Seelro & Co Law Associates

Seelro & Co Law Associates Lawyers are operators of toll bridges which anyone in search of justice must pass.

20/04/2026

𝐌𝐀𝐆𝐈𝐒𝐓𝐑𝐀𝐓𝐄 𝐓𝐑𝐈𝐀𝐋

241-A:- Supply of documents on Magistrate Trial.
242:- Framing of charge.
243:- Conviction on pleading guilty.
244:- Recording of evidence in case the accused plead not guilty.
245 (1):- Acquittal of an accused after evidence.
245 (2):- Conviction of an accused after evidence.
245-A:- Previous conviction of an accused shall be added to the sentence.
246:- Omitted.
247:- Non-appearance of the complainant:- The Magistrate shall acquit the accused unless for reasons adjourning the matter.
248:- Withdrawal of complaint:- If complainant before a final order is passed in any case satisfy the Magistrate that there are sufficient grounds for permitting him to withdraw his complaint, the Magistrate may permit him to withdraw the same and thereupon acquit the accused.
249:- Power to stop proceeding when complainant.
249-A:- Power of Magistrate to acquit accused at any stage.
250:- False, Frivolous, or vexatious accusation.
250-A:- Special summons i.e petty offence.

Note:-
1. Dismissal of an application U/s 249 is not Appealable but a criminal Revision application U/s 439-A.
2. Acquittal U/s 249-A is Appealable U/s 417 before Honourable High Court.

𝐒𝐄𝐒𝐒𝐈𝐎𝐍𝐒 𝐓𝐑𝐈𝐀𝐋

265-C:- Supply of statement and documents to accused.
265-D:- When a charge is to be framed.
265-E:- Plead guilty, if so, would be convicted.
265-F:- Evidence for prosecution.
265-G:- Summoning up to prosecutor and defence.
265-H:- Acquittal or conviction.
265-I:- Procedure in case of previous conviction.
265-J:- Statement U/s 164 Cr.P.C admissible.
265-K:- Power of Court to acquit accused at any stage.
265-L:- Power of Government to stay prosecution.

18/04/2026

پاکستان میں رائج کرسچن میرج ایکٹ دراصل ایک تاریخی اور قانونی قانون ہے جسے Christian Marriage Act 1872 کہا جاتا ہے۔ یہ قانون برطانوی دور میں بنایا گیا تھا اور آج بھی (چند ترامیم کے ساتھ) پاکستان میں عیسائی شادیوں کو regulate کرتا ہے۔ ذیل میں اس کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے:

1. تعارف (Introduction)
یہ ایکٹ 1872 میں نافذ ہوا جس کا مقصد:
عیسائیوں کی شادی کو قانونی شکل دینا
شادی کے طریقہ کار، رجسٹریشن اور شرائط کو منظم کرنا
فریقین کے حقوق کا تحفظ کرنا
یہ قانون پورے پاکستان میں لاگو ہے اور عیسائی مذہب کے ماننے والوں کی شادیوں پر لاگو ہوتا ہے

2. بنیادی شرائط (Basic Conditions)
اس ایکٹ کے تحت شادی کے لیے اہم شرائط درج ذیل ہیں:
✔️ (1) مذہب
دونوں فریقین کا عیسائی ہونا ضروری ہے
اگر ایک فریق مسلمان ہو تو پھر شادی اسلامی قانون کے تحت ہوگی
✔️ (2) رضامندی
مرد اور عورت دونوں کی آزادانہ رضامندی ضروری ہے
زبردستی یا دباؤ کے تحت شادی غیر قانونی ہو سکتی ہے
✔️ (3) عمر (Age Limit)

پرانا قانون:
لڑکی: 13 سال
لڑکا: 16 سال

نیا قانون (2024 ترمیم):

دونوں کے لیے کم از کم عمر: 18 سال
👉 یہ ترمیم بچوں کی شادی روکنے کے لیے کی گئی
⛪ 3. شادی کا طریقہ (Solemnization of Marriage)
اس ایکٹ کے مطابق شادی درج ذیل طریقوں سے ہو سکتی ہے:
✔️ (1) چرچ میں شادی
کسی لائسنس یافتہ پادری (Priest) کے ذریعے
عام طور پر چرچ میں ہوتی ہے
✔️ (2) رجسٹرار کے سامنے

حکومت کے مقرر کردہ Marriage Registrar کے سامنے
✔️ (3) نوٹس کی شرط
شادی سے پہلے نوٹس دینا ہوتا ہے (عام طور پر 14 دن)

4. گواہان (Witnesses)
کم از کم دو گواہان کا ہونا ضروری ہے
گواہان کی موجودگی میں نکاح (Marriage Ceremony) مکمل ہوتا ہے

5. رجسٹریشن (Registration of Marriage)
شادی کے بعد رجسٹر میں اندراج لازمی ہے
سرٹیفیکیٹ جاری کیا جاتا ہے جو قانونی ثبوت ہوتا ہے
اب یونین کونسل اور NADRA میں بھی رجسٹریشن ممکن ہے

6. ممنوعہ شادیاں (Prohibited Marriages)
قریبی رشتہ داروں میں شادی ممنوع ہے
پہلے سے شادی شدہ شخص دوسری شادی نہیں کر سکتا

اگر کوئی شخص پہلی بیوی/شوہر کے ہوتے ہوئے شادی کرے تو:
یہ جرم (Bigamy) ہے

پاکستان پینل کوڈ کے تحت سزا ہو سکتی ہے

7. طلاق اور دوبارہ شادی
یہ ایکٹ طلاق کا مکمل قانون نہیں دیتا
طلاق کے لیے الگ قانون ہے: Divorce Act 1869
طلاق کے بعد ہی دوسری شادی کی اجازت ہوتی ہے

8. اہم ترامیم (Recent Amendments)
2024 کی بڑی تبدیلی:
شادی کی عمر 18 سال مقرر کی گئی
نابالغ شادیوں کے مسائل کو کم کرنے کی کوشش کی گئی

9. عملی مسائل (Practical Issues)
پاکستان میں اس قانون سے متعلق کچھ چیلنجز بھی رہے ہیں:
پہلے کم عمر شادی کی اجازت (13 سال)
جبری تبدیلی مذہب اور شادیاں
رجسٹریشن کا نظام مکمل طور پر فعال نہ ہونا

10. خلاصہ (Summary)
Christian Marriage Act 1872 کے تحت:
شادی صرف عیسائیوں کے درمیان ہوتی ہے
رضامندی، گواہان اور رجسٹریشن ضروری ہیں
اب کم از کم عمر 18 سال ہے
دوسری شادی پہلی کے ختم ہونے کے بغیر غیر قانونی ہے۔

بھارت کو پاکستان کیوں چڑھ گیا ہے؟اسی ہفتے بھارت کے انگریزی اخبار دی ٹریبیون چنڈی گڑھ میں ایک دلچسپ کالم شائع ہوا۔ لکھنے ...
16/04/2026

بھارت کو پاکستان کیوں چڑھ گیا ہے؟

اسی ہفتے بھارت کے انگریزی اخبار دی ٹریبیون چنڈی گڑھ میں ایک دلچسپ کالم شائع ہوا۔ لکھنے والی جیوتی ملہوترا ہیں جو بھارتی سفارتی صحافت میں ایک جانا پہچانا نام ہیں۔ کالم کا عنوان تھا "India's obsession with Pakistan" -- بھارت کے سر پر پاکستان کا جنون کیوں سوار ہے؟ عنوان ہی اتنا دلچسپ تھا کہ میں نے فوراً پڑھا۔

دراصل جیوتی ملہوترا کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت اپنی جسامت سے بہت اونچے مکے مار رہا ہے اور بھارت اپنی طاقت سے بہت نیچے۔ وہ لکھتی ہیں کہ پرانے دنوں میں جب عام بھارتی اور پاکستانی ایک دوسرے سے مل سکتے تھے، لاہور میں لنچ، پٹیالہ میں ڈنر، کراچی میں شادیاں، قادیان میں جنازے، تب پاکستانی اکثر چین اور پاکستان کے تعلقات پر فخر سے بات کرتے تھے۔ "ہمالیہ سے اونچی، سمندر سے گہری" دوستی کا ذکر ہوتا تھا۔ آج کی دنیا میں یہ جملہ فلم دھرندھر تھری کے ڈائیلاگ جیسا لگتا ہے مگر اس کے پیچھے ایک بہت گہری حقیقت ہے۔

ملہوترا لکھتی ہیں کہ سیرینا ہوٹل میں صرف تین ملک نمائندگی کر رہے ہیں -- امریکہ، ایران اور پاکستان۔ مگر اس کمرے کے باہر کئی اور بھی ہیں جو سائے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں -- چین، روس، اسرائیل، لبنان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات۔ ملہوترا پوچھتی ہیں کہ چین اس کمرے میں نہیں ہے مگر کمرے کے باہر سے طاقت کا کھیل کھیل رہا ہے۔ چین نے پاکستان کو دہائیوں سے سہارا دیا ہے -- سڑکیں، بندرگاہیں، فضائیہ، ایٹمی اور میزائل پروگرام۔ پاکستانی خود مانتے ہیں -- آف دی ریکارڈ، ایف سکس ریسٹورنٹ میں کافی پیتے ہوئے -- کہ چین ان کے "آل ویدر فرینڈ" ہیں اور وہ اس کی 'کلائنٹ ریاست' ہیں۔ مگر چین یہ ثالثی کا کردار خود نہیں ادا کر سکتا تھا اگر پاکستان کے تمام فریقوں سے تعلقات نہ ہوتے۔

اس کے بعد ملہوترا ایک بہت اہم بات کہتی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پاکستان کو "دلال" کہا تھا -- یعنی بروکر یا بیچولیا۔ مگر ملہوترا کہتی ہیں کہ یہ لفظ پاکستان کی حیثیت بیان کرنے کی بجائے بھارت کی بے بسی ظاہر کرتا ہے۔ آخر بھارت اتنا طاقتور ملک، ایٹمی ہتھیاروں والا، دنیا کی پانچویں بڑی معیشت -- اسکے سر پر پاکستان سے اتنا جنون کیوں سوار ہے کہ بھارت کے سینما گھروں میں دھرندھر ٹو ایک ہزار کروڑ کما رہی ہے.

ملہوترا کہتی ہیں کہ بھارت کے لیے پہلا سبق یہ کہ عاجزی اختیار کرو، تکبر مت کرو۔ وہ دینگ ژیاؤ پنگ کا مشہور چوبیس حرفی اصول نقل کرتی ہیں -- "تاؤ گوانگ یانگ ہوئی" -- یعنی اپنی طاقت چھپاؤ اور وقت کا انتظار کرو۔ صرف امریکہ اور اسرائیل نہیں جنہیں ایک کمزور ایران کے سامنے جھکنا پڑا -- جے شنکر بھی متحدہ عرب امارات میں ہیں اسی دن جب پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ بھارت نے ایک اہم سبق سیکھا ہے -- چین کا کڑوا گھونٹ پی کر بڑی تصویر دیکھنا۔ 2020 میں لداخ میں بیس بھارتی فوجی مارے گئے مگر بھارت چین سے تجارت کرتا رہا کیونکہ وہ اس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ مگر پھر ملہوترا ایک بڑا سوال اٹھاتی ہیں -- بھارت اپنی طاقت سے نیچے کیوں مکے مار رہا ہے؟ خاص طور پر جب اس کا اصل حریف چین ہے، تو وہ پاکستان میں اتنا الجھا کیوں ہے؟ بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے خود اپنے ہاتھ باندھ رکھے ہیں -- نہ سفارتی تعلقات، نہ تجارت، نہ کرکٹ۔ پاکستان سے نفرت کو ایک پالیسی بنا دیا گیا ہے مگر اس پالیسی سے بھارت کو کیا ملا؟ چین کا پاکستان میں اثر بڑھتا گیا اور بھارت میز سے غائب رہا۔

ہمارے ہاں لوگ یہ بات نہیں سمجھتے کہ بھارتی میڈیا میں پاکستان کا ذکر کتنا ہوتا ہے۔ ہر نیوز چینل پر، ہر بحث میں، ہر پینل ڈسکشن میں پاکستان۔ یہ جنون کی طرح ہمارے سروں پر سوار ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے اپنی تمام تر مشکلات، معاشی بحران، سیاسی عدم استحکام کے باوجود ایک ایسی سفارتی جگہ بنا لی ہے جو بھارت کے پاس نہیں ہے۔ پاکستان ایران سے بھی بات کر سکتا ہے، امریکہ سے بھی، سعودی عرب سے بھی، چین سے بھی۔ اس کی فوج کے سربراہ کو ٹرمپ "اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل" کہتے ہیں اور ایرانی آئی آر جی سی کی قیادت سے بھی ان کے تعلقات ہیں کیونکہ وہ ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ یہ وہ پوزیشن ہے جو بھارت کے پاس نہیں ہے اور جس کا نہ ہونا اسے تکلیف دے رہا ہے۔

اب تازہ ترین صورتحال دیکھیں۔ اسلام آباد مذاکرات ناکام رہے مگر ناکامی میں بھی کامیابی چھپی ہے۔ دونوں فریقوں نے پاکستان کی ثالثی کو سراہا۔ ایرانی سفیر نے کہا کہ "اسلام آباد مذاکرات نے ایک سفارتی عمل کی بنیاد رکھی۔" امریکی حکام نے بھی تسلیم کیا کہ دونوں فریق ایک MoU سے صرف چند انچ دور تھے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لکھا کہ "ہم اسلام آباد ایم او یو سے انچوں کی دوری پر تھے۔" پاکستان نے فوراً اگلا قدم اٹھایا -- خبریں ہیں کہ امریکی اور ایرانی ٹیمیں اس ہفتے پھر اسلام آباد آ رہی ہیں اور صدر ٹرمپ کے دورے کی بازگشت ہے۔ پاکستانی حکام اسے "اسلام آباد پراسیس" کا نام دے رہے ہیں -- یعنی یہ ایک بار کی کوشش نہیں، ایک مسلسل سفارتی ٹریک ہے۔

پاکستان میں آنے والی دنیا کا منظرنامہ بن رہا ہے مگر پوری تصویر میں بھارت کہاں ہے؟ جے شنکر ابوظہبی میں ہیں۔ بھارتی میڈیا الجھا ہوا ہے کہ پاکستان کو کیا کہا جائے -- طاقتور ثالث، غیر متعلق پیام بر، بیک روم بوائے، یا صرف ایک کمزور ملک جو کنارے پر کھڑا ہے؟ ملہوترا کہتی ہیں کہ شاید یہ سب ہے اور شاید کچھ بھی نہیں۔ مگر ایک بات یقینی ہے -- پاکستان نے وہ کام کیا ہے جو بھارت نہیں کر سکا۔

میں خود بھی حیران ہوں -- ایک ملک جہاں پیٹرول ساڑھے چار سو روپے لیٹر ہو چکا ہے، جہاں مہنگائی سے لوگ پریشان ہیں، جہاں سیاسی بحران ہے -- وہی ملک عالمی امن کی ثالثی کر رہا ہے۔ یہ پاکستان کی خوبی بھی ہے اور عجیب بات بھی۔

خیر، ملہوترا کا کالم پڑھ کر ایک بات ذہن میں آئی۔ بھارتی صحافی جب یہ لکھتی ہیں کہ بھارت کو پاکستان کا جنون ہے تو یہ خود ایک بڑا اعتراف ہے۔ ہمارے ہاں بھی بھارت کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جاتا ہے مگر وہ ایک مختلف قسم کی بات ہے۔ پاکستان بھارت سے خطرہ محسوس کرتا ہے کیونکہ بھارت بڑا ہے۔ مگر بھارت پاکستان سے کیوں اتنا پریشان ہے جبکہ وہ آٹھ گنا بڑا ہے؟ ملہوترا کا جواب صاف ہے -- کیونکہ پاکستان نے ایسے تعلقات بنائے ہیں جو اسے اپنی جسامت سے بہت بڑا بنا دیتے ہیں۔ چین، سعودی عرب، ترکیہ، امریکہ، مصر، ان سب کے ساتھ بیک وقت تعلقات رکھنا ایک فن ہے اور اس فن میں پاکستان ماہر ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا بھارت کبھی اس جنون سے باہر نکل پائے گا؟ اور کیا پاکستان اپنے شاندار سفارتی سرمائے کو اپنے عوام کی بہتری میں بھی لگا پائے گا؟ دونوں سوال اہم ہیں مگر دونوں کا جواب ابھی کسی کے پاس نہیں ہے.

عارف انیس

Complete Judgement in Murder Trial: 310 of 2020 (Um-e-Rabab Case)ام رباب  کیس کا تفصیلی فیصلہ
30/03/2026

Complete Judgement in Murder Trial: 310 of 2020 (Um-e-Rabab Case)
ام رباب کیس کا تفصیلی فیصلہ

خلع (Khula) کی وضاحت — پاکستانی قانون کے مطابقخلع اسلامی اور پاکستانی قانون میں عورت کا وہ قانونی حق ہے جس کے ذریعے وہ ع...
13/03/2026

خلع (Khula) کی وضاحت — پاکستانی قانون کے مطابق

خلع اسلامی اور پاکستانی قانون میں عورت کا وہ قانونی حق ہے جس کے ذریعے وہ عدالت کے ذریعے اپنے شوہر سے علیحدگی حاصل کر سکتی ہے جب اس کے لیے ازدواجی زندگی جاری رکھنا ممکن نہ رہے۔

خلع کیا ہے؟

خلع وہ عمل ہے جس میں بیوی عدالت سے درخواست دے کر نکاح ختم کرواتی ہے۔ عموماً اس صورت میں بیوی حقِ مہر (Haq-e-Mehr) واپس کرنے پر آمادہ ہوتی ہے یا عدالت مناسب معاوضہ مقرر کر سکتی ہے۔

پاکستانی قانون میں خلع کی بنیاد

پاکستان میں خلع کا معاملہ بنیادی طور پر ان قوانین کے تحت دیکھا جاتا ہے:

Muslim Family Laws Ordinance, 1961

Family Courts Act, 1964

خلع لینے کی عام وجوہات

اگر بیوی کے لیے شوہر کے ساتھ رہنا ممکن نہ رہے تو وہ خلع کی درخواست دے سکتی ہے، مثلاً:

شوہر کا بدسلوکی یا تشدد کرنا

شوہر کی طرف سے خرچ نہ دینا

مستقل جھگڑے یا ناچاقی

بیوی کا شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے سے شدید نفرت محسوس کرنا

شوہر کا لاپتہ ہو جانا یا ذمہ داریاں پوری نہ کرنا

خلع کا قانونی طریقہ کار

1. بیوی فیملی کورٹ میں خلع کی درخواست (Suit for Khula) دائر کرتی ہے۔

2. عدالت شوہر کو نوٹس جاری کرتی ہے۔

3. عدالت دونوں فریقوں کو صلح کی کوشش کے لیے موقع دیتی ہے۔

4. اگر صلح ممکن نہ ہو تو عدالت خلع کی ڈگری (Decree of Khula) جاری کر دیتی ہے۔

خلع کے بعد کے حقوق

بیوی کو عدت پوری کرنا ہوتی ہے۔

عموماً حقِ مہر واپس کرنا پڑتا ہے (اگر عدالت حکم دے)۔

بچوں کی کسٹڈی (Custody) عدالت بچوں کے مفاد کے مطابق طے کرتی ہے۔

نان نفقہ اور دیگر معاملات بھی عدالت کے ذریعے طے ہو سکتے ہیں۔

✅ مختصر طور پر:
خلع ایک قانونی اور شرعی طریقہ ہے جس کے ذریعے عورت عدالت کے ذریعے اپنی شادی ختم کروا سکتی ہے جب ازدواجی زندگی جاری رکھنا ممکن نہ رہے.

On this Women’s Day, we celebrate the strength, dedication, and achievements of women in every profession. Your courage ...
08/03/2026

On this Women’s Day, we celebrate the strength, dedication, and achievements of women in every profession. Your courage and determination continue to inspire the world.🌸

16/02/2026
کم عمری کی شادی کی ممانعت کا انتہائی سخت قانون 11 فروری 2026 سے پنجاب بھر میں نافذالعمل۔شادی کیلئے لڑکے اور لڑکی کی کم ا...
12/02/2026

کم عمری کی شادی کی ممانعت کا انتہائی سخت قانون 11 فروری 2026 سے پنجاب بھر میں نافذالعمل۔
شادی کیلئے لڑکے اور لڑکی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر۔
خلاف ورزی پر انتہائی سخت سزائیں (لمبے عرصہ کیلئے قید با مشقت اور بھاری جرمانے) مقرر۔
کم عمری کی شادی قابل دست اندازی پولیس اور ناقابل ضمانت جرم قرار۔
صرف سیشن کورٹ کو ہی مقدمہ کی سماعت کا اختیار.

PUNJAB CHILD MARRIAGE RESTRAINT ORDINANCE 2026

Happy Birthday to Adv. Saifullah Magsi! ⚖️ May Allah bless you with long life, strong health, and great success in both ...
12/02/2026

Happy Birthday to Adv. Saifullah Magsi! ⚖️ May Allah bless you with long life, strong health, and great success in both your personal and professional journey. You are not just a friend but a true brother who stands firm in every situation, whether in court or in life, and I am truly grateful to have you by my side. May your knowledge continue to grow, your arguments become stronger, and may you achieve remarkable heights in the legal profession with honor and victory in every case you handle. May this new year of your life bring prosperity, happiness, and countless achievements. Stay blessed and keep shining, my brother! 🎂❤

Address

Khaliq-Uz-Zaman Road, Block 8 Frere Town City, Sindh
Karachi

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 09:00 - 19:00
Thursday 09:00 - 19:00
Friday 09:00 - 19:00
Saturday 09:00 - 19:00

Telephone

+923013530007

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Seelro & Co Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Seelro & Co Law Associates:

Shortcuts

Share