Advocate Akhtar Ali kanhar

Advocate Akhtar Ali kanhar deal's all kind of cases like a civil criminal family revenue anti corruption NAB FIA marriage etc
03133488781

25/08/2026

2026 SCMR 251
As per report of Medical Officer, at the time of post mortem, rigor mortis was fully developed---Rigor mortis signified the post-mortem stiffening of both voluntary and involuntary muscles in the human body---Such process typically commenced within 2 to 4 hours after death and achieved full development within approximately 12 hours in a temperate climate---Similarly, the reverse process with which rigor mortis disappeared was called algor mortis---In sudden natural deaths occurring in a temperate climate during average seasonal conditions rigor mortis usually commenced within 2 to 4 hours of death, which reached to a peak in about 12 hours and started to disappear after another 12 hours---Admittedly, the deceased was young male of 26 years in a temperate climate area where the weather was comparatively hot even in early winters---Occurrence statedly took place at 06:00 p.m. and the post-mortem was conducted the next day at 01:30a.m. i.e. after 7-1/2 hours---Swift development of complete rigor mortis on the body of young adult deceased in the temperate region contradicted the time of occurrence deposed by the prosecution witnesses and development of rigor mortis within such short span of time was implausible which suggested that the occurrence did not appear to have taken place at the point of time mentioned by the witnesses---Determination of time was further clarified by deposition of Medical Officer who conducted post-mortem of deceased---Said Medical Officer admitted during the cross-examination that as per his report, the time duration between death and post mortem was sixteen to eighteen hours and by that calculation the death occurred on 15.10.2005 in between 7:30 a.m. to 09:30 a.m.---Said witness further admitted that according to the condition of dead body it was impossible that death occurred in between 05:00 p.m. to 07:00 p.m. as alleged by prosecution---Deposition of expert witness/Medical Officer also appeared to be in accord with the medical jurisprudence---

Legal practitioner and bar council act Law G*T
25/08/2026

Legal practitioner and bar council act
Law G*T

QSO Law of evidence
25/08/2026

QSO
Law of evidence

23/08/2026
23/08/2026
1932 کی پرانی رجسٹری بھی ملکیت ثابت نہ کرسکی—سپریم کورٹ نے کہا: پرانا کاغذ، خود بخود ملکیت کا ثبوت نہیں بنتا!یہ فیصلہ زم...
23/08/2026

1932 کی پرانی رجسٹری بھی ملکیت ثابت نہ کر
سکی—سپریم کورٹ نے کہا: پرانا کاغذ، خود بخود ملکیت کا ثبوت نہیں بنتا!

یہ فیصلہ زمین کی ملکیت، پرانی دستاویزات، انتقال، ریونیو ریکارڈ اور ثبوتِ ملکیت کے حوالے سے نہایت اہم ہے۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ صرف 1932 کی پرانی Sale Deed، Mutation یا کاشت کے اندراج کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ زمین کی ملکیت منتقل ہو چکی تھی۔

📌 تنازع اصل میں کیا تھا؟

مدعا علیہان کا مؤقف تھا کہ متنازعہ زمین ان کے پیشرو نے 25 جولائی 1932 کو خرید لی تھی۔ اس دعوے کے لیے انہوں نے بنیادی طور پر:

1932 کی Sale Deed
Mutation No. 63
ریونیو ریکارڈ میں کاشت/لگان کے اندراجات
پیش کیے۔
لیکن سپریم کورٹ نے کہا کہ صرف یہ دستاویزات پیش کر دینا کافی نہیں تھا؛ اصل فروخت اور ملکیت کی منتقلی کو قانون کے مطابق ثابت کرنا بھی ضروری تھا۔

🔹 کیا 30 سال سے پرانی دستاویز حتمی ثبوت بن جاتی ہے؟

نہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ پرانی دستاویز کے بارے میں قانون بعض حالات میں اس کے ex*****on یا signatures کے حوالے سے presumption کی اجازت دیتا ہے، لیکن:

Presumption is not conclusive proof.

یعنی صرف یہ کہنا کہ “دستاویز 1932 کی ہے، اس لیے لازماً درست ہوگی” کافی نہیں۔
اگر حالات و شواہد اس لین دین پر سنجیدہ سوال اٹھاتے ہوں تو یہ presumption ختم بھی ہو سکتی ہے۔

🔹 Sale Deed اور Mutation میں رقم مختلف تھی
1932 کی Sale Deed میں قیمت 90 روپے درج تھی، جبکہ Mutation No.63 میں یہی رقم 100 روپے لکھی گئی۔
مدعا علیہان اس فرق کی قابلِ اطمینان وضاحت نہ کر سکے۔
عدالت کے نزدیک ایک ہی مبینہ لین دین سے متعلق دو اہم دستاویزات میں ایسا تضاد اہم تھا اور اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔

🔹 زمین کی شناخت بھی واضح نہ ہو سکی

ایک اور اہم مسئلہ یہ تھا کہ پرانی Sale Deed میں موجود تفصیل سے یہ اطمینان بخش طور پر ثابت نہیں ہو رہا تھا کہ 1932 میں فروخت ہونے والی زمین وہی زمین تھی جو موجودہ مقدمے میں متنازعہ تھی۔
یعنی بنیادی سوال ہی پوری طرح حل نہیں ہوا:
آخر 1932 میں کون سی زمین فروخت ہوئی تھی؟
جب زمین کی شناخت ہی مشکوک ہو تو محض پرانی دستاویز کی بنیاد پر موجودہ زمین کی ملکیت ثابت نہیں کی جا سکتی۔
🔹 پرانی Sale Deed بھی باقاعدہ ثابت کرنا ضروری ہے

یہ فیصلہ کا نہایت اہم evidentiary principle ہے۔
مدعا علیہان نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ Sale Deed 1984 کے Qanun-e-Shahadat Order سے پہلے کی ہے، اس لیے Article 79 کی requirements لاگو نہیں ہوں گی۔
سپریم کورٹ نے اس مؤقف کو قبول نہیں کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ دستاویز کو اس وقت نافذ قانون کے مطابق ثابت کرنا ہوگا، یعنی Evidence Act, 1872 کی Section 68 کے تقاضے پورے کرنا ضروری تھے۔

لیکن:

attesting witnesses پیش نہیں کیے گئے؛
ان کی وفات یا عدم دستیابی ثابت نہیں کی گئی؛
ان کے signatures/thumb impressions کی شناخت کے لیے مناسب ثبوت نہیں دیا گیا۔

لہٰذا Sale Deed کی ex*****on بھی مناسب طریقے سے ثابت نہ ہو سکی۔

⚖️ Mutation ملکیت پیدا نہیں کرتا
سپریم کورٹ نے ایک بار پھر بنیادی اصول دہرایا:
Mutation title نہیں ہوتا۔
انتقال بنیادی طور پر revenue/fiscal purposes کے لیے ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے زمین خریدی ہے تو اسے اصل sale transaction بھی ثابت کرنا ہوگا۔

یعنی:
Mutation ≠ Ownership

🌾 کاشت کا اندراج بھی ملکیت کا ثبوت نہیں

مدعا علیہان کے پیشرو کا نام ریونیو ریکارڈ میں کاشت/لگان کے کالم میں موجود تھا، جبکہ ملکیت کے کالم میں مدعی کے پیشرو کا نام برقرار تھا۔
عدالت نے واضح کیا کہ کاشت کا اندراج مختلف قانونی حیثیتوں کے ساتھ compatible ہو سکتا ہے، مثلاً:

permissive possession؛
tenancy؛
cultivation rights۔

اس لیے:

Cultivation ≠ Ownership

🏦 1991 کی Mortgage نے پرانے دعوے پر بڑا سوال اٹھا دیا

مقدمے میں ایک انتہائی اہم circumstantial evidence یہ بھی تھا کہ مدعی کے پیشرو نے بعد میں یہی زمین Agricultural Development Bank کے پاس mortgage کی۔
بعد میں وہ mortgage بھی redeem کر دی گئی۔
سپریم کورٹ نے اس subsequent conduct کو اہم سمجھا۔
اگر واقعی 1932 میں زمین فروخت ہو کر ملکیت منتقل ہو چکی تھی تو پھر مدعی کے پیشرو کے پاس 1991 میں اس زمین کو mortgage کرنے کا حق کیسے باقی رہ گیا؟
یہ بعد کا عمل defendants کے 1932 والے دعوے سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔

📂 اہم دستاویز چھپانے پر adverse inference

Revenue proceedings میں Pert Patwar اور Pert Sarkar دونوں اہم ریکارڈ تھے۔
مدعا علیہان نے Pert Patwar تو پیش کی، لیکن Pert Sarkar پیش نہیں کی اور اسے روکنے کی کوئی تسلی بخش وجہ بھی نہیں بتائی۔
سپریم کورٹ نے Article 129(g), Qanun-e-Shahadat Order, 1984 کے تحت adverse inference لیا۔

سادہ الفاظ میں:

اگر کسی فریق کے پاس اہم ترین ثبوت موجود ہو اور وہ بلاجواز اسے عدالت سے چھپائے، تو عدالت یہ سمجھ سکتی ہے کہ وہ ثبوت اس فریق کے حق میں نہیں تھا۔

⚖️ سپریم کورٹ نے تمام شواہد کو مجموعی طور پر دیکھا

عدالت نے صرف ایک خامی کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا بلکہ تمام حالات کو اکٹھا دیکھا، جن میں:
90 روپے بمقابلہ 100 روپے کی discrepancy، زمین کی شناخت کا مسئلہ، Sale Deed کا صحیح طور پر ثابت نہ ہونا، attesting witnesses کی عدم پیشی، مسلسل ownership entries، بعد کی mortgage، Pert Sarkar کی عدم پیشی اور mutation میں crop sale کا مبہم ذکر شامل تھے۔
ان تمام حالات کو مجموعی طور پر دیکھنے کے بعد عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ defendants 1932 میں ملکیت منتقل ہونے کا دعویٰ ثابت نہیں کر سکے۔

🏛️ حتمی فیصلہ

سپریم کورٹ نے ماتحت عدالتوں کے concurrent findings میں کوئی ایسی:

illegality؛
material irregularity؛
misreading/non-reading of evidence؛ یا
jurisdictional defect

نہیں پایا جس کی بنیاد پر مداخلت ضروری ہوتی۔

چنانچہ Civil Appeal No.19-P of 2015 خارج کر دی گئی اور مدعی کے حق میں موجود decree برقرار رہی۔

⭐ فیصلے کا آسان قانونی سبق

زمین کی ملکیت صرف پرانے کاغذ، انتقال یا کاشت کے اندراج سے ثابت نہیں ہوتی۔
جو شخص کسی پرانی Sale Deed کی بنیاد پر ملکیت کا دعویٰ کرے گا، اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ:
کیا واقعی فروخت ہوئی؟
کس زمین کی فروخت ہوئی؟
دستاویز قانون کے مطابق ثابت ہے؟
اور بعد کے حالات بھی اس دعوے کی تائید کرتے ہیں یا نہیں؟

سب سے اہم بات:

پرانا دستاویز قابلِ غور ضرور ہو سکتا ہے، لیکن صرف پرانا ہونے کی وجہ سے وہ ملکیت کا حتمی ثبوت نہیں بن جاتا

#

Important section of Qanun-e-Shahadat
22/08/2026

Important section of Qanun-e-Shahadat

Address

Karachi Lines

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 13:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923047789017

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Akhtar Ali kanhar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Advocate Akhtar Ali kanhar:

Shortcuts

Share

Category