31/01/2025
جسٹس عائشہ اے ملک کا وفاقِ پاکستان بنام دیوان موٹرز کیسز کی آئینی بینچ میں سماعت سے الگ ہونے پر نوٹ:
یہ کیسز ابتدائی طور پر 16 جنوری 2025 کو ایک تین رکنی بینچ کے سامنے پیش ہوئے، جس میں جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس عائشہ اے ملک، اور جسٹس عقیل احمد عباسی شامل تھے۔ سماعت کے دوران یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ چونکہ یہ کیس آئینی ترمیم (چھبیسویں ترمیم) کے تحت عدالت کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرتا ہے، لہٰذا ان مقدمات کو صرف آئینی بینچ ہی سن سکتا ہے۔ اس اعتراض پر بینچ وکلا کو آرگومینٹس کا حکم دیا۔
بعد ازاں، سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) ایکٹ 2023 کے تحت قائم کردہ کمیٹی نے مقدمات کو موجودہ بینچ سے واپس لے کر آئینی بینچ کمیٹی کے سپرد کر دیا، جس نے 17 جنوری 2025 کو ان کیسز کی سماعت 27 جنوری 2025 کے لیے مقرر کر دی۔
اسی دوران، عدالت کے 16 جنوری 2025 کے عدالتی حکم جس میں مقدمہ کو ریگولر بینچ مین لگانے کا حکم دیا گیا تھا پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف کرمنل اوریجنل پٹیشن نمبر 1 آف 2025 شروع ہوی، جس پر سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنایا گیا۔
جسٹس عائشہ اے ملک کی عدم شمولیت کی وجوہات:
جسٹس عائشہ اے ملک نے ان کیسز کی سماعت سے معذرت کرتے ہوئے درج ذیل نکات پر زور دیا:
عدالتی احکامات کی پاسداری:
وہ اس بینچ کا حصہ تھیں، جس نے 16 جنوری 2025 کو مقدمات کے حوالے سے احکامات جاری کیے تھے، اس لیے وہ عدالتی حکم کی حرمت اور وقار کو برقرار رکھنے کے لیے ان کیسز کی سماعت نہیں کرنا چاہتیں۔
انتظامی احکامات کے ذریعے عدالتی احکامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا:
جسٹس عائشہ نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو کسی انتظامی حکم کے ذریعے کالعدم نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ عدالتی احکام عدلیہ کے اختیار اور آزادی کی علامت ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو عدالتی فیصلے سے اختلاف ہے تو اس کا حل عدالتی طریقہ کار کے مطابق نکالا جانا چاہیے، نہ کہ انتظامی اقدامات کے ذریعے۔
عدالتی و انتظامی اختیارات کی تفریق:
ایک جج کے طور پر، وہ عدالتی اور انتظامی احکامات کے فرق پر سختی سے عمل پیرا رہتی ہیں، اور اس اصول کی پاسداری ضروری ہے کہ عدالتی احکامات پر مکمل طور پر عمل کیا جائے اور ان کی خلاف ورزی نہ ہونے دی جائے۔
عدلیہ کی خود مختاری کا تحفظ:
انہوں نے موقف اختیار کیا کہ اگر عدالت کے اندرونی طور پر جاری کیے گئے انتظامی احکامات عدالتی احکامات کو بے اثر کر دیں، تو اس سے عدالتی ادارے کی خود مختاری اور تقدس کو شدید نقصان پہنچے گا، جو کہ ناقابلِ قبول ہے۔
انہوں نے اپنے فیصلے کی تائید میں درج ذیل عدالتی نظائر کا حوالہ دیا:
اسد علی بنام وفاقِ پاکستان (PLD 1998 SC 161, 1998 SCMR 130)
ہیومن رائٹس کیس نمبر 14959-K آف 2018 (PLD 2019 SC 183)
جسٹس عائشہ اے ملک کے نزدیک انتظامی احکام کو بنیاد بنا کر عدالتی فیصلوں کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، اور وہ ان مقدمات کو سننے سے گریز کر کے عدلیہ کے وقار کا تحفظ کرنا چاہتی ہیں۔