31/05/2026
*سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: خفیہ آڈیو/ویڈیو ریکارڈنگ، حقِ رازداری اور شہادت کی قابلیت*
*PLJ 2026 SC (Cr.C.) 175 | فوجداری پٹیشن 248-ایل/2016 | بشارت علی چوہدری بنام صابر علی وغیرہ*
سپریم کورٹ پاکستان نے حقِ رازداری اور نجی ریکارڈنگ کو بطور شہادت پیش کرنے کے حوالے سے ایک اصولی فیصلہ سنایا۔ اہم نکات درج ذیل ہیں:
# # # *1. ریکارڈنگ کی 2 بنیادی اقسام*
*الف) خود فریق ہونے کی صورت:*
اگر گفتگو میں شامل شخص خود ریکارڈنگ کرے تو یہ عام طور پر غیر قانونی وائر ٹیپنگ نہیں مانا جائے گا، چاہے دوسرا فریق لاعلم ہو۔
*ب) تیسرے فریق کی ریکارڈنگ:*
دو افراد کی نجی گفتگو کو ان کی اجازت کے بغیر خفیہ طور پر ریکارڈ کرنا غیر قانونی نگرانی اور جاسوسی کے زمرے میں آتا ہے۔
# # # *2. ریکارڈنگ بطور شہادت کب قابلِ قبول ہے؟*
عدالت نے 3 شرائط لازم قرار دیں:
1. *قانونی طریقہ:* ریکارڈنگ قانون کے مطابق حاصل کی گئی ہو۔
2. *مقدمے سے تعلق:* مواد کا کیس سے براہِ راست تعلق ہو۔
3. *حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو:* آئینی حقِ رازداری کی پامالی نہ ہو۔
صرف "خفیہ ریکارڈنگ موجود ہے" کی بنیاد پر کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی، کیونکہ خود ریکارڈنگ کا عمل غیر قانونی ہو سکتا ہے۔
# # # *3. نجی ریکارڈنگ کا غلط استعمال = جرم*
عدالت نے واضح کیا کہ کسی کی آواز، تصویر یا گفتگو کو اجازت کے بغیر خفیہ طور پر حاصل کر کے:
- بلیک میلنگ
- بھتہ خوری
- دباؤ ڈالنے
- یا کسی ناجائز مقصد
کے لیے استعمال کرنا PECA 2016 کی دفعہ 23 کے تحت جرم ہے۔
# # # *4. سرکاری نگرانی vs نجی جاسوسی*
*سرکاری CCTV/سیکیورٹی سسٹم:* اگر قانونی تقاضے پورے ہوں اور فرانزک تصدیق ہو، تو یہ قابلِ قبول شہادت بن سکتی ہے۔ مثال: زاہر جعفر کیس 2025 SCP 220۔
*نجی خفیہ ریکارڈنگ:* بدنیتی پر مبنی نجی ریکارڈنگ نجی زندگی میں غیر قانونی مداخلت ہے اور قابلِ قبول شہادت نہیں۔
# # # *5. جو خود جاسوسی کرے وہ متاثرہ نہیں رہتا*
اگر مدعی خود غیر قانونی نگرانی یا جاسوسی کا سہارا لیتا ہے تو وہ قانون شکن بن جاتا ہے۔ ایسی صورت میں جس کی ریکارڈنگ کی گئی، وہی اصل متاثرہ فریق تصور ہوگا۔
# # # *6. اسلامی و آئینی بنیاد*
عدالت نے حقِ رازداری کی اہمیت قرآن کی آیت *"وَلَا تَجَسَّسُوا"* اور حضرت عمرؓ کے واقعے سے واضح کی: محض شک کی بنیاد پر بھی کسی کی نجی زندگی اور گھر کے تقدس کو پامال نہیں کیا جا سکتا۔
# # # *7. عدالت کی وارننگ*
اگر ہر شہری کو بغیر وارنٹ کے دوسرے کی جاسوسی کی اجازت دے دی جائے تو معاشرے میں خوف، بے اعتمادی اور آئینی آزادیاں تباہ ہو جائیں گی۔ قانون کی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ نجی نگرانی کو عدالتی تحفظ حاصل نہ ہو۔
---
*خلاصہ:* ریکارڈنگ تب ہی شہادت بنے گی جب وہ قانونی ہو۔ نجی جاسوسی کر کے حاصل کیا گیا مواد نہ صرف ناقابلِ قبول ہے بلکہ کرنے والا خود مجرم بن جاتا ہے۔