09/08/2026
*اشتراک کا طریقہ کار*
پنجاب میں بکھری ہوئی زرعی اراضی کو یکجا کرنے کا نیا طریقہ کار
7 اگست 2026ء کو حکومتِ پنجاب نے اراضی کی تقسیم کے عمل کو مزید آسان، مؤثر اور منظم بنانے کے لیے ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ نئے طریقہ کار کے تحت پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967ء کی دفعہ 147-A کے تحت وراثتی یا مشترکہ اراضی کی تقسیم سے قبل چھوٹی چھوٹی اور بکھری ہوئی ہولڈنگز کو پہلے یکجا کیا جا سکے گا، تاکہ بعد ازاں تقسیم کا عمل زیادہ سہل اور قابلِ عمل ہو۔
اس طریقہ کار کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایک ہی مالک کی مختلف جگہوں پر موجود چھوٹی چھوٹی اراضی کو ممکنہ حد تک ایک جگہ یکجا کیا جائے۔ اس سے زمین کے غیر ضروری بکھراؤ میں کمی آئے گی، کاشت کاری آسان ہوگی اور ریونیو ریکارڈ کی دیکھ بھال بھی زیادہ مؤثر انداز میں کی جا سکے گی۔
درخواست اور منظوری کا طریقہ
اس مقصد کے لیے سب ڈویژن کے کلکٹر کو درخواست دی جائے گی۔ درخواست موصول ہونے کے بعد سرکل ریونیو آفیسر متعلقہ مالکان میں سے کم از کم 25 فیصد مالکان کی رضامندی حاصل کرے گا۔
اس کے بعد منظوری کا عمل مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے گا:
- 15 دن میں سرکل ریونیو آفیسر کی کارروائی
- اس کے بعد 7 دن میں سب ڈویژن کلکٹر کی منظوری
- مزید 7 دن میں ضلع کلکٹر کی منظوری
منظوری مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ریونیو آفیسر فوری طور پر یکجا شدہ ہولڈنگ کی تقسیم کا عمل شروع کرے گا۔
کسانوں اور ریونیو نظام کے لیے اہم قدم
یہ اقدام خاص طور پر ان علاقوں کے لیے اہم ہے جہاں نسل در نسل وراثتی تقسیم کے باعث زرعی زمین چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے۔ ایسی بکھری ہوئی زمین نہ صرف کاشت کاری میں مشکلات پیدا کرتی ہے بلکہ راستوں، حدود، قبضے اور ریونیو ریکارڈ سے متعلق مسائل میں بھی اضافہ کرتی ہے۔
نئے طریقہ کار سے امید ہے کہ زمین کی تقسیم زیادہ منظم انداز میں ہوگی، چھوٹی اور بکھری ہوئی ہولڈنگز کو یکجا کرنے کے مواقع پیدا ہوں گے اور ریونیو افسران کے لیے ریکارڈ کی درستگی اور زمین سے متعلق معاملات کو نمٹانا نسبتاً آسان ہو جائے گا۔
مختصراً، یہ اقدام صرف زمین کو یکجا کرنے کا عمل نہیں بلکہ پنجاب کے دیہی علاقوں میں اراضی کے بہتر انتظام، آسان کاشت کاری اور زیادہ مؤثر ریونیو نظام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔