28/08/2025
*"Mistaken Credit اور Criminal Breach of Trust: دفعہ 405، 406 اور 489-F PPC کا تقابلی مطالعہ"/"امانت، بدنیتی اور بینکاری معاملات: دفعہ 403، 405، 406 اور 489-F PPC کے عملی اطلاقات"/"رقم کی غلط منتقلی اور ملزم کی ذمہ داری: عدالت عالیہ لاہور کا حالیہ موقف"*
2025 LHC 5337
Justice Tanveer sheikh
فوجداری ضابطہ (PPC) کی دفعہ 489-F اور 406 کے تحت جرم کو بیک وقت عائد کیا جا سکتا ہے۔
جب کسی شخص کے بینک اکاؤنٹ میں کوئی رقم غلطی سے یا بینک کے نظام کی خرابی کے باعث منتقل ہو جائے تو عام طور پر یہ عمل دفعہ 405 PPC کے تحت "امانت" (Entrustment) نہیں سمجھا جاتا۔ امانت کا تقاضا یہ ہے کہ کوئی شخص دانستہ طور پر دوسرے پر اعتماد کرتے ہوئے اسے کسی مخصوص مقصد کے لیے مال یا رقم حوالے کرے اور پھر وہ شخص اس مال میں خیانت یا ناجائز تصرف کرے۔ اس طرح کی صورتحال میں، جب رقم کسی کی غلطی یا تکنیکی خرابی کی وجہ سے منتقل ہو، تو عام طور پر دفعہ 405 کے بنیادی عناصر پورے نہیں ہوتے کیونکہ رقم کسی نے حفاظت یا کسی خاص مقصد کے لیے نہیں دی ہوتی، الا یہ کہ مزید شواہد موجود ہوں جو ثابت کریں کہ وصول کنندہ نے بدنیتی کے ساتھ رقم ہڑپ کرنے کا ارادہ کیا تھا۔
زیرِ غور مقدمہ میں، درخواست گزار کو جو رقم موصول ہوئی تھی وہ اس کے استعمال کے لیے نہیں تھی بلکہ اسے بطور امانت محفوظ رکھنا اور بینک (جو اصل مالک تھا) کو واپس کرنا ضروری تھا۔ درخواست گزار پر لازم تھا کہ وہ بھیجنے والے یا بینک کو اس غلطی سے آگاہ کرے اور اصل مالک کو رقم واپس کرنے کا انتظام کرے۔
دفعہ 405 PPC میں استعمال شدہ الفاظ “in any manner” (کسی بھی طریقے سے) وسیع معنوں کے حامل ہیں اور یہ تمام اقسام کی امانت داری کو محیط کرتے ہیں، خواہ وہ صریح ہو یا ضمنی۔ جب رقم درخواست گزار کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی تو اسے اس مال پر اختیار اور قبضہ حاصل ہو گیا اور کوئی دوسرا اس تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ یہ حقیقت بذاتِ خود اس بات کا تقاضا کرتی تھی کہ بینک رقم کا مالک رہے گا اور درخواست گزار پر قانونی و اخلاقی ذمہ داری عائد تھی کہ وہ یہ رقم مالک/بینک کو واپس کرے۔ لیکن درخواست گزار نے بدنیتی سے اس رقم کو اپنے ذاتی استعمال میں لے لیا اور یوں اس نے اپنے لیے ناجائز فائدہ اور بینک کے لیے ناجائز نقصان کا سبب بنایا۔
*M FAROOQ KHILJI ADVOCATE 03336286215*
1) متعلقہ دفعات
Bare Act wording...
(A) PPC s.23 — Wrongful gain / Wrongful loss
Bare Act (English):
“Wrongful gain” is gain by unlawful means of property to which the person gaining is not legally entitled.
“Wrongful loss” is the loss by unlawful means of property to which the person losing it is legally entitled.
A person is said to gain wrongfully when such person retains wrongfully, as well as when such person acquires wrongfully.
A person is said to lose wrongfully when such person is wrongfully kept out of any property, as well as when such person is wrongfully deprived of property.
“ناجائز فائدہ” وہ فائدہ ہے جو غیر قانونی طریقے سے ایسے مال/جائیداد میں حاصل کیا جائے جس کا حاصل کرنے والا شرعاً/قانوناً حق دار نہ ہو۔
“ناجائز نقصان” ایسا نقصان ہے جو غیر قانونی طریقے سے اس مال میں پہنچایا جائے جس کا مالک قانوناً اس کا حق دار ہو۔
کوئی شخص ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے جب وہ کسی مال کو غلط طور پر اپنے پاس قائم رکھے یا غلط طور پر حاصل کرے۔
کوئی شخص ناجائز نقصان اٹھاتا ہے جب اسے کسی مال سے غلط طور پر محروم رکھا جائے یا اس مال سے غلط طور پر بیگانہ کر دیا جائے۔
(B) PPC s.24 — Dishonestly
Bare Act (English):
Whoever does anything with the intention of causing wrongful gain to one person or wrongful loss to another person, is said to do that thing “dishonestly”.
جو کوئی شخص کسی کو ناجائز فائدہ پہنچانے یا کسی دوسرے کو ناجائز نقصان پہنچانے کے ارادے سے کوئی فعل کرے، اسے یہ فعل “بدنیتی کے ساتھ” کرنا کہا جائے گا۔
(C) PPC s.405 —
Criminal breach of trust (تعریف)
Bare Act (English as provided)
Whoever, being in any manner entrusted with property, or with any dominion over property, dishonestly misappropriates or converts to his own use that property, or dishonestly uses or disposes of that property in violation of any direction of law prescribing the mode in which such trust is to be discharged, or of any legal contract, express or implied, which he has made touching the discharge of such trust, or wilfully suffers any other person so to do, commits “criminal breach of trust”.
جو کوئی شخص کسی بھی طریقے سے امانت سپرد کیا گیا مال، یا مال پر اختیار/قبضہ رکھنے والا ہو اور وہ اس مال کو بدنیتی سے ہڑپ کرے یا اپنے استعمال میں لے آئے، یا اس مال کو بدنیتی سے استعمال یا تصرف میں لائے اس طرح کہ وہ کسی قانونی ہدایت یا کسی قانونی معاہدہ (صریح یا ضمنی) کی خلاف ورزی ہو جو اس امانت کی ادائیگی/نکاس سے متعلق ہو؛ یا وہ جان بوجھ کر کسی اور کو بھی ایسا کرنے دے—تو وہ “امانت میں خیانت” کا مرتکب ہوگا۔
(D) PPC s.406 — Punishment for criminal breach of trust
Bare Act (English):
Whoever commits criminal breach of trust shall be punished with imprisonment of either description for a term which may extend to three years, or with fine, or with both.
جو کوئی امانت میں خیانت کا مرتکب ہو، اسے کسی بھی نوع کی قید جو تین سال تک بڑھائی جا سکتی ہے، یا جرمانہ، یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
(E) PPC s.403 — Dishonest misappropriation of property (متبادل اطلاق کے لیے اہم)
Bare Act (English):
Whoever dishonestly misappropriates or converts to his own use any movable property, shall be punished with imprisonment of either description for a term which may extend to two years, or with fine, or with both.
جو کوئی بدنیتی سے کسی منقولہ مال کو ہڑپ کر لے یا اسے اپنے استعمال میں لے آئے، وہ ایسی قید کا مستوجب ہوگا جو دو سال تک بڑھائی جا سکتی ہے، یا جرمانہ، یا دونوں۔
نوٹ: دفعہ 403 میں “entrustment/امانت” شرط نہیں؛ محض بدنیتی سے مال کو ہڑپ یا اپنے استعمال میں لانا کافی ہے—اسی لیے غلطی سے موصول رقم کے بعض حالات میں 403 بطورِ متبادل سامنے آتی ہے۔
(F) PPC s.489-F — Dishonestly issuing a cheque
Bare Act (English):
Whoever dishonestly issues a cheque towards repayment of a loan or fulfilment of an obligation which is dishonoured on presentation, shall be punished with imprisonment which may extend to three years, or with fine, or with both, unless he can establish (the burden of proof resting on him) that he had made arrangements with his bank to ensure that the cheque would be honoured and that the bank was at fault in not honouring the cheque.
جو کوئی شخص بدنیتی سے چیک جاری کرے—قرض کی ادائیگی یا کسی ذمے داری کی تکمیل کے لیے—اور وہ چیک پیشی پر باؤنس ہو جائے، تو اسے ایسی قید کی سزا دی جا سکتی ہے جو تین سال تک بڑھائی جا سکتی ہے، یا جرمانہ، یا دونوں؛ الّا یہ کہ وہ ثابت کر دے (جس کا بارِ ثبوت اسی پر ہے) کہ اس نے بینک کے ساتھ ایسے انتظامات کر رکھے تھے کہ چیک کی ادائیگی ہونی چاہیے تھی اور بینک کی خطا سے ادائیگی نہ ہوئی۔
*F K LAW & CITATIONS*
2) قانونی تجزیاتی جائزہ (Issue–Rule–Application–Conclusion)
مسئلۂ اوّل: غلطی سے اکاؤنٹ میں آئی رقم — کیا “امانت” ہے؟
قاعدہ (s.405 کی روح):
“in any manner entrusted” اور “dominion over property” کی تعبیرات وسیع ہیں۔
امانت کے لیے ضروری ہے کہ (i) سپردگی یا تصرف کا اختیار ملے (express/implied)، (ii) بعد ازاں بدنیتی سے ہڑپ/تصرف ہو، (iii) یہ سب قانونی ہدایت یا معاہدہ کی خلاف ورزی میں ہو۔
اطلاق موجودہ نوعیت پر
Mistaken credit میں رقم جان بوجھ کر سپرد نہیں کی گئی؛ تاہم جیسے ہی رقم اکاؤنٹ میں آئی، اکاؤنٹ ہولڈر کو مال پر عملی اختیار (dominion) حاصل ہو گیا۔
عدالت نے اس مفروضہ کو تقویت دی کہ ایسی رقم بینک کی ملکیت ہی رہتی ہے، اور کھاتہ دار پر قانونی و اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فوراً بینک/بھیجنے والے کو اطلاع دے کر واپسی کا انتظام کرے۔
جب وصول کنندہ اس رقم کو اپنے استعمال میں لے آئے اور واپسی سے گریز کرے، تو یہ طرزِ عمل “بدنیتی سے استعمال/ہڑپ” کے زمرے میں آتا ہے—یوں entrustment (implied) + dishonest conversion مل کر 406/405 کے تقاضے پورے کر سکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ فیصلے نے “in any manner” کی وسیع تعبیر اختیار کی اور غلطی سے آئی رقم کے احتفاظ و واپسی کی ذمہ داری بطورِ امانت تسلیم کی۔
نتیجتآ ۔۔۔۔۔
محض غلطی سے کریڈٹ ہونا خود بخود 405 نہیں بناتا؛ مزید قرائنِ بدنیتی (مثلاً فوری نکال لینا، بینک کو اطلاع نہ دینا، چھپانا) موجود ہوں تو implied entrustment کے ساتھ 406 بن سکتی ہے۔
اگر عدالت entrustment ثابت نہ سمجھے، تب بھی 403 (dishonest misappropriation) بطور متبادل/off-ramp لاگو ہو سکتی ہے، کیونکہ اس میں سپردگی شرط نہیں۔
مسئلۂ دوم: s.489-F اور s.406 ایک ساتھ؟
قاعدہ:
489-F ایک مخصوص جرم ہے جس کے ارکان (ingredients) الگ ہیں: (i) چیک کا اجرا, (ii) قرض/ذمے داری کی ادائیگی کی نیت سے، (iii) پیشی پر عدمِ ادائیگی/باؤنس, (iv) اجرا کے وقت بدنیتی؛ اور مخصوص دفاع (بینک/انتظامات) کا بارِ ثبوت ملزم پر۔
406/405 کے ارکان مختلف ہیں: امانت/تصرف + بدنیتی سے ہڑپ/تصرف خلافِ قانون/معاہدہ۔
چونکہ ہر ایک کے تقاضے جداگانہ ہیں، اس لیے ایک ہی لین دین/معاملہ سے دونوں جرائم متوازی طور پر charge کیے جا سکتے ہیں، شریط یہ کہ واقعاتی مواد دونوں کے عناصر پورا کرے (اختتامی تعزیرات کا مسئلہ سزا کے مرحلے پر الگ دیکھ لیا جاتا ہے)۔
اطلاق موجودہ نوعیت پر
اگر ملزم نے غلطی سے آئی رقم اپنے استعمال میں لا کر بینک/مالک کو نقصان پہنچایا (406/405) اور اسی قضیے میں چیکس جاری کیے جو باؤنس ہوئے، تو 489-F کے عناصر بھی متشکل ہو سکتے ہیں—یعنی بیک وقت دونوں چارج ممکن۔
عدالت نے یہی اصول واضح کیا کہ 489-F اور 406 میں simultaneous charging مانعِ قانون نہیں، کیونکہ mens rea اور فعل دونوں طرف مختلف جہت رکھتے ہیں۔
نتیجتآ ۔۔۔۔
دوہرا استغاثہ نہیں بنتا؛ بلکہ دو الگ جرائم، ایک معاملے کی مختلف قانونی جہات سے۔
مسئلۂ سوم: “بدنیتی (dishonestly)” کیسے اخذ ہوگی؟
s.24 + s.23 کے تحت بدنیتی کا جوہر: کسی کو ناجائز فائدہ پہنچانا یا دوسرے کو ناجائز نقصان پہنچانا ارادہ کے ساتھ۔
قرائن: فوری طور پر رقم نکال لینا، بینک/بھیجنے والے کو اطلاع نہ دینا، جھوٹا بہانہ، حسابات/ای میلز/کال ریکارڈ میں چھپانے کی روش، وغیرہ۔
عدالتی رویہ: mistaken credit میں اگر ملزم نے واپسی کی سعی کی، بروقت اطلاع دی یا معقول غلط فہمی ثابت کی تو بدنیتی کمزور پڑتی ہے؛ ورنہ strong inference نکلتا ہے۔
مسئلۂ چہارم: 403 بمقابلہ 406 — کب کون سا؟
406/405: entrustment/dominion + dishonest conversion لازمی۔ implied entrustment کی بنیاد “in any manner” سے ممکن۔
403: صرف dishonest misappropriation/convert to own use؛ entrustment شرط نہیں۔
عملی حکمتِ عملی: اگر استغاثہ کو entrustment کے ثبوت میں کمزوری لگے تو 403 بطور متبادل/معاون شامل کیا جا سکتا ہے۔ اگر implied entrustment کے قرائن مضبوط ہوں تو 406 ترجیحاً۔
مسئلۂ پنجم: 489-F کے اہم دفاع/نکات
بینک انتظامات: ملزم دکھا دے کہ کفایت/فنڈز/اوورڈرافٹ یا دیگر انتظامات پہلے سے بینک کے ساتھ موجود تھے اور بینک کی خطا سے باؤنس ہوا—تو 489-F کی سزا سے بچاؤ ممکن۔
loan/obligation کا ثبوت: 489-F میں قرض/ذمے داری کی سچائی/قانونی حیثیت دکھانا ضروری؛ صرف کاروباری مراسلت کافی نہیں، مستند دستاویزات/اکاؤنٹس بہتر ثبوت۔
وقتِ اجرا کی نیت: اصل کسوٹی یہ ہے کہ چیک جاری کرتے وقت بدنیتی تھی یا نہیں—بعد کے واقعات (مثلاً بعد میں فنڈز جمع کرنا) عام طور پر بچاؤ نہیں بنتے جب تک موثر انتظام پہلے سے نہ تھا۔
3) ثبوتی معیارات اور عملی نکات
استغاثہ کے لیے:
بینک اسٹیٹمنٹ، SWIFT/IBFT لاگز، بینک کے error reports، اطلاع/نوٹسز کا ریکارڈ؛
رقم کے آنے کے فوراً بعد نکالنے/ٹرانسفر کے ثبوت؛
ملزم کی خاموشی/عدم اطلاع پر گواہی/ریکارڈ؛
489-F کے لیے: قرض/ذمے داری کی تحریری بنیاد، چیک کی کاپی، ممیورنڈم آف ڈش آنر، بینک سرٹیفکیٹ؛
mens rea پر قرائن: داخلی پیغامات، وعدہ خلافی، جھوٹے اطمینان نامے۔
دفاع کے لیے
فوری اطلاع یا واپسی کی پیشکش/ادائیگی کا دستاویزی ثبوت؛
حسابی/آپریشنل غلطی کی بینک تصدیق؛
489-F میں pre-existing arrangements کے ڈاکومنٹس، بینک کی غلطی کا ثبوت؛
entrustment کی تردید: “محض غلطی سے کریڈٹ” اور فریقین میں کوئی fiduciary رشتہ/معاہدہ نہیں تھا—تو 403 ہی (اگر کچھ)؛
bona fide belief/حقِ ملکیت کا معقول جواز (نادر مگر ممکنہ دفاع)۔
4) اس فیصلے کے کلیدی اصول (Takeaways)
Mistaken credit بذاتِ خود 405 نہیں، مگر قرائن سے implied entrustment اور dishonest conversion ثابت ہو تو 406 بن سکتی ہے۔
“in any manner” (s.405) ایک وسیع اصطلاح ہے—سپردگی صریح نہ ہو تو بھی ضمنی طور پر متحقق ہو سکتی ہے۔
489-F اور 406 کے عناصر مختلف ہیں، اس لیے ایک ساتھ چارج ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ حقائق دونوں کے تقاضے پورے کریں۔
اگر entrustment کمزور ہو تو 403 بطور متبادل جرم سامنے رہتا ہے۔
Dishonestly (s.24) اور wrongful gain/loss (s.23) کی تعریفیں mens rea اخذ کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔
489-F میں بارِ ثبوت کے مخصوص پہلو (بینک انتظامات/بینک کی خطا) ملزم پر منتقل ہوتے ہیں—یہ دفعات کا منفرد فیچر ہے۔