Noore Hidayat

Website

Noore Hidayat Islamic scholor

13/10/2026
12/10/2026

سورہ بقرہ روزانہ پڑھنے کا ہر گھر میں معمول بنالیں۔ آج کل کے دور میں ہر روز ہر بندے کو پڑھنی چاہئے۔ ہر روز نہیں تو تیسرے دن لازمی پڑھ لیں۔ یا کم ازکم اونچی آواز سے روزانہ بلا ناغہ گھر میں لگا کر رکھیں۔
پھر دیکھیں گھر سے کیسے آفتیں، بیماریاں، پریشانیاں ختم ہوتی ہیں۔
زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ گھنٹہ لگتا ہے اور اس کے پڑھنے کی حدیث شریف میں تاکید بھی آئی ہے۔
فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سورہ بقرہ پڑھا کرو کیونکہ اس کا پڑھنا برکت ہے اور اس کا چھوڑنا حسرت اور بد نصیبی ہے، اہل باطل اس پر قابو نہیں پاسکتے۔
او کما قال علیہ الصلاۃ السلام۔
صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اہل باطل سے مراد جادو گر ہیں، یعنی سورہ بقرہ پڑھنے والے پر کسی کا جادو نہیں چلے گا۔
اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نےفرمایا کہ سورہ بقرہ کی 10 آیتیں ایسی ہیں کہ
اگر کوئی شخص ان کو رات میں پڑھ لے تو اس رات کو جن، شیطان گھر میں داخل نہیں ہوگا اور اس کو اور اس کے اہل عیال کو اس رات میں کوئی آفت، بیماری، رنج و غم وغیرہ ناگوار چیز پیش نا آئے گی،
اگر یہ آیتیں کسی مجنون پر پڑھی جائیں تو اسے افاقہ ہوجائے،
وہ دس آیتیں یہ ہیں
چار آیتیں شروع سورہ بقرہ کی
پھر
تین آیتیں درمیانی یعنی آیة الکرسی اور اس کے بعد کی دو آیتیں،
پھر
آخر سورہ بقرہ کی تین آیتیں۔

کم ازکم اتنی تو ہم سب ہی معمول بنالیں کیا خیال ہے؟؟؟؟؟
مجھے بھی پہلے مشکل لگ رہی تھی مگر جب بدھ کوحدیث کلاس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی 1 نفل رکعت کی تفصیل سنی کہ
ایک صحابی نے بتایا ایک رات وہ نفل نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوگئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ بقرہ پڑھی
پھر سورہ آل عمران
پھر سورہ نساء
یعنی سوا پانچ پاروں پر مشتمل یہ سورتیں ایک نفلی رکعت میں پڑھیں۔
پھر اتنی ہی دیر رکوع فرمایا
اور پھر اتنی ہی دیر رکوع کے بعد کھڑے رہے
پھر اتنی ہی دیر سجدے میں گزری۔
اور اس میں بھی درمیان میں دعائیں پڑھتے تھے، قربان جائیں ہم اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے
یہ شکرانے کے طور پر ایسی نفل نماز پڑھ رہے ہیں۔ ❤️❤️
اب سنیں
سورہ بقرہ ڈھائی پاروں کی پڑھنے میں ڈیڑھ گھنٹہ تو لگتا ہے.

آپ سب بھی معمول بنالیجئے۔

Aameen
10/10/2026

Aameen

09/10/2026

ہم ہر نماز میں ایک دعا پڑھتے ہیں، مگر کیا تم نے کبھی سوچا ہے کہ اس دعا میں ہم اللہ سے اپنے اندر کی کس ٹوٹ پھوٹ کو جوڑنے کی درخواست کرتے ہیں؟

دو سجدوں کے درمیان ہم کہتے ہیں:

رَبِّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاجْبُرْنِي، وَاهْدِنِي، وَعَافِنِي، وَارْزُقْنِي۔

اے میرے رب! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، میری ٹوٹ پھوٹ کی تلافی فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے عافیت عطا فرما اور مجھے رزق دے۔

(سنن ابی داؤد: 850 — دعا بین السجدتین)

لیکن اس دعا کا ایک لفظ ہے جس پر دل ٹھہر جاتا ہے:

**وَاجْبُرْنِي — وَاجْبُرْنِي**

اے اللہ! میری ٹوٹ پھوٹ کی تلافی فرما، میری کمی پوری فرما، میری حالت سنوار دے۔

عربی لفظ **جَبْر** میں ٹوٹی ہوئی چیز کو جوڑنے، کمی پوری کرنے اور بکھری ہوئی حالت کی اصلاح کرنے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔

ذرا غور کرو، ہم یہ الفاظ کب کہتے ہیں؟

جب ہم دو سجدوں کے درمیان بیٹھے ہوتے ہیں۔ ابھی ہمارا سجدہ ختم ہوا ہے، اگلا سجدہ باقی ہے، اور ان دونوں کے درمیان ہم اپنے رب کے سامنے اپنی محتاجی کا اعتراف کر رہے ہوتے ہیں۔

ہم صرف مغفرت نہیں مانگتے، بلکہ یہ بھی مانگتے ہیں کہ اے اللہ! جہاں ہم کمزور پڑ گئے، وہاں ہماری مدد فرما۔ جہاں ہم اندر سے بکھر گئے، وہاں ہماری اصلاح فرما۔ جہاں ہم خود اپنی کمی پوری نہیں کر سکتے، وہاں اپنی رحمت سے ہماری تلافی فرما۔

کبھی انسان کی ٹوٹ پھوٹ ایسی ہوتی ہے جسے وہ کسی کو بتا بھی نہیں سکتا۔ کبھی اپنی کسی غلطی کا بوجھ ہوتا ہے، کبھی ایمان میں کمزوری محسوس ہوتی ہے، کبھی دل کسی آزمائش سے تھک جاتا ہے، اور کبھی انسان کو خود بھی سمجھ نہیں آتا کہ اس کے اندر کیا بدل گیا ہے۔

اور ایسے میں نماز کے اندر، اللہ کے سامنے بیٹھ کر، ہم کہتے ہیں: **وَاجْبُرْنِي۔**

یعنی اے میرے رب! میں اپنی ہر کمی خود پوری نہیں کر سکتا۔ تو میری اصلاح فرما، مجھے سنبھال، اور مجھے وہ خیر عطا فرما جس کی مجھے ضرورت ہے۔

مجھے اس لفظ میں ایک بہت نرم احساس ملتا ہے: اللہ کے سامنے اپنی کمزوری تسلیم کرنا بھی بندگی ہے۔ ہمیں ہر وقت مضبوط دکھائی دینے کی ضرورت نہیں؛ ہمیں اپنے رب کے سامنے اپنی محتاجی سچائی سے بیان کرنی ہے۔

اور یہ بھی یاد رہے کہ *وَاجْبُرْنِي* کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی میں کبھی دکھ یا آزمائش نہیں آئے گی، بلکہ یہ دعا ہے کہ اللہ ہماری کمیوں کی تلافی فرمائے، ہماری اصلاح کرے اور ہمیں اپنی رحمت سے سنبھالے۔

اب جب بھی دو سجدوں کے درمیان بیٹھو اور **وَاجْبُرْنِي** کہو، تو صرف زبان سے نہ کہنا۔ ایک لمحے کے لیے اپنے دل کو بھی اس دعا میں شامل کرنا۔

شاید تمہیں اپنی کوئی ایسی کمی یاد آئے جسے تم مدت سے چھپائے ہوئے ہو، کوئی ایسی غلطی جس سے پلٹنا چاہتی ہو، یا کوئی ایسی کیفیت جس کی اصلاح تمہیں اپنے رب سے مانگنی ہے۔

**اے اللہ! ہمیں صرف اپنی ٹوٹ پھوٹ کا احساس نہ دے، بلکہ اپنی اصلاح کی توفیق بھی عطا فرما۔ ہماری کمیوں کی تلافی فرما، ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت پر قائم رکھ، اور ہمیں اپنی رحمت سے سنبھال لے۔

02/10/2026

🌸 السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 🌸

💚 آپ سب کی محبت، اعتماد اور مسلسل حوصلہ افزائی کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ!
آپ کا تعاون ہی ہماری ٹیم کے لیے آگے بڑھنے کا سب سے بڑا حوصلہ ہے۔ 🤲

✨ نورِ ہدایت کی ٹیم نے اب ایک نیا پیج RoshniStoryHub کے نام سے شروع کیا ہے، جہاں AI (مصنوعی ذہانت) کے ذریعے اسلامی موٹیویشن، سبق آموز واقعات، اسلامی معلومات اور خوبصورت اسلامی ویڈیوز شیئر کی جائیں گی۔ 📖🌙

🎯 ہمارا مقصد ہے کہ دین کی خوبصورت باتیں، نیکی کی ترغیب اور مثبت پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک آسان اور مؤثر انداز میں پہنچایا جائے۔

🌹 آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ ہمارے نئے پیج کو بھی Follow کریں، ہماری پوسٹس کو Like & Share کریں اور اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔

آپ کی ایک Follow، Like اور Share کسی اور تک بھی خیر کا پیغام پہنچانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ ❤️

🤲 اللہ تعالیٰ ہماری اس چھوٹی سی کوشش کو قبول فرمائے اور اسے ہم سب کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین۔

جزاکم اللہ خیراً کثیراً 🌸

28/09/2026

یہ وہ سورۃ ہے جسے لوگ سورۃ الاستجابت کہتے ہیں کیونکہ یہ دعا کی قبولیت کی سورۃ ہے یہ سورۃ الأنبياء ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے بار بار فرمایا فاستجبنا له یعنی ہم نے اس کی دعا سن لی ہم نے اسے قبول کر لیا

یہ وہ سورۃ ہے جو اس وقت پڑھی جاتی ہے جب سب دروازے بند ہو جائیں اور صرف ایک در باقی ہو آسمان کا در جس سے روشنی اترتی ہے اور دل کو یقین ملتا ہے

یہ قرآن کی وہ واحد سورۃ ہے جس میں لفظ فاستجبنا له بار بار آیا ہے اور کسی اور سورۃ میں اس انداز سے نہیں آیا

یہ سورۃ ان قفل شدہ دروازوں کے لیے کنجی ہے جنہیں کوئی اور نہیں کھول سکتا یہ سورت ہمیں سکھاتی ہے کہ دعا کیسے دروازے کھولتی ہے

پہلا دروازہ حضرت نوح کا ہے جنہوں نے کرب میں دعا کی
وَنُوحًا إِذْ نَادَىٰ مِن قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَنَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ

دوسرا دروازہ حضرت ایوب کا ہے جو بیماری اور تکلیف میں صبر کے ساتھ رب کو پکارتے رہے
فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَكَشَفْنَا مَا بِهِ مِن ضُرٍّ وَآتَيْنَاهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَذِكْرَىٰ لِلْعَابِدِينَ

تیسرا در حضرت یونس کا ہے جنہیں غم نے گھیرا اور انہوں نے پکارا
فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ

چوتھا دروازہ حضرت زکریا کا ہے جنہوں نے اولاد کے لیے پکارا
فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَوَهَبْنَا لَهُ يَحْيَىٰ وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ

اب سوال یہ ہے کیا یہ صرف انبیاء کے لیے ہے

تو جواب سورت کے اندر ہی آیا
رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَذِكْرَىٰ لِلْعَابِدِينَ
یہ سب کچھ ان بندوں کے لیے بھی ہے جو عبادت کرتے ہیں جو اس کی یاد میں جیتے ہیں

اور دوسرا مقام فرمایا
إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ

جو خیر میں جلدی کرتے ہیں جو دعا کرتے ہیں امید کے ساتھ خوف کے ساتھ اور جن کے دل اللہ کے لیے جھکے ہوئے ہیں

یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے بھی فرمایا
فَاسْتَجَبْنَا لَهُ

اپنے دل میں رکھ لو یہ سورت اور وقت آنے پر اسے اپنے آنسوؤں کے ساتھ پڑھو
ان شاء اللہ! اس مبارک سورت کی تلاوت سے نہ صرف آپ کا ہر قدم کامیابی سے ہمکنار ہوگا، بلکہ آپ کے بے چین دل کو سچا سکون نصیب ہوگا اور تمام مشکل حالات و مصائب آسانیاں بن کر ڈھل جائیں گے
تمام ممبران کمینٹ میں سبحان اللہ لکھ دیں شکریہ

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Noore Hidayat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share