Misbah Ud Din Utmani

Misbah Ud Din Utmani Citizen Journalist & Human Rights Activist working for marginalized communities

ممتاز کی قتل کے بعد ملک آدم خان کے بھائی ملک عمیر خان کا ایک آڈیو  پیغام سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے اپنے دوستوں اور نو...
01/09/2026

ممتاز کی قتل کے بعد ملک آدم خان کے بھائی ملک عمیر خان کا ایک آڈیو پیغام سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے اپنے دوستوں اور نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ کسی کی موت پر خوشی نہ منائی جائے اور دشمنی، انتقام اور اسلحہ کلچر سے دور رہا جائے۔

ملک عمیر خان کے مطابق ایک ماہ بعد ان کے شہید بھائی ملک آدم خان کی موت کو ایک سال مکمل ہو جائے گا۔ گزشتہ سال ان کے خاندان کے لیے یہ دن انتہائی قیامت خیز تھے جب ان کے گھر سے تین جنازے اٹھے۔ اس وقت کچھ لوگ ان کے غم میں شریک ہوئے جبکہ بعض لوگوں نے خوشی بھی منائی۔

انہوں نے کہا کہ ممتاز زندگی میں ان کا دشمن تھا لیکن اب وہ اس دنیا سے جا چکا ہے اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ انہوں نے اپنے دوستوں سے اپیل کی کہ ممتاز کی موت پر جشن، ہوائی فائرنگ یا سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد سے گریز کیا جائے۔

ملک عمیر خان نے کہا کہ ممتاز کی موت سے سب سے زیادہ دکھ اس کی ماں، بہنوں اور بھائیوں کو ہوگا کیونکہ وہ خود جانتے ہیں کہ اپنے بھائی کی موت کا دکھ اور دوسروں کو اس غم پر خوشیاں مناتے دیکھنے کا زخم کتنا گہرا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دشمنی نے دونوں خاندانوں کو تباہ کیا اور دونوں طرف بیس سے زائد لوگ مارے گئے۔ یہ لوگ کسی ماں نے اس لیے پیدا نہیں کیے تھے کہ وہ دشمنی اور انتقام کی آگ میں جان سے جائیں۔

انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ٹک ٹاک کے ویوز، بندوق کے ساتھ ویڈیوز اور بدمعاشی کسی کو عزت نہیں دیتے۔ دشمنی کا انجام صرف پولیس، خوف، اجڑے ہوئے گھر اور جنازے ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے اپنے والد اور بھائی بھی دشمنی کی بھینٹ چڑھ گئے، اس لیے وہ نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ نفرت اور انتقام کے بجائے امن اور زندگی کا راستہ اختیار کریں۔

انہوں نے خیبرپختونخوا پولیس کا شکریہ آدا کرتے ہوئیں کہا کہ انہوں نے انصاف کیا، آج کے بعد نہ کوئی ہمارا دشمن ہیں اور نہ ہی کسی کے ساتھ ہمارا کوئی کام

پشاور ہائیکورٹ نے والدہ کی درخواست پر حکم دیا ہے کہ مقتول ممتاز کی لاش اصل وارثین کے حوالے کی جائے، جسٹس سید ارشد علی او...
01/09/2026

پشاور ہائیکورٹ نے والدہ کی درخواست پر حکم دیا ہے کہ مقتول ممتاز کی لاش اصل وارثین کے حوالے کی جائے، جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل دو رکنی بنچ نے نادرن بائی پاس حملے میں ہلاک ہونے والے مطلوب اشتہاری ملزم ممتاز خان عرف ممتازے کی ڈیڈ باڈی کی حوالگی سے متعلق درخواست کو آج نمٹا دیا۔
سماعت کے دوران اضافی ایڈووکیٹ جنرل عبدالرؤف نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پولیس لاش صرف اور صرف اصل وارثین کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔ مقتول کے وکیل کی استدعا پر عدالت نے حکم دیا کہ مقتول کی والدہ اور بھائی لاش تحویل میں لیں گے اور تدفین و قبر کشائی کے عمل میں پولیس کی جانب سے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔ ضابطے اور ریکارڈ کی بہتری کے لیے ہسپتال انتظامیہ کو لاش کی حوالگی کے وقت ویڈیو ریکارڈنگ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

بحرین سے منتقل کیا گیا سنگین مقدمات میں مطلوب ملزم ممتازے نادرن بائی پاس کے قریب مبینہ حملے میں جان بحق ہو گیا۔ انٹرپول ...
31/08/2026

بحرین سے منتقل کیا گیا سنگین مقدمات میں مطلوب ملزم ممتازے نادرن بائی پاس کے قریب مبینہ حملے میں جان بحق ہو گیا۔
انٹرپول کے ذریعے بحرین سے گرفتار کر کے پاکستان منتقل کیا جانے والا اشتہاری ملزم ممتاز خان عرف ممتازے پشاور پہنچتے ہی مبینہ حملے میں جانبحق ہو گیا۔ واقعے کے دوران فائرنگ اور دستی بم کے حملے کے نتیجے میں دو ایس ایچ اوز شدید زخمی ہوئے، جبکہ جوابی فائرنگ میں دو حملہ آور بھی مارے گئے۔
ملزم ممتاز کو بحرین سے اسلام آباد ایئرپورٹ کے راستے پشاور لایا جا رہا تھا۔ تھانہ شاہ پور کی حدود نادرن بائی پاس کے قریب پیش آنے والے واقعے میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس پارٹی پر گاڑی روک کر فائرنگ کی اور ہینڈ گرنیڈ سے حملہ کیا۔ پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حملہ ملزم کے دیرینہ مخالفین کی جانب سے کیا گیا ہے۔
پولیس کا مزید کہنا ہے کہ ممتاز قتل، اقدامِ قتل، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، قبضہ مافیا، راہزنی اور پولیس پر حملوں سمیت 49 سنگین مقدمات میں مطلوب ایک منظم جرائم پیشہ نیٹ ورک کا سرغنہ تھا۔
دوسری جانب اس واقعے سے چند گھنٹے قبل ملزم کی بحرین ایئرپورٹ سے بھیجی گئی ایک وائس میسج سامنے آئی تھی جس میں اس نے پولیس کی تحویل میں اپنی جان کو درپیش خطرات اور مبینہ مقابلے یا حملہ دکھائے جانے کا اندیشہ ظاہر کیا تھا۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

موت کا خدشہ: بحرین ایئرپورٹ سے ممتاز کا آخری وائس میسج۔۔۔پاکستان منتقلی کے لیے ایئرپورٹ پر موجود ممتازے نے بحرین پولیس ک...
31/08/2026

موت کا خدشہ: بحرین ایئرپورٹ سے ممتاز کا آخری وائس میسج۔۔۔پاکستان منتقلی کے لیے ایئرپورٹ پر موجود ممتازے نے بحرین پولیس کے دیے گئے ایک موبائل فون کے ذریعے اپنا ایک وائس میسج ریکارڈ کر کے اپنے وکیل اور متعلقہ عدالت کے جج کو بھجوایا۔ اس آڈیو پیغام میں ملزم نے اپنے ممکنہ پولیس مقابلے (جعلی انکاؤنٹر) اور حراست کے دوران قتل کیے جانے کے شدید خدشات کا اظہار کیا ہے۔
ممتازے نے اپنے وائس میسج میں وضاحت کے ساتھ کہا:
"آج 31 تاریخ ہے، مجھے بحرین ایئرپورٹ لایا گیا ہے۔ اب تک میں جیل میں تھا۔ ڈی ایس پی فقیر آباد اعجاز نبی اور ڈی ایس پی خزانہ اشفاق خان آئے ہیں اور ایئرپورٹ پر مجھ سے ملے ہیں۔ یہ وائس جج صاحب کو سنا دی جائے تاکہ بعد میں یہ نہ کہا جائے کہ پولیس مقابلہ ہو گیا یا میرے دوست مجھے چھڑانے آئے تھے۔ میرے دوست اتنے بہادر نہیں کہ وہ پولیس سے چھڑانے کی کوشش کریں۔"
ملزم نے اپنے پیغام میں پشاور پولیس کے بعض افسران پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہی افسران نے اسے ماضی میں بھی تین مہینے تک لاپتہ رکھا تھا اور اس کے مخالفین سے بھاری رقم وصول کی تھی۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ جن مقدمات کا ذکر کیا جا رہا ہے، ان میں سے اکثریت میں وہ پہلے ہی عدالتوں سے ضمانت حاصل کر چکا ہے۔
پیغام کے اختتام پر اس نے بتایا کہ ڈی ایس پی اعجاز نبی اور ڈی ایس پی اشفاق کے ساتھ ایک ہی فلائٹ میں اس کی نشست ہے اور اسلام آباد پہنچتے ہی اس کا موبائل فون بند کر کے پولیس افسران کے تحویل میں دے دیا جائے گا۔
دوسری جانب پولیس کا دعویٰ ہے کہ ممتازے قتل، اقدامِ قتل، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، قبضہ مافیا، راہزنی، اغوا، پولیس پر حملوں اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے سمیت 49 سنگین مقدمات میں مطلوب ایک منظم جرائم پیشہ گروہ کا سرغنہ ہے۔

خیبر پختونخوا اور بالخصوص باجوڑ میں ٹارگٹ کلنگ اور بدامنی کی حالیہ لہر کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بار پھر ہجرت  کا بحث چھڑ...
30/08/2026

خیبر پختونخوا اور بالخصوص باجوڑ میں ٹارگٹ کلنگ اور بدامنی کی حالیہ لہر کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بار پھر ہجرت کا بحث چھڑ چکا ہے۔ مایوسی کے عالم میں کچھ حلقے باجوڑ چھوڑ کر کسی محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی بات کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف ایک مضبوط فکر یہ قائم ہو چکی ہے کہ علاقہ خالی کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ بدامنی پھیلانے والی قوتوں کا اصل مقصد ہی پورا کرنا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اگر اس پورے معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اس بدامنی کے پسِ پردہ محض بدامنی کا پھیلانا مقصد نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا اور منظم معاشی و سیاسی ایجنڈا کارفرما ہے۔
سوشل میڈیا یا عوام میں یہ احساس پیدا کرنا کہ یہاں سے نکل جانا چاہیے دراصل انہی قوتوں کی خواہش ہے جو اس خطے پر کامل تسلط چاہتی ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ عام انسان کو خوف و ہراس اور مایوسی کے اس درجے پر پہنچا دیا جائے کہ وہ صرف برائے نام زِندہ رہے۔ اس کے لیے پہلے مرحلے میں مقامی معیشت اور روزگار کو مفلوج کیا گیا۔ دوسرے مرحلے میں ان شخصیات، مشران اور نوجوانوں کو ٹارگٹ کیا گیا جو ان ظالمانہ پالیسیوں اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتے تھے اور اب تیسرے مرحلے میں ان لوگوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جو خاموش تماشائی تھے تاکہ ہر شخص میں یہ خوف بیٹھ جائے کہ یہاں کوئی محفوظ نہیں۔
تاریخی حقائق اس بات کے گواہ ہیں کہ جب بھی فاٹا کے علاقوں کو آپریشن یا خوف کی فضا قائم کر کے لیے خالی کروایا گیا تو اس کے بھیانک معاشی نتائج صرف مقامی آبادی ہی نے بھگتے ہیں۔ 2008کے آپریشنز کے دوران نہ صرف باجوڑ کے بازاروں کو بلڈوز کیا گیا بلکہ ناوا پاس اور غاخی پاس جیسے اہم تجارتی راستے بند کر دیے گئے۔ مجبوراً مقامی تاجر برادری راولپنڈی، پنجاب اور دیگر شہروں میں منتقل ہوئی۔ آج وہ تاجر تو وہاں آباد ہیں، لیکن ان کی جائیدادوں، پہاڑوں اور قیمتی معدنیات پر سیکیورٹی اشرافیہ اور مقامی آلہ کاروں کا قبضہ ہے۔
یہی ماڈل تیراہ میں بھی دہرایا جا رہا ہیں جہاں سے جب لوگوں نے نقل مکانی کی تو اس خالی علاقے کی معاشی لوٹ مار کا ایک نیا باب کھلا۔ قیمتی جنگلات کی بے دریغ کٹائی ہوئی، جنگلوں میں باقاعدہ کٹنگ مشینیں اور آرا ملیں لگائی گئیں، جہاں سے لکڑی، فرنیچر، ڈبل بیڈز اور صوفے بنوا کر بااثر عہدیداروں کو بھیجے گئے اور اب یہی صورتحال پورے خیبر پختونخوا میں آزمائی جا رہی ہے، پشاور جیسے صنعتی شہر میں بھی بدامنی کی فضا پیدا کر کے کارخانہ داروں کو نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے تا کہ معاشی بساط کو لپیٹا جا سکے۔
بدامنی پھیلانے والوں کا اصل ہدف یہ ہے کہ جو کچھ وہ بندوق کے زور پر مانگ رہے ہیں عوام خوفزدہ ہو کر بغیر کسی مزاحمت کے خود ہی ان کے حوالے کر دیں۔ اگر ہم علاقہ چھوڑ کر چلے گئے تو ہم اپنے آباء و اجداد کی جائیدادیں، معدنیات اور سرزمین پلیٹ میں رکھ کر ان کے حوالے کر دیں گے۔
لہٰذا ہجرت کی باتیں کرنے کے بجائے اب وقت آ گیا ہے کہ پائیدار حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔ اس بدامنی اور خوف کی فضا کو قائم رکھنے میں جتنا ہاتھ بیرونی عناصر کا ہے اس سے کہیں زیادہ کردار ان مقامی دلالوں کا ہے جو چند مراعات کے بدلے اپنے ہی لوگوں کا سودا کرتے اور غلط پروپیگنڈا پھیلاتے ہیں۔ ان کا ہر سطح پر مکمل معاشرتی بائیکاٹ کیا جانا سب سے بنیادی ضرورت ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ تمام علاقوں کے لوگ، تمام قبائل اور مشران باہمی اختلافات بھلا کر متحد ہو جائیں اور اپنے لوگوں میں یہ شعور بیدار کریں کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، کون کر رہا ہے اور اس کا معاشی مقصد کیا ہے۔ ہر محلے اور گاؤں کی سطح پر مقامی کمیٹیاں قائم کی جائیں، اپنے علاقوں میں موجود غیر متعلقہ اور مشکوک افراد کو بے دخل کیا جائے اور رات کے وقت غیر ضروری نقل و حرکت پر نظر رکھی جائے۔
اسی طرح جو لوگ پہلے ہی باجوڑ سے نکل کر پنجاب، اسلام آباد یا بیرونِ ملک مقیم ہیں، وہ خاموش رہنے کے بجائے اپنے علاقے کی آواز بنیں۔ وہ سوشل میڈیا اور دیگر فورمز پر اپنے لوگوں کو آگاہ کریں اور اس جبر کے خلاف اپنا حق ادا کریں۔
زمین چھوڑنا اپنے حق سے دستبردار ہونا اور دشمن کی چال کا حصہ بننا ہے۔ باجوڑ ہمارا گھر ہے اور اسے خالی کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتا۔ اگر ہم اپنے علاقے میں متحد ہو کر کھڑے ہو جائیں، اپنے اندر کی کالی بھیڑوں کو بے نقاب کریں اور پرامن مگر منظم دفاعی حکمتِ عملی اپنائیں، تو خوف کی اس چال کو ہمیشہ کے لیے ناکام بنایا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر معصومیت سے لبریز اور آنکھوں میں خاموش آنسو لیے اس ننھی بچی کی تصویر نظر سے گزری، تو دل دحل گیا۔ آنکھوں کے ...
29/08/2026

سوشل میڈیا پر معصومیت سے لبریز اور آنکھوں میں خاموش آنسو لیے اس ننھی بچی کی تصویر نظر سے گزری، تو دل دحل گیا۔ آنکھوں کے ان قطرے قطرے جمے آنسوؤں میں ایک گہرا سناٹا تھا جو بار بار سوال کر رہا تھا کہ اس پھول جیسے وجود کے ساتھ آخر ہوا کیا ہے؟
جب اس حقیقت کی کھوج لگانا شروع کی تو پتہ چلا کہ سوشل میڈیا پر ملالہ کے نام سے پکارے جانے والی اس ننھی پری کا اصل نام لیلیٰ ہے۔ لیلیٰ کا تعلق افغانستان کے شہر قندھار سے ہے لیکن غربت اور حالات کی ستم ظریفی کے باعث اس کا خاندان بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں مقیم ہے۔ اس کا والد ایک غریب دیہاڑی دار مزدور ہے جو صبح سے شام تک کی مشقت کے بعد بھی محض اتنی روزی روٹی کما پاتا ہے کہ دو وقت کا چولہا جل سکے۔
تقریباً ایک ماہ پہلے چمن کے ایک مقامي مدرسے میں حسبِ معمول پڑھنے گئی لیلیٰ کو شاید علم بھی نہ تھا کہ وہاں اس کی معصوم دنیا اندھیر ہونے والی ہے۔ مدرسے میں موجود ایک معلم کی تھپڑ کے نتیجے میں یہ معصوم سر کے بل لکڑی کی میز پر جا گری۔ گہرائی میں لگنے والی اس چوٹ نے اس کی آنکھ کو شدید متاثر کیا۔
لیکن المیہ دیکھئے... نہ مدرسے کے مہتمم کی حسِ انسانیت جاگی اور نہ ہی مفلوک الحال والدین اس تکلیف کی گہرائی کو سمجھ سکے۔ غربت کی چادر اتنی تنگ تھی کہ کسی نے اس ننھی آنکھ کی زخم پر توجہ ہی نہ دی۔
اب جب یہ دردناک داستان سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آئی اور چیخ و پکار مچی، تو انتظامیہ کی جانب سے مدرسے کو سیل کیا گیا اور بچی کا طبی معائنہ شروع ہوا۔ مگر افسوس... اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ ڈاکٹروں کی مطابق معصوم لیلیٰ کی ایک آنکھ کی بینائی ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکی ہے اور اگر فوری آپریشن نہ کیا گیا تو انفیکشن پھیل کر دوسری آنکھ کی روشنی بھی چھین لے گا۔
اس پورے المیے میں سب سے زیادہ دردناک پہلو وہ رویے ہیں جو ہمارے سماج کا گھناؤنا چہرہ ہمیں دکھاتا ہیں۔ ایک طرف بے بس اور غریب والد اس ظلم کو رب کی مرضی قرار دے کر اپنی غربت کے پیچھے چھپنے پر مجبور ہے تو دوسری طرف مدرسے کا معلم اسے ادارے کو بدنام کرنے کی سازش کا نام دے کر اپنی سفاکی سے پلّہ جھاڑ رہا ہے۔
کاش! اس ننھی پری کا بروقت علاج ہو جاتا، تو آج وہ ایک آنکھ کی روشنی سے محروم نہ ہوتی۔ سوچ کر ہی دل ہولتا ہے کہ جیسے جیسے یہ بچی بڑی ہوگی، آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ کر اس کے دل پر کیا گزرے گی اور اس کی اس اندرونی تکلیف میں کتنا اضافہ ہوگا؟
تشدد چاہے کسی سکول میں ہو، مدرسے میں ہو یا کسی کام کی جگہ پر یہ ہر صورت میں قابلِ مذمت، ناجائز اور اخلاقی گراوٹ کا ثبوت ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ سکولوں اور مدارس میں کچھ بے حس اساتذہ بچوں کو اس درندگی سے پیٹتے ہیں جیسے ان کا کوئی وجود ہی نہیں کیونکہ وہ ان کے اپنے بچے نہیں ہوتے، اس لیے ان کے دلوں سے رحم اور خوفِ خدا بالکل ختم ہو جاتا ہے۔
یہ تو بھلا ہو سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ کا جس کی وجہ سے اب ایسے چھپے ہوئے مظالم منظرِ عام پر آ رہے ہیں اور کچھ نہ کچھ آگاہی پھیل رہی ہے۔ مگر محض ایک پوسٹ شیئر کر دینا کافی نہیں۔ بچوں پر جسمانی تشدد کی روک تھام ہر قیمت پر یقینی بنانی ہوگی۔ تعلیم اور دین کا مقصد تو محبت اور شفقت سکھانا ہیں نہ کہ معصوم آنکھوں کی بینائی چھین کر ان کی دنیا کو ہمیشہ کے لیے تاریک کر دینا!
مصباح الدین اتمانی

باجوڑ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ڈاکٹر غلام فاروق کا اکلوتا بیٹا شہید ہوگیا۔ایک باپ کے لیے اس کی زندگی کی تمام تر مح...
28/08/2026

باجوڑ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ڈاکٹر غلام فاروق کا اکلوتا بیٹا شہید ہوگیا۔
ایک باپ کے لیے اس کی زندگی کی تمام تر محنت اور خوابوں کا محور اس کی اولاد ہوتی ہیں اور جب وہ اکلوتا بیٹا ہو تو باپ اپنی دنیا اس کے قدموں میں نچھاور کر دیتا ہے۔ باجوڑ کے معروف ڈاکٹر غلام فاروق صاحب نے بھی اپنے اکلوتے بیٹے برہان کے لیے اپنی عمر بھر کی جمع پونجی لگا دی، ایک عالی شان گھر تعمیر کروایا اور ابھی کچھ عرصہ قبل بڑی دھوم دھام سے اس کی شادی رچا کر اپنے ارمان پورے کیے۔
باپ نے سوچا تھا کہ زندگی کا فرض ادا ہو گیا، مگر ماموند کے شاگو چوک میں نامعلوم افراد کی بزدلانہ فائرنگ نے ایک ہی پل میں اس ہنستے بستے آشیانے کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔
جس گھر کی دیواروں نے ابھی کل ہی شادی کی شہنائیاں، قہقہے اور خوشیوں کے گیت سنے تھے، آج وہاں سے اٹھنے والے بین اور آہ و زاری کی آوازیں فضا کا کلیجہ شق کر رہی ہیں۔ ان گولیوں نے صرف ایک جوان کی سانسیں نہیں چھینیں، بلکہ ایک باپ کے بوڑھے کندھوں کا واحد سہارا، اس کی زندگی کی کمائی اور آنکھوں کا نور بھی ہمیشہ کے لیے بجھا دیا۔ برہان کی ناگہانی شہادت باجوڑ کی مٹی پر بہنے والا وہ بے گناہ خون ہے جو انتظامیہ سے سوال کرتا ہے کہ آخر کب تک باپ اپنے جوان اکلوتے بیٹوں کے جنازے اٹھاتے رہیں گے؟
​ابھی تو ان کی زندگی کی شروعات تھی، ابھی تو والدین کے بہت سے خواب باقی تھے... ایک ہنستا مسکراتا چہرہ چھین کر پورے خاندان کی دنیا اجاڑ دی گئی۔
​اللہ تعالی ڈاکٹر غلام فاروق صاحب اور ان کے اہل خانہ کو اس قیامت خیز صدمے پر صبرِ جمیل عطا فرما۔ (آمین)

28/08/2026

ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں کا مفت علاج

راولپنڈی واقعے میں جان سے جانے والے ضلع خیبر کے نوجوان محمد حسین کی میت بالآخر 14 طویل دنوں کے انتظار کے بعد ورثاء کے حو...
26/08/2026

راولپنڈی واقعے میں جان سے جانے والے ضلع خیبر کے نوجوان محمد حسین کی میت بالآخر 14 طویل دنوں کے انتظار کے بعد ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔ وہ شخص کون تھا، اس کے کیا نظریات تھے یا وہ کس مقصد کے لیے نکلا تھا اس پر بحث کا وقت اب ختم ہو چکا ہے۔ لیکن اس 14 دن کی تاخیر اور اس کے بعد کی صورتحال نے سیاسی نظام کے اس مکروہ چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے جو عام کارکنوں کو صرف ایندھن کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
جب تک ایک عام ورکر قیادت کے نعروں پر لبیک کہتا ہے، احتجاجوں کی پہلی لائن میں کھڑا ہوتا ہے اور تشدد کی راہ پر نکلتا ہے، تب تک اسے بہادر، غیرت مند اور سپاہی کا لقب دیا جاتا ہے۔ لیڈران اپنی تقریروں سے نوجوانوں کے جذباتی ابال کر فائدہ اٹھاتے ہیں، انہیں ریاست یا مخالفین سے ٹکرانے کے لیے اکساتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی کوئی برا وقت آتا ہے یا خون بہتا ہے، وہی قیادت صفِ اول سے غائب ہو جاتی ہے۔
محمد حسین کے معاملے میں بھی یہی تلخ منظر دیکھنے کو ملا، جن پارٹی مشران کے نعروں پر نوجوان قربان ہوتے ہیں، انہوں نے اس حادثے کے بعد فوری طور پر اپنے ہی کارکن سے لاتعلقی ظاہر کر دی، کچھ رہنماؤں نے اپنی جان اور سیاست بچانے کے لیے اس نوجوان کو ذہنی بیمار تک قرار دے کر پالیسی سے پلہ جھاڑ لیا۔
اللہ بھلا کرے چند ایک کا جنہوں نے کم از کم واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرنے کی تو زحمت کی۔
یہ رویہ بتاتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے لیے کارکن کی حیثیت صرف ایک استعمال ہونے والی شے سے زیادہ کچھ نہیں، جس کا کام صرف بھیڑ بڑھانا ہے، جبکہ اس کے بعد اس کے خاندان کا بوجھ اٹھانا کسی کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہوتا۔

ہم ان تمام گمنام اور باضمیر افراد، مقامی عمائدین اور دردِ دل رکھنے والے ساتھیوں کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جو مشکل کی اس دردناک گھڑی میں متأثرہ خاندان کے ساتھ چٹان کی طرح ڈٹے رہے۔ جن لوگوں نے 14 دنوں تک مسلسل تگ و دو کی، اداروں اور انتظامیہ سے رابطے قائم کیے اور بالآخر اس نوجوان کی میت کو اس کے آبائی گھر تک پہنچا کر تدفین ممکن بنائی.
یہ واقعہ سیاسی کارکنوں اور نوجوانوں کے لیے ایک سبق ہے۔ جب آپ جذبات میں آ کر اپنے مستقبل اور زندگی کو داؤ پر لگاتے ہیں تو یاد رکھیں کہ مشکل وقت میں یہ بڑی گاڑیاں اور ایوان والے لیڈر آپ کا ساتھ نہیں دیں گے. مشکل میں صرف آپ کا خاندان اور وہ چند مخلص باضمیر دوست ہی آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے جو انسان کو نعرہ نہیں، انسان سمجھتے ہیں۔
تحریر: مصباح الدین اتمان

سفید داڑھی، چہرے پر عمر کی جھریوں کا جال اور ہاتھ میں ہتھکڑیاں... پہلی نظر میں یوں لگتا ہے جیسے کوئی مہربان بزرگ اپنی پو...
25/08/2026

سفید داڑھی، چہرے پر عمر کی جھریوں کا جال اور ہاتھ میں ہتھکڑیاں... پہلی نظر میں یوں لگتا ہے جیسے کوئی مہربان بزرگ اپنی پوتی یا نواسی کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھنے آیا ہو۔ لیکن جب حقیقت کی تہہ سے پردہ اٹھتا ہے تو انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے اور ضمیر کانپ جاتا ہے۔ تصویر میں نظر آنے والا یہ ستر سالہ شخص اس پندرہ سالہ معصوم بچی کا دادا نہیں بلکہ اس سے نکاح کرنے پہنچا ہوا وہ ہوس پرست تھا جسے معاشرہ شوہر کا نام دینے جا رہا تھا۔ صوابی کے تھانہ چھوٹا لاہور میں پیش آنے والا یہ واقعہ ہمارے اخلاقی انحطاط، جہالت اور انسانیت کے منہ پر ایک تماچہ ہے۔
سب سے زیادہ دل دہلا دینے والی بات یہ ہے کہ یہ پندرہ سالہ بچی عام بچوں کی طرح اپنی دل کی فریاد بھی کسی کے سامنے پیش نہیں کر سکتی کیونکہ وہ قدرت کی طرف سے سماعت اور گویائی سے محروم ہیں اور اسی بے بسی اور معذوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے اپنے ہی باپ نے چند پیسوں کی لالچ کے عوض میں اس کی زندگی کا سودا کر دیا۔ جس باپ کو اپنی معذور بیٹی کا سہارا بننا چاہیے تھا، اسی نے اس معصوم کو ایک ستر سالہ بوڑھے کے حوالے کی لیکن وہ کیا کہتے ہیں کہ مظلوم کی خاموش آہ عرش کو ہلا دیتی ہے۔ نکاح کی اس مکروہ کوشش کے عین موقع پر کسی ذمہ دار شہری نے ڈرنے یا خاموش رہنے کے بجائے پولیس کو اطلاع دے دی۔ خبر ملتے ہی ایس ایچ او تھانہ چھوٹا لاہور سیف اللہ خان نے فوری طور پر لیڈی کانسٹیبل کے ساتھ پولیس نفری کو موقع پر روانہ کیا اور عین موقع پر چھاپہ مار کر اس غیر قانونی اور ظالمانہ نکاح کو ناکام بنا دیا اور اس بوڑھے ملزم کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔
صوابی پولیس کی یہ بروقت اور تندہی سے کی گئی کارروائی بے حد قابلِ تحسین ہے، کیونکہ اگر چند منٹ کی تاخیر ہو جاتی تو ایک بولنے اور سننے سے قاصر معصوم بچی کی پوری زندگی جہنم بنا دی جاتی۔ اس واقعے نے جہاں پولیس کی کارکردگی اور اطلاع دینے والے شہری کی حسِ ذمہ داری کو سراہنے پر مجبور کیا ہے، وہیں یہ سوال بھی چھوڑ دیا ہے کہ آخر کب تک ہمارے معاشرے میں کمسنی اور معذوری کا یوں سودا ہوتا رہے گا؟ حکومت اور اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ اس ستر سالہ ملزم کے ساتھ ساتھ اس بچی کا سودا کرنے والے بے حس باپ کو بھی قانون کی گرفت میں لا کر عبرتناک سزا دیں تا کہ آئندہ کوئی اپنی اولاد کے مستقبل کو پیسوں کی ہوس کی بھینٹ نہ چڑھا سکے۔

Address

Khyber Pakhtunkhwa

Telephone

+923065676854

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Misbah Ud Din Utmani posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Misbah Ud Din Utmani:

Shortcuts

Share