khawaja wasim imran Adv

khawaja wasim imran Adv Here is advocate khawaja waseem imran from Bar association kot addu

😞❤️‍🔥🤔😞❤️‍🔥2026 کی قیامت خیز گرمی: کیا انسان موسمیاتی تبدیلی کے سامنے بے بس ہو رہا ہے؟جون 2026 دنیا کے لیے ایک غیر معمول...
01/07/2026

😞❤️‍🔥🤔😞❤️‍🔥
2026 کی قیامت خیز گرمی: کیا انسان موسمیاتی تبدیلی کے سامنے بے بس ہو رہا ہے؟
جون 2026 دنیا کے لیے ایک غیر معمولی مہینہ ثابت ہوا۔ ایشیا سے یورپ تک شدید گرمی کی لہروں نے کروڑوں انسانوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کیا، اسپتالوں پر دباؤ بڑھا، بجلی کی طلب ریکارڈ سطح تک جا پہنچی اور کئی ممالک کو ہنگامی اقدامات کرنا پڑے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہر گرمی کی لہر کی شدت اور وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن موسمیاتی تبدیلی ایسے انتہائی موسمی واقعات کو زیادہ شدید اور زیادہ بار بار رونما ہونے والا بنا رہی ہے۔
یہ بحران صرف زیادہ درجہ حرارت کا مسئلہ نہیں، بلکہ صحت، توانائی، پانی، زراعت، معیشت اور انسانی بقا سے جڑا ایک ہمہ گیر چیلنج بن چکا ہے۔ 2026 کی گرمی نے یہ بھی واضح کر دیا کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک دونوں اس خطرے سے محفوظ نہیں، اگرچہ ان کے مسائل اور کمزوریاں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
بھارت دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں ہر سال شدید گرمی لاکھوں لوگوں کی زندگی کو متاثر کرتی ہے۔ 2026 میں بھی کئی علاقوں میں درجہ حرارت 48 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب یا اس سے اوپر ریکارڈ کیا گیا۔ کھلے آسمان تلے کام کرنے والے مزدور، کسان، رکشہ ڈرائیور، تعمیراتی کارکن اور دیہاڑی دار افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔
بھارت کی ایک بڑی آبادی آج بھی ایسی ہے جس کے لیے ایئر کنڈیشنر ایک خواب ہے۔ دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی، پانی کی قلت اور معاشی مشکلات گرمی کے اثرات کو مزید شدید بنا دیتی ہیں۔ ایسے حالات میں جسم کا قدرتی ٹھنڈا ہونے کا نظام بھی ناکافی ثابت ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ہیٹ اسٹروک، پانی کی شدید کمی، دل اور سانس کی بیماریوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
صحت کے ماہرین کئی برسوں سے خبردار کر رہے ہیں کہ شدید گرمی سے ہونے والی بہت سی اموات براہِ راست "ہیٹ اسٹروک" کے نام سے ریکارڈ نہیں ہوتیں، بلکہ دل، گردوں یا دیگر طبی پیچیدگیوں کے طور پر درج ہوتی ہیں۔ اسی لیے مختلف تحقیقی اداروں اور سرکاری اعداد و شمار میں فرق دیکھنے کو ملتا ہے۔
شدید گرمی کا اثر صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہا۔ یورپ، خصوصاً فرانس، اسپین، اٹلی، پرتگال اور دیگر ممالک بھی غیر معمولی درجہ حرارت کی لپیٹ میں آئے۔ پیرس جیسے شہر، جہاں ماضی میں گرمی اتنی شدید نہیں ہوتی تھی، اب نئے موسمی حقائق کا سامنا کر رہے ہیں۔
یورپ کی بہت سی پرانی عمارتیں اس زمانے میں تعمیر ہوئیں جب شدید گرمی ایک مستقل مسئلہ نہیں سمجھی جاتی تھی، اس لیے ان میں ایئر کنڈیشننگ عام نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گرمی کی حالیہ لہروں کے دوران خاص طور پر بزرگ افراد، بیمار شہری اور اکیلے رہنے والے لوگ زیادہ خطرے میں رہے۔
بعض علاقوں میں بجلی کی طلب غیر معمولی حد تک بڑھ گئی جبکہ دریاؤں کے پانی کا درجہ حرارت بڑھنے سے کچھ ایٹمی بجلی گھروں کی پیداوار پر بھی اثر پڑا، کیونکہ انہیں محفوظ طریقے سے ٹھنڈا رکھنے کے لیے مناسب درجہ حرارت کا پانی درکار ہوتا ہے۔ اس صورتحال نے واضح کیا کہ موسمیاتی تبدیلی صرف انسانی صحت ہی نہیں بلکہ توانائی کے نظام کو بھی متاثر کر سکتا ہے
اسی دوران چین نے نسبتاً بہتر تیاری کا مظاہرہ کیا۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں چین نے بجلی کے نظام، شہری منصوبہ بندی اور کولنگ انفراسٹرکچر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔ ایئر کنڈیشننگ اب وہاں صرف ایک آسائش نہیں بلکہ بہت سے علاقوں میں روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔
اگرچہ چین بھی شدید گرمی سے مکمل طور پر محفوظ نہیں، لیکن نسبتاً بہتر انفراسٹرکچر، جدید موسمیاتی نگرانی، عوامی وارننگ سسٹم اور ہنگامی منصوبہ بندی نے اس کے لیے بحران سے نمٹنے میں مدد فراہم کی۔
2026 کی شدید گرمی نے یہ حقیقت ایک بار پھر نمایاں کر دی کہ موسمیاتی تبدیلی کسی ایک ملک، نسل یا طبقے کا مسئلہ نہیں رہی۔ فرق صرف یہ ہے کہ غریب ممالک میں لوگ بنیادی سہولتوں کی کمی کے باعث زیادہ متاثر ہوتے ہیں، جبکہ امیر ممالک جدید انفراسٹرکچر کے باوجود ایسے موسمی حالات کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔
دنیا کو اب صرف کاربن کے اخراج میں کمی پر ہی نہیں بلکہ ایسے شہروں کی تعمیر، قابلِ اعتماد بجلی کے نظام، صاف پانی کی فراہمی، عوامی صحت، ابتدائی وارننگ سسٹمز اور موسمیاتی موافقت (Climate Adaptation) پر بھی بھرپور سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔
اگر آج مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں گرمی کی لہریں صرف موسمی خبر نہیں رہیں گی بلکہ عالمی معیشت، خوراک، صحت اور انسانی زندگی کے لیے ایک مسلسل بحران بن جائیں گی۔ 2026 کی گرمی ایک واضح انتباہ ہے کہ بدلتے ہوئے موسم کے ساتھ انسان کو بھی اپنی منصوبہ بندی، تعمیرات، توانائی کے نظام اور طرزِ زندگی میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ یہی تبدیلی آنے والی نسلوں کے لیے زیادہ محفوظ اور قابلِ رہائش دنیا کی ضمانت بن سکتی ہے۔

Acquittal in a case U/S of 376-A PPC – Alhamdulillah, another successful defense resulting in the acquittal of an innoce...
25/06/2026

Acquittal in a case U/S of 376-A PPC – Alhamdulillah, another successful defense resulting in the acquittal of an innocent accused.

عنوان: پاکستان ٹیلی کام ترمیمی بل 2026 — جائیداد کے حقوق پر ایک نیا حملہ؟💢💢💢پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ترمی...
20/06/2026

عنوان: پاکستان ٹیلی کام ترمیمی بل 2026 — جائیداد کے حقوق پر ایک نیا حملہ؟💢💢💢
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ترمیمی بل 2026 نے ملک میں ایک اہم آئینی، قانونی اور عوامی بحث کو جنم دیا ہے۔ یہ بل بظاہر ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی توسیع اور ڈیجیٹل رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے پیش کیا گیا، لیکن اس کی بعض شقوں نے شہریوں کے بنیادی حقوق، خصوصاً حقِ ملکیت، کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
تنازعے کا مرکز بل میں شامل نئی شقیں Section 27-A اور Section 27-B ہیں۔ ان کے تحت ٹیلی کام کمپنیوں کو نجی اور سرکاری املاک تک رسائی حاصل کرنے، فائبر آپٹک نیٹ ورکس، ٹاورز، جنریٹرز اور دیگر آلات نصب کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اگر کوئی مالک، کرایہ دار یا ادارہ ایسی رسائی میں رکاوٹ ڈالے تو حکومت اسے پانچ کروڑ روپے تک جرمانہ کر سکتی ہے۔ تنازعے کا فیصلہ عدالت کے بجائے ایک سرکاری افسر کرے گا، جس کا فیصلہ حتمی اور لازمی تصور ہوگا۔
ناقدین کا مؤقف ہے کہ یہ اختیارات آئین پاکستان کے کئی بنیادی اصولوں سے متصادم ہیں۔ آرٹیکل 23 اور 24 ہر شہری کو جائیداد رکھنے اور اس سے محروم نہ کیے جانے کا حق دیتے ہیں، جبکہ آرٹیکل 10-A ہر شخص کو منصفانہ سماعت اور قانونی کارروائی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ اس بل میں عدالت کی جگہ ایک انتظامی افسر کو فیصلہ کن اختیار دینا اسی آئینی تحفظ کو کمزور کرتا ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 4 اور 25 کے تحت قانون کے مساوی تحفظ اور برابری کے اصول بھی متاثر ہوتے دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ ایک بڑی کارپوریٹ کمپنی اور ایک عام شہری کو بظاہر غیر مساوی قوت کے باوجود برابر فریق تصور کیا گیا ہے۔
ماحولیاتی اور سماجی پہلو بھی کم اہم نہیں۔ ناقدین کے مطابق پارکوں اور رہائشی علاقوں میں ماحولیاتی جانچ کے بغیر ٹیلی کام تنصیبات کی اجازت صحت، ذہنی سکون اور نجی زندگی کے حقوق پر منفی اثر ڈال سکتی ہے، جو آرٹیکل 9 اور 14 کی روح کے منافی ہے۔
اسلامی قانون کے تناظر میں بھی اس بل پر اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ قرآن و سنت میں مال و جائیداد کی حرمت، باہمی رضامندی اور منصفانہ معاوضے کو بنیادی اصول قرار دیا گیا ہے۔ فقہی روایت میں بھی مصلحتِ عامہ کے نام پر کسی کی ملکیت میں مداخلت صرف واضح ضرورت، مناسب معاوضے اور مؤثر احتساب کی موجودگی میں جائز سمجھی گئی ہے۔ ناقدین کے مطابق موجودہ بل ان شرائط کو پوری طرح واضح نہیں کرتا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ بل کسی کمپنی کو زبردستی قبضے کا حق نہیں دیتا اور زمینی تنازعے کے دوران کوئی آپریٹر یکطرفہ کارروائی نہیں کر سکتا۔ تاہم ناقدین کا مؤقف ہے کہ بل کی موجودہ زبان ان یقین دہانیوں کی مکمل عکاسی نہیں کرتی، اسی لیے اس میں ترمیم اور مزید وضاحت ضروری ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جدید ٹیلی کام انفراسٹرکچر ملک کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے، لیکن ترقی کے نام پر شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک متوازن قانون وہی ہوگا جو ایک طرف ڈیجیٹل ترقی کی راہ ہموار کرے اور دوسری طرف جائیداد کے مالکان کو مؤثر قانونی تحفظ، مناسب معاوضہ اور آزاد عدالتی نگرانی کی ضمانت بھی فراہم کرے۔ یہی توازن کسی بھی جمہوری اور آئینی ریاست کی اصل پہچان ہے۔
خواجہ وسیم عمران ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

Kashmir Crisis: Accountability, Human Cost, and the Path to PeaceWhether the lives lost in Azad Jammu and Kashmir are th...
19/06/2026

Kashmir Crisis: Accountability, Human Cost, and the Path to Peace
Whether the lives lost in Azad Jammu and Kashmir are those of civilians or government officials, every loss is equally tragic. Kashmiris have never been separate from us, and the current situation is deeply painful to witness. This crisis should never have reached this point. Poor judgment, incompetence, and stubbornness on all sides have contributed to its escalation.
If any unarmed individual has been shot despite posing no immediate threat to life, public safety, or property, such an act deserves scrutiny under the law. Law enforcement agencies operate within legal limits, and accountability must apply wherever those limits have been exceeded. Every life lost in this conflict is a cause for profound sorrow.
The ongoing protests have also disrupted supply routes, leading to shortages of essential goods and placing additional hardship on ordinary citizens. While both sides blame each other, the priority now must be finding solutions. Ensuring the uninterrupted availability of food, medicine, and other necessities is ultimately the responsibility of the government.
At the same time, attacks on security personnel, blockades of official convoys, threats against communication infrastructure, and other acts of violence cannot be considered peaceful protest. Such actions fall outside the boundaries of lawful democratic expression and should be addressed through the legal process against those directly responsible.
Another urgent concern is healthcare. Hospital closures, overcrowding, and limited medical facilities have left many vulnerable people—especially the elderly, pregnant women, and children—at risk. The government must mobilize all available resources, including enhanced security for medical facilities, temporary field hospitals, and emergency transport services, to ensure access to treatment.
With elections approaching, all parties should move toward dialogue rather than confrontation. The dispute over the 12 seats is not beyond resolution. Numerous constitutional, legislative, and political options exist, but meaningful progress can only come through negotiations and democratic engagement.
The greatest danger is not merely the political disagreement itself, but the growing mistrust, resentment, and division it is creating among people. These wounds can outlast any constitutional dispute and may prove far more damaging in the long run. Recognizing the sensitivity of this moment and choosing dialogue over hostility is essential for preserving unity, peace, and mutual respect.

— Khawaja Waseem Imran, Advocate

with most senior & legend advocate  Sir Rasheed Khan Nitkani 💖💖💖💖Welcome to New Judicial Complex, kot addu
14/05/2026

with most senior & legend advocate Sir Rasheed Khan Nitkani 💖💖💖💖
Welcome to New Judicial Complex, kot addu

Pakistan is playing an increasingly important and carefully balanced diplomatic role in regional politics, especially du...
09/05/2026

Pakistan is playing an increasingly important and carefully balanced diplomatic role in regional politics, especially during the recent tensions involving Iran, Saudi Arabia, Turkey, Israel, and the United States.
It highlights several developments as evidence of this role:
The Pakistani Prime Minister contacting the Iranian President during the crisis
Public condolences over the reported martyrdom of Iran’s Supreme Leader and condemnation of Israeli strikes
Alleged behind-the-scenes meetings between Pakistani and Iranian officials in Turkey
Strong reassurances of support to Saudi Arabia
Military and diplomatic coordination with Gulf states
Pakistan’s support for ceasefire efforts and diplomatic resolutions at the United Nations
The central argument is that Pakistan is trying to maintain a delicate diplomatic balance: supporting Iran’s sovereignty and condemning violations of territorial integrity, while simultaneously maintaining strategic and defense ties with Saudi Arabia and other Arab states. According to the text, Iran appears to understand and appreciate this distinction rather than viewing it negatively.
The write-up also argues that international relations are not emotionally driven like personal relationships. States often:
compete economically while cooperating politically,
disagree strategically while maintaining trade,
or even engage in conflict while preserving diplomatic channels.
This is presented as the reason Pakistan’s simultaneous support for Iran’s sovereignty and concern for Saudi security are not necessarily contradictory under international law.
Another major theme is the possibility of a broader Islamic strategic alliance involving:
Pakistan
Iran
Turkey
Saudi Arabia
with possible future participation from:
Indonesia
Qatar
Azerbaijan

دوسری جنگ عظیم کے دوران پنجاب حکومت نے عوام پر وار ٹیکس لگادیا تھا' پنجاب کے عوام سے یہ ٹیکس وصول کیا جاتا تھا بعد ازاں ...
09/05/2026

دوسری جنگ عظیم کے دوران پنجاب حکومت نے عوام پر وار ٹیکس لگادیا تھا' پنجاب کے عوام سے یہ ٹیکس وصول کیا جاتا تھا بعد ازاں یہ رقم انگریز سرکار کے حوالے کر دی جاتی تھی اور انگریز سرکار یہ رقم فوجوں کی نقل و حمل پر خرچ کرتی تھی 1945 ء میں دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی تو اس کے ساتھ ہی وار ٹیکس بھی ختم ہو گیا لیکن حکومت کے کھاتے میں چند لاکھ روپے بچ گئے اُس وقت ملک خضر حیات ٹوانہ پنجاب کے وزیر اعلی تھے ملک خضر حیات ٹوانہ کے پاس اس وقت دو چوائس تھیں وہ یہ رقم انگریز سرکار کے حوالے کر دیتے یا پھر اسے پنجاب کے کسی دوسرے فنڈ میں جمع کرادیتے ملک خضر حیات ٹوانہ کے دماغ میں اس رقم کے استعمال کا ایک دلچسپ طریقہ آیا انہوں نے اعلان کیا ہم پنجاب کے چار ذہین ترین طالب علموں کو اس رقم کے ذریعے بیرون ملک تعلیم کیلئے بھیجوائیں گے پنجاب سے چار طالب علم چنے گئے اور انہیں وار فنڈ کی رقم سے پڑھنے کیلئے لندن بھجوا دیا گیا ان طالب علموں میں ایک ایسا طالب علم بھی شامل تھا جس کا والد جھنگ میں محکمہ تعلیم میں چھوٹے درجے کا افسر تھا اور یہ طالب علم بیرون ملک تعلیم کا خواب تک نہیں دیکھ سکتا تھا اس طالب علم نے 1940ء میں میٹرک ریکارڈ نمبروں سے پاس کیا اور 1946ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ماسٹر کیا یہ پنجاب کے اخراجات سے لندن چلا گیا اور بعد ازاں اس نے 1979ء میں فزکس میں نوبل انعام حاصل کیا۔ یہ پاکستان کا واحد نوبل انعام یافتہ سائنس دان تھا اس طالب علم کا نام ڈاکٹر عبد السلام تھا ڈاکٹر صاحب اٹلی شفٹ ہو گئے اور انہوں نے زندگی میں سائنس کے ہزاروں طالب علموں کی رہنمائی کی ڈاکٹر صاحب بد قسمتی سے قادیانی مذہب کے ساتھ تعلق رکھتے تھے اور غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ آپ خود جانتے ہیں۔
ہمارے ملک میں آج تک تین جینوئن سائنس دان پیدا ہوئے ہیں ڈاکٹر عبد السلام" ڈاکٹر سلیم الزمان صدیقی اور ڈاکٹر عبد القدیر۔
ہم نے ان تین سائنس دانوں کے ساتھ تاریخی سلوک کیا ہم نے ڈاکٹر عبد السلام کو قادیانی قرار دے کر ملک بدر کر دیا وہ جوں ہی کراچی ائیر پورٹ سے اڑے 13 ترقی یافتہ ممالک نے انہیں شہریت کی پیش کش کر دی اور اٹلی گئے اٹلی نے ان کے نام سے ایک جدید ترین لیبارٹری بنائی اور آج یہ لیبارٹری ہر سال چالیس پچاس بڑے سائنس دان پیدا کر رہی ہے۔
ڈاکٹر سلیم الزمان صدیقی نے بلڈ پریشر کی دوا ایجاد کی، جرمنی نے ان کی خدمات کا اعتراف کیا لیکن ہم ان کا نام تک بھول گئے۔
پیچھے رہ گئے ڈاکٹر عبد القدیر ۔ڈاکٹر صاحب نے تیسری دنیا کے ایک انتہائی پسماندہ ملک کو جوہری طاقت بنایا ہم نے ان کے ساتھ کیا کیا۔
اصل سانحہ یہ نہیں کہ ہم نے چند سائنس دانوں کے ساتھ غلط سلوک کیا، اصل سانحہ یہ ہے کہ آج بھی ہم ہزاروں ذہین بچوں کے ساتھ وہی سلوک کر رہے ہیں۔

وہ بچہ جو سوال زیادہ کرتا ہے، اسے بدتمیز کہہ دیا جاتا ہے
جو نئی سوچ لاتا ہے، اسے اوور اسمارٹ کہا جاتا ہے
جو سسٹم سے ہٹ کر سوچے،اسے ناکارہ قرار دے دیا جاتا ہے

پھر چند سال بعد ہم کہتے ہیں:
“پاکستان میں ٹیلنٹ نہیں ہے…”

نہیں جناب!
پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں،
ٹیلنٹ پہچاننے والوں کی کمی ہے۔

“ہر بچے میں عبدالقدیر چھپا ہے،
بس اسے پہچاننے والی آنکھ چاہیے۔”

05/05/2026

Address

Kot Addu
Kot Addu
34050

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when khawaja wasim imran Adv posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share