Noor Mohammad Khanzada & Co. Advocates High Court

Noor Mohammad Khanzada & Co. Advocates High Court Advising public on Sale Tax, Income Tax and other taxes and Corporate matters etc.

22/07/2023
23/01/2020

01 فروری 2020 سے درخواست دینے کے لئے 50،000 روپے سے زائد کی خریداری پر کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) کی لازمی ضرورت۔

بدھ کے روز فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ذرائع نے بتایا کہ 50،000 روپے سے زائد کی خریداری پر سی این آئی سی کی شرط 01 فروری 2020 سے لاگو ہوگی۔


انہوں نے مزید کہا کہ ایف بی آر لازمی ضرورت کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرے گا۔

فنانس ایکٹ ، 2019 کے ذریعہ ، یہ لازمی قرار دیا گیا تھا کہ ٹیکس قابل فراہمی کرنے والا رجسٹرڈ فرد اردو یا انگریزی زبان میں ، جیسے مندرجہ ذیل تفصیلات پر مشتمل سامان کی فراہمی کے وقت سیریل نمبر پر ٹیکس انوائس جاری کرے گا ، یعنی:

(الف) فراہم کنندہ کا نام ، پتہ اور رجسٹریشن نمبر؛

(ب) غیر رجسٹرڈ فرد کا نام ، پتہ اور رجسٹریشن ، وصول کنندہ اور این آئی سی یا این ٹی این کی تعداد ، جیسا کہ ہوسکتا ہے ، کسی خوردہ فروش کی طرف سے کی جانے والی فراہمی کو چھوڑ کر جہاں سیلز ٹیکس کی رقم سمیت ٹرانزیکشن ویلیو پچاس ہزار روپے سے تجاوز نہیں کرتی ہے ، اگر کسی عام صارف کو فروخت کی جارہی ہے۔


وضاحت۔ - اس شق کے مقصد کے لئے ، عام صارف کا مطلب ہے وہ شخص جو دوبارہ استعمال یا کارروائی کے مقصد سے نہیں بلکہ اپنے استعمال کے ل the سامان خرید رہا ہے۔

CNIC یا NTN کی حالت 01 اگست 2019 سے لازمی کردی گئی تھی۔

تاہم ، 30 اکتوبر ، 2019 کو ایک معاہدے کے بعد حکومت نے چھوٹے تاجروں کی مخالفت پر ، CNIC کی اطلاق 31 جنوری 2020 تک ملتوی کردی۔

ایف بی آر نے 04 اکتوبر 2019 کو CNIC کی حالت سے متعلق تعریف / قواعد جاری کیے۔

ایف بی آر نے کہا کہ رجسٹرڈ افراد کے ذریعہ رپورٹ کردہ پریشانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ، خریدار کی NTN / NIC کو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے سیکشن 23 کی شرائط کے مطابق رپورٹنگ کرنے کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے خریدار کی مناسب شناخت کو یقینی بنایا جارہا ہے ، ہدایت کی گئی ہے کہ غیر رجسٹرڈ فرد کو قابل ٹیکس فراہمی کے سلسلے میں خریدار کی این آئی سی / این ٹی این کے بارے میں یہ سمجھا جائے گا کہ سپلائی کرنے والے نے نیک نیتی سے اس کی اطلاع دی ہے بشرطیکہ:


(a) ٹیکس انوائس ایکٹ کے سیکشن 23 (b) کی ضروریات کے مطابق ہے۔

(ب) سیلز ٹیکس اور مزید قابل اطلاق ٹیکس انوائس کی غیر رجسٹرڈ خریدار کی طرف سے یا اس کی طرف سے ادائیگی سپلائر کے اعلان کردہ بزنس بینک اکاؤنٹ میں جمع کی جاتی ہے۔

(c) خریدار کے ذریعہ فراہم کردہ این آئی سی قومی ڈیٹا اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ذریعہ توثیق شدہ پائی جاتی ہے۔

(د) فراہم کردہ این آئی سی / این ٹی این فروخت کنندہ کے ملازم یا اس کے ساتھیوں کا نہیں ہوتا ہے جیسا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت بیان کیا گیا ہے۔

کسی خریدار کے ذریعہ فراہم کردہ این آئی سی سے پیدا ہونے والی کسی بھی معاملے کی وجہ سے کسی رجسٹرڈ فرد کو بیچنے والے ہونے کی وجہ سے شوکاز نوٹس جاری کرنا موقع فراہم کرنے کے بعد ممبر (آئی آر - آپریشنز) ، ایف بی آر کی پیشگی منظوری کے بغیر نہیں کیا جائے گا۔ سنا جا.۔

29/10/2019

By Rashid Khanzada Bhai

چیک باونس ہونے پر سزاوں میں اضافے کا بل متفقہ طور پر منظور

21-02-2018

قومی اسمبلی نے چیک باونس ہونے پر سزاوں میں اضافے کا بل متفقہ طور پر منظور کرلیا ہے۔

مجموعہ تعزیرات پاکستان 1860 اور مجموعہ ضابطہ فوجداری 1898میں مزید ترمیم کرنے کا بل (فوجداری قانون ترمیمی بل 2018)(دفعہ 489و)منظوری کیلئے پیش کیا،جسے رائے شماری کے بعد متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

بل کے تحت 10لاکھ یا اس سے کم نوعیت کا چیک باونس ہونے پر 3سال تک قید اور جتنی مالیت کا چیک ہو گااس سے ڈبل جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔

بل کے تحت دس لاکھ سے پچاس لاکھ تک کا چیک باونس ہونے پر پانچ سال تک قید اور جتنی مالیت کا چیک ہو گااس سے ڈبل جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔ اسی طرح 50لاکھ سے ایک کروڑ کا چیک باونس ہونے پر 7سال تک قید اور جتنی مالیت کا چیک ہو گااس سے ڈبل جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی جبکہ ایک کروڑ سے زائد کا چیک باونس ہونے پر 10سال کی سزا اور جتنی مالیت کا چیک ہو گا اوراس سے ڈبل جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی

15/08/2019

Dear Sir/Madam,

You have been approved an income tax refund of Rs. 15,490 / -, the amount will be credited to your account shortly. Please verify your account number 5###XX6755. If this is not correct, please update your bank account information by visiting the link below. https: // bit. ly / 20wp YK6

👆👆👆
Be careful:
This is the new way of bank fraud, don't click on the link in the message. Be careful. Forward this message to all your acquaintances.
* Cybercrime Police *

Absolutely fake. Be very careful.

24/07/2019

*انکم ٹیکس کیا ہے؟*

انک ٹیکس گوشوارے کیا ہیں ؟ اور کیسے جمع کرواۓ جا سکتے ہی؟
اگر کسی کی شخص کی سالانہ آمدنی 400000 سے زائد یا ماہانہ آمدنی 33333 سے زائد ہو تو سرکاری ملازم کی تنخواہ سے انکم ٹیکس خودبخود کاٹ لیا جاتا ہے. ٹیکس کی یہ شرح پچھلے سالوں کے مطابق بتائی گئی ہے اب رواں مالی سال میں یہ شرح تبدیل ہے. پیفرا کی پے سلپ سے چیک کر سکتے ہیں کہ انکم ٹیکس کاٹا جا رہا ہے یا نہیں.
رواں مالی سال یعنی کہ جولائی 2019 تا جون 2020 کے لیے سرکاری ملازم کی سالانہ 600000 یا ماہانہ 50000 سے زائد آمدنی پہ ٹیکس ہو گا. اس سے کم آمدنی پر ٹیکس نہیں ہو گا. یہ بات یاد رکھے ٹیکس آٹو سسٹم کے تحت آپ کی تنخواہ سے کاٹ لیا جاتا ہے اور اسکی وضاحت سلپ پہ موجود ہوتی ہے.

ٹیکس گوشوارہ (E-RETURN) کیا ہوتا ہے؟

آپ کی تنخواہ سے سال بھر میں جو ٹیکس کاٹا گیا اور جتنی کل انکم ہوئی FBR کی سائٹ پہ لاگ ان ہو کر فارم فل کرکے بتانا کہ میری اتنی سالانہ انکم ہوئی اور اتنا ٹیکس کاٹا گیا ہے گوشوارہ یا e-return کہلاتا ہے.
گوشوارہ جمع کروانا اس سال سے شروع نہیں بلکہ یہ پچھلے کئی سالوں سے ہے لیکن اب اس پہ زور دیا جا رہاہے. جب آنلائن گوشوارہ جمع کر دیں گے تو آپ فائلر بن جائیں گے. اگر اپ کی تنخواہ سے انکم ٹیکس کاٹا جا رہا ہے اور آپ fbr کی سائٹ پہ گوشوارہ جمع نہیں کرتے تو آپ فائلر نہیں ہوں گے. ٹیکس دینے کے باوجود اپ نان فائلر کہلاۓ گے.

گوشوارہ (E-Retuen) کیسے جمع کروانا؟؟؟

ٹیکس سال جولائی سے شروع ہوتا ہے اور اگلے سال جون تک ہو تاہے. اب اس سال میں مثال کے طور پہ جولائی 2017 سے جون 2018 تک جتنا ٹیکس اپ کی تنخواہ سے کاٹا گیا تھا. اب آپ نے FBR کی سائٹ پہ جا کر رجسٹریشن کرنی ہے اور پھر لاگ ان ہو کر 2 فارم مکمل کرکے submit کرنے ہو تے ہیں. ان فارم میں( فارم نمبر 1-114 ) پہ اپ نے اپنی کل انکم او ر جتنا ٹیکس اپ کی پے سے چارج ہوا تھا اس کا اندراج کرنا ہے. آپ نے جولائی 2017 سے جون 2018 تک کی تمام پے سلپ سے گراس تنخواہوں کو جمع کر لینا ہے وہ آپ کی کل سالانہ انکم ہو گی. اور جون کی سلپ پہ کل ٹیکس لکھا ہو گا جو کہ اپ کی تنخواہ سے کاٹا گیا تھا.
اس کے بعد فارم 2-116 کھول کر اس میں اپ نے اس سال کے کل اخراجات او ر اثاثے درج کرنے ہیں یہ بھی بتانا ہے کہ آپ کی جتنی سالانہ انکم تھی اس میں سے کتنی آپ کے سیونگ ہے جو سیونگ ہے وہ کیش پڑا ہے یا بینک میں یا اپ نے کوئی گاڑی خرید لی ہے یا آپ نے کسی کو گفٹ کر دی ہے. تمام اندرlج کرنے کے بعد اپ نے فارم سب مٹ کر دینا ہے. پھر فارم 1-114 بھی سب مٹ کر دینا ہے.
جب آپ یہ کام کر لیں تو أپ کا گوشوارہ جمع ہو گیا. یہ گوشوارے ہر سال 30 ستمبر تک جمع کرواۓ جاتے ہیں.

جو نیا نوٹیفکیشن آیا ہے اس میں یہ کہا گیا ہے کہ سال 2017 تا 2018 کے گوشوارے جو کہ اکتوبر 2018 میں جمع کروانے تھے جو لوگ نہیں کروا سکے وہ 2 اگست سے پہلے پہلے جمع کر وا سکتے ہیں.

06/07/2019

بوڑھے والدین اپنی اولاد سے خرچہ لے سکتے ہیں۔ہائی کورٹ۔

اس کیس کی کہانی ایک افسوسناک صورتحال پر مبنی ہے۔اگر آپ نے ہندی فلم باغبان دیکھی ہے تو ویسا ہی ایک حقیقی کیس پاکستان کی عدالتوں میں آیا۔

2012میں سوات کے سول جج(علاقہ قاضی) کی عدالت میں دو بوڑھے میاں بیوی پیش ہوتے ہیں۔دونوں درخواست دیتے ہیں کہ ان کے جوان بچے ان پر ظلم کرتے ہیں،انہیں ان کے اپنے ہی گھر سے باہر نکال دیا ہے۔اس عمر میں وہ کوئی کام کاج بھی نہیں کر سکتے۔رہنے کو چھت اپنی تھی وہ بھی اولاد نے چھین لی۔ان بوڑھے میاں بیوی نے عدالت سے درخواست کی کہ بچوں سے کہیں کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ ہمارے گھر میں رہنے دیں۔ہمیں باہر نہ نکالیں اور ہمیں ماہانہ کچھ خرچہ بھی دیا کریں۔وہ ضلع کے ڈی پی او کو بھی اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کیخلاف درخواست دے چکے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

اس بوڑھے جوڑے کی اولاد کی طلبی ہوئی۔اپنے والدین کو عزت اور تکریم کیساتھ گھر لے جانے کی بجائے ان بچوں نے ان کے خلاف کیس لڑنے کا فیصلہ کیا۔ان بچوں نے پٹواری وغیرہ کو اپنے ساتھ ملا کر اپنے ہی والد کے گھر کا جعلی انتقال نامہ وغیرہ بنوا رکھا تھا جو انہوں نے عدالت میں پیش کیا کہ یہ گھر ان کا ہے،ان کے والدین کا نہیں۔مقدمہ کی سماعت ہوئی۔بچوں نے اس انتقال کو درست ثابت کرنے کیلئے علاقے کے نوٹری پبلک عبدالغفار اور لینڈ ریکارڈ کے عبیداللہ کو اپنے دفاع میں پیش کیا۔یہ دونوں افراد جھوٹے ثابت ہوئے۔عدالت میں جائیداد کے بچوں کے نام منتقل ہونے کا اصلی ریکارڈ نہیں دکھا سکے۔عدالت نے 15ستمبر 2012 کو فیصلہ بوڑھے والدین کے حق میں کر دیا۔

اولاد نے یہاں بس نہیں کیا۔وہ اس فیصلے کیخلاف ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج تھری(اضافی علاقہ قاضی) سوات کی عدالت میں اپیل لے کر چلے گئے کہ نچلی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔اس اپیل عدالت نے بھی 11 جون 2013کو بچوں کی درخواست مسترد کر دی اور فیصلہ بوڑھے والدین کے حق میں برقرار رکھا۔بچے یہاں بھی نہیں رکے۔انہوں نے اس عدالت کے فیصلے کیخلاف پشاور ہائیکورٹ میں پیٹیشن دائر کردی اور بوڑھے والدین کو ہائیکورٹ میں طلب کروالیا۔پشاور ہائیکورٹ میں یہ کیس جسٹس داؤد خان صاحب نے سنا۔ہائیکورٹ نے 2014 میں اس کیس کا فیصلہ سنایا۔نہ صرف بچوں کو بوڑھے والدین کا گھرواپس دینے کا نچلی عدالتوں کا فیصلہ برقرار رکھا۔بلکہ اپنے فیصلے میں یہ حکم بھی دیا کہ بچے ہر ماہ اپنے بوڑھے والدین کو خرچہ بھی دیں گے۔عدالت نے قرار دیا کہ جس طرح بچوں کو پالنا والدین کی ذمہ داری ہے۔اسی طرح والدین جب بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کی دیکھ بھال بچوں کی ذمہ داری ہے۔عدالت نے ایک قانونی نظیر مقرر کر دی کہ بڑھاپے میں والدین اپنی اولاد سے خرچہ لے سکتے ہیں۔

2014 PLD 21.

سعید احمد ایڈووکیٹ ھائیکورٹ
0314-9001117

16/06/2019

*فائلر نان فائلر کا ڈرامہ FBR سے بند کروایا جائے۔*

*شناختی کارڈ نمبر ہی لوگوں کی اصل شناخت اور فائلر I'D ھے*۔

*ٹیکس نمبر الگ جاری کرنے کی FBR کی چال کو ناکام بناکر عوام کیلئے آسانی پیدا کیجئے*۔

*لو گ ہر قسم کے ٹیکس دے رہے ہیں مگر ان کا اندراج کہیں نہیں ھوتا جیسے:*

*Gas Bill,*
*Electric Bill,*
*Mobile Phone Cards*
*Household Purchasing,*
*Petrol/Diesel,/Kerosene,*
*Purchasing of Gadgets,*
*Tickets of all Kinds,*
*Mobile Phones,*
*Books, Stationaries,* *Toothpaste, soap,* *Food items, vehicle tax, tax on eating in hotels, hotel rooms, (people cannot buy and sell any thing without paying taxes)*
etc etc etc etc.....

*پھر یہ لوگوں کے ٹیکس کا پیسہ FBR اپنی اور سیاستدانوں کی عیاشی پر ماورائے اکاؤنٹنٹ جنرل خرچ کیا جاتا ھے۔ لوگوں کا کام ٹیکس دینا ھے اور ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کا کام ٹیکس پیئر کی فائلیں ان کے شناختی کارڈ نمبر کے ساتھ بنانا ھے۔*

*سال بھر جمع کروائے گئے ٹیکسوں کی رسید کو ریٹرن کہتے ہیں جو FBR نے ٹیکس پیئرز کو واپس کرنی ھوتی ھے۔*

*مگر FBR نے پوری قوم کو بیوقوف بنارکھا ھے اور ریٹرن الٹا لوگوں سے مانگ رہا ھے۔*

*لوگوں کو بلیک میل کرنے کے لئے گوشوارہ فارم اتنا مشکل بنایا ھوا ھےکہ کالج کا پروفیسرز اسے فل کرنے سے قاصر ھے اور عوام پیسے دے کر کسی پروفیشنل سے مکمل کرواتی ھے۔*

*لہذا FBR کو تھانیدار بنانے کی بجائے قوم کا خادم بنایا جائے*۔

*گورنمنٹ کیلئے شرم کی بات ھے کہ لوگوں سے لیا گیا سیلز ٹیکس FBR اور کلیکٹرز مل کر کھا جاتے ہیں کیونکہ یہ ٹیکس دینے والے کے نام پر جمع ہی نہیں ھوتا۔*

*لہذا ٹیکس کاٹنے والی دکان، بینک، ھوٹل کو پابند کیا جائے کہ وہ گاہک کے I'D نمبر پر جمع کرے اور پکا بل بنا کر دے جو FBR کی سائیٹ سے لنک ھو۔*

*ازطرف!*
*جمیل چودھری*
*ایڈووکیٹ انکم ٹیکس*

14/06/2019

FBR has issued notices to all police stations to acquire information about rented residential and commercial properties located in Karachi.

The notices have been sent to SHOs under Section 176 of the Income Tax Ordinance, 2001 to provide the information of rented houses and commercial premises.

The FBR asked the SHOs to provide information of rented agreements including address of premises, rental agreement and type of properties such as commercial or residential.

The notices have been sent by BTB Wing of RTO-II Karachi stating that in terms of Section 176 of the Income Tax Ordinance, 2001, the SHOs are required to furnish such information as may be required by the commissioner Inland Revenue or an authorized person relevant to any tax leviable under the Ordinance.

It further said that as per Section 3 of the Sindh Information of Temporary Residents Act, 2015, the property dealer, landlord and tenant, shall, within 48 hours from the time of delivery of possession of the rented property premises to the tenant, provide information about the tenant to the policy through the fastest means of communication.

The RTO-II asked police to provide required information by June 17, 2019. The tax office also warned of imposing penalty for non-compliance.
May contact us for consultation

12/04/2019

New Tax Amnesty Scheme in offing.
Allah O'Hair Kare.

Address

4th Floor, Business Centre, Shahrah/e-Liaquat
Karachi
74200

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Noor Mohammad Khanzada & Co. Advocates High Court posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share