Sahito Asad Advocate & Tax Consultant

Sahito Asad Advocate & Tax Consultant Legal Counsel and Tax Advisor

**📢 چھوٹے دکانداروں کے لیے بڑی خوشخبری – ایف بی آر کا مجوزہ آسان ٹیکس نظام**ایف بی آر نے **SRO 1109(I)/2026** کے ذریعے چ...
15/07/2026

**📢 چھوٹے دکانداروں کے لیے بڑی خوشخبری – ایف بی آر کا مجوزہ آسان ٹیکس نظام**

ایف بی آر نے **SRO 1109(I)/2026** کے ذریعے چھوٹے دکانداروں کے لیے ایک **آسان اور اختیاری (Optional)** ٹیکس نظام کا مسودہ جاری کر دیا ہے، جس پر عوام سے **7 دن کے اندر تجاویز اور اعتراضات** طلب کیے گئے ہیں۔

**اہم نکات:**

✅ سالانہ ٹرن اوور **2 کروڑ نہیں بلکہ 20 کروڑ روپے (PKR 200 Million)** تک کے اہل دکاندار اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

✅ ٹیکس صرف **1% گراس ٹرن اوور** کے حساب سے ہوگا، جبکہ کم از کم **25,000 روپے** ٹیکس ادا کرنا لازمی ہوگا۔

✅ اس اسکیم میں شامل دکانداروں کو عام طور پر **آڈٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا**، سوائے مخصوص معاملات کے۔

✅ **سیکشن 153 کے تحت ودہولڈنگ ٹیکس** کاٹنے کی ذمہ داری نہیں ہوگی، اور **سیکشن 113 کی کم از کم ٹیکس** کی شق بھی لاگو نہیں ہوگی۔

✅ اہل دکانداروں کو **POS یا Digital Invoicing** سسٹم لگانے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔

⚠️ یاد رہے کہ یہ ابھی **صرف مجوزہ (Draft) اسکیم** ہے، حتمی قانون نہیں۔ ایف بی آر تجاویز موصول ہونے کے بعد اس میں تبدیلی کر سکتا ہے۔

Karachi Bar Association Election Result.
11/07/2026

Karachi Bar Association Election Result.

*Welcoming Tax Year 2026–27!**A new fiscal year brings renewed energy, fresh challenges, and countless opportunities to ...
01/07/2026

*Welcoming Tax Year 2026–27!*

*A new fiscal year brings renewed energy, fresh challenges, and countless opportunities to grow and excel. May this year lead to improved compliance, stronger collaborations, and greater success for everyone in the tax and business community.*

*Extending best wishes to all professionals, practitioners, valued clients, and stakeholders for a smooth and prosperous year ahead.*

*Let’s continue playing our part in building a transparent and robust tax culture in Pakistan with team Taxation Accounting and Finance Updates*

*Happy New Tax Year 2026–27!🇵🇰*

ٹیکس ریٹرن اپڈیٹ مکمل پڑھیں *شاید آپ کو گمراہ کیا جا رہا ہے!*30 جون، 25 ہزار روپے، ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ سرچارج اور سوشل ...
30/06/2026

ٹیکس ریٹرن اپڈیٹ مکمل پڑھیں

*شاید آپ کو گمراہ کیا جا رہا ہے!*
30 جون، 25 ہزار روپے، ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ سرچارج اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غلط معلومات، حقیقت کیا ہے؟
گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک ہی قسم کے پیغامات تیزی سے وائرل ہو رہے ہیں۔ کہیں کہا جا رہا ہے کہ "30 جون سے پہلے پہلے ٹیکس ریٹرن فائل کر دیں، ورنہ ایف بی آر اکاؤنٹ سے پیسے نکال لے گا۔" کہیں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ "30 جون کے بعد پہلی بار ریٹرن فائل کرنے والوں کو لازماً 25 ہزار روپے ادا کرنا ہوں گے۔" بعض پوسٹس میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ "30 جون انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی آخری تاریخ ہے۔" ان پیغامات نے ہزاروں افراد کو پریشان کر دیا ہے، لیکن جب قانون اور حقائق کو دیکھا جائے تو تصویر بالکل مختلف نظر آتی ہے۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ 30 جون انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی آخری تاریخ نہیں بلکہ مالی سال کے اختتام کی تاریخ ہے۔ ہر سال مالی سال ختم ہونے کے بعد ایف بی آر نئے ٹیکس سال کی ریٹرنز وصول کرنا شروع کرتا ہے۔ قانون کے مطابق ریٹرن جمع کرانے کی مقررہ مدت عموماً یکم جولائی سے 30 ستمبر تک ہوتی ہے۔ گزشتہ کئی برسوں میں ایف بی آر مختلف انتظامی وجوہات کی بنا پر اس تاریخ میں توسیع بھی کرتا رہا ہے، جس کے باعث متعدد مرتبہ آخری تاریخ اکتوبر تک بڑھائی گئی۔ اس لیے 30 جون کو آخری تاریخ قرار دے کر لوگوں کو خوفزدہ کرنا درست نہیں۔
اصل معاملہ فنانس ایکٹ 2026 میں کی گئی ایک اہم تبدیلی کا ہے، جس کا تعلق ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ سرچارج سے ہے۔ پہلے یہ سرچارج 1,000 روپے تھا، جسے اب بڑھا کر 25,000 روپے کر دیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے اسی ایک تبدیلی کو سیاق و سباق سے ہٹا کر اس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے جیسے 30 جون کے بعد ہر شخص یا ہر نئے فائلر کو لازماً 25 ہزار روپے ادا کرنا ہوں گے۔ حالانکہ قانون ایسا نہیں کہتا۔
سوال یہ ہے کہ ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ سرچارج آخر ہوتا کیا ہے؟
ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ دراصل ایف بی آر کی وہ فہرست ہے جس میں بروقت انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والے افراد اور کاروبار شامل ہوتے ہیں۔ اس فہرست میں شامل افراد کو مختلف مالی معاملات میں کم ودہولڈنگ ٹیکس اور دیگر قانونی سہولیات حاصل ہوتی ہیں، جبکہ اس فہرست سے باہر افراد کو زیادہ شرح سے ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔
ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ سرچارج ایک اضافی فیس ہے جو مخصوص حالات میں ایسے شخص سے وصول کی جاتی ہے جو مقررہ وقت پر ریٹرن جمع نہ کرانے کی وجہ سے اس فہرست سے باہر ہو جائے اور بعد میں دوبارہ اس فہرست میں شامل ہونے کی درخواست کرے۔ فنانس ایکٹ 2026 کے تحت اسی سرچارج کو 1,000 روپے سے بڑھا کر 25,000 روپے کر دیا گیا ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہر نیا فائلر یا 30 جون کے بعد پہلی بار ریٹرن جمع کرانے والا ہر شخص خودکار طور پر 25 ہزار روپے ادا کرے گا۔
اسی طرح یہ دعویٰ بھی درست نہیں کہ 30 جون کو ایف بی آر خود بخود لوگوں کے بینک اکاؤنٹس سے رقم نکال لے گا۔ ایف بی آر کے تمام اختیارات قانون کے تابع ہیں اور کسی بھی کارروائی کے لیے باقاعدہ قانونی طریقۂ کار، نوٹسز اور دیگر تقاضے موجود ہیں۔ صرف سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے پیغامات کی بنیاد پر یہ سمجھ لینا کہ 30 جون کو خودکار کٹوتیاں شروع ہو جائیں گی، حقیقت پر مبنی بات نہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ افراد صرف چند پیسوں کی خاطر عوام میں خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں۔ آدھی ادھوری یا غلط معلومات شیئر کر کے لوگوں کو یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اگر آج ہی ریٹرن فائل نہ کروائی گئی تو بھاری نقصان ہو جائے گا۔ اس خوف کی فضا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دھڑا دھڑ ریٹرنز فائل کی جا رہی ہیں، حالانکہ ایک ذمہ دار ٹیکس مشیر یا پیشہ ور ماہر کا فرض ہے کہ وہ قانون کی درست تشریح کرے، نہ کہ لوگوں کی بے چینی کو کاروبار کا ذریعہ بنائے۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ریٹرن فائل نہ کی جائے۔ اگر آپ قانون کے مطابق انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کے پابند ہیں تو اسے مقررہ وقت پر ضرور جمع کرائیں۔ بروقت ریٹرن جمع کرانے سے آپ ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل رہتے ہیں، کم ودہولڈنگ ٹیکس کی سہولت حاصل کرتے ہیں اور مستقبل میں غیر ضروری سرچارج یا دیگر قانونی پیچیدگیوں سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔
(Copied text )

16/06/2026

Tax Return 2026 Alert.
جیسا کہ آپکو معلوم ہے 30 جون آ رہا ہے اور جولائی کے مہینہ سے 2026 کے گوشوارے جمع ہونے شروع ہو جائیں گے. تو آپ مندرجہ زیل ہدایات پر عمل کرلیں.

1) اپنا بینک بیلنس اپنی ویلتھ سٹیٹمینٹ کے مطابق کر لیں اضافی رقم بینک سے نکلوا لیں. ورنہ اضافی رقم ایڈجسٹمنٹ کرنی مشکل کو جائے گی.
2) 2025-26 سال کے دوران جو پراپرٹی بیچی یاں خریدی ہے اسکا ڈیٹا اکٹھا کر لیں. ایڑریس قیمت مرلے وغیرہ.
3) اپنی سالانہ انکم کیلکولیٹ کر لیں. تنخواہ یاں کاروباری انکم.
4) اپنے سالانہ اخراجات ہیڈ وائیز لکھ لیں.
5) ٹیکس کٹوتیاں سیکشن وائیز لکھ لیں. مثلاً Deduction certificate on electricity bill, mobile bill, bank account, tax deduction on goods sales purchase.

6)اگر کوئی پلاٹ اقساط پر لیا ہوا ہے تو کتنی اقساط ادا ہو گئ کتنی بقایا.
7) اگر کوئی انشورنس پالیسی لی ہوئی ہے تو اسکی تفصیل.
8) اگر کوئی گاڑی لیز پر لی ہوئی ہے تو اسکی اقساط کی تفصیل.
9) اگر سال کے دوران سونا خریدا یاں بیچا ہے تو اسکی تفصیل.
10) اگر بینک سے قرض لیا ہوا اسکی تفصیل.
11) اگر سال کے دوران کوئی گفٹ (پلاٹ، گاڑی) ملا ہو تو اسکا اسٹام پیپر.
12) اگر بیرون ممالک سے Foreign remittance وصول کیے ہیں تو اسکا (FOREIGN REMITENCE CERTIFICA

Copied

فيڊرل بورڊ آف روينيو FBR طرفان Goods Evaluator جي 280 خالي پوسٽن جي ڀرتين لاء اشتھار جاري.. اپلائي ڪرڻ جي آخري تاريخ 02 ...
17/05/2026

فيڊرل بورڊ آف روينيو FBR طرفان Goods Evaluator جي 280 خالي پوسٽن جي ڀرتين لاء اشتھار جاري..
اپلائي ڪرڻ جي آخري تاريخ 02 جون 2026 مقرر..

06/05/2026

پاکستان کے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت کسی بھی ملازم کی قابلِ ٹیکس تنخواہ کا حساب لگانا ایک باقاعدہ اور تفصیلی عمل ہے۔ اس عمل کا آغاز آپ کی بنیادی آمدنی سے ہوتا ہے۔ جب آپ کی قابلِ ٹیکس آمدنی کا تخمینہ لگایا جاتا ہے، تو سب سے پہلے اس میں وہ تمام اجزاء شامل کیے جاتے ہیں جن پر سو فیصد ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔ ان میں آپ کی بنیادی تنخواہ، مہنگائی الاؤنس (Dearness Allowance اور COLA)، بونس، کمیشن، اوور ٹائم اور یوٹیلیٹی بلز (جیسے گیس، پانی اور بجلی) شامل ہیں۔ پرائیویٹ ملازمین کی جانب سے چھٹیوں کے بدلے لی جانے والی رقم (Leave Encashment) بھی مکمل طور پر اسی زمرے میں شمار ہوتی ہے۔
صرف نقد تنخواہ ہی نہیں، بلکہ (Employer) کی طرف سے دی جانے والی دیگر مراعات اور سہولیات کو بھی آپ کی آمدنی کا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ اگر آپ کی کمپنی آپ کو گھریلو ملازمین (مثلاً ڈرائیور یا چوکیدار)، کرائے کے بغیر رہائش، یا دس لاکھ روپے سے زائد کا بلاسود قرض فراہم کرتی ہے، تو قانون کی نظر میں یہ سب قابلِ ٹیکس مراعات ہیں۔ یہاں تک کہ اگر کمپنی آپ کی طرف سے ٹیکس ادا کرتی ہے یا آپ کے ذمے کوئی واجب الادا رقم معاف کر دیتی ہے، تو یہ فوائد بھی آپ کی کل آمدنی میں جمع کر لیے جاتے ہیں۔ اسی طرح ملازمت ختم ہونے پر ملنے والی خصوصی رقوم، جیسے کہ گولڈن ہینڈ شیک، پچھلے سالوں کی تنخواہ کے بقایا جات اور ایمپلائی شیئر آپشنز (ESOS) کو بھی رسید والے سال کی آمدنی میں شامل کر لیا جاتا ہے۔
تاہم، ٹیکس کا یہ نظام صرف آمدنی کو جمع نہیں کرتا، بلکہ کچھ مخصوص شرائط کے تحت رعایتیں (Exemptions) بھی فراہم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، سرکاری پروویڈنٹ فنڈ (GPF) مکمل طور پر ٹیکس سے پاک ہے۔ اگر آپ کسی منظور شدہ پروویڈنٹ فنڈ کا حصہ ہیں، تو کمپنی کی جانب سے جمع کروائی گئی رقم پر تنخواہ کے 10 فیصد یا 150,000 روپے (جو بھی کم ہو) تک چھوٹ دی جاتی ہے۔ میڈیکل الاؤنس کے حوالے سے بھی آپ کو رعایت ملتی ہے؛ اگر کمپنی آپ کو علاج کی کوئی اور سہولت (ہسپتال وغیرہ) نہیں دے رہی، تو آپ کی بنیادی تنخواہ کے 10 فیصد تک کا میڈیکل الاؤنس ٹیکس سے مستثنیٰ ہوتا ہے۔ منظور شدہ گریجویٹی سکیم کے تحت بھی 3 لاکھ روپے تک کی چھوٹ حاصل ہوتی ہے۔
رہائش، گاڑی، پینشن اور قرضوں کے حوالے سے ٹیکس کے قوانین مزید مخصوص ہیں۔ اگر کمپنی آپ کو رہائش دیتی ہے تو اس کی مالیت کو کرائے کی رقم یا بنیادی تنخواہ کے 45 فیصد (جو بھی زیادہ ہو) کے برابر مان کر آمدنی میں شامل کیا جاتا ہے۔ گاڑی اگر دفتری اور ذاتی دونوں کاموں کے لیے استعمال ہو رہی ہے، تو گاڑی کی قیمت کا 5 فیصد، اور اگر صرف ذاتی استعمال کے لیے ہے تو 10 فیصد آپ کی قابلِ ٹیکس آمدنی کا حصہ بنتا ہے۔ دوسری جانب، دس لاکھ روپے سے کم کے قرض پر کوئی ٹیکس نہیں ہوتا، جبکہ دس لاکھ سے زائد قرض پر 10 فیصد بینچ مارک ریٹ سے حساب لگایا جاتا ہے۔ پینشن کے حوالے سے، اگر سالانہ پینشن ایک کروڑ روپے سے کم ہے یا پینشنر کی عمر 70 سال سے زیادہ ہے، تو وہ بھی ٹیکس سے مکمل مستثنیٰ ہوتی ہے۔
ان تمام مراحل کو سمجھنے کے بعد، ٹیکس کے حساب کتاب کا حتمی مرحلہ ایک سیدھے سادے کلیے (Formula) پر مبنی ہے۔ آپ کی تمام تنخواہ، مراعات، اور خصوصی وصولیوں کی مالیت کو آپس میں جمع کیا جاتا ہے، اور پھر اس مجموعی رقم میں سے وہ تمام رعایتیں (Exemptions) تفریق کر دی جاتی ہیں جن کی قانون اجازت دیتا ہے۔ کٹوتی کے بعد بچ جانے والی یہی حتمی رقم دراصل آپ کی 'کل قابلِ ٹیکس تنخواہ' کہلاتی ہے، جس کی بنیاد پر آپ کی حتمی ٹیکس کی ذمہ داری کا تعین ہوتا ہے۔
انفارمیشن اچھی لگے تو لائک ضرور کریں
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں.
Copied text fromTax Partner f.b wall

FBR Notices and Orders with Section
30/04/2026

FBR Notices and Orders with Section

28/04/2026

ایف بی آر کا نوٹس آیا تو سمجھیں معاملہ سنجیدہ ہو چکا ہے…خاموشی اب مہنگی پڑ سکتی ہے

پاکستان میں ٹیکس کا نظام بظاہر سادہ لگتا ہے، مگر جب Federal Board of Revenue (FBR) کی طرف سے نوٹس یا آرڈر آتا ہے تو اکثر لوگ گھبرا جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر سیکشن ایک خاص مقصد کے تحت جاری کیا جاتا ہے، اور اگر آپ اسے صحیح سمجھ لیں تو نہ صرف مسئلہ حل ہو سکتا ہے بلکہ بڑے نقصان سے بھی بچا جا سکتا ہے۔

کہانی عام طور پر وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں کسی فرد یا بزنس نے ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کیا ہوتا۔ ایسے میں سیکشن 114 کے تحت Non-Filer نوٹس جاری ہوتا ہے، جو دراصل ایک وارننگ ہوتی ہے کہ فوراً اپنی ریٹرن فائل کریں۔ اس کے ساتھ ہی سیکشن 116 کا نوٹس آ سکتا ہے جس میں آپ سے آپ کے اثاثوں اور آمدن کی مکمل تفصیل (Wealth Statement) مانگی جاتی ہے۔ اگر آپ ان نوٹسز کو نظرانداز کریں تو پھر معاملہ سخت ہو جاتا ہے، اور سیکشن 121 کے تحت Best Judgment Assessment جاری ہو جاتا ہے، جہاں FBR خود اندازے سے ٹیکس لگا دیتا ہے—جو اکثر زیادہ ہوتا ہے۔

دوسری طرف، اگر آپ نے ریٹرن فائل کر دی ہو اور وہ بغیر اعتراض کے قبول ہو جائے تو سیکشن 120 کے تحت Deemed Assessment بن جاتا ہے، جو ایک مثبت صورتحال ہے۔ لیکن اگر بعد میں کوئی غلطی، فرق یا مشکوک ٹرانزیکشن سامنے آ جائے تو سیکشن 122 کے تحت Amendment نوٹس آتا ہے، جس میں آپ کو وضاحت اور ثبوت دینا ہوتا ہے۔ اگر آپ کی وضاحت تسلی بخش نہ ہو تو سیکشن 122B کے تحت اسی آرڈر کی تصدیق کر دی جاتی ہے، جس کے بعد اپیل کا راستہ رہ جاتا ہے۔

مزید پیچیدگی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب FBR آپ سے ریکارڈ طلب کرے۔ سیکشن 176 کے تحت بینک اسٹیٹمنٹس، بزنس ریکارڈ اور دیگر دستاویزات مانگی جاتی ہیں، جبکہ سیکشن 177 کے تحت Audit Notice جاری ہو سکتا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ آپ کا کیس تفصیل سے جانچا جائے گا۔ اگر اس دوران کوئی خلاف ورزی سامنے آئے تو سیکشن 182 کے تحت Penalty اور سیکشن 205 کے تحت Default Surcharge بھی لگ سکتا ہے، جو مالی بوجھ کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

اگر بات ادائیگی تک پہنچ جائے تو سیکشن 137 اور 138 کے تحت باقاعدہ ٹیکس ڈیمانڈ اور ادائیگی کا نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر پھر بھی ادائیگی نہ کی جائے تو سیکشن 140 کے تحت بینک اکاؤنٹ اٹیچ ہو سکتا ہے، اور سیکشن 146 کے تحت قانونی کارروائی شروع ہو جاتی ہے، جو انتہائی سنجیدہ مرحلہ ہوتا ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ FBR کے نوٹسز کو نظرانداز کرنا سب سے بڑی غلطی ہے۔ بروقت جواب دینا، مکمل ریکارڈ رکھنا اور قانونی حق کو سمجھنا نہ صرف آپ کو جرمانوں سے بچاتا ہے بلکہ آپ کو ایک ذمہ دار ٹیکس دہندہ بھی بناتا ہے۔
انفارمیشن اچھی لگے تو لائک ضرور کریں
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں.

28/04/2026

اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں تقریباً 350 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات متعارف کرانے کی تیاری شروع کر دی ہے تاکہ ریونیو میں اضافہ کیا جا سکے اور مالیاتی خسارہ کم کیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق یہ اقدامات زیادہ تر ایسے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے پر مرکوز ہوں گے جو اب تک کم یا بالکل ٹیکس نہیں دے رہے، خصوصاً ڈیجیٹل معیشت، جائیداد اور غیر دستاویزی کاروبار۔

رپورٹ کے مطابق بجٹ میں ممکنہ طور پر درج ذیل اہم اقدامات شامل ہو سکتے ہیں:

ڈیجیٹل سروسز ٹیکس:
آن لائن پلیٹ فارمز، ایپس اور اسٹریمنگ سروسز پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز۔

اضافی رہائشی جائیداد پر ٹیکس:
دوسری یا سرمایہ کاری والی پراپرٹی پر نیا ٹیکس
فنانشل ٹرانزیکشن ٹیکس (FTT): اسٹاک، ڈیجیٹل اثاثوں اور دیگر لین دین پر ٹیکس

کارپوریٹ اشتہارات پر لیوی:
بڑی کمپنیوں کے اشتہاری اخراجات پر ٹیکس
گرین اور ماحولیاتی ٹیکسز: صنعتی آلودگی، کاربن اخراج اور ویسٹ مینجمنٹ پر نئی لیویز۔

چھوٹے کاروبار کے لیے سادہ ٹیکس نظام:
مائیکرو ٹریڈرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے آسان اسکیم

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد نہ صرف ریونیو بڑھانا ہے بلکہ معیشت کو دستاویزی شکل دینا اور نئے شعبوں کو ٹیکس دائرے میں لانا بھی ہے۔

دوسری جانب حکومت کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کو کچھ ریلیف دینے اور سپر ٹیکس میں بتدریج کمی جیسے اقدامات بھی زیر غور ہیں تاکہ ٹیکس بوجھ کو متوازن رکھا جا سکے۔

Address

S-49 2nd Floor Glass Tower Near Teen Talwar Clifton Karachi
Karachi
75600

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sahito Asad Advocate & Tax Consultant posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share