20/02/2026
*پاکستان کے قانون میں یہ ایک طے شدہ اصول ہے کہ اگر متعدد مدعیان کا مفاد (Interest) ایک ہی ہو اور ان کا کلیم (Claim) مشترکہ ہو، تو ان میں سے کسی ایک کا بیان سب کی نمائندگی کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔ عدالتیں عموماً یہ دیکھتی ہیں کہ کیا بیان دینے والے مدعی کو کیس کے حقائق کا مکمل علم ہے اور کیا اس کا بیان تمام مدعیان کے موقف کی تائید کرتا ہے۔*
آپ جج صاحب کے سامنے درج ذیل قانونی نکات اور ریفرنسز پیش کر سکتے ہیں:
1۔ قانونی بنیاد (Order I Rule 8 CPC)
سی پی سی کا آرڈر 1 رول 8 "نمائندہ دعویٰ" (Representative Suit) کی اجازت دیتا ہے، جہاں ایک یا ایک سے زیادہ افراد مشترکہ مفاد کی صورت میں سب کی طرف سے دعویٰ کر سکتے ہیں یا دفاع کر سکتے ہیں۔ اگر تمام مدعیان کا ایک ہی مقصد ہو، تو ایک کا گواہی دینا قانوناً جائز ہے۔
2۔ اہم کیس لاء (Case Laws)
آپ اپنی بحث میں درج ذیل نظائر کا حوالہ دے سکتے ہیں:
2003 MLD 61: اس میں یہ اصول واضح کیا گیا ہے کہ مدعی کو اپنے کیس کو ثابت کرنے کے لیے خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ اگر ایک مدعی تمام حقائق بیان کر دے جو سب کے لیے مشترک ہیں، تو وہ کافی ہے۔
PLD 1982 Supreme Court 120: سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر تمام فریقین کا مفاد ایک جیسا ہو، تو عدالت کی اجازت سے ایک شخص سب کی نمائندگی کر سکتا ہے۔
1991 CLC 1618 (Lahore): اس کیس میں یہ قرار دیا گیا کہ اگر کسی ایک مدعی نے بیان دے دیا ہے اور اس پر جرح (Cross-examination) ہو چکی ہے، تو محض دوسرے مدعیان کا بیان ریکارڈ نہ ہونا دعویٰ خارج کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔
2015 MLD 222: اس میں یہ طے کیا گیا کہ مدعی اپنے پلیڈنگز (Pleadings) کا پابند ہے۔ اگر ایک مدعی کا بیان پلیڈنگز کے عین مطابق ہے، تو وہ پورے کیس کے لیے کافی شہادت تصور کی جاتی ہے۔