Advocate Akhtar Ali kanhar

Call Contact the business

Advocate Akhtar Ali kanhar deal's all kind of cases like a civil criminal family revenue anti corruption NAB FIA marriage etc
03133488781

27/09/2026
ڪمشنر سکر عابد سليم قريشي پاران سکر ضلعي ۾ 25 کان 29 سيپٽمبر تائين قلم 144 لاڳو ڪندي پنجن يا وڌيڪ ماڻهن جي گڏجاڻين ، جلس...
25/09/2026

ڪمشنر سکر عابد سليم قريشي پاران سکر ضلعي ۾ 25 کان 29 سيپٽمبر تائين قلم 144 لاڳو ڪندي پنجن يا وڌيڪ ماڻهن جي گڏجاڻين ، جلسن جلوسن ، ريلين ۽ مظاهرن تي پابندي عائد ڪري ڇڏي

ڪمشنر سکر پاران جاري ڪيل نوٽيفڪيشن ۾ ڄاڻايو آهي ته پابندي جو مقصد امن امان جي صورتحال کي برقرار رکڻ، عوام جي جان ۽ مال جي تحفظ کي يقيني بڻائڻ آهي، لاڳاپيل پوليس آفيسرن کي قلم 144 جي ڀڃڪڙي جي صورت ۾ قانون موجب ڪارروائي ڪرڻ جي هدايت پڻ ڪئي ڪندي پوليس اختيارين سميت ضلع انتظامیہ کي نوٽيفڪيشن تي اثرائتي نموني عملدرآمد يقيني بڻائڻ لاءِ پڻ هدايتون

25/09/2026

Additional Evidence 🧾 in appeal...
242 CLC 2026

An appeal is not a second opportunity to fill gaps or repair weaknesses in your case.

Additional Evidence is not a tool to cover negligence or complete an incomplete case.

Legal awareness Advocacia with Marvi Chachar.. ⚖️

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: FIR میں تاخیر پر پولیس کے کردار کا تعین، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی ہدایتسپریم کورٹ آ...
24/09/2026

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: FIR میں تاخیر پر پولیس کے کردار کا تعین، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قتل کے ایک مقدمے میں نہ صرف ملزم علی رضا سیال کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی عمر قید اور ایک ملین روپے ہرجانے کی سزا برقرار رکھی بلکہ FIR کے اندراج میں غیر ضروری تاخیر اور پولیس کے طرزِ عمل کے حوالے سے بھی اہم اصول وضع کیے ہیں۔

فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا جبکہ جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ بھی بنچ کا حصہ تھے۔

📍مقدمہ کا پس منظر:

مقدمہ کے مطابق واقعہ 30 اپریل 2012ء کو دادو، سیتا روڈ کے علاقے میں پیش آیا، جہاں ملزم علی رضا سیال نے اپنے والد کی مبینہ ترغیب پر عاشقان علی کو خنجر کے وار کرکے قتل کیا۔

سپریم کورٹ نے دستیاب شہادت کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ مقتول کے بیٹے، جو مقدمہ میں مستغیث تھا، اور مقتول کے بھتیجے کی گواہی قابلِ اعتماد تھی اور میڈیکل شہادت سے بھی اس کی تائید ہوتی تھی۔ عدالت کے مطابق محض گواہوں کا مقتول سے رشتہ دار ہونا یا معمولی نوعیت کے تضادات ایسی شہادت کو ناقابلِ اعتبار نہیں بناتے، جبکہ آلۂ قتل بھی ملزم کی نشاندہی پر برآمد ہوا۔

📍۔FIR میں تین روزہ تاخیر: پولیس ذمہ دار قرار

عدالت کے سامنے ایک اہم سوال FIR کے اندراج میں غیر معمولی تاخیر کا تھا۔

ریکارڈ کے مطابق وقوعہ 30 اپریل 2012ء کو تقریباً رات 8:30 بجے پیش آیا، پولیس کو تقریباً 8:40 بجے اطلاع مل چکی تھی اور روزنامچہ و دیگر پولیس ریکارڈ کے مطابق پولیس تقریباً 9:00 بجے موقع پر موجود تھی، تاہم FIR 3 مئی 2012ء کو درج کی گئی۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ موجودہ معاملے میں FIR کے اندراج میں تاخیر مستغیث کی طرف سے نہیں ہوئی بلکہ پولیس کی جانب سے ہوئی۔ لہٰذا پولیس کی غفلت یا تاخیر کا منفی اثر شکایت کنندہ/مستغیث پر نہیں ڈالا جا سکتا۔

📍۔FIR میں تاخیر محض رسمی یا محکمانہ معاملہ نہیں

عدالت نے پولیس کو FIR کے بروقت اندراج کی آئینی و قانونی ذمہ داری کا احساس دلاتے ہوئے قرار دیا کہ اگر پولیس کو کسی قابلِ دست اندازی جرم (cognizable offence) کی اطلاع مل جائے اور اس کے باوجود FIR کے اندراج میں بلاجواز تاخیر کی جائے، خصوصاً ایسی تاخیر کے نتیجے میں مادی یا فارنزک شواہد ضائع ہونے کا امکان پیدا ہو، تو معاملہ محض procedural lapse تک محدود نہیں رہتا۔

ایسی صورتِ حال میں، مقدمے کے مخصوص حقائق اور متعلقہ قانونی تقاضوں کے مطابق، ذمہ دار پولیس اہلکار کے خلاف Section 201 PPC کے تحت کارروائی کا سوال پیدا ہو سکتا ہے۔

📍ہر سیشن اور مجسٹریٹ عدالت FIR میں تاخیر کا جائزہ لے گی

فیصلے میں ٹرائل کورٹس کے کردار پر بھی زور دیا گیا ہے۔ عدالتوں کو FIR کے اندراج میں ہونے والی غیر معمولی تاخیر کو محض نظرانداز کرنے کے بجائے یہ دیکھنا ہوگا کہ:

تاخیر کیوں ہوئی؟
پولیس کو جرم کی اطلاع کب ملی؟
۔FIR کب درج ہوئی؟
تاخیر کا ذمہ دار کون تھا؟
اور کیا اس تاخیر کے نتیجے میں کوئی شہادت یا فارنزک ثبوت متاثر ہوا؟

اس طرح FIR میں تاخیر کے معاملے میں پولیس کے کردار کا تعین ریکارڈ اور حالات کی روشنی میں کیا جائے گا اور جہاں قانوناً ضروری ہو وہاں متعلقہ حکام کو کارروائی کے لیے معاملہ بھیجا جا سکے گا۔

📍پولیس کی نوآبادیاتی زبان پر بھی اعتراض:

سپریم کورٹ نے پولیس کے سرکاری کاغذات اور عوام سے متعلق کارروائی میں استعمال ہونے والی زبان پر بھی توجہ دلائی اور نوآبادیاتی طرزِ اظہار سے گریز کی ضرورت پر زور دیا۔

عدالت نے اس امر کی نشاندہی کی کہ شہری اپنے قانونی حق کے حصول کے لیے پولیس سے رجوع کرتے ہیں؛ انہیں کسی افسر کے سامنے رحم یا احسان کے طلب گار کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔

اسی تناظر میں پولیس دستاویزات میں “فریادی” اور “بخدمت جناب SHO” جیسے روایتی الفاظ کے استعمال کے بجائے شہری کے قانونی حق اور ریاستی ادارے کی ذمہ داری کو مدنظر رکھنے والی زبان اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔

📍پولیس افسران کے خلاف قانونی و محکمانہ کارروائی:

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ FIR کے اندراج میں تاخیر کے ذمہ دار پولیس افسران کے کردار کو متعلقہ عدالتیں اور محکمہ پولیس نظرانداز نہ کریں۔ اگر کسی افسر کی دانستہ غفلت یا تاخیر سے شہادت ضائع ہونے یا جرم کے ثبوت کو متاثر ہونے کا معاملہ سامنے آئے تو قانون کے مطابق فوجداری اور محکمانہ کارروائی کا تعین کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے پولیس کے اعلیٰ حکام کو بھی اس عدالتی ہدایت پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کی طرف متوجہ کیا ہے۔

📍قتل کے مقدمات کا ریکارڈ طلب:

عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو ہدایت کی کہ یکم جنوری 2025ء سے فیصلے کی تاریخ تک ایسے تمام قتل کے مقدمات کا ریکارڈ پیش کیا جائے جن میں FIR کے اندراج میں 24 گھنٹے سے زائد تاخیر ہوئی، تاکہ تاخیر کی وجوہات اور متعلقہ پولیس کے کردار کا جائزہ لیا جا سکے۔

📍عوامی قانونی آگاہی کے لیے سابقہ فیصلہ سندھی زبان میں۔

سپریم کورٹ نے “محمد بخش کیس” کے سابقہ فیصلے کا سندھی زبان میں ترجمہ کروا کر اسے عدالت کی ویب سائٹ پر دستیاب کرانے کی ہدایت بھی کی، تاکہ عام شہری اپنے قانونی حقوق سے زیادہ بہتر طور پر آگاہ ہو سکیں۔

📍اہم قانونی اصول

۔FIR کا بروقت اندراج پولیس کی بنیادی قانونی ذمہ داری ہے۔ قابلِ دست اندازی جرم کی اطلاع ملنے کے باوجود بلاجواز تاخیر، خصوصاً جب اس سے شہادت یا فارنزک ثبوت متاثر ہونے کا امکان ہو، محض ایک معمولی procedural lapse نہیں سمجھی جا سکتی۔ ایسے معاملے میں متعلقہ پولیس اہلکار کی ذمہ داری کا تعین اور، حالات کے مطابق، Section 201 PPC سمیت دیگر متعلقہ قانونی دفعات کے تحت کارروائی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

نتیجہ: سپریم کورٹ نے ملزم علی رضا سیال کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی عمر قید اور ایک ملین روپے ہرجانے کی سزا برقرار رکھی، تاہم ساتھ ہی FIR کے بروقت اندراج، پولیس کی جواب دہی، شواہد کے تحفظ اور عوام کے ساتھ ریاستی اداروں کے طرزِ عمل سے متعلق اہم ہدایات جاری کیں۔

UN Delegates Walk Out During Netanyahu's Speech. --------------------------------------------  🌎
23/09/2026

UN Delegates Walk Out During Netanyahu's Speech. -------------------------------------------- 🌎

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ ...
23/09/2026

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ جنگ میں فوجی طاقت کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا تاہم ایران تنازع کے خاتمے کے لیے سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے۔
اپنے خطاب کے آغاز میں ایرانی صدر نے آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور میناب کے ان اسکول کے بچوں کی تصاویر دکھائیں جو امریکی اور صیہونی حملوں کا نشانہ بنے۔

اب ہر سیشن اور مجسٹریٹ کورٹ ایف آئی آر کی تاخیر پر پولیس کے کردار کا تعین کرے گی اور رپورٹ آئی جی کو بھیجے گی۔قابلِ دست ...
21/09/2026

اب ہر سیشن اور مجسٹریٹ کورٹ ایف آئی آر کی تاخیر پر پولیس کے کردار کا تعین کرے گی اور رپورٹ آئی جی کو بھیجے گی۔
قابلِ دست اندازی جرم کی اطلاع ملنے کے باوجود ایف آئی آر درج نہ کرنا یا تاخیر کرنا جس سے ثبوت ضائع ہوں، محض طریقہ کار کی غلطی نہیں بلکہ جرم کے ثبوت مٹانے (Section 201 PPC) کے زمرے میں آتا ہے۔

یہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک اہم فیصلہ (Judgment) ہے، جسے جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا ہے اور جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ بھی اس بنچ کا حصہ تھے۔

1. کیس کا پس منظر اور فیصلہ
* سزا کی توثیق: سپریم کورٹ نے ملزم علی رضا سیال کی درخواستِ اپیل مسترد کر دی ہے۔ ملزم کی عمر قید اور 1,000,000 روپے ہرجانے کی سزا (جو اسے قتل کے جرم میں دی گئی تھی) کو برقرار رکھا گیا ہے۔
* واقعہ: یہ واقعہ 30 اپریل 2012 کو دادو (سیتا روڈ) میں پیش آیا تھا، جہاں ملزم نے اپنے والد کی شہ پر عاشقان علی (مقتول) کو خنجر مار کر قتل کر دیا تھا۔
* عدالتی موازنہ: عدالت نے قرار دیا کہ مقتول کے بیٹے (مستغیث) اور بھتیجے کی گواہی بالکل سچی، اعتماد کے قابل اور میڈیکل رپورٹ (ڈاکٹر کی رپورٹ) سے مکمل مطابقت رکھتی ہے۔ آلۂ قتل (خنجر) بھی ملزم کی نشاندہی پر برآمد ہوا تھا۔ گواہوں کی آپسی رشتہ داری یا وقت گزرنے کے باعث معمولی تضادات سے مرکزی کیس پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
2. ایف آئی آر (FIR) میں تاخیر اور پولس کی غفلت
* پولیس کا رخ: واقعہ 30 اپریل 2012 کی رات 8:30 بجے ہوا، اور پولیس کو 8:40 بجے ہی اطلاع مل گئی تھی (روزنامچے اور لاش جانچ فارم کے مطابق پولیس 9:00 بجے موقع پر موجود تھی)۔ اس کے باوجود ایف آئی آر 3 دن بعد (3 مئی 2012) درج کی گئی۔
* شہری کا دفاع: عدالت نے واضح کیا کہ ایف آئی آر میں یہ تاخیر مدعی/مستغیث کی طرف سے نہیں بلکہ پولیس کی غفلت کی وجہ سے ہوئی۔ لہٰذا، پولیس کی سستی یا ناہلی کی سزا شاکی (فریادی) کو نہیں دی جا سکتی۔
3. پولیس اصلاحات اور عدالتی ہدایات
عدالت نے سندھ اور دیگر صوبوں کی پولیس کے رویے اور نظام پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے درج ذیل اہم احکامات جاری کیے:
* نوآبادیاتی (Colonial) الفاظ کا خاتمہ:
* پولیس کے کاغذات میں "فریادی" یا "بخدمت جناب ایس ایچ او" جیسے الفاظ کے استعمال کو سختی سے منع کر دیا گیا۔
* عدالت نے کہا کہ شہری اپنے حق کے لیے پولیس کے پاس آتے ہیں، رحم کی بھیک یا التجا (Cry/Lamentation) کے لیے نہیں۔ ایس ایچ او عوام کا خادم ہے، مالک نہیں۔
* پولیس افسران کے خلاف سیشن 201 PPC کے تحت کارروائی:
* اگر پولیس کو قابلِ دست اندازی (Cognizable) جرم کی اطلاع مل جائے اور وہ قصداً ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کرے جس سے ثبوت یا فارنزک ثبوت ضائع ہوں، تو یہ صرف طریقہ کار کی غلطی نہیں بلکہ جرم کے ثبوت مٹانے (Section 201 PPC) کے زمرے میں آئے گا اور متعلقہ پولیس اہلکار کے خلاف پرچہ درج ہو سکتا ہے۔
* عدالتی اداروں (Trial Courts) کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ایف آئی آر میں پولیس کی جانب سے تاخیر کا نوٹس لیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی و محکماتی کارروائی کا حکم دیں۔
* آئی جی ایس (IGPs) کو توہینِ عدالت کی تنبیہ:
* سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اس فیصلے کے بعد اگر ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر یا پرانے نوآبادیاتی الفاظ کا استعمال جاری رہا، تو تمام آئی جی پیز (IGPs)، ایس پیز (SP Investigation) اور ایس ڈی پی اوز (SDPOs) کے خلاف توہینِ عدالت (Contempt of Court) کی کارروائی کی جائے گی۔
* دیگر انتظامی احکامات:
* پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو حکم دیا گیا کہ وہ 1 جنوری 2025 سے فیصلے کی تاریخ تک کے تمام قتل کے مقدمات کا ریکارڈ (جس میں 24 گھنٹے سے زیادہ تاخیر سے FIR درج ہوئی) 2 ماہ کے اندر عدالت کے چیمبر میں جمع کرائیں۔
* رجسٹرار سپریم کورٹ کو ہدایت کی گئی کہ وہ 'محمد بخش کیس' کے سابقہ تاریخی فیصلے کا سندھی زبان میں ترجمہ کروا کر ویب سائٹ پر اپ لوڈ کریں تاکہ عام عوام اپنے حقوق سے آگاہ ہو سکے۔
نتیجہ: سپریم کورٹ نے ملزم کی اپیل خارج کرتے ہوئے اس کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی اور ساتھ ہی سندھ پولیس میں ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر اور تحکمانہ زبان کے استعمال پر سخت قانونی قدغنیں عائد کر دیں۔.

Address

Karachi Lines

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 13:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923047789017

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Akhtar Ali kanhar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Advocate Akhtar Ali kanhar:

Shortcuts

Share

Category