Haider Law Chamber

Haider Law Chamber Adv Syed Ali Imran
M.A(Political Science)L.L.B
Income Tax Consultant. Expert in Income Tax Services

15/05/2026

اہم ٹیکس آگاہی۔
سیکشن 75A انکم ٹیکس آرڈیننس 2001۔

حکومتِ پاکستان اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے معیشت کو دستاویزی بنانے، کالے دھن کی روک تھام اور مالی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سیکشن 75A کو مؤثر انداز میں نافذ کرنا شروع کر دیا ہے۔

اس قانون کے تحت مخصوص مالیت سے زائد اثاثوں کی خریداری صرف بینکنگ چینل یا ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

سیکشن 75A کیا کہتا ہے؟
سیکشن 75A کے مطابق اگر کوئی شخص مخصوص حد سے زائد مالیت کا اثاثہ خریدتا ہے تو اس کی ادائیگی نقد رقم کے بجائے بینکنگ ذرائع سے کرنا ضروری ہوگی تاکہ لین دین کا مکمل ریکارڈ موجود رہے اور اس کی تصدیق کی جا سکے۔

کن اثاثوں پر یہ قانون لاگو ہوتا ہے؟

غیر منقولہ جائیداد
اگر مالیت 50 لاکھ روپے سے زائد ہو، مثلاً:
▪️ پلاٹ
▪️ گھر
▪️ فلیٹ
▪️ دکان
▪️ کمرشل بلڈنگ

دیگر اثاثے
اگر مالیت 10 لاکھ روپے سے زائد ہو، مثلاً:
▪️ گاڑیاں
▪️ مشینری
▪️ صنعتی آلات
▪️ کاروباری سامان
▪️ قیمتی اثاثے۔

ادائیگی کن ذرائع سے کی جا سکتی ہے؟
قانون کے مطابق درج ذیل ذرائع قابل قبول ہیں:

✔ کراس چیک
✔ پے آرڈر
✔ ڈیمانڈ ڈرافٹ
✔ بینکنگ انسٹرومنٹ
✔ آن لائن بینک ٹرانسفر
✔ ڈیجیٹل ادائیگی
✔ ایک بینک اکاؤنٹ سے دوسرے بینک اکاؤنٹ میں براہِ راست ٹرانسفر۔

متعلقہ قانونی دفعات:
▪️ سیکشن 75A — اثاثوں کی خریداری بینکنگ چینل کے ذریعے
▪️ سیکشن 22 — ڈپریسی ایشن الاؤنس
▪️ سیکشن 23 — ابتدائی الاؤنس
▪️ سیکشن 24 — فرسٹ ایئر الاؤنس
▪️ سیکشن 25 — غیر محسوس اثاثوں کی امارٹائزیشن
▪️ سیکشن 76 — اثاثے کی لاگت کا تعین۔

اگر قانون پر عمل نہ کیا جائے تو کیا ہوگا؟
اگر مقررہ حد سے زائد مالیت کا اثاثہ نقد رقم سے خریدا جائے تو:

سیکشن 22، 23، 24 اور 25 کے تحت ٹیکس فوائد، ڈپریسی ایشن اور دیگر الاؤنسز نہیں مل سکیں گے۔

سیکشن 76 کے تحت خریداری لاگت تسلیم نہ کیے جانے کا خطرہ ہوگا، جس کے نتیجے میں فروخت کے وقت زیادہ ٹیکس بن سکتا ہے۔

۔ FBR شوکاز نوٹس، انکوائری اور جرمانہ کارروائی شروع کر سکتا ہے۔

لین دین کو غیر دستاویزی یا مشکوک تصور کیا جا سکتا ہے۔
بینکنگ ٹریل نہ ہونے کی وجہ سے مستقبل میں قانونی اور ٹیکس تنازعات پیدا ہو سکتے ہیں۔

کاروباری افراد اور سرمایہ کاروں کے لیے اہم ہدایات:

√ہر بڑی ادائیگی بینکنگ چینل کے ذریعے کریں۔
√ اپنی بینک اسٹیٹمنٹ، رسیدیں اور معاہدے محفوظ رکھیں۔
√ ادائیگی ہمیشہ اپنے ہی بینک اکاؤنٹ سے کریں۔
√ غیر دستاویزی کیش لین دین سے مکمل اجتناب کریں۔
√ کسی بھی بڑی سرمایہ کاری سے پہلے ٹیکس ماہر سے مشورہ ضرور کریں۔

پیغام:
*موجودہ دور میں بینکنگ ٹریل صرف قانونی تقاضہ نہیں بلکہ آپ کے سرمایہ، کاروبار اور ٹیکس مفادات کے تحفظ کی ضمانت بن چکا ہے۔ مناسب دستاویزی ریکارڈ آپ کو مستقبل کے جرمانوں، انکوائریوں اور ٹیکس تنازعات سے محفو*

15/05/2026
For Contact:03006253959
26/02/2026

For Contact:03006253959

25/10/2025
29/06/2025

ٹیکس فراڈ ایک سنگین جرم ہے، اور پاکستان کے قوانین میں اس پر سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں، خاص طور پر سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 (ترمیم شدہ فنانس ایکٹ 2025 کے تحت) اور انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق۔

✅ ٹیکس فراڈ کی سنگینی اور سزائیں:

🔸 1. جرم کی نوعیت:

ٹیکس فراڈ ایک دانستہ، بدنیتی پر مبنی اور قصدی عمل ہوتا ہے، جیسے کہ:

جعلی انوائسز بنانا

غلط ریٹرن دینا

فیک لین دین دکھا کر ان پٹ ٹیکس کریڈٹ لینا

ٹیکس جمع نہ کروانا

یہ جرم بددیانتی (dishonesty) اور دھوکہ دہی (deceit) پر مبنی ہوتا ہے، اس لیے اسے معمولیے غلطی نہیں سمجھا جاتا۔

---

🔸 2. سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 (سیکشن 33، 37 کے تحت) سزائیں:

اگر کسی شخص پر ٹیکس فراڈ ثابت ہو جائے تو:

جرم سزا

فراڈ کا ارتکاب یا معاونت جرمانہ + 5 سال تک قید
جعلی انوائس / ریکارڈ جرمانہ + 3 سے 5 سال تک قید
ضبطی کے مستحق مال کی منتقلی ضبط + قید + ٹیکس واجب الادا
ریپیٹ فراڈ (دوبارہ جرم) زیادہ سخت سزا + کاروبار کی بندش

---

🔸 3. انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 (سیکشن 192، 192B، 114B):

اگر جان بوجھ کر جھوٹا ریٹرن جمع کروایا جائے یا آمدن چھپائی جائے:

قید: 1 سے 5 سال

جرمانہ: آمدن یا ٹیکس کی رقم کا 100% تک

آمدن کی از سر نو تشخیص اور دوبارہ آڈٹ

---

🔴 اہم نکتہ:

FBR کو گرفتاری کے اختیارات حاصل ہیں ٹیکس فراڈ میں ملوث افراد کے خلاف۔

بعض کیسز میں NADRA بلاکنگ، پاسپورٹ/NTN معطلی، اور بینک اکاؤنٹس منجمد بھی کیے جا سکتے ہیں۔

عدالت میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے، اور ضمانت آسانی سے نہیں ملتی۔

---

🔸 نتیجہ:

ٹیکس فراڈ صرف مالی جرم نہیں بلکہ معاشی بدعنوانی (economic corruption) کے زمرے میں آتا ہے۔
یہ جرم نہ صرف آپ کی کاروباری ساکھ تباہ کر سکتا ہے بلکہ قانونی گرفتاری اور قید کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

Address

Al Nafa Center Ist Floor Tanda Chowk Near City Hospital
Jalalpur Jattan

Opening Hours

09:00 - 17:00

Telephone

+923150788688

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Haider Law Chamber posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Haider Law Chamber:

Share

Category