18/08/2026
ایزل ڈیڑھ سال کی معصوم بچی تھی جس کیساتھ جنسی زیادتی کی گئی ۔
ایزل کی والدہ بتارہی ہے کہ وہ کہیں گئی ہوئی تھی گھر پر بچی کی خالہ تھی ان کا رشتہ دار 17 سالہ منان جو بچی کا بھائی بنا ہوا تھا گھر پر آیا اور چیز دلانے کیلئے بچی کو ساتھ لے گیا پھر 25 منٹ بعد واپس لیا اور بچی کی خالہ کو دیا ۔
بچی اس وقت بے ہوش تھی ۔ خالہ سمجھی سو رہی ہے ۔ پھر بچی نے الٹیاں کی تو والدہ ڈاکٹر کے پاس لے گئی اس نے کہا او آر ایس دے دو۔ سوتے وقت پیمپر بدلا تو بلیڈنگ ہورہی تھی ۔ بچی کو لیکر نیچے گئی سب کو بولا کہ ڈاکتر کے پاس لے جاؤ کسی نے مدد نہیں کی اس وقت تک بچی سانسیں لے رہی تھی پھر اس کو سرسید لیکر گئی وہاں پر انہوں نے کہا کہ ہارٹ بیٹ ہے لیکن سانس نہیں ہے میں نے کہا آپ آکسیجن لگائیں ہارٹ بیٹ آجائے گی لیکن انہوں نے آکسیجن نہیں لگایا اور کہا اس کو جناح لے جاؤ ۔ میں نے خود اس کو سی پی آر دیا اور جب میں اس کو جناح لیکر جارہی تھی رکشے میں اس نے آخری بار مما کہا اور آنکھیں اوپر کرلیں پھر اس کی سانسیں نکل گئیں۔
یہ کراچی قیوم آباد کا واقعہ ہے ۔
بچوں کے معاملے میں کسی پر بھی اعتماد نہ کریں ۔ ان کو اکیلے باہر کھیلنے کیلئے بھی نہ بھیجیں خود ساتھ جائیں ۔
ٹک ٹاک سمیت ہر ایسے پلیٹ فارم پر پابندی لگادینی چاہیے جس کو دیکھ دیکھ کر 17 سال کے لڑکے حیوان بن رہے ہیں ۔ یہ چھوٹا واقعہ نہیں ہے، پے در پے واقعات ہورہے ہیں ۔ حیوان پر حیوان سامنے آرہے ہیں ۔ معاشرہ کولیپس کررہا ہے ۔
لوگ یورپ کو برا بھلا کہتے ہیں لیکن یورپ میں کوئی ڈیڑھ سال کی بچیوں کیساتھ ایسا نہیں کرتا ۔ یورپ میں خواتین کو رات باہر جاتے ہوئے ڈر نہیں لگتا ۔ یورپ میں بچوں کو باہر اغواہ کا خوف نہیں ہوتا ۔ بچوں کیساتھ یہ سب وہاں نہیں ہوتا ۔ اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں لیکن یہاں مسلسل برے لوگ ہی سامنے آرہے ہیں بہت کم اچھے لوگ رہ گئے ہیں ۔ اپنے بچوں پر خود پر رحم کریں ۔ اپنے سوا اپنی اولاد کے معاملے پر کسی پر بھروسہ نہ کریں حتیٰ کہ اپنے سگے بھائی پر بھی نہیں .😞🥲