لے گود لی ہوئی بچی بیرون ملک چلی گئی
2011 Pld 6 isd
Sadia Siddiqui advocate
03224309350

Contact for any legal help....
26/01/2025

Contact for any legal help....

*2024 SCMR 486*ماں کو محض دوسری شادی کرنے پر بچوں کی کسٹڈی سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔نوٹ: اگر ثابت کیا جائے کہ شادی کی وج...
26/01/2025

*2024 SCMR 486*

ماں کو محض دوسری شادی کرنے پر بچوں کی کسٹڈی سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔
نوٹ: اگر ثابت کیا جائے کہ شادی کی وجہ سے بچے کی تعلیم ، جسمانی و ذہنی صحت وغیرہ متاثر ہورہی ہے اور اب بچے کی ویلفیئر ماں سے زیادہ باپ کے پاس ہے تو باپ کو کسٹڈی دی جائیگی۔

Re-marriage, especially of a mother, does not disentitle her to retain the custody of the minor.
Custody of minor --- Mother contracting second marriage --- Mother remarrying does not automatically tear her under the law from the custody of her children --- Holistic reading of the relevant Islamic principles , the Convention on the Rights of the Child , and Convention on the Elimination of All Forms of Discrimination Against Women leads to the conclusion that there is no legal justification for separating a mother from her child if the mother remarries.

04/09/2024

عدالت میں جانشینی سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کے لئے عدالت سے رجوع کرنے کی کوئی معیاد نہیں، وارثان کبھی بھی رجوع کر سکتے ہیں۔

2018 SCMR 762
Sadia Siddiqui advocate
0322-4309350

12/08/2024

اگر رسیدیں پیش کر دی جائیں تو سونا بھی ڈگری ہو گا۔
2023 CLC 143

13/07/2024
13/07/2024

عدت میں نکاح کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کالعدم قرار دیکر بری کرنے کا مکمل فیصلہ

29/06/2024

2024 YLR 1653
پہلی بیوی کی موجودگی میں یا پہلی بیوی کو طلاق دیکر عدت کی تکمیل سے قبل اس کی بہن سے شادی قابل تعزیر جرم ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کا قران و سنت اور اسلامی احکامات کی روشنی میں انتہائی معلوماتی فیصلہ

i) Is it permissible for an individual to marry two real sisters concurrently?

ii) Can an individual marry the sister of his divorced wife while the latter is undergoing the Iddat period?
Regarding criminal liability arising out of a marriage involving the marriage of two sisters, most Hanafi jurists, including Imam Abu Hanifa (R.A), argue that such unions do not warrant the imposition of Hadd punishment. However, they are unanimous that considering its serious repercussions, it must be dealt with seriously, and Tazir must be inflicted.
Crl. Misc. No. 67328/B/2023
Musawar Hussain Vs The State and another

Address

13-fane Road Near High Court
Lahore

Telephone

+923224309350

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Siddiqui law associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Siddiqui law associates:

Share