Sayed Zakir Law Associates Team Election PBC

Sayed Zakir Law Associates Team Election PBC All Criminal & Civil Laws and Consultations...

سید ذاکر حسین شاہ ایڈووکیٹ، قانونی شعبے کے ایک عظیم رہنما، جنہوں نے 20 سالہ شاندار پیشہ ورانہ سفر میں عدل کی آواز کو بلن...
15/11/2025

سید ذاکر حسین شاہ ایڈووکیٹ، قانونی شعبے کے ایک
عظیم رہنما، جنہوں نے 20 سالہ شاندار پیشہ ورانہ سفر میں عدل کی آواز کو بلند رکھا۔

تحصیل جتوئی بار ایسوسی ایشن کے دو بار صدر اور ایک بار سیکریٹری جنرل منتخب ہو کر انہوں نے اپنی غیر معمولی قائدانہ صلاحیتوں کا ثبوت دیا۔

سید ذاکر لائرز فورم کی قیادت بھی کر رہے ہیں، جو علاقائی وکلاء کے حقوق، تربیت اور پیشہ ورانہ معیار کو بلند کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

اب پنجاب بار کونسل الیکشن 2030-2035 کے مظفرگڑھ سیٹ سے متوقع امیدوار کے طور پر، وہ وکالت کی خدمت، دیانت داری اور عوامی فلاح کے عظیم مشن کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کی لگن اور وژن انہیں ایک مثالی لیڈر اور وکلاء کی آواز بناتا ہے

سید ذاکر لاء اسوسی آیٹس کے چند وكلاء صاحبان کا سید ذاکر حسین شاہ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کے ہمراہ لی جانے والی سادہ سی تصویر .....

Sayed Zakir Law Associates Team Election PBC

06/11/2025

Short clip of Syed Zakir Law Associates.... Office members....!!!
سید ذاکر لاء اسوسی ایٹ آفس ممبرز کا شارٹ كلپ
باقی احباب ممبرز معذرت جو اس میں شامل نہیں ہو سکے

Miss You
Miss You
Miss You
Miss You
Miss You
Miss You
Miss You
Miss You
Miss You
Miss You
Miss You
Miss You
Miss You
Miss You
Miss You
Miss You
Miss You

Request for vote and support ♥️
31/10/2025

Request for vote and support ♥️

Request For Vote And Support ❤️
31/10/2025

Request For Vote And Support ❤️

نومبر 2025 کے پنجاب بار کونسل کے  انتخابات  ڈیرہ غازیخان ڈویژن میں Sayed Zakir Law Associates Team Election PBC  بار ایس...
25/10/2025

نومبر 2025 کے پنجاب بار کونسل کے انتخابات ڈیرہ غازیخان ڈویژن میں Sayed Zakir Law Associates Team Election PBC بار ایسوسی ایشن جتوئی نے لیہ سیٹ پر غضنفر عبّاس ایڈووکیٹ (گجوشاہ) کی مکم حمایت کا اعلان کردیا

سید زاکر حسین ایڈووکیٹ ھائیکورٹ امیدوار میمبر پنجاب بار کونسل   (الیکشن 2025-2030)استدعا برائے ووٹ اینڈ سپورٹPunjab Bar ...
31/01/2025

سید زاکر حسین ایڈووکیٹ ھائیکورٹ

امیدوار میمبر پنجاب بار کونسل

(الیکشن 2025-2030)

استدعا برائے ووٹ اینڈ سپورٹ
Punjab Bar Council Pakistan Bar Council

جسٹس عائشہ اے ملک کا وفاقِ پاکستان  بنام دیوان موٹرز کیسز کی آئینی بینچ میں سماعت سے الگ ہونے پر نوٹ:یہ کیسز ابتدائی طور...
31/01/2025

جسٹس عائشہ اے ملک کا وفاقِ پاکستان بنام دیوان موٹرز کیسز کی آئینی بینچ میں سماعت سے الگ ہونے پر نوٹ:

یہ کیسز ابتدائی طور پر 16 جنوری 2025 کو ایک تین رکنی بینچ کے سامنے پیش ہوئے، جس میں جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس عائشہ اے ملک، اور جسٹس عقیل احمد عباسی شامل تھے۔ سماعت کے دوران یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ چونکہ یہ کیس آئینی ترمیم (چھبیسویں ترمیم) کے تحت عدالت کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرتا ہے، لہٰذا ان مقدمات کو صرف آئینی بینچ ہی سن سکتا ہے۔ اس اعتراض پر بینچ وکلا کو آرگومینٹس کا حکم دیا۔

بعد ازاں، سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) ایکٹ 2023 کے تحت قائم کردہ کمیٹی نے مقدمات کو موجودہ بینچ سے واپس لے کر آئینی بینچ کمیٹی کے سپرد کر دیا، جس نے 17 جنوری 2025 کو ان کیسز کی سماعت 27 جنوری 2025 کے لیے مقرر کر دی۔

اسی دوران، عدالت کے 16 جنوری 2025 کے عدالتی حکم جس میں مقدمہ کو ریگولر بینچ مین لگانے کا حکم دیا گیا تھا پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف کرمنل اوریجنل پٹیشن نمبر 1 آف 2025 شروع ہوی، جس پر سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنایا گیا۔

جسٹس عائشہ اے ملک کی عدم شمولیت کی وجوہات:
جسٹس عائشہ اے ملک نے ان کیسز کی سماعت سے معذرت کرتے ہوئے درج ذیل نکات پر زور دیا:

عدالتی احکامات کی پاسداری:
وہ اس بینچ کا حصہ تھیں، جس نے 16 جنوری 2025 کو مقدمات کے حوالے سے احکامات جاری کیے تھے، اس لیے وہ عدالتی حکم کی حرمت اور وقار کو برقرار رکھنے کے لیے ان کیسز کی سماعت نہیں کرنا چاہتیں۔

انتظامی احکامات کے ذریعے عدالتی احکامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا:
جسٹس عائشہ نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو کسی انتظامی حکم کے ذریعے کالعدم نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ عدالتی احکام عدلیہ کے اختیار اور آزادی کی علامت ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو عدالتی فیصلے سے اختلاف ہے تو اس کا حل عدالتی طریقہ کار کے مطابق نکالا جانا چاہیے، نہ کہ انتظامی اقدامات کے ذریعے۔

عدالتی و انتظامی اختیارات کی تفریق:
ایک جج کے طور پر، وہ عدالتی اور انتظامی احکامات کے فرق پر سختی سے عمل پیرا رہتی ہیں، اور اس اصول کی پاسداری ضروری ہے کہ عدالتی احکامات پر مکمل طور پر عمل کیا جائے اور ان کی خلاف ورزی نہ ہونے دی جائے۔

عدلیہ کی خود مختاری کا تحفظ:
انہوں نے موقف اختیار کیا کہ اگر عدالت کے اندرونی طور پر جاری کیے گئے انتظامی احکامات عدالتی احکامات کو بے اثر کر دیں، تو اس سے عدالتی ادارے کی خود مختاری اور تقدس کو شدید نقصان پہنچے گا، جو کہ ناقابلِ قبول ہے۔

انہوں نے اپنے فیصلے کی تائید میں درج ذیل عدالتی نظائر کا حوالہ دیا:

اسد علی بنام وفاقِ پاکستان (PLD 1998 SC 161, 1998 SCMR 130)
ہیومن رائٹس کیس نمبر 14959-K آف 2018 (PLD 2019 SC 183)

جسٹس عائشہ اے ملک کے نزدیک انتظامی احکام کو بنیاد بنا کر عدالتی فیصلوں کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، اور وہ ان مقدمات کو سننے سے گریز کر کے عدلیہ کے وقار کا تحفظ کرنا چاہتی ہیں۔

یہ معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے بینچوں کے سامنے مقدمات کی سماعت کے حوالے سے انتظامی تنازعات اور طریقہ کار کی بے ضابطگ...
28/01/2025

یہ معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے بینچوں کے سامنے مقدمات کی سماعت کے حوالے سے انتظامی تنازعات اور طریقہ کار کی بے ضابطگیوں سے متعلق اہم ترین مقدمہ اور توہین عدالت کی سماعت میں فیصلہ:

زیر سماعت مقدمہ جہاں تین رکنی بینچ (جس میں جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس عائشہ اے ملک، اور جسٹس عرفان سعادت خان شامل تھے) نے مقدمے کی سماعت کی اور اس کے بعد ایک عدالتی حکم کے تحت سماعت کی اگلی تاریخ مقرر کی۔ تاہم، انتظامیہ کی جانب سے ایک کمیٹی، جو سپریم کورٹ (عمل و طریقہ) ایکٹ 2023 کے سیکشن 2 کے تحت تشکیل دی گئی تھی، نے مقدمے کو ایک نئے آئینی بینچ کے حوالے کر دیا، جس میں عدالتی حکم کو نظرانداز کیا گیا۔ اسی دوران، ایڈیشنل رجسٹرار (جوڈیشل) کو مقدمہ مقرر نہ کرنے پر توہین عدالت کا سامنا کرنا پڑا۔

ایڈیشنل رجسٹرار نے یہ موقف پیش کیا کہ انہوں نے عدالتی حکم کی پیروی کرنے کی کوشش کی لیکن کمیٹی کے فیصلے نے عمل کو پیچیدہ بنا دیا۔ عدالت نے ان کی وضاحت کو قبول کیا اور شوکاز نوٹس واپس لے لیا۔

مزید برآں، عدالت نے طے کیا کہ:

کمیٹیاں عدالتی بینچ کے زیر سماعت مقدمے کو دوسرے بینچ کو منتقل نہیں کر سکتیں جب تک متعلقہ بینچ خود اس کی سفارش نہ کرے۔
کمیٹیاں کسی عدالتی حکم کو انتظامی حکم کے ذریعے منسوخ نہیں کر سکتیں۔
اس معاملے کو سپریم کورٹ کے فل کورٹ کے سامنے رکھا جائے گا تاکہ حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔
یہ کیس عدالتی آزادی، دائرہ اختیار، اور انتظامیہ کی حدود کے متعلق اہم نکات اٹھاتا ہے۔

ایڈیشنل رجسٹرار (جوڈیشل) کے خلاف شوکاز نوٹس کا خاتمہ:

ایڈیشنل رجسٹرار (جوڈیشل)، نذر عباس، کو اس بنیاد پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا کہ انہوں نے عدالتی حکم مورخہ 16 جنوری 2025 کے مطابق مقدمہ مقرر نہیں کیا۔
ایڈیشنل رجسٹرار نے وضاحت پیش کی کہ وہ عدالتی حکم پر عمل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن کمیٹیز کے انتظامی احکامات نے مسئلہ پیدا کر دیا۔
عدالت نے ان کے اقدامات کو بدنیتی پر مبنی قرار نہیں دیا اور ان کی 36 سالہ بے داغ سروس ریکارڈ کے پیش نظر ان کی وضاحت قبول کی۔
عدالت نے قرار دیا کہ ان کے خلاف مزید توہین عدالت کی کارروائی غیر ضروری ہے، اور شوکاز نوٹس واپس لے لیا گیا۔

کمیٹیوں کے ممبران کے خلاف کارروائی کے لیے فل کورٹ تشکیل دینے کی سفارش:

عدالت نے یہ مشاہدہ کیا کہ:
کمیٹیوں نے انتظامی احکامات کے ذریعے ایک زیر سماعت مقدمے کو اصل بینچ سے ہٹا کر آئینی بینچ کے پاس منتقل کیا، جو کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی تھی۔
ان اقدامات کی قانونی حیثیت اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا فیصلہ سپریم کورٹ کے فل کورٹ پر چھوڑ دیا گیا تاکہ یہ معاملہ جامع طور پر حل کیا جا سکے۔
عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ اس نوعیت کا سنجیدہ معاملہ تمام جج صاحبان کی اجتماعی دانش اور ادارہ جاتی غور و فکر کا متقاضی ہے۔

کمیٹیوں کی حدود اور دائرہ اختیار کے حوالے سے فیصلہ:

عدالت نے تفصیلی دلائل کے بعد فیصلہ دیا کہ:
سیکشن 2 سپریم کورٹ (عمل و طریقہ) ایکٹ 2023 اور آئین کے آرٹیکل 191 اے کے تحت قائم کی گئی کمیٹیاں انتظامی احکامات کے ذریعے عدالتی فیصلے کو ختم نہیں کر سکتیں۔
کسی مقدمے کو جو جزوی طور پر سنا جا چکا ہو، اصل بینچ کی اجازت کے بغیر کسی اور بینچ کو منتقل نہیں کیا جا سکتا۔
یہ اصول عدالتی آزادی اور عدالتی عمل کی یکسانیت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
دائرہ اختیار کے سوالات اور آئینی نکات:
عدالت نے کہا کہ اگر کسی بینچ کے دائرہ اختیار پر اعتراض ہو تو وہ بینچ خود ان اعتراضات پر فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
جو اعتراضات خاص طور پر آئین کے آرٹیکل 191 اے کی حدود میں نہیں آتے، وہ باقاعدہ بینچز کے تحت ہی اٹھائے جا سکتے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ دائرہ اختیار پر سوالات اُٹھانے کا حق بنیادی عدالتی اصولوں کا حصہ ہے۔

نظام عدل کے تسلسل کی اہمیت:

عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ ایک بار جب کوئی بینچ مقدمے کو سننا شروع کر دے، تو وہی بینچ مقدمے کو مکمل کرے، جب تک کہ کوئی غیر معمولی حالات (جیسے کسی جج کا انخلا یا ذاتی دلچسپی) موجود نہ ہوں۔

انتظامی احکامات کے ذریعے زیر سماعت مقدمے کو دوسرے بینچ میں منتقل کرنا عدالتی آزادی کے لیے خطرہ ہے۔
ایسے اقدامات عوامی اعتماد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور عدلیہ کی غیرجانبداری کو مشکوک بنا سکتے ہیں۔
یہ فیصلے عدلیہ کی خودمختاری، قانونی عمل کے تحفظ، اور ادارہ جاتی حدود کے احترام کو اجاگر کرتے ہیں۔

28/01/2025

انتظامی اور عدالتی اختیارات کا توازن: سپریم کورٹ آف پاکستان اور ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس کا معاملہ:

جنوری 2025 میں، سپریم کورٹ آف پاکستان کو ایک اہم اندرونی مسئلے کا سامنا کرنا پڑا جو اس کے انتظامی افعال اور عدالتی اختیارات کے درمیان نازک توازن کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ واقعہ ایڈیشنل رجسٹرار (جوڈیشل) نذر عباس کے گرد گھومتا ہے اور عدلیہ کی اندرونی کارروائیوں میں موجود پیچیدگیوں کو نمایاں کرتا ہے۔

یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ، جس کی سربراہی جسٹس سید منصور علی شاہ کر رہے تھے، کو کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 221-A(2) سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی درخواست سننی تھی۔ اس کیس میں بعض قوانین کی آئینی حیثیت پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ تاہم، بینچ نے نوٹ کیا کہ کیس کو پہلے سے طے شدہ سماعت کے لیے فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔ تحقیقات پر معلوم ہوا کہ کیس کو سپریم کورٹ کی پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اور آئین کے آرٹیکل 191A کے تحت قائم کردہ آئینی کمیٹی کے انتظامی فیصلوں کی بنیاد پر فہرست سے نکال کر کسی اور بینچ کو منتقل کر دیا گیا ہے۔

کیس کو طے شدہ طریقے سے فہرست میں شامل نہ کرنے کی وجہ سے، بینچ نے ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا، اور کیس کی شیڈولنگ میں ان کے کردار پر سوال اٹھایا۔ عدالت نے ان انتظامی اقدامات کی وضاحت طلب کی جن کی وجہ سے کیس کو فہرست سے نکالا گیا اور کسی اور بینچ کو منتقل کیا گیا، اور اسے عدالتی اختیارات میں ممکنہ مداخلت کے طور پر دیکھا۔

اپنے تحریری جواب میں، نذر عباس نے وضاحت کی کہ انہوں نے انتظامی کمیٹیوں کے فیصلوں کی بنیاد پر عمل کیا اور عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے اقدامات انتظامی کمیٹیوں کی ہدایات کے مطابق تھے اور ان کی طرف سے عدالتی احکامات کی جان بوجھ کر خلاف ورزی نہیں کی گئی۔

حالات اور جواب کا جائزہ لینے کے بعد، دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل احمد عباسی شامل تھے، نے نتیجہ اخذ کیا کہ نذر عباس کی طرف سے جان بوجھ کر توہین عدالت نہیں کی گئی۔ عدالت نے توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا اور تسلیم کیا کہ عباس نے بدنیتی یا ذاتی فائدے کے بغیر عمل کیا۔ تاہم، بینچ نے انتظامی کمیٹیوں کی جانب سے عدالتی احکامات کو منسوخ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا اور اس معاملے کو چیف جسٹس آف پاکستان کو بھیجتے ہوئے مکمل عدالت کے قیام کی سفارش کی تاکہ اس مسئلے کو حل کیا جا سکے۔

یہ واقعہ عدلیہ کے اندر انتظامی اور عدالتی افعال کے درمیان واضح حد بندی کو برقرار رکھنے کے اہم مسئلے کو اجاگر کرتا ہے۔ عدالت کا فیصلہ اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ انتظامی ادارے عدالتی کارروائیوں میں مداخلت کرکے اپنے اختیارات سے تجاوز نہ کریں۔ ایسی مداخلت عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جو جمہوری طرز حکمرانی کا ایک ستون ہے۔

اسی طرح کے چیلنجز دیگر دائرہ اختیار میں بھی دیکھے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر، امریکہ میں، عدلیہ پابند فیصلے جاری کرتی ہے لیکن نفاذ کے لیے ایگزیکٹو برانچ پر انحصار کرتی ہے۔ جب ایگزیکٹو برانچ نے بعض عدالتی فیصلوں کو نافذ کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا تو تناؤ پیدا ہوا، جو حکومتی شاخوں کے درمیان واضح حدود اور باہمی احترام کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ فرانس میں، کونسل ڈی ایٹا ایگزیکٹو کا قانونی مشیر اور اعلیٰ ترین انتظامی عدالت دونوں کے طور پر کام کرتی ہے، جو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایگزیکٹو اقدامات پر عدالتی نظرثانی کرتی ہے کہ وہ قانون کے مطابق ہوں۔ یہ مثالیں انتظامی افعال اور عدالتی آزادی کے درمیان توازن کے عالمی چیلنج کو ظاہر کرتی ہین۔

ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس سے متعلق کیس پاکستان کی عدلیہ کے لیے اپنے انتظامی اور عدالتی افعال کے درمیان حدود پر غور کرنے اور انہیں مضبوط کرنے کا ایک اہم لمحہ ہے۔ ان اندرونی چیلنجوں کو حل کرکے، سپریم کورٹ اپنے ادارہ جاتی سالمیت کو مضبوط کر سکتی ہے اور قانون کی حکمرانی کے لیے ضروری عدالتی آزادی کے اصولوں کو برقرار رکھ سکتی ہے...!!!

سید زاکر حسین ایڈووکیٹ ھائیکورٹ امیدوار میمبر پنجاب بار کونسل   (الیکشن 2025-2030)استدعا برائے ووٹ اینڈ سپورٹ
18/01/2025

سید زاکر حسین ایڈووکیٹ ھائیکورٹ

امیدوار میمبر پنجاب بار کونسل

(الیکشن 2025-2030)

استدعا برائے ووٹ اینڈ سپورٹ

Address

Jatoi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sayed Zakir Law Associates Team Election PBC posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share