SS & Associates

SS & Associates SS & Associates provides a range of legal services with the highest level of professionalism.

04/03/2024
Saba Khan, an Advocate High Court, stresses the importance of women's legal empowerment in Pakistan. She outlines severa...
04/03/2024

Saba Khan, an Advocate High Court, stresses the importance of women's legal empowerment in Pakistan. She outlines several legal rights available to women, including the Nikahnama, Domestic Violence Act, and Protection against Harassment of Women at Workplace Act. Despite legal protections, women still suffer from violence and harassment. Saba urges women to take proactive action and approach legal practitioners for assistance. She acknowledges the role of governmental and non-governmental organizations in mobilizing women towards legal empowerment.

The Provisions for the consumer protection against the seller's liability for defective products and unsatisfied service...
04/12/2023

The Provisions for the consumer protection against the seller's liability for defective products and unsatisfied services under Section 4 that states

The manufacturer of a product shall be liable to a consumer for damages proximately caused by, a characteristic of the product and services.

We are delighted to assist our client in order to take justice from Hon'ble Counsumer Protection Court by saving the rights of consumer..

The remedy enshrined under Order 7 Rule 11 CPC is an independent and special remedy which enables the court to summarily...
04/12/2023

The remedy enshrined under Order 7 Rule 11 CPC is an independent and special remedy which enables the court to summarily reject a suit at the very beginning, without proceeding to record the evidence or conduct a trial, if it is against the set grounds.

Being a counsel of defendant's side we have applied for rejection of plaint at very earliest stage of case in order to save precious time of Hon'ble Court.
the plaint has been rejected in favor of our Client.

We are pleased to announce that the custody of Minor has been handed over to her mother, despite the allegations leveled...
08/11/2023

We are pleased to announce that the custody of Minor has been handed over to her mother, despite the allegations leveled upon the mother from her husband, the Hon'ble Court saved the right of Hizanat and legally handed over the custody of minor to mother..

28/10/2023

جسٹس مظاہر نقوی کو شوکاز نوٹس جاری: سپریم جوڈیشل کونسل ججز کے خلاف کارروائی کیسے کرتی ہے؟
بی بی سی اردو

سپریم جوڈیشل کونسل نے تین دو کی اکثریت سے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر نقوی کو ناجائز اثاثہ جات کیس میں شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے 10 نومبر تک جواب طلب کر لیا ہے۔

یہ شوکاز نوٹس پاکستان بار کونسل، صوبائی بار کونسلز اور وکیل میاں داؤد ایڈووکیٹ کی طرف سے سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کروائی گئی 10 شکایات کی روشنی میں جاری کیا گیا۔ یہ شکایات جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے آمدن سے زائد اثاثے بنانے اور ذاتی مفاد کے لیے اپنے اختیارت استعمال کرنے کے الزامات کے بارے میں تھیں۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی سپریم جوڈیشل کونسل نے جمعے کے روز اپنے اجلاس میں ان شکایات کا جائزہ لیا جس کی روشنی میں جسٹس مظاہر اکبر نقوی کو شو کاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے سینیئر جج سردار طارق مسعود کے خلاف شکایت کنندہ آمنہ ملک نے درخواست دی تھی جس پر غور کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ آمنہ ملک کو کونسل کے اگلے اجلاس میں طلب کیا جائے اور ان سے کہا جائے کہ وہ اپنی شکایت کے حوالے سے مزید مواد فراہم کریں جو کہ جسٹس سردار طارق مسعود کو فراہم کیا جائے گا تاکہ اگر وہ چاہییں تو اس پر اپنا جواب دے سکیں۔

جسٹس مظاہر اکبر نقوی پر الزام کیا ہے؟
سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف جمع کروائی گئی شکایات میں ان جائیدادوں کی تفصیلات بھی بتائی گئی ہیں جو انھوں نے مبینہ طور پر اپنی سروس کے دوران بنائی ہیں۔

میاں داؤد ایڈووکیٹ کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کروائی گئی درخواست کے ساتھ جسٹس مظاہر اکبر نقوی، ان کے بیٹوں کے نام ’مشکوک انداز میں‘ خریدی گئی جائیدادوں کی دستاویزات منسلک ہیں۔

اس شکایت میں جسٹس مظاہر اکبر نقوی کی بیٹی کو برطانوی بینک اکاؤنٹ میں بھیجے گئے پاؤنڈز کی رسید بھی منسلک ہے۔

شکایت کے ساتھ منسلک دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے 2021 میں گلبرگ لاہور میں 2 کنال 4 مرلے کا پلاٹ 4 کروڑ 44 لاکھ میں خریدا جبکہ اسے 7 کروڑ 20 لاکھ کا ڈکلیئر کیا گیا۔

ان دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے یہ پلاٹ 2022 میں 13 کروڑ میں اپنے مبینہ فرنٹ مین محمد صفدر کو فروخت کر دیا اور بعد ازاں اسے 4 کروڑ 96 لاکھ روپے کا ڈکلیئر کیا۔

ان دستاویزات میں مزید کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر نقوی نے سینٹ جونز پارک کینٹ میں 65 کروڑ مارکیٹ ویلیو والا 4 کنال کا پلاٹ 10 کروڑ 70 لاکھ روپے میں خریدا۔ ان دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مذکورہ جج نے اپنے مبینہ فرنٹ مین کی مدد سے ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کنال کا پلاٹ صرف پانچ لاکھ روپے میں دلوایا جبکہ مارکیٹ میں اس پلاٹ کی قیمت اس وقت بیس لاکھ روپے سے زیادہ تھی۔

ان دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے دو بیٹوں کو ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں کمرشل پلاٹ محض نو لاکھ روپے میں دیے گئے جبکہ مارکیٹ میں ان پلاٹ کی ویلیو تین کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔

ان دستاویزات میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ مذکورہ جج کی بیٹی کے فارن کرنسی اکاؤنٹ میں دس ہزار برطانوی پاؤنڈز دبئی سے ٹراسنفر کیے گئے۔

تاحال جسٹس نقوی نے اپنے اوپر عائد کردہ ان الزامات کا جواب نہیں دیا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟
آئینی امور کے ماہر حامد خان کا کہنا تھا کہ کسی بھی جج، جس پر الزام ہے، کو شوکاز نوٹس جاری ہونے کے بعد شکایات کا جواب دینا ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جج کی طرف سے اس کا جواب دینے کی صورت میں سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس دوبارہ طلب کیا جاتا ہے جس میں جس جج کو نوٹس جاری کیا گیا ہو اس کے جواب کا تفصیلی غور کیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل جج کے جواب سے مطمئن ہو تو ریفرنس یا شکایت اسی وقت ہی فارغ کر دی جاتی ہے لیکن اگر کونسل جج کے جواب سے مطمئن نہ ہو تو پھر جس جج کو شو کاز نوٹس جاری کیا گیا ہوتا ہے اس کے خلاف انکوائری شروع ہو جاتی ہے۔

حامد خان کا کہنا تھا کہ سپریم کوڈیشل کونسل کی کارروائی اِن کیمرا ہوتی ہے تاہم اگر متاثرہ جج چاہے تو وہ درخواست دے سکتا ہے کہ ان کی خلاف کی جانے والی کارروائی اوپن کورٹ میں کی جائے۔

انھوں نے کہا کہ متاثرہ جج کے خلاف تحقیقات کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کسی بھی ادارے کی خدمات حاصل کر سکتی ہے۔

حامد خان کا کہنا تھا کہ اگر تحققیات میں جس جج کو شوکاز نوٹس جاری کیا ہو وہ قصوروار پایا گیا تو سپریم جوڈیشل کونسل اس بارے میں رپورٹ صدر مملکت کو بجھواتی ہے اور صدر مملکت سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے بجھوائی گئی رپورٹ پر عمل درآمد کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو سپریم جوڈیشل کونسل کی رپورٹ کی روشنی میں ہی صدر مملکت نے نوکری سے برطرف کر دیا تھا۔

سپریم جوڈیشل کونسل کس طرح کام کرتی ہے؟
سپریم جوڈیشل کونسل پانچ ارکان پر مشتمل ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اس کونسل کے سربراہ ہوتے ہیں جبکہ سپریم کورٹ کے دو سینیئر جج اس کے رکن ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کی پانچوں ہائی کورٹس کے دو سینیئر چیف جسٹس صاحبان بھی اس کے رکن ہوتے ہیں۔

یہ کونسل سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی یا مبینہ طور پر بدعنوانی میں ملوث ہونے سے متعلق شکایات کا جائزہ لیتی ہے اور شکایت درست ہونے کی صورت میں اس جج کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل کا آخری اجلاس سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سنہ 2021 میں ہوا تھا۔

اس کے بعد سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سپریم جوڈیشل کونسل کا کوئی اجلاس طلب نہیں کیا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جمعے کے روز ہونے والے سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں 29 شکایات کا جائزہ لیا گیا جن میں سے 19 شکایات مسترد کر دی گئیں۔

ان میں سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس اعجاز الاحسن کے خلاف دائر شکایات بھی شامل ہیں۔

Our Clients has been granted Guardianship Certificate for her minors.
28/10/2023

Our Clients has been granted Guardianship Certificate for her minors.

The non custodian father awarded meeting rights atbhis home from family judge as per schedule.
06/09/2023

The non custodian father awarded meeting rights atbhis home from family judge as per schedule.

SMA is allowed in favor of one legal heirs for distribution of legal share among all legal heirs of deceased..
09/08/2023

SMA is allowed in favor of one legal heirs for distribution of legal share among all legal heirs of deceased..

SS & Associates another milestone..Mother can get Guradian's rights being custodian of child for better welfare of her m...
20/05/2023

SS & Associates another milestone..
Mother can get Guradian's rights being custodian of child for better welfare of her minor..

where husband and wife are separated or divorced, subsequent dispute surfaces with regard to custody of minor unless by mutual consent custody of minor is given to one parent by the other. Irrespective of whether custody is consensual or through the order of the court, the custodial parent requires a guardian certificate in certain cases.

A Guardian certificate is to be issued by the court after following the prescribed procedure.

Guardian Certificate is required where there is need of father /Guardian in any matter it could be educational purpose, medical purpose or to travel outside Pakistan along with the minor or where the custodial parent wishes to manage the property of the minor.

Address

Office No 23/4, Abid Chambers, New Challi, II Chundrigar Road
Karachi

Telephone

+923122923010

Website

https://g.page/r/Cb3jth5YvYyYEB0/review

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SS & Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to SS & Associates:

Share