01/02/2020
مریم سلیمان خیل, پی ٹی ایم کابل کی ایک مشہور طوائف !
منظور پشتین کے رہائی کے لیے افغانستان کے دار الحکومت کابل میں میں احتجاج ہوا , جس کو شگوفہ نورزئی لیڈ کررہی تھی...
شگوفہ نورزئی کے ساتھ دوسری سب سے زیادہ متحرک خاتون مریم سلیمان خیل تھیں. جو کہ پی ٹی ایم کابل اور لوگر کا اہم حصہ ہے.
مریم سلیمان خیل کے والد کا نام حمید اللہ ہے , افغانستان کے صوبہ لوگر سے تعلق رکھتی ہے . جو کہ کوچیانوں ( جو زیادہ تر جانور پالنے میں مشہور ہے ) سے تعلق رکھتی ہے.
1986 میں امریکی ریاست کیلیفورنیا میں اس کی پیدائش ہوئی... چونتیس سال کے عمر میں اب تک اس کی شادی نہیں ہوئی ہے.
امریکا میں اس کی عمر محض عیاشیوں میں گزریں, جو کہ زیادہ تر دوستوں کے ساتھ نائٹ کلبوں اور شراب خانوں میں دیکھیں گئی.
پھر یہ امریکا سے لندن منتقل ہوئی , جہاں اس نے ایک بیوٹی پارلر میں کام کیا, بیوٹی پارلر میں خود بھی اس نے اپنے چہرہ کی سرجری کروائی ہے ...
چند سال قبل یہ افغانستان میں آئی,..مریم سلیمان خیل کا داود سلطان زوئ کے ساتھ تعلقات تھے ...داود سلطان زوئ نے مریم سلیمان خیل کو بغیر کسی مرٹ کے یونائیٹڈ ائیرلائن کے دفتر میں لگوایا.
داود سلطان زوئ حالا رکن پارلیمنٹ ہے, داود خواتین کو سیاست میں لانے کے لیے اور خصوصا افغانستان میں حقوق نسوا کے لیے کام کرنے میں مشہور ہے..
داود سلطان زوئ نے مریم سلیمان خیل کو غیر ملکی این جی او کے لیے خاص طور پر استعمال کیا.
اشرف غنی جب افغانستان کے صدر بنے تو انہوں نے مریم سلیمان خیل کو اپنے پاس بلوایا , اور مریم سلیمان خیل کو وزرات خارجہ کے دفتر میں نوکری دی ...
اشرف غنی نے مریم سلیمان خیل کو اپنے صدارتی دفتر میں بین الاقوامی تعلقات کا سربراہ مقرر کیا,جب کہ ان کو اپنا سینئر مشیر کا عہدہ بھی سونپا.
واضح رہے کہ مریم سلیمان خیل کے پاس کوئی ڈگری نہیں, اشرف غنی نے ان کو اہم عہدے سونپنے کی وجہ ان کی انگریزی قرار دیا تھا , جب کہ اصل وجہ وہ ہے جو ایک سال قبل رپورٹ ہوا.
خود اشرف غنی کے بھائی کا بیان ہے کہ مریم سلیمان خیل کو پشتو اور اردو نہیں آتی , ان کے پاس کوئی ڈگری نہیں ہے , محض ان کے فحاشی کی وجہ سے داود سلطان زوئ نے ان کو یہ عہدہ دیا تھا ...
اشرف غنی پر جب یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ انہوں نے مریم سلیمان خیل کو باوجود یہ کہ ان کے پاس کوئی ڈگری نہیں ہے , عہدے کیوں دیئے ہیں, تو ان کے پاس جواب آیا کہ یہ ہمارے رشتہ داروں میں سے ہے...
باوجود یہ کہ مریم سلیمان خیل کوچیانوں سے تعلق رکھتی ہے اور اشرف غنی کا ان سے کوئی تعلق نہیں...
مریم سلیمان خیل نے پچھلے سال قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا , اور حیرت انگیز طور پر محض 839 ووٹ لے کر مریم سلیمان خیل قومی اسمبلی کی ممبر بنیں.
مریم سلیمان خیل کے ممبر پارلیمنٹ بننے کے بعد مریم سلیمان خیل کے فحش تصاویر لیک ہوئیں جس میں مریم سلیمان خیل کو شراب خانوں, نائٹ کلبوں میں دوستوں کے ساتھ فحش حرکات کرتی ہوئی دیکھا گیا تھا ...
جب مریم سلیمان خیل سے اس بابت پوچھا گیا تو انہوں نے ان تصاویر کی تصدیق کی , تاہم اہم عہدے داروں کے ساتھ ان کی تعلقات کی وجہ سے قومی اسمبلی سے ان کی رکنیت معطل نہیں ہوئی , کیوں کہ اس کے لیے اہم سفارش اشرف غنی کا تھا ...
باوجود یہ کہ ان کی فحش تصاویر کا موضوع کئی دن قومی اسمبلی کا موضوع رہا ... اور خود انہوں نے اس کا اقرار بھی کیا.
آپ کو یاد ہوگا پچھلے سال ایک صحافی نے افغانستان کے صدارتی دفتر اور قومی اسمبلی کے حوالے سے انکشاف کیا تھا کہ اشرف غنی نے مالی بدعنوانی کے خلاف کاروائی تو کی مگر اخلاقی بدعنوانی اور لڑکیوں کو پارلیمنٹرینز کی جانب سے فحش کام کے لیے استعمال کرنے کے حوالے سے کام نہیں کیا..
صحافی نے انکشاف کیا تھا کہ پارلیمنٹ میں موجود لڑکیوں اور خواتین کا دوسرے عہدوں پر براجمان افراد اور پارلیمنٹیرین کے ساتھ عشقی اور جنسی تعلقات ہیں, خصوصا ان کو عہدہ بھی اس وقت ملتا ہے جو ان سے جنسی استفادہ کیا جاتا ہے ...
اس رپورٹ میں مریم سلیمان خیل کا نام سرفہرست تھا, اور ان کا خصوصی ذکر اس میں موجود تھا...
اس بابت میں نے مزید معلومات حاصل کی تو معلوم ہوا کہ مریم سلیمان خیل سمیت کئی اور پارلیمنٹیرین خواتین محض ایک ہزار ڈالر میں دستیاب ہوتی ہے ایک ہزار ڈالر کے بدلے ان سے جنسی استفادہ کیا جاسکتا ہے ...
آپ کو یاد ہوگا کہ پچھلے دنوں افغانستان کے وزیر دفاع اسد اللہ خالد اور رکن پارلیمنٹ ملالہ شنیواری کی کال لیک ہوئی تھی جس میں اسد اللہ خالد کی جانب سے ملالہ شنیواری کو محض دس ہزار ڈالر کے بدلے جنسی خواہش پورا کرنے کا مطالبہ کیا اور ملالہ شنیواری نے اس ڈیل کو مان کر رضامندی کا اظہار کیا...
پچھلے دنوں رکن پارلیمنٹ مریم سلیمان خیل کے گاڑی کو وزرات داخلہ کے سیکیورٹی کے انچارج خوشحال سادات نے روکنے کا اشارہ دیا تاہم مریم سلیمان خیل نے گاڑی نا روکی ..
خوشحال سادات کے اہل کاروں اور سلیمان خیل کے گن مینوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا , جس کے نتیجے میں ایک سیکورٹی فورسز کا اہل کار ہلاک ہوا...
لیکن مریم سلیمان خیل کا اثر و رسوخ دیکھیے ...اشرف غنی نے چند دن قبل ہی خوشحال سادات کو ہی وزرات خارجہ کے سیکورٹی انچارج سے فارغ کردیا ....
اس سے آپ ان کے اور اشرف غنی کے درمیان تعلقات کا اندازہ لگا سکتے ہیں ...
واضح رہے کہ مریم سلیمان خیل کا عمر 34 سال ہے, تاہم اب تک ان کی شادی نہیں ہوئی ہے ....
اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے , کیجئے فیصلہ .....
ایسی عورت پشتونوں کے حقوق کے لیے لڑنے کا حق رکھتی ہے ؟
مریم سلیمان خیل پی ٹی ایم کابل ٹیم کا اہم حصہ ہے , اور لوگر میں بھی پی ٹی ایم ٹیم کا اہم ترین حصہ ہے ...
منظور پشتین کے لیے کابل میں جب احتجاج کیا جارہا تھا تو احتجاج کا اعلامیہ اور مذمتی بیان مریم سلیمان خیل ہی کی جانب سے جاری ہوا ...
جب کہ چند ماہ قبل ایسلینڈ میں بھی ایک سمینار ہوا جس میں مریم سلیمان خیل نے پاکستان کے خلاف زہر اگلا, اور پی ٹی ایم کے خواتین ثنا اعجاز کا خصوصی تعریف کی ,
چند دنوں بعد ایک دفعہ پھر پی ٹی ایم کے حوالے سے ایک اجلاس کابل میں ہوگا جس کو شگوفہ نورزئی اور مریم سلیمان خیل ہی لیڈ کریں گی ..
اب پی ٹی ایم والے بتائے کہ مریم سلیمان خیل اور شگوفہ نورزئی جیسے لڑکیاں تمہیں سپورٹ کیوں کررہی ہے.
کیا ایسی خواتین پشتونوں کی حقوق کے لیے لڑ سکتی ہے یا صرف خود کو مزید مشہور کرنے کا ایک ذریعہ ہے....
#