06/03/2024
ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت قانون کے مطابق ہوئی تھی یا نہیں،
سپریم کورٹ اپنی محفوظ شدہ رائے کا اظہار آج کرے گی۔۔
ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس میں عدالت سے صدر کی جانب سے کب اور کیا کیا سوالات پوچھے گئے تھے
دو اپریل 2011 کو سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے حکومت کی سفارش پر سپریم کورٹ کو عدالتی تاریخ کا پہلا ایسا ریفرنس بھیجا گیا جس میں سپریم کورٹ کے ہی ایک فیصلے پر رائے مانگی گئی ۔۔ آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت صدر مملکت قانونی نوعیت کے سوالات پر عدالت سے رہنمائی لینے کا اختیار رکھتے ہیں
ریفرنس میں صدر مملکت کی جانب سے پانچ سوالات اٹھائے گئے تھے۔
پہلا سوال تھا کہ کیا بھٹو کو پھانسی کی سزا سنانا اور اعلیٰ عدلیہ کا اسے برقرار رکھنا بنیادی آئینی حقوق سے مطابقت رکھتا ہے؟
دوسرا سوال تھا کہ کیا بھٹو کیس کو سپریم کورٹ کا فیصلہ قرار دیتے ہوئے اسے عدلیہ پر لاگو کیا جا سکتا ہے؟
تیسرا سوال یہ اٹھایا گیا تھا کہ آیا ذوالفقار علی بھٹو کو سزا درست سنائی گئی تھی یا یہ جانبداری کی بنیاد پر گئی تھی؟ اور کیا اسے جان بوجھ کر کیا گی قتل قرار دیا جا سکتا ہے؟
چوتھا سوال یہ اٹھایا گیا تھا کہ بھٹو کی سزا معافی کے اسلامی اصول کے مطابق تھی یا نہیں؟
پانچواں اورآخری سوال تھا کہ ریکارڈ کیے گئے شواہد کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو کو سزا دی جا سکتی تھی یا نہیں؟
سپریم کورٹ کے 9 رکنی بنچ نے 2 جنوری 2012 کو سماعت کا آغاز کیا اور12 نومبر 2012 کو چھٹی سماعت کے بعد گیارہ سال ریفرنس سردخانے کی نذر ہوگیا۔
12 دسمبر 2023کو سپریم کورٹ نے دوبارہ سماعت کا آغاز کیا اور4مارچ تک 7 جبکہ مجموعی طور پر تیرھویں سماعت کے بعد اپنی رائے محفوظ کر لی
جو آج سنائی جائے گی۔
ذوالفقار علی بھٹو کو جولائی 1977 میں قتل کیس میں سزائےموت سنائی گئی تھی جسے سپریم کورٹ نے منقسم فیصلے کے ذریعے برقرار رکھا تھا